134

شراب اور اسلامی جمہوریہ پاکستان- احسان اللہ کیانی

شراب اور اسلامی جمہوریہ پاکستان :
جب اسلام نافذ کرنے کی بات ہوتی ہے
تو کہا جاتا ہے ،ہمارا ملک آل ریڈی اسلامی ہے
اس کا آئین اسلامی ہے
اس میں لکھا ہے ،کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بن سکتا
لیکن
جب ہم زمینی حقائق کو دیکھتے ہیں
تو معلوم ہوتا ہے کہ
یہاں ہر وہ قانون بن سکتا ہے
جسے پارلیمنٹ کی اکثریتی حمایت حاصل ہو جائے ،چاہے وہ اسلام کے سو فیصد خلاف ہو
اور
یہاں کوئی ایسا قانون نہیں بن سکتا
جسے پارلیمنٹ کی اکثریتی حمایت حاصل نہ ہو سکے ،چاہے وہ عرش کے رب کا بھیجا ہوا قانون ہو
مثلا
کچھ دن پہلے ایک ہندو رکن قومی اسمبلی نے شراب کے خلاف ایک بل پیش کیا
لیکن
پارلیمنٹ کی اکثریتی مخالفت کیوجہ سے اسے مسترد کر دیا گیا
یاد رکھیں
مغربی جمہوریت میں عوامی نمائندوں کی کثرت جو قانون چاہے بنا بھی سکتی ہے اور منسوخ بھی کر سکتی ہے

ہو سکتا ہے آپ نے کبھی غور نہ کیا ہو
ہمارے بچوں سے روزانہ سکول میں ایک نظم پڑھوائی جاتی ہے
جس میں ان سے کہلوایا جاتا ہے
تمہارے ملک کا نظام” عوامی قوت پر مبنی “ہے

پاک سر زمین کا نظام
قوتِ اخوتِ عوام

اب بات کرتے ہیں
شراب کے متعلق اسلام کیا کہتا ہے ،سنیں

ایک شخص نے آکر کہا ،یا رسول اللہ !
ہمارے علاقے میں ٹھنڈ بہت ہوتی ہے ،ہم بہت مشقت والے کام کرتے ہیں
کیا ہمیں شراب پینے کی اجازت ہے
حضور نے شراب سے روکا
تو یمنی شخص نے کہا ،یارسول اللہ !
میری قوم اسے نہیں چھوڑے گی
حضور نے فرمایا ،نہ چھوڑیں تو ان سے جنگ کرو
(سنن ابودائود)

آپ علیہ السلام نے فرمایا:
جو ایک بار شراب پیے ،اسے کوڑے لگاو
پھر پیے ، کوڑے لگاو ،پھر پیے ،کوڑے لگاو
چوتھی بار پیے ،تو قتل کردو
(مشکوۃ)
یعنی اگر لوگ پکے شرابی بن جائیں ،سزا کے بعد بھی نہ چھوڑیں
تو تعزیرا سزا میں اضافہ کرو،کوڑے کی جگہ سزا قتل مقرر کر دو،تاکہ لوگ اس برائی سے باز آجائیں

حضور نے فرمایا
عادی شرابی جب اللہ سے ملے گا ،تو بت پرست کی طرح ملے گا
(مسند احمد ،سنن ابن ماجہ )
یعنی اللہ مشرک ،بت پرست پر جتنا غضب ناک ہوگا ،شرابی پر بھی اتنا ہی ناراض ہوگا

از
احسان اللہ کیانی
16۔دسمبر۔2018

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں