177

سیکولرازم کی تباہ کاریاں، وضاحت ضروری ہے- وقاص احمد

ڈاکٹر سفر الحوالی کے سیکولرازم پر مضمون اور اس کے بعد خاکوانی صاحب کے نہایت پراثر، عام فہم کالم کے بعد عمومی تاثر تھا سیکولرازم کی مسلم معاشروں میں ہلاکت خیزی ’’دلیل ‘‘ کے قارئین پر کھل کر واضح ہوگئی ہوگی کہ سیکولرازم اپنے معصوم چہرے کے ساتھ کتنا سفا ک ہے۔ محترمہ ثمینہ رشید صاحبہ کے مضمون کے بعد سیکولرازم کے لیے سفاک، ہلاکت خیز کا لفظ استعمال کرنا بعض قارئین پر گراں گزرے لیکن ان شاء اللہ دلیل سے واضح کیا جائے گا کہ کیوں سیکولرازم حقیقی اسلامی معاشرے کے لیےزہر ِ قاتل ہے؟ (نظریات کے ہجوم میں بات سمجھانے کے لیے اسلام اور ایمان کے ساتھ ’’حقیقی‘‘ کا لفظ لگانا اب پہلے سے زیادہ ضروری ہوگیا ہے۔ ) میں نے برٹانیکا، آکسفورڈ ڈکشنری اور دوسری ویب سائٹ کا دورہ کیا اور وہاں وہی پایا جس پر سیکولرازم کے نقاد اپنے افکار کی بنیاد رکھتے ہیں۔ یعنی

۱۔ سیکولرازم اس تحریک کا نام ہے جو انسان کو اُن امور و خیالات و افکار سے دور کرے جو اِس موجود و حاضر دنیا کے امور کے علاوہ ہیں۔

(یعنی ما بعد الطبیعات و روحانی و ایمانی مباحث سے سیکولرازم کو کوئی سرو کا ر نہیں)

۲۔ اس نظریاتی تحریک کا آغاز قرونِ وسطیٰ میں عیسائیت کی مزاحمت سے شروع ہوا جس کی وجہ پوپ و کلیسا کا ظلم، استبداد، علم اور فکرو نظر پر پابندی تھا۔

(اسلام کو قرونِ وسطیٰ میں ایسے کسی سنجیدہ علمی مسئلے کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ خارجیوں اور معتزلہ کو جلد ہی علمی دلائل کے بعد سائڈ لائن کردیا گیا۔اس پر میرا مضمون ’’ مغرب زدہ لبرل طبقات کا المیہ ۱ ‘‘ ضرور پڑھیں۔ )

۳۔ yourdictionary.com پر لکھا ہے کہ سیکولرازم ایک ایمانی نظام Belief System ہے جو مذہب کو مسترد کرتا ہے یا کم از کم یہ ایمان رکھتا ہے کہ مذہب کو اجتماعی اور ریاستی امور اور پبلک تعلیمی نظام میں دخل دینے کا کوئی حق نہیں۔

۴۔ آکسفورڈ ڈکشنری کی تعریف میں مثبت بات یہ ہے کہ سیکولرازم مذہب کے نام پر کوئی امتیاز نہیں برتتا۔

( لیکن تھیوری اور پریکٹس میں تو ہر معاشرے میں ہی تضادات ہوتے ہیں۔ کہیں زیادہ اور کہیں کم۔ انتہا پسند تو ہر دور میں ہر معاشرے میں ہوتے ہیں۔ امریکہ کے سینیٹر جوزف مکارتھی کی ساٹھ کی دہائی کی کمیونزم کے خلاف تنگ نظر کوششیں المعروف” McCarthyism “ اور مارٹن لوتھرکنگ جونیئر کی سول رائٹس موومنٹ کی مخالفت ہم کیسے بھول سکتے ہیں؟ گوکہ یہ تحریکیں مذہبی نہیں تھیں لیکن سیکولرازم اور لبرلزم کے بنیادی ڈھانچے یعنی انسانی مساوات، علم، رائے اور اظہار کی آزادی سے متعلق تھیں۔ اب تو یورپ، امریکہ میں فار رائٹ تحریکیں عوام میں بہت جڑ پکڑ چکی ہیں )

تو آخر کیا وجہ ہے کہ ہمارے بعض نہا یت اسلام پسند، نماز، روزہ، زکوٰۃ کے پابند مصنفین اور اہل فکرو نظر بھی نیک نیتی سے سیکولرازم کا دفاع یا اس کی اچھائیاں بیان کرتے ہیں؟ و جو ہات شاید یہ ہوں :

۱۔ برِ صغیر میں انتہا درجے کی فرقہ واریت، ایک دوسرے کو کافر، منافق کہنے اور گالیاں دینے کا رجحان اور حتیٰ کہ قتل و غارت۔

۲۔ مغرب کا سیکولرازم ، جیسا بھی ہے ، اپنانے کے بعد ان کی متاثر کن ترقی۔ خاص طور پر وہ پاکستانی اور انڈین جو یورپ میں آباد ہوگئے ہیں جب موازنہ کرتے ہیں تو یقیناً ان کی سوچ پر گہرا اثر پڑتا ہے۔

۳۔ یورپ، امریکہ اور دوسری سیکولر ریاستوں میں مذہبی تہوار منانے اور بنیادی عقا ئد کے مطابق زندگی گزارنے کی آزادی۔

۴۔ سیکولر معاشرے میں کسی مذہب کو نفرت و تضحیک کا نشانہ نہ بنایا جانا اور امتیازات کا نہ برتا جانا۔ ( لیکن اس میں یہ نکتہ بھی ملحوظِ خاطر رہے کہ مذہب پر تنقید کرنے کی آزادی وہاں سب کو ہے۔ اسلامو فو بیا کے نام پر کتابیں، مضامین، اور sketches برسو ں سے لکھے اور بنائے جارہے ہیں اور سب آزادئ اظہار کے قانون کے نام پر ہے۔ سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین برطانیہ میں ہی ’’عزت‘‘ کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اسلام مخالف اور سفید فام برتریت کی تحریکیں سال بہ سال طاقت پکڑ رہی ہیں۔ )

اس کے باوجود، ہوسکتا ہے بلکہ نظر بھی آرہا ہے کہ یہ ماڈل یورپ اور امریکہ کے اپنے تاریخی اور علمی وراثت سے نبرد آزما ہو نے کے لیے بہترین ہو۔ لیکن ایک مسلمان کے لیےجب وہ رسول اللہ ﷺ کو اپنا آقا، اپنا ہادی، اپناقائد، دنیا کی عظیم ترین شخصیت مانتا ہو اور آپ ﷺ کے تربیت یافتہ خلفائے راشدین کے دورِ خلافت کے عظمت کے تذکرے کرتا ہو، کیسے اس ماڈل کو اپنی ایمانی ضرو ریات کے مطابق سمجھ سکتا ہے؟ کیسے وہ سمجھ سکتا ہے کہ وہ اللہ کی مکمل بندگی کر رہا ہے؟ کیسے وہ سوچ سکتا ہے کہ وہ ایک حقیقی اسلامی معاشی، معاشرتی، سیاسی ماحول میں جی رہا ہے ؟ اور پھر اگر وہ مسلمان، حکمران بھی ہو اور صاحب امر و استطاعت ہو تو کیسے اپنے ملک کے اجتماعی قوانین کے بارے میں قرآن و سنت کے خلاف کچھ سوچ سکتا ہے؟

علامہ اقبالؒ نے اسی وجہ سے تو بر صغیر کے بہت بڑے عالم کے بیان پر یہ شعر عنایت کیا تھا کہ

ملّا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت
ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد

قرآ ن و سنت میں کہیں بھی اسلام کے لیے مذہب کا لفظ استعمال نہیں ہوا۔ ہمیشہ دین کا لفظ استعمال ہوا۔ دین کا مطلب قر آن میں بدلہ، قانون اور نظام کے لیے استعمال ہوا۔ نظام انفرادی و خاندانی بھی ہوتا ہے اور اجتماعی بھی۔ اب اگر اسلام نے انفرادی اور اجتماعی دونوں نظاموں میں سود کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے جنگ نہ کہا ہوتا اور اس کی شناعت اگر دل ہلا دینے والے انداز میں نہ کی ہوتی، پردے اور حجاب کے احکامات نہ دیے ہوتے، فحاشی اور آزاد، مخلوط میل ملاپ معاشرے میں کیا گل کھلاتا ہے اس کی دنیا اور آخرت میں سنگینی کا احساس نہ دلایا ہوتا، شراب و جوئے کی تباہ کاریوں کا ادراک نہ دلایا ہوتا، مصنوعات کے بیچنے میں عورت کے حسن کے استعمال کو حرام نہ قرار دیا ہوتا، لوط علیہ السلام کی قوم کے جرائم کی سزا کی ہولناکی کا بیان نہ کیا ہوتا تو شاید مسلمان بھی ہندو، عیسائیوں، بدھسٹوں کی طرح اپنے عقائد سینے سے لگا کر، نماز، رو زہ، زکٰوۃ، حج کی عبادات اور پیدائش، شادی بیاہ اور فوتیدگی کی رسومات اسلامی طریقے سے ادا کرکے باقی تمام اجتماعی معاملات سیکولر، لبرل نیو ورلڈ آرڈر کے حوالے کردیتے اور کوئی پوچھ گچھ بھی نہ ہوتی۔

لیکن قرآن حکیم نے اس امت کو خیر امت اور امت وسط اس لیے کہا کہ وہ اُس مشن کو جاری رکھیں گے جو خاتم النبیّین رسول للہ ﷺ نے اس امت کو وصیت کیا اور اس کٹھن کام میں نور و ہدایت کے دو عظیم مینارے بھی ہمارے حوالے کئے یعنی ایک لفظاًلفظاً محفوظ معجزہ ِ قرآن اور اپنی بے مثل سنت اور سیرت۔

اوپر جو چار نکات اس حوالے سے بیان ہوئے کہ کیوں سیکولرازم بعض لوگوں کو اچھا لگتا ہے اور بعض اسے عین اسلامی کہنے سے بھی دریغ نہیں کرتے ہیں؟ تو اس کی وجہ کچھ ضرورت سے زیادہ مغرب سے متاثر ہونا اور کچھ نقصان دہ علمی سادگی ہے۔ جوابات ہمیں قرآن و سنت اور دورِ خلافت راشدہ میں مل جاتے ہیں۔ مختصراً عرض ہے کہ

۱۔ اگر ملک میں عربی زبان کی ترویج کردی جاتی اور قرآن عام کیا جاتا جیسا کہ اس کا حق تھا اور جیسا کہ پاکستان کے آئین میں بھی ہے تو معا ملہ علمی اختلاف سے آگے بڑھ کر فرقہ واریت اور اس میں انتہا پسندی تک کبھی نہیں جاتا۔

۲۔ ترقی کا تعلق سیاست، ترجیحات، منصوبہ بندی، محنت، اور امانت داری سے ہے۔ ریاست کا کسی دین یا نظام کو چن لینے سے کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ قرون وسطیٰ میں اسلام کی علمی ترقی اس بات کا ثبوت ہے۔ اس کا سر چشمہ بھی قرآن و سنت تھا۔ کیا چین کے سیاسی نظام کو آپ او پن، لبرل کہیں گے لیکن پھر بھی ترقی دیکھیں اُن کی۔

۳۔ اسلام بھی مذہبی رداداری کے اصول پر اقلیتوں کو مذہبی آزادی دیتا ہے۔ ابھی تفصیل کا موقع نہیں۔

۴۔ انسانی فلاح و ترقی، کاروبار، تعلیم، نوکری، پیشے کے انتخاب میں اسلام مسلم، غیر مسلم میں کوئی فرق نہیں رکھتا۔ چونکہ اسلام سے محبت اور وفاداری (کم اس کم قانونی طور پر) بعض مناصب کے لیے ضروری ہیں اس لیے کہیں کہیں روک ٹوک ہو سکتی ہے۔ یہ ایسا ہی ہے کہ کمیونسٹ پارٹی کا صدر ایک کیپٹلسٹ نہیں ہوسکتا۔ سودی بینک کا سربراہ کوئی مارکسسٹ نہیں ہوسکتا۔ امریکہ کا صدر وہی بن سکتا ہے جو وہاں پیدا ہو ا ہو۔ جبکہ اگر سینوں میں وسعت ہو تو اسلام میں تو کوئی حبشی غلام بھی کسی خاندانی عربی جماعت کا امیر بن سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کے انفرادی اور اجتماعی تقاضوں پر چلنے اور ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی توفیق دے، آمین!

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں