33

سیکولرائزیشن، افعالِ انسانی اور اعمال صالحہ- محمد دین جوہر

(جناب اطہر وقار عظیم کی نذر)

“سیکولرائزیشن” سے مراد ’سیکولر ہو جانے‘ کا پراسث (process) ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ وہ کیا چیز ہے جو ’سیکولر‘ ہوتی ہے؟ ’سیکولرائزیشن‘ انسانی افعال اور رویوں کا اپنی اساس سمیت بتدریج بدل جانے اور ایک نئی تشکیل میں ظاہر ہونے کا نام ہے۔ سماجی حرکیات (social dynamics) انسانی افعال، اعمال اور رویوں کے مجموعے اور ان سے پیدا ہونے والی انسانی رشتوں کی معاشرتی صورتحال ہے۔ سیکولرائزیشن کا پروسث معاشرے کی سماجی حرکیات کو ایک خاص رخ پر تبدیل کر دیتا ہے۔ معاشرے کی ٹیکنالوجیائی ترقی اور سیکولرائزیشن ہمگام پراسث ہیں۔

سیکولرزم اور سیکولرائزیشن دو مختلف چیزیں ہیں، اور ان کے فرق کو مستحضر رکھنے کی ضرورت ہے۔ سیکولرزم کچھ افکار، نظریات اور ’اقدار‘ کے مجموعے کا نام ہے، جس کے مظاہر بالعموم سیاسی ہیں، اور جو علم، سرمایہ اور طاقت میں ظاہر ہوتے ہیں۔ جبکہ سیکولرائزیشن کا دائرہ بالعموم معاشرہ اور معاشرت، اور ان میں فعال انسانی اعمال اور رشتے ہیں۔ سیکولرزم اپنے علم، منہجِ علم اور ثقافتی وسائل سے مذہبی صداقتوں کے بالمقابل ایک پوزیشن لیتا ہے۔ اس کا ہدف عقیدے کے مقررات اور ذہن کے مشمولات کو تبدیل کرنا ہے۔ سیکولرائزیشن کا پروسث انسانی افعال، اعمال اور رویوں کو تبدیل کر کے ایک نئی اخلاقی خودی (moral self) کی تشکیل کرتا ہے۔ سادہ لفظوں میں، سیکولرزم مذہبی عقائد کے بالمقابل ہے، جبکہ سیکولرائزیشن اعمال صالحہ کے بالمقابل ہے۔ سیکولرزم اور اس کے افکار سے تعامل میں خود آگاہی بالعموم شامل ہوتی ہے، جبکہ سیکولرائزیشن کا پروسث خودآگاہی سے خالی ہوتا ہے۔ سیکولرزم کچھ جاننے ماننے کا عمل ہے جبکہ ’سیکولرائزیشن‘ خود انسان کی نفسی اور عملی تبدیلی سے عبارت ہے۔

“سیکولرائزیشن” جدید سیاسی اور معاشی سسٹم کی معاشرتی تاثیرات کا نام ہے۔ ’معاشرتی تاثیرات‘ سے مراد افراد کے نفسی احوال میں وہ تبدیلیاں ہیں جو اعمال اور رویوں میں ظاہر ہو جائیں۔ ہر عملِ انسانی چونکہ لازماً معاشرتی رشتوں سے براہ راست جڑا ہوتا ہے، اس لیے ’سیکولرائزیشن‘ بنیادی طور پر انسانی رشتوں ہی کی تبدیلی کا عمل ہے۔ سیکولرزم کا مجموعی علم انسانی شعور کو بدلتا ہے، اس لیے عقیدے کے تناظر میں اس کا سمجھنا ضروری ہے۔ سیکولرائزیشن کا پروسث انسانی اعمال، رویوں اور رشتوں کو بدل دیتا ہے، اس لیے مکارم الاخلاق اور اعمال صالحہ کے تناظر میں اس کو دیکھنا ضروری ہے۔

اس بات کا بہت قوی امکان ہے کہ ہم فکری سطح پر سیکولرزم کا رد کرتے رہیں، لیکن سیکولرائزیشن کا پراسث بلاروک ہمیں غیرشعوری طور پر تبدیل کر دے۔ مذہبی تناظر میں سیکولرائزیشن کے پروسث کا تجزیہ یہ دیکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے زیر اثر انسانی افعال کیونکر انسان کی نئی نفسی اور اخلاقی تشکیل کرتے ہیں۔

انسانی زندگی دو چیزوں سے عبارت ہے اور جن کی نوعیت تقدیری ہے۔ ایک یہ کہ انسانی زندگی کو نئے نئے افکار و خیالات کا مسلسل سامنا ہوتا ہے۔ دوسرے یہ کہ انسانی زندگی کو نئے نئے افعال و اعمال سے مسلسل سابقہ پڑتا ہے۔ ہر معاشرے کی مذہبی روایت، یا علمی روایت یا شعور کی روایت نئے نئے افکار سے تعرض کرنے، ان کی جانچ کرنے، اور ان سے رد و قبول کا معاملہ کرنے اور ان پر فیصلہ دینے کے لیے پہلے سے موجود ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں یہ کام اصولِ دین کی روایت میں رہتے ہوئے کیا جاتا تھا۔ جبکہ اخلاق اور قانون کی روایت معاشرے میں ظاہر ہونے والے نئے اعمال سے تعرض کر کے انہیں معاشرے میں سمونے کا کام کرتی ہے۔ ہمارے ہاں یہ کام اصول فقہ کی روایت میں رہتے ہوئے کیا جاتا تھا۔ ہماری تہذیب کے یہ دونوں پہیے اب ٹوٹ چکے اور گاڑی کا ملبہ صفائی کے مرحلے میں ہے۔ تو یہ لازم ہے کہ اپنے دینی تناظر میں رہتے ہوئے افکار تازہ کی تلاش میں نکلا جائے۔

معاشرہ انسانی افعال، اعمال اور رویوں کا ظرف ہے۔ ہمارے ہاں روایتی تقسیم افعالِ قلب اور افعال جوارح میں تھی، اور یہاں مؤخر الذکر ہی زیربحث ہیں۔ نئے انفرادی یا اجتماعی افعال کے ظاہر ہونے سے پہلے معاشرہ کوئی خالی ظرف نہیں ہوتا، بلکہ ایک لبالب اور لچکیلے ظرف کی طرح ان کو بھی اپنے اندر سمو لیتا ہے۔ معاشرے میں وقوع پذیر انسانی افعال عموماً پانچ طرح کے ہیں:

1۔ عبادتی/روحانی افعال۔

2۔اخلاقی افعال۔

3۔ جمالیاتی افعال۔

4۔ سیاسی افعال۔

5۔ میکانکی افعال۔

انسانی فعل کلی نہیں ہوتا، بلکہ جزئی اور کسری حرکت کا نام ہے، لیکن صرف حرکت نہیں ہے۔ انسانی فعل میں قدر، تصور یا ضرورت شامل ہوتی ہے اور اسی باعث انسانی افعال کی تقسیم ممکن ہے۔ عبادتی، اخلاقی اور جمالیاتی افعال کی بنیاد اقدار ہیں جو عموماً مذہبی ہوتی ہیں۔ ہم عصر دنیا میں مذہب کے کمزور ہو جانے یا اس کے انکار سے جدید انسان کے لیے عبادتی، اخلاقی اور جمالیاتی افعال کا امکان موہوم ہو کر ختم ہو گیا۔ انسان کی حیاتیاتی ضرورت سے تحریک پانے والے افعال عموماً میکانکی ہوتے ہیں۔ جدید عہد میں انسان کے حیاتیاتی، اور میکانکی افعال بالعموم سرمایہ دارانہ مشینی عمل میں ضم ہو گئے ہیں اور ان کی آزاد انسانی حیثیت (آٹونومی) ختم ہو گئی ہے۔ ٹیکنالوجی نے انسان کی صلاحیتِ حواس اور میکانکی قوت میں غیرمعمولی توسیع پیدا کی ہے۔ ماقبل جدید معاشروں میں انسان کے مختلف افعال میں ایک فطری اور جبری توازن موجود رہا جسے ٹیکنالوجی نے بالکلیہ ختم کر دیا ہے۔ انسان کے میکانکی افعال اب نامیاتی اور حیاتیاتی فطرت کے تابع نہیں رہے بلکہ مکمل طور پر ٹیکنالوجی میں سما گئے ہیں۔ میکانکی افعال کی لاانتہا کثرت نے معاشرے کی پوری ساخت کو تبدیل کر دیا ہے، اور ایسے افعال کی معاشرتی space کم ہو گئی ہے جو کسی قدر کے تابع ہوں۔ لیکن ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ معاشرے میں میکانکی افعال کے غلبے اور اثرات کی وجہ سے اقداری افعال بھی میکانکی ہو گئے ہیں اور ان میں ملفوف قدر کو کمزوری لاحق ہے۔

جدید معاشرتی صورت حال میں، اپنی بے پناہ طاقت، تیز تر حرکت اور لامحدود کثرت کی وجہ سے مشینی اور میکانکی افعال نے حیاتیاتی افعال کو معمولی کل پرزے بنا کر اپنے اندر سمو لیا ہے۔ لامحدود مشینی اور میکانکی افعال اسی صورت میں مفید ہو سکتے ہیں اگر وہ یک سمت اور طے شدہ اہداف کے تابع ہوں۔ ایک نظریے اور سسٹم کے تحت ان کو ترتیب دینے کا مقصد ان کو مفید، مؤثر اور پیداواری بنانا ہے۔ یہ مقاصد اور اہداف عموماً معاش، سرمایہ، طاقت، ابلاغ، تعلیم، تفریح، صحت و موت، نقل و حمل، اور جنگ وغیرہ ہیں۔ جدید معاشرے میں روزمرہ زندگی فرد اور سسٹم کے اسی پیہم تعامل سے عبارت ہے اور اس میں فرد سسٹم کا متوسل اور اس کے بطون میں زندگی گزارتا ہے۔ اس میں اہم ترین پہلو یہ ہے کہ اقداری افعال کا مکلف صرف فرد ہے، سسٹم نہیں ہے۔ سسٹم کے پیدا کردہ لامحدود اور طاقتور میکانکی افعال کی دنیا میں فرد کے اقداری افعال بالکل غیراہم ہو گئے ہیں۔ انسان کا سب سے بڑا اور کثیر الوقوع میکانکی عمل اس کی ضرورت کے تابع ہے، جسے عام طور پر محنت، لیبر یا کام کہا جاتا ہے۔ سسٹم نے انسان کو اس کی محنت سمیت اپنے اندر سمیٹ لیا ہے۔ سسٹم سے باہر اب انسان کی محنت کا کوئی معنی باقی نہیں رہا کیونکہ معاش کے مکمل وسائل سسٹم کے قبضۂ تصرف میں آ گئے ہیں۔ جدید انسان کی تشکیل اور معاشرے کی سیکولرائزیشن کا لوکال بھی فرد کی ضرورت اور اس کی محنت کا سسٹم میں ضم ہو جانا ہے۔

یہ بات اہم ہے کہ قدر کا مکلف فرد ہے، سسٹم نہیں ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ کیا معاشرے میں سرمائے اور سیاست کا اجتماعی عمل یعنی سسٹم بھی کسی ’قدر‘ کے تابع ہو سکتا ہے؟ یہ اسی صورت ممکن ہے جب قدر ایک تصور بھی ہو۔ یہ امر صاف ہے کہ اجتماعی اقدار کی نوعیت اخلاقی اقدار سے مختلف ہوتی ہے۔ اخلاقی اقدار نفسی اور انفرادی ہوتی ہیں، جبکہ اجتماعی اقدار کی حیثیت بین الانسان مشترک تصورات کی ہوتی ہے، جیسے عدل اجتماعی قدر بھی ہے اور تصور بھی۔ سیاسی عمل بھی ایک ’عمل‘ ہی ہے، اور اس میں رہنما شریعت ہے، عقیدہ نہیں، کیونکہ ہر عمل میں رہنما شریعت ہے۔ عدل اجتماعی شرعی احکام سے ہے۔ سیاسی عمل کو عقیدے کی اساس پر منتقل کرنے کی غلطی ہمارے ہاں اول اول خوارج کے ہاں ظاہر ہوئی، اور مسلم معاشرے کے لیے موجب ہلاکت ہوئی۔

مسلم معاشروں میں جدید سیاسی عمل گہرے ادبار یا ہلاکت کا باعث رہا ہے۔ اس کی بڑی وجہ جدید سیاسی عمل کی عدم تفہیم، عقیدے سے اس کی براہ راست نسبتیں اور شریعت کی رہنمائی کو نظرانداز کر دینا ہے۔

جدید صورت حال میں اقداری اعمال کے خاتمے یا میکانکی سانچے پر منتقل ہونے کی وجہ سے سیاسی عمل، آخری انسانی عمل کے طور پر باقی ہے اور اسے جدید معاشروں میں انسانی عمل کی یادگار کہا جا سکتا ہے۔ سیاسی عمل اپنے غیرمشینی انسانی سانچے کی وجہ سے سرمائے کے شدید ارتکاز کو قبول نہیں کرتا، اور اس کے عدم استحکام کے امکانات سے مملو ہوتا ہے۔ لیکن سیاسی عمل کی بتدریج تنظیم کاری اور کنٹرول، اس کی ضعف گری اور آخرکار تباہی کے بغیر سرمایہ دارانہ عمل کی کامیابی اور سرمایہ دارانہ معاشرے کا قیام یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔ سیاسی عمل اپنی وجودیات میں انسانی جبکہ معاشی عمل میکانکی ہے۔ سرمایہ دارانہ عمل اپنی بے رحم میکانکی توسیع اور سسٹم کی قوت پذیری کے باعث سیاسی عمل کو بھی نگل لیتا ہے، اور اس کا انسانی شرائط پر قیام مشکل ہو جاتا ہے۔ جدید عہد ہر نوع کے انسانی عمل پر میکانکی عمل کی مکمل فتح سے عبارت ہے، اور سیاسی عمل بھی آخرکار اسی انجام سے دوچار ہوتا ہے۔

میکانکی افعال

سیکولرائزیشن سے مراد یہ ہے کہ انسانی فعل یا عمل قدر سے خالی ہو جائے اور مزاج اور مفاد، یعنی نفسی اور معاشی ضرورت کے تابع ہو کر مکمل طور پر میکانکی ہو جائے۔ فرد کے افعال کا میکانکی ہو جانا سسٹم کی تشکیل کا لازمہ ہے۔ معاشرے میں وقوع پذیر لامحدود میکانکی افعال کی کسی نظریے کے تحت ایک سسٹم میں تشکیل جدید عہد کا خاصہ ہے۔ اس کا نتیجہ بے پایاں طاقت کی تشکیل اور غیرمعمولی پیداواری استعداد ہے۔ انسان اور مشین کے مجموعے اور ان کی تنظیمی تشکیل کا نام سسٹم ہے۔ اس سسٹم کا دوسرا اور عام فہم نام جدید ریاست ہے جو ایک گلوبل اور عالمگیر مظہر ہے۔ یہ سسٹم مکمل طور پر یک طرفہ اور اپنی ہی طے کردہ شرائط پر فرد سے تعامل کرتا ہے۔ اس لیے سوشل کنٹریکٹ کا کوئی بھی تصور اپنی اصل ہی میں لغو اور بےمعنی ہے۔ مذہبی تصور حیات میں جو حیثیت خدا کو حاصل تھی، سیکولر تصورِ حیات میں وہ ریاست کو حاصل ہے۔ بطور سسٹم ریاست خدا کی replacement ہے۔ بطور ایک absolute sovereign ریاست/سسٹم کے افعال و اختیارات یہ ہیں:

1۔ یہ سسٹم فرد کا شناخت دہندہ (پیدائشی سرٹیفیکیٹ، شناختی کارڈ، پاسپورٹ، عمر، لسانی شناخت، مذہبی شناخت، تعلیمی حیثیت وغیرہ) ہے۔ اس شناخت سے ایک عام فرد شہری کے درجے پر فائز ہو جاتا ہے۔ جدید عہد میں شناخت کے تمام وسائل اور اختیارات سسٹم یا جدید ریاست کا اجارہ ہیں۔

2۔ شناخت کی تفویض کے بعد، سسٹم یا جدید ریاست ایک شہری کو وجود (عطائے حقوق، تفویض ذمہ داری، ووٹ، اوقات کار، رہن سہن، آمدو رفت، میل جول وغیرہ) عطا کرتی ہے۔ یعنی سسٹم اپنے وسائلِ قوت اور قانون کے میکانکی افعال سے فرد کو شناخت عطا کرنے کے بعد وجود بھی عطا کرتا ہے۔ شہری ایک قانونی، میکانکی اور مادی وجود کا نام ہے۔ شہری کسی اقداری یا انسانی وجود کا نام نہیں ہے۔

3۔ حصولِ شناخت اور عطائے وجود سے شہری رزق (رجسٹریشن، لائسنس، آموزش اور ہنرمندی کا استناد، محنت کی درجہ بندی اور جوازکاری، سرمائے کی قانونی اور سیاسی تشکیل، وغیرہ) کا امیدوار ہو جاتا ہے۔ رزق کے تمام وسائل، ان کی تنظیم اور ترسیل بھی سسٹم کا دائرہ کار اور اس کی قانونی مٹھی میں ہیں۔ شہری اپنے رزق کے لیے سسٹم کا مکمل طور پر متوسل (dependent) ہے۔ سسٹم کی داتاگیری اور زمان و مکاں پر مکمل دسترس اور غلبے کی وجہ سے شہری کی زندگی کا ہر پہلو قانونی اور معاشی رشتوں کے میکانکی نیٹ ورک میں کھپ جاتا ہے۔

4۔ شناخت، وجود اور رزق پانے کے بعد شہری اپنی بقا (زندگی، صحت، بیماری، امن عامہ، قانونی تحفظ، دہشت گردی اور جنگ سے بچاؤ وغیرہ) کے لیے مکمل طور پر اسی سسٹم پر انحصار کرتا ہے۔

شہری اور سسٹم/ریاست کا باہمی تعلق وہی ہے جو عبد اور الہ کا ہے، اور اس کی توسیط کے بنیادی ترین ذرائع معاشی، قانونی اور ثقافتی ہیں۔ اگر انسان کی نوکری، لین دین، رہن سہن، آمد و رفت، تعلیم اور تفریح وغیرہ یعنی اس کی معاشرتی اور معاشی زندگی کے اہم پہلو قانون سے متعین ہونے لگیں تو ایسی زندگی میں اقدار کی گنجائش کم ہو کر آخر ختم ہو جاتی ہے۔ قانون کے تحت اعمال صالحہ کے تصور کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور صرف performance باقی رہ جاتی ہے، جسے صرف کارکردگی کے اصولوں پر متعین کیا جاتا ہے۔ سیکولرائزیشن کا بہت سادہ مطلب معاشرے کو مکمل طور پر قانونی بنانے کا عمل ہے۔ رول آف لا میں اقدار غیر اہم ہوتی ہیں، صرف طاقت، فرمانروائی اور اس کی ممکنہ حد تک توسیع اہم ہوتی ہے۔ انسانی عمل یا تو قانون کے مطابق ہو سکتا ہے یا اقدار کے مطابق۔ قانون اور قدر کا دائرہ کار الگ الگ متعین کرنا ضروری ہے، اور سسٹم یا جدید ریاست میں صرف ایک قانونی دائرہ ہی باقی رہ سکتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جدید ریاست میں بچہ ماں باپ کی ڈانٹ پر پولیس کو طلب کر سکتا ہے کیونکہ وہ گھر میں اولاد کی طرح نہیں رہتا بلکہ بطور ”شہری“ مقیم ہوتا ہے۔

جیسا کہ عرض کیا کہ سسٹم یا جدید ریاست اپنے وجود و شئون میں ”خدا“ کی replacement ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ یہ کہنا کہ ”خدا“ کا کوئی مذہب ہوتا ہے، ایک لغو بات ہے۔ سسٹم یا جدید ریاست سے مراد ایک ”اوپر“ ہے جو ”عالم“ اور ”عامل“ بیک آن ہے۔ یہ ”خدا“ اپنے متن کو ”کن“ کے طور پر بھیج کر انسان اور معاشرے سے ہمکلام ہوتا ہے۔ سسٹم یا ریاست کا جاری کردہ متن قانونی ہوتا ہے اور اس کا معنی طاقت کی deployment ہے، کوئی تصور یا قدر نہیں ہے۔ آج کے دور میں مذہبی متن اور اس کے معنی کا مسئلہ اسی وجہ سے پیدا ہوا کہ وہ انسان کی essential autonomy کے تصور کو باقی رکھے ہوئے ہے۔ اب دنیا کا اہم ترین متن سسٹم یا جدید ریاست کا جاری کردہ متن ہے، اور باقی متون اس کی شرط پر بامعنی ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔

آج کے عہد میں فرد اور انسانی معاشروں کا وجود و عدم اسی ”خدا“ کے ہاتھ میں ہے۔ سسٹم یا جدید ریاست ایک اسفنج کی طرح ہے اور معاشرہ اس پانی کی طرح جو اس میں جذب ہو چکا ہے، اور اسفنج سے باہر اس کا کوئی وجود باقی نہیں رہا۔ ہابرماس نے سسٹم اور لائف ورلڈ کی جو تقسیم کی ہے وہ مصنوعی ہے اور ہمارے مقصد کے لیے کوئی زیادہ بامعنی نہیں ہے۔ جس طرح مذہبی ”خدا“ تنزیہ اور تشبیہ میں یقین کیا جاتا تھا، اسی طرح سسٹم یا جدید ریاست کا ”خدا“ تجرید اور میکانیت میں متحقق ہے۔ جدید ریاست ایک ایسا ”خدا“ ہے جو دست گیر بھی ہے اور دست شکن بھی۔ جدید عہد میں سسٹم سے الگ انسانی معاشرہ ناقابل تصور ہے، اور فرد کی طرح معاشرہ بھی سسٹم کا مکمل متوسل (dependent) ہے۔ جمہوریت سسٹم کی چادرِ رحمت ہے اور آمریت اس کے غضب کا کوڑا۔ جدید ریاست ایک ایسا ”خدا“ ہے جو اکثر خودکشی بھی کر لیتا ہے جیسا کہ حال ہی میں وینزویلا میں ہوا ہے۔ یہ ”خدا“ صحت مند اور بیمار بھی ہو سکتا ہے، یا اسے کئی اور طرح کے عوارض بھی لاحق ہوتے ہیں، جن کی تفصیل کا یہ موقع نہیں۔

سسٹم/ ریاست کی قوتیں فرد پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہیں، اور ان کا دباؤ اتنا شدید ہے کہ فرد اپنی moral self کو باقی نہیں رکھ سکتا اور فوراً اپنی مذہبی self میں پناہ لیتا ہے جس سے صورتحال مزید بگڑ جاتی ہے۔ مکارم الاخلاق اور اعمال صالحہ سے تشکیل شدہ انسان کی moral self یا اخلاقی خودی تین چیزوں میں ظاہر ہوتی ہے:

1۔  ذوی الارحام اور قرابت کے رشتے۔

2۔  ہمسائیگی۔

3۔ مہمان داری۔

ہمارے ہاں کنبہ ٹوٹ رہا ہے، ہمسائیگی غیر متعلق ہو گئی ہے اور مہمان نوازی موہوم ہے۔ یہ انسان کی اخلاقی خودی کے خاتمے، اعمال صالحہ کے انخلا اور سیکولرائزیشن کے مظاہر ہیں۔ ان کی معنویت یہی ہے کہ انسانی رشتے اخلاقی بنیادوں سے ہٹ کر نفسی اور معاشی ضرورت کی جبریت پر ڈھل کر نئی انسانی تشکیل کر رہے ہیں۔ جدید سیاسی نظام کی بنیاد ”ایک آدمی، ایک ووٹ“ اور معاشی نظام کی بنیاد ”ایک نوکری، ایک پیٹ“ ہے۔ قانون اور معاش سسٹم کے دو بڑے پہلو ہیں اور ان کے مؤثرات اور تاثیرات انسان کی اخلاقی خودی کو بدل دیتی ہیں۔ سسٹم کی ترجیحات میں بنیادی انسانی رشتوں کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔

جدید تعلیم اور کلچر بھی انفرادیت پسندی پر بہت زور دیتے ہیں۔ انسانی رشتوں کی عمودی جہت کا تعلق سسٹم سے ہے، جبکہ باہمی انسانی رشتوں کی جہت افقی اور متوازی ہوتی ہے۔ انفرادیت پسندی افقی رشتوں کے غیر اہم ہو کر عمودی رشتوں کے مرکزی ہو جانے سے عبارت ہے۔ اس میں دلچسپ پہلو یہ ہے کہ مذہبی عبادات اور انفرادیت پسندی میں تطابق ممکن ہے لیکن مکارم الاخلاق اور انفرادیت پسندی باہم قطعی متضاد ہیں۔ ہمارا سب سے بڑا مغالطہ عبادات پر مبنی مذہبی معاشرے کا قیام ہے۔ یہ ممکن نہیں ہے کیونکہ مذہبی معاشرہ صرف عبادات سے قائم نہیں ہوتا۔ مذہبی کردار کے بغیر ’مذہبی معاشرے‘ کا کوئی معنی نہیں ہے اور کردار کی اساس مکارم الاخلاق ہے۔ عبادات عموماً میکانکی افعال ہی ہیں، اور ان کی روحانیت نیت سے حاصل ہوتی ہے۔ اپنے میکانکی پہلوؤں کی وجہ سے عبادات سیکولر معاشرے کی انفرادیت پسندی سے تطابق کی غیر معمولی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اس بات کا سو فیصد امکان ہے کہ معاشرہ مکمل طور پر سیکولر اور ’عبادتی‘ ہو، اور مذہبی کردار اور معاشرت سے مکمل طور پر خالی ہو۔ فی الوقت ہم ایسے ہی معاشرے کی طرف پیش قدمی کر رہے ہیں جو ’عبادتی‘ اور سیکولر بیک وقت ہے۔ عبادات کو ڈیوٹی کے جدید میکانکی افعال کی طرح سرانجام دینا ہمارے روز مرہ مشاہدے میں ہے۔ اخلاقی خودی کے خاتمے سے معاشرہ تہذیبی اور اعلی انسانی مظاہر سے خالی ہو جاتا ہے۔ مذہب کا بالعموم ’سیاسی‘ اور ’عبادتی‘ مظاہر میں باقی رہ جانا سیکولرائزیشن ہی کا ایک مرحلہ ہے۔ جدید دنیا کی صورت حال میں سسٹم مذہب کا بنایا ہوا نہیں ہے بلکہ سسٹم اپنے مؤثرات سے مذہب کی نئی تشکیل کرتا ہے۔ اگر انسان کی اخلاقی تشکیل کے مؤثرات سسٹم اور تاریخی قوتوں کے تابع ہو جائیں تو میکانکی اور ’عبادتی‘ معاشرہ بنانا تو ممکن ہوتا ہے لیکن انسانی اور مذہبی معاشرے کا قیام محض ایک خواب رہ جاتا ہے۔

سیکولرائزیشن انسان اور معاشرے کی تبدیلی کا سیکولرزم سے کہیں طاقتور مظہر ہے۔ ہمیں ایک ایسی دنیا کا سامنا ہے جو اپنے علم سے ہمارے عقیدے اور اپنے میکانکی سسٹم سے ہمارے اعمال صالحہ کی بنیادیں ڈھا چکی ہے۔ سیاست بازی کی کشاکش پیہم سے فرصت اگر ملے تو ہمیں کچھ سوچنے اور کرنے کی طرف بھی متوجہ ہونا چاہیے۔

واللہ اعلم بالصواب

محمد دین جوہر

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں