263

سوشل سائنسز کی اسلام کاری کی ضرورت – علی عمران

ہمارے خیال میں اس وقت جو سب سے ضروری امر ہے، وہ اپنی آنے والی نسلوں کا ایمان، عقیدہ اور فکر درست رکھناہے ۔ باقی ہر چیز ضروری ہے، مگر اس ضرورت کو پورا کرنے کے بعد!

یورپ نے جو نظام تعلیم ہمیں دیا، اس میں سائنس اور ٹیکنالوجی سے زیادہ جس عنوان پر ہمارے ہاں زور دیا جاتا ہے، وہ اس کے سوشل سائنسز کے علوم ہیں اور پتے کی بات یہ ہے کہ مسلمانوں کو ان کے سائنسی علوم اور ٹیکنالوجی سے اتنا نقصان اور مسئلہ نہیں، جتنا ان کے سوشل علوم سے ہے۔ انہی سے ہمارے بچوں میں ذہنی اور فکری انتشار اور الحادی سوچ فکر پارہی ہے اور مادیت ہے کہ ذہن و روح کو فتح کرتی اور پرانے اخلاقی آدرشوں کو گراتی جارہی ہے۔

ان سوشل سائنسز میں جو کچھ پڑھایا جارہا ہے، اس سے جو انسان بن کر نکلتاہے، وہ چاہے جو بھی ہو، اسلام کو جو مسلمان مطلوب ہے، وہ نہیں ہوتا کیونکہ اسلام کا فلسفہ جس شخصیت اور ذہنیت کی تعمیر کرنا چاہتا ہے، یہ علوم سب سے پہلے قدم کے طور پر اس کو منہدم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

بطور مثال یہ دیکھیے کہ آج کی جدید اکنامکس کا سارا فلسفہ “سکارسٹی آف دی ریسورسز ” پر کھڑا ہے کہ جناب قدرت نے اس کائنات میں وسائل کم اور مسائل زیادہ رکھے ہیں۔ انسان کے دل میں نت نئی خواہشات پیدا ہوتی رہتی ہیں۔ ان کے مقابلےمیں جن وسائل سے یہ خواہشات پورا ہوسکتی ہیں، وہ وسائل محدود ہیں۔ سو ہمیں کرنا یہ ہوتا ہے کہ اپنے وسائل کی درست ایلوکیٹنگ کریں۔ کچھ غیر اہم خواہشات کو متروک اور مؤخر کرکے ضروری خواہشات کو پورا کیا جائے۔

اکنامکس بنیادی طور پر اس سے بحث کرتی ہے کہ ایسا کیونکر ہو اور کس طرح انسان زیادہ سے زیادہ کما کر زیادہ سے زیادہ خواہشات پورا کرسکےگا؟

تاہم اسلامی تعلیمات کے مطابق یہ بالکل غلط ہے بلکہ اللہ تعالٰی نے ہر مخلوق کی پیدائش کے بعد اس کی ضروریات کا سارا انتظام پہلے سے ہی کردیا ہے۔ وما من دابۃ فی الارض الا علی اللہ رزقھا۔ اسی طرح ولقد مکناکم فی الارض و جعلنا لکم فیھا معایش۔ اسی طرح بارک اللہ فیھا و قدر فیھا اقواتھا اور اسی طرح وان تعدوا نعمۃ اللہ لا تحصوھا۔

یہ ساری آیات بتا رہی ہیں کہ قدرت نے وسائل کی تخلیق میں کوئی کمی نہیں چھوڑی ہے، بلکہ ہر ہر مخلوق کو جتنی ضرورت تھی، اس کے بقدر وسائل بہم پہنچائے ہیں۔ پھر اگر وسائل کا کم ہونا مسئلہ نہیں، تو اسلام معاش کے اندر مسئلہ کس چیز کو قرار دیتا ہے؟ تو عرض ہے اسلام مسئلہ خود انسان کو قرار دیتا ہے ان الانسان لظلوم کفار کہ یہ انسان کا ظلم ہے، جو وہ اپنی ذات اور دوسروں پر کررہا ہے اور یوں یہ ظلم معاشرے میں معاشی بدحالی، طبقاتی تقسیم اور غلط ہاتھوں میں معاشرے کے مال کے چلے جانے پر منتج ہوتا ہے۔

اب آپ ہی دیکھیے! جب ایک مسلمان بچہ سکارسٹی آف ریسورسز کو بنیاد بنا کر آگے چلے گا تو لازمی بات ہے کہ اسے ریشنل ، بالفاظ دیگر انتہائی کمینہ، مکار، کنجوس اور خود غرض، بن کر ہی رہنا پڑے گا کیونکہ وہ سمجھے گا کہ اگر ایسا نہیں کیا، تو مسائل کا پہاڑ مجھے تباہ کردے گا۔ یہ اس فکری نقصان کی بنیاد پر ہونے والے اخلاقی، فردی، قومی، ملی پسپائی کا ایک مختصر سا نقشہ ہے، جو پیش کیا گیا ہے۔

سو ضرورت ہے کچھ ایسے ایمان سے بھرپور اور عقل و شعور کی روشنی سے معمور افراد کی، جو دوبارہ، سہ بارہ مطالعہ کرکے نصاب میں پیوریفیکیشن کرسکیں۔ ورنہ تو تباہی لکھی جاچکی۔ گڑھا کھودا جاچکا اور اب تو بس قوم کو ایک دھکا لگنے کی دیر ہے اور پھر سب کچھ ختم۔ اللہ ہی ہماری حفاظت فرمائے۔ آمین!

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں