97

عاصمہ جہانگیر – محمد دین جوہر

معاشرے کی فطری ساخت کچھ ایسی ہے کہ اس میں کوئی حیثیت جدلیاتی عمل سے گزرے بغیر حاصل نہیں ہوتی، خواہ باہم نبرد آزما افراد ایک ہی تصور کے تحت مصروف کار کیوں نہ ہوں۔ کوئی بھی صاحبِ رتبہ محکم تصورات، فیصلہ کن اقدامات اور حریّت سے خالی نہیں ہوتا۔ یہی معاملہ عاصمہ جہانگیر کا تھا۔ ان پر رایوں کا شدید اختلاف انہونی نہیں ہے۔ یہ کہنا تحصیلِ حاصل ہے کہ زندگی کی طرح موت میں بھی جرأت آزما عاصمہ جہانگیر کو محبتوں اور نفرتوں کا خراج وافر ملا۔ لیکن ان کی موت پر جو ردِ عمل سامنے آئے، وہ ہمارے قومی ذہن اور اس کے احوال کو ظاہر کرتے ہیں، نفس واقعہ کا احاطہ نہیں کرتے۔ ان کی موت پر اظہار خیال کے امکانات پہلے سے طے شدہ تھے کہ مذہبی حلقوں کی طرف سے نفرت ہی سامنے آئے گی، لبرل ان کا ماتم کریں گے، اور وضع دار مذہبی لوگ یہ موقع سخت احتیاط سے نبھائیں گے۔ ان کی موت پر میکانکی نفرتوں اور خوف آمیز محبتوں کی گفتگو ہمارے قومی ذہن کی حریت کا اظہار نہیں بلکہ اس کی جبری تشکیل کا استعارہ ہے۔

ان کے بارے میں جو اچھی بری، اجلی میلی باتیں چاروں طرف کہی جا رہی ہیں مجھے ان میں دلچسپی صرف خندۂ زیر لب کی حد تک ہے۔ عاصمہ جہانگیر کے مذہبی نظریات پر فیصلہ دینے کے لیے نہ صرف میری معلومات نہایت جزوی اور ناکافی ہیں، بلکہ میں اس کا مکلف بھی نہیں ہوں۔ ایک دوسرے کا ایمان طے کرنے کا ریکارڈ ہمارے ہاں کچھ زیادہ اچھا نہیں رہا، اور ہماری دوسری آرا کی طرح تعصبات کے اظہار کا ذریعہ بن گیا ہے۔ مرنے کے بعد ان کی نجات و عقوبت کا معاملہ بھی ’’مالکِ یومِ الدِّین‘‘ کے سپرد ہے، اور یہاں مجھے کوئی locus standi سرے سے حاصل ہی نہیں، کجا یہ کہ میں کوئی رائے دوں یا فیصلہ کروں۔ عاصمہ جہانگیر کو غدارِ وطن بھی کہا جا رہا ہے۔ “کافر” کی طرح، “غدار” کا لفظ بھی ہمارے ہاں سیاسی توتکار میں اکثر سنا جانے والا لفظ ہے۔ میں تو ابھی تک اپنے آپ میں یہ سوال حل نہیں کر پایا کہ ہماری دینداری اور حب الوطنی اپنے اثبات و اظہار کے لیے کسی مختلف الخیال بڑے انسان کی موت کا انتظار کیوں کرتی ہے؟ میڈیائی اور نامعلوم ذرائع سے ملنے والی معلومات کو بنیاد بنا کر عاصمہ جہانگیر کے ایمان اور حب الوطنی پر فیصلہ کرنا ناچیز کی رائے میں نہ صرف بدتہذیبی ہے بلکہ مذہبی دیانت کے تقاضوں کو بھی پورا نہیں کرتا۔

عاصمہ جہانگیر کسی مربوط فلسفے کی نمائندہ نہیں تھیں، اس لیے میرا دھیان ادھر نہیں۔ فی الوقت مجھے ان کے اس مسلسل عمل میں دلچسپی ہے جو کئی دہائیوں تک قوم کے سامنے آتا رہا۔ مجھے ان کے عمل کی روبروئی سے خوف آتا ہے کہ وہ میرے ہونے پر سوال اٹھاتا ہے۔ عاصمہ جہانگیر کے عقیدے اور نظریات پر اتنی چاند ماری اور دھول گردی کی ضرورت نہ تھی کہ عام مسلمان بھی ان کے صحیح و غلط اور حسن و قبح سے واقف تھا اور ہے۔ مجھے خوف اس لیے آتا ہے کہ اپنے عمل سے وہ مثال بن گئیں اور مثالوں کو مٹانا تاریخ کے بس میں نہیں ہوتا کیونکہ مثال قدر کی انسانی تشکیل کا نام ہے۔ میں اس لیے بھی ڈرتا ہوں کہ میری قدریں مثال بننے کی آرزو میں ٹھٹھر کر رہ گئی ہیں۔ عاصمہ جہانگیر کے عمل نے انہیں مثال تو بنا ہی دیا لیکن اپنی جہد پیہم سے یہ مثال ایک علامت بھی بن گئی، یعنی سیاسی طاقت اور غیرعادلانہ معاشرے کے جبر کے خلاف ان کا عمل ایک مثال بن گیا اور ان کی ذات ایک علامت۔ جو انسان اپنے عمل میں مثال بن جائے، اور وہ مثال پھر علامت کا ترفع بھی پا لے تو اس پر گفتگو میں احتیاط لازم اور احترام واجب ہے۔ ہمیں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ایسی مثالوں اور علامتوں کو غدّاری، الحاد اور گمراہی کے فیصلوں سے اِدھر اُدھر کرنا یا بھگتانا ممکن نہیں ہوتا۔

میں ایک مذہبی آدمی اور محب وطن پاکستانی کی حیثیت سے عاصمہ جہانگیر کے افکار و نظریات کو بالکل own نہیں کرتا۔ لیکن میں اپنے وجود کی گہرائیوں اور شعور کی پہنائیوں میں ایک ایسی حقیقت سے باخبر ہوں جس کا انکار مجھے اپنے ہونے سے انکار لگتا ہے۔ جبر اور ظلم کو دنیا کے کسی بھی نظریے، کسی بھی مذہب اور کسی بھی فکر سے جواز دیا جا سکتا ہے لیکن اسے فطرتِ انسانی کے لیے قابل قبول نہیں بنایا جا سکتا۔ سیاسی جبر کے خلاف عاصمہ جہانگیر اور معاشی جبر کے خلاف عبدالستار ایدھی جیسی جدوجہد قطعی ماورائے عقیدہ ہو کر انسانوں میں سرایت کر جاتی ہے۔ معاشروں کی فطری ترتیب یہی ہے۔ رد جبر کے عمل پر کسی عقیدے کو بنیاد بنا کر فیصلہ دینا عقیدوں کو کمزور تو کر سکتا ہے، لیکن ایسی مثالوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، اور یہی ڈرنے کی بات ہے۔ اسی باعث عاصمہ جہانگیر اور عبد الستار ایدھی کے بارے میں ان کی موت کے بعد جو رد عمل سامنے آئے ان پر ہمیں تشویش آمیز گہرے غور و فکر کی ضرورت ہے۔

خیر کا تجربہ حق کے شعور پر غالب آ جاتا ہے۔ انسانی فطرت کی یہ وہ حقیقت ہے جسے ہم نے مطلقاً فراموش کر دیا ہے۔ ہم یہ بھی بھول بیٹھے ہیں کہ خیر کے تجربے کو حق کی قبولیت کی اساس بنا دینا مؤلفۃ القلوب کی اصل ہے۔ عاصمہ جہانگیر اور عبدالستار ایدھی کے کام کی اثرانگیزی کی یہی بنیاد ہے، اور تاریخ سے ہمارے تصورِ حق کی پسپائی کی بڑی وجہ بھی یہی ہے۔ خیر کا تجربہ انسان کو بیک آن بدل دیتا ہے اور خود حق کی جگہ لے لیتا ہے، کیونکہ خیر ظہورِ حق کا لبادہ ہے۔ اگر حق اپنی ماورائی بلندیوں سے نردبانِ خیر سے اتر کر نفس انسانی میں داخل نہیں ہوتا، تو وہ تاریخ اور انسانی شعور سے نہ کوئی نسبتیں پیدا کر سکتا ہے اور نہ اس کی آرزو بن سکتا ہے۔ بے نواؤں کی ہمنوائی، افتادگانِ خاک کی دلداری اور جبر کے خلاف مزاحمت خیر اعلٰی ہے اور عاصمہ جہانگیر اس کی مثال بن گئیں اور ان کی موت نے ان کو ردّ جبر کی علامت بنا دیا۔ عاصمہ جہانگیر خیر کا ایسا مسلسل عمل سامنے لانے میں کامیاب رہیں جس کے روبرو ہمارا ٹوٹا پھوٹا تصورِ حق اضطراب کا شکار ہو جاتا ہے، اور ان تبصروں کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے جو اس وقت سامنے آ رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ہماری طرح ہمارا تصورِ حق بھی سخت عدم تحفظ کا شکار ہے اور یہ دشنام طرازیاں اپنے حوصلے بلند رکھنے کی تزویرات ہیں، حق کی خدمت نہیں ہیں۔

ہمارے ہاں حق کا شعور باطل کے ادراک سے خالی، اور مظاہرِ خیر سے مخاصم ہے۔ خیر کا ادراک جبلی اور فطری ہے، اور اس کے سامنے حق کے بھاشن کام نہیں دیتے۔ ہم نے حق کے اظہارات کو مکمل طور پر میکانکی اور غیر انسانی بنا دیا ہے، اور جو عموماً کافر و ملحد اور غدار وغیرہ کے فیصلے دینے یا اظہار نفرت تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ حق کی سربلندی فتوے سے آتی ہے نہ دشنام طرازی سے۔ اس کا ذریعہ عملِ خیر ہے۔ یہ درست ہے کہ حق کو اساس بنا کر مانعاتی فیصلوں کا باضابطہ اور فارمل اظہار ایک ضروری سرگرمی ہے، اور ہر معاشرہ اس کو بروئے کار لاتا ہے۔ لیکن ہمارا حق اگر انہی دو سلبی چیزوں میں ظاہر ہو رہا ہے، اور اپنے کوئی ایجابی مظاہر نہیں رکھتا تو ہمیں اس کی خیر منانی چاہیے۔ ایسے حق کو کسی دشمن کی ضرورت نہیں رہتی، حریمِ حق کے بھیدی ہی کافی ہوتے ہیں۔ اگر ہم عاصمہ جہانگیر کو زندیق و غدار قرار دینے کی ”اہم ذمہ داری“ سے عہدہ برآ ہو چکے ہوں تو ان پہلوؤں پر غور کر لینے میں کوئی حرج نہیں۔

خیر اور حق کے مابین گہرے التباس ہی کی وجہ سے ہم مغربی معاشرے کو اس کے داخلی مظاہرِ خیر اور اپنی شکستہ آرزؤں کی وجہ باطل نہیں کہہ پاتے، اور طاغوت اور کفر پر قائم ایک پوری تہذیب کے لیے بڑی بڑی مذہبی گنجائشیں نکالتے رہتے ہیں۔ کیا ہم اس سوال کا جواب دینے کی ضروری تیاری رکھتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں خیر کے بڑے مظاہر ایک ایسی فکر یا ایک ایسے تصور حیات کے جلو میں کیوں ظاہر ہوتے ہیں جو نیم مذہبی، غیر مذہبی یا سیکولر ہے؟ کوئی انسانی معاشرہ خیر کے مظاہر سے خالی نہیں ہوتا، اور اخلاقی دائرے میں اعمالِ خیر ہمارا بھی روزمرہ کا تجربہ ہیں۔ لیکن فی الوقت یہ ہمارا موضوع نہیں۔ سیاسی اور معاشی جبر کے خلاف ایسی مزاحمت جو انسان کو اجتماعی سسٹم کے خلاف پوزیشن لینے اور اس کی قیمت ادا کرنے پر تیار کر دے، بڑی خیر کا مظہر ہے۔ عاصمہ جہانگیر کو گالی دینے سے پہلے ہم پر یہ معلوم کرنا واجب ہے کہ کہیں ہمارے تصور حق اور اس جبر میں جس کے خلاف وہ نبردآزما رہیں کوئی گہری اور نامعلوم نسبتیں تو قائم نہیں ہو چکیں؟ اگر ہم اس کا جواب نہیں لا سکتے، یا نہیں لانا چاہتے، تو ہم اس جبر کے خلاف کسی جدوجہد کا تصور اور عمل سامنے نہیں لا سکیں گے جو اس وقت امتِ مسلمہ کی سیاسی تقدیر ہے۔ اگر ہم عالمگیر جبر اور نکبت سے نکلنے میں کوئی حقیقی دلچسپی رکھتے ہیں، تو ہمیں عاصمہ جہانگیر اور اس کی جدوجہد کا بے لاگ تجزیہ کرنے اور اس سے کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ یاد رہے کہ اس ”کچھ“ میں کوئی تصورِ حق شامل نہیں۔

نظامِ جبر کی قانونی حرکیات کا ادراک، گہرا اخلاقی شعور اور انسانی مہجوری کا احساس باہم مل جائیں تو عاصمہ جہانگیر جیسے کردار پیدا ہوتے ہیں۔ اگر خیر کا تصور مشتبہ ہو جائے تو حق کا تصور بھی معتبر نہیں رہتا۔ عاصمہ جہانگیر بساط بھر ردِ جبر پر عملاً اور مستقلاً کاربند رہیں۔ یہ ہماری بھول ہے کہ ان کے عملِ خیر کا انکار ہمارے تصورِ حق کو مضبوط یا معتبر کر دے گا، اور نفرت کا اظہار ہمارے تصورِ حق کی قبولیت کا ذریعہ بن جائے گا۔ ہم خیر کے اجتماعی اور سیاسی مظاہر سے تو ہاتھ دھو چکے ہیں، اور اگر یہی حالات رہے تو ہمارے تصورِ حق کا انجام بخیر دکھائی نہیں دیتا۔ اس میں شک نہیں کہ ہمارے ہاں خیر کے اخلاقی اور سماجی مظاہر عام ہیں، لیکن اجتماعی اور سیاسی سطح پر نابود ہیں۔ جبر کے سامنے حق گوئی کی فضلیت ہم سب کو معلوم ہے۔ لیکن جبر کے خلاف پیہم عمل بھی خیر ہی کا مظہر ہے۔ عدل کی جدوجہد اور ردِ جبر اتنا بڑا عمل ہے کہ جس کے سامنے گویائی کو، بھلے وہ حق کی گویائی ہی کیوں نہ ہو، سکوت زیبا ہے۔ ورنہ معاشرہ تو کیا ہمارے ذہن میں بھی خیر کے لیے کوئی جگہ باقی نہ رہے گی اور ہماری حیثیت حق چبانے والی مشینوں کی ہو کر رہ جائے گی۔ ابھی وقت ہے کہ ہم خیر کو مرکزیت دیتے ہوئے حق سے وابستگی کے تمام انسانی اور تہذیبی پہلوؤں کو سامنے لانے کی سعی کا آغاز کریں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں