309

عد م سے وجود کا امکان- فیصل ریاض شاہد

عدم Nothingness سے کوئی شے فی الواقع وجود پذیر ہوئی یا نہیں، سے قطع نظر یہاں سوال یہ درپیش ہے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ عدم سے کوئی شے وجود میں آئے یا لائی جا سکے؟ یعنی آیا عدم کے مصدرِ وجود ہونے کا کوئی امکان ہے یا نہیں؟

اس کے امکان کے منطقی طور پر صرف دو جوابات ممکن ہیں
1) ہاں،
2) نہیں،

اور تیسرا جواب درحقیقت جواب ہی نہیں
3)معلوم نہیں(لاادریت)

پہلا جواب، کہ ہاں عدم کا مصدر وجود ہونا ممکن ہے ایک ایسا دعویٰ ہے جو تمام انسانی مشاہدے کے برعکس ہے،۔۔۔ آج تک کسی بھی انسان نے کوی ایسی شے وجود میں آتے نہیں دیکھی جس کا مصدر کوئی وجود نہ ہو لہذا یہ دعویٰ دلیل طلب ہے۔ ایسے مدعی سے دلیل طلب کی جاے گی۔

دوسرا جواب کہ نہیں ،عدم سے کوئی شے وجود میں نہیں آ سکتی، ہمارے مشاہدوں کے عین مطابق ہے لہذا ایسے مدعی سے اس کے دعوے کی دلیل طلب نہیں کی جاے گی۔

یہ تو ہوئی “برڈن آف پروف” کی بات۔ لیکن ہمارے مذکورہ سوال کا جواب کیا ہے؟

اگر ہم یہ مان لیں کہ عدم سے وجود مشاہدے کے خلاف ہے لہذا عدم مصدر وجود نہیں ہو سکتا تو گویا ہم نے اپنے مشاہدے کو بطور دلیل استعمال کر لیا۔۔۔اس پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے آیا ہمارا مشاہدہ کلی ہے یا جزوی؟ یقینا ہمارا مشاہدہ جزوی و نامکمل ہے(اور یہ مسلمہ حقیقت ہے) تو مزید یہ سوال پیدا ہوا کہ محدود مشاہدے کو دلیل کے طور پر پیش کرنا کہاں تک درست ہے؟ یقینا ایسی دلیل ناقابل التفات ہے۔ گویا اگر ہم یہ مان لیں کہ عدم مصدر وجود نہیں تو بہرحال ہمارا یہ عقیدہ بھی علمی دنیا میں دلیل طلب باقی رہے گا البتہ عملی زندگی میں اس کی دلیل پر زیادہ ذور نہیں دیا جاے گا کیونکہ بہرطور یہ عقیدہ کم از کمز جزوی انسانی مشاہدے کے مطابق تو ہے ۔۔۔۔ اس کے باوجود یہ بات ذہن نشین رہے کہ سوال ابھی جواب طلب ہے! مسئلہ ابھی حل نہیں ہوا!

اگر ہم یہ مان لیں کہ عدم مصدر وجود ہو سکتا ہے تو اس پر ہمیں دلیل دینا ہو گی کیونکہ یہ انسانی مشاہدے کے عین برعکس دعویٰ ہو گا۔۔۔

الحاصل یہ کہ مذکورہ سوال کا جواب ہاں میں ہو یا ناں میں، دونوں صورتوں میں فلسفہ کسی حتمی نتیجے تک پہنچے میں قاصر ہے۔۔سوال من و عن برقرار رہے گا اور دونوں ممکنہ جوابات کی درستی کا امکان پچاس پچاس فیصد رہے گا۔۔۔ لہذا لاادریت کی راہ استوار ہو جاے گی۔۔۔۔

بات یہ ہے کہ اس سوال کا جواب دینا فلسفے کے بس کا روگ ہی نہیں ،کیونکہ فلسفہ نام ہے “کسی مخصوص علمیت میں اس کے مخصوص مصدر علم کی رہنمائی” کے بغیر عقلی گھوڑے دوڑانے کا(جسے نام نہاد “آزاد” غور و فکر کہا جاتا ھے)۔۔۔
یہ سوال تب تک جواب طلب رہے گا جب تک وحی کو ذرائع علم میں شامل نہ مان لیا جاے۔۔۔ جیسے ہی وحی کو مصدر علم مانا جاے گا یہ سوال فلسفے سے نکل کر علم الکلام کی حدود میں داخل ہو کر جواب پا جاے گا۔ درحقیقت کمزوری فلسفیانہ اسلوب فکر میں ہے، اس کی مثال یوں ہے کہ آپ فزکس کا مطالعہ فزکس کی حقیقی ایپسٹیم(علمیت) کے اصول و مبادیات کی بجاے عقل محض و منطق کی روشنی میں کرنے لگ جائیں۔۔۔ فلسفے کی یہی خامی ہے کہ یہ “آزاد” و “غیر جانبدار” فکر کا نظام فکر ہے جبکہ حقیقی دنیا میں نہ تو مطلق آزادی کا کوئی وجود ہے اور نہ مطلق غیر جانبداری کا!….

فیصل ریاض شاہد

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں