85

سقراط

سقراط کی فکری زندگی کا آغاز اس وقت ہوا جب یونانی تہذیب نہایت بدامنی اور افراتفری کا شکار تھی۔ وحدت، کثرتیت، تصوریت اور مادیت نے یونانی ذہن میں انتشار پیدا کر رکھا تھا۔ ایک طرف وہ فلسفی تھے جو کائنات کے بنیادی عنصر کو واحد نہیں بلکہ کثیر سمجھتے تھے۔ پارمینائیڈیز اور ایمپیڈوکلز کے نظریات اسی تضاد کی مثال ہیں۔ لوگ یہ فیصلہ نہیں کر سکتے تھے کہ کون سا نظریہ تسلیم کیا جائے اور کونسا رد کر دیا جائے۔ اور دوسری طرف اس تذبذب اور انتشار کو زینو کی عقلیات نے مزید شدید کر دیا تھا۔ ہراقلیٹوس نے حرکت کو بنیادی حیثیت دے کر سکون و ثبات کو واہمہ بنا دیا تھا۔ ان حالات میں سوفسطائیوں نے طبعی فلسفے کو ٹھکرا کر عقل کو ذریعہ علم تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس طرح اخلاقی اور دنیاوی معاملات میں اضافیت کا تصور پیدا ہو گیا۔ سوفسطائیوں کی تعلیمات نے یونان کی فکری اور سیاسی زندگی میں بڑا خوفناک انقلاب پیدا کر دیا تھا۔ ہر شخص خود عدل و انصاف اور خیر و شر کا پیمانہ بن بیٹھا۔ علم کی معروضیت کا مذاق اڑایا جاتا، ذاتی اغراض و مقاصد کے حصول کیلئے اچھی بری ہر قسم کی کوشش کو جائز سمجھا جاتا۔ اس طرح سوفسطائیوں کے ہاتھوں یونانی فکر اور سیاست کا انتشار اپنے عروج کو پہنچ چکا تھے، یہ وہ حالات تھے جن کا سقراط نے قریبا بیس بائیس برس بغورمشاہدہ کیا۔ آغاز میں وہ بھی طبعی فلسفیوں سے بہت متاثر تھا مگر وقت اور سوفسطائیوں کی تنقید کے ساتھ ساتھ وہ قدیم فلسفیوں سے متنفر ہو گیا۔( )
سقراط اپنی ساری زندگی میں صرف تین بار مختصر عرصے کیلئے فوجی مہموں کے سلسلے میں ایتھنز سے باہر گیا۔ اس کا دعویٰ تھا کہ ایک پر اسرار آوازDeamonزندگی کے معاملات میں اسکی رہنمائی کرتی ہے اور دنیا کی کوئی طاقت اسے اس کی اطاعت سے روک نہیں سکتی۔ اس نے اپنے خیالات کو کبھی تحریری صورت میں پیش نہیں کیا۔ اسے کسی مخصوص نظام فکر کا بانی بھی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس نے ہمیں صرف ایک مخصوص طریقہ کار دیا ہے اور اسی طریقہ کار کی بدولت ایتھنز کی فکری زندگی میں تعمیری رجحانات وضع ہوئے۔ افلاطون ، جو سقراط کا سب سے زیادہ ہونہار شاگرد تھا، کے بقول سقراط کا قد چھوٹا، آنکھیں اندر دھنسی ہوئیں اور شخصیت نہایت بدوضع تھی لیکن وہ غیر معمولی قوت برداشت اور مضبوط جسم کا مالک تھا۔ سردیوں گرمیوں میں وہ ایک ہی لباس میں برہنہ پا پھرتا تھا۔ وہ شراب نوشی بھی کثرت سے کرتا تھا۔ افلاطون کے سمپوزیم سے سقراط کی حالت استغراق کا بھی اندازہ ہوتاہے۔ بسا اوقات وہ غور و فکر میں اس قدر مستغرق ہو جاتا کہ دو دو دن ایک ہی جگہ پر بت بن کر کھڑا رہتا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سقراط کے نظریات کی بنیاد صرف منطقی تفکر ہی نہیں بلکہ ان میں داخلی و وجدانی قوتوں کا بھی عمل دخل تھا۔
سقراطی طریقہ کار کا ابھی ذکر ہوا، سقراطی طریقہ کار سے وہ اسلوب مراد ہے جس کے ذریعے سقراط لوگوں کو اپنے موقف کا قائل کر لیا کرتا تھا۔ وہ اپنی بات اپنے مدمقابل کے منہ سے نکلوا لیا کرتا تھا۔ گفتگو کی ابتدا میں وہ تجاہل عارفانہ سے کام لے کر ایسے ٹیڑھے سوالات کرتا کہ اس کا مدمقابل خودبخود اس نقطہ کی طرف آتا چلا جاتا جس پر سقراط اسے لانا چاہتا۔ افلاطون نے اپولوجی میں ایک واقعہ ذکر کیا ہے کہ سقراط کے ایک شاگرد چیریفون نے اپولو مندر کی کاہنہ سے یہ سوال کیا کہ کیا ایتھنز میں سقراط سے بڑھ کر بھی کوئی عقلمند موجود ہے؟ کاہنہ نے کہا ، نہیں۔ سقراط کو جب یہ پتہ چلا تو وہ الجھن میں پڑ گیا کیونکہ اس کا یقین تھا کہ وہ دانا ہر گز نہیں ہے۔ لیکن کاہنہ بھی غلط نہیں کہہ سکتی تھی۔ اس تضاد کو رفع کرنے کیلئے اس نے مختلف لوگوں سے مکالمہ کیا اور یہ جاننے کی کوشش کی کیا واقعی وہ عقلمند ہے۔ بلآخر وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ ہاں وہ عقلمند ہے کیونکہ لوگ تو یہ بھی نہیں جانتے کہ وہ کچھ نہیں جانتے اور سقراط کم از کم اتنا تو جانتا ہے کہ وہ کچھ نہیں جانتا۔
سقراط دیگر معاصرین اور ماقبل فلاسفہ کی طرح اس بحث میں نہیں گیا کہ کائنات کی حقیقت کیا ہے بلکہ اس نے اپنے فلسفے کا محور انسان کو بنایا۔ ارسطو نے اسے اخلاقیات کا بانی قرار دیا ہے کیونکہ سقراط کا تمام فلسفہ ان سوالات کے گرد گھومتا ہے کہ نیکی کیا ہے؟ انسانی زندگی کا مقصد کیا ہے؟ اور کن اعمال سے انسان کو گریز کرنا چاہئے؟ سقراط کا مشہور مقولہ ہے کہ “اپنے آپ کو پہچانوKnow thy self “۔ سقراط نے چونکہ کوئی تحریر نہیں لکھی اس لئے اس کے فلسفے کا علم ہمیں اس کے شاگردوں سے ہوتا ہے جن میں افلاطون سب سے اہم ہے۔
سقراط کا اصل مقصد اخلاقیات اور معاشرے کی اصلاح تھا۔ وہ مختلف لوگوں سے ملتا تھا اور ان سے نیکی اور برائی کے بارے میں سوال کرتا تھا۔ وہ تمام لوگوں کے جوابات یکجا کرتا اور ان پر غور وفکر کرتا تھا۔بقول ڈاکٹر نعیم احمد سقراط کی زندگی کا داخلی اور وجدانی پہلو نہایت اہم ہے۔ وہ آرفک مذہب اور فیثاغورثیوں کے صوفیانہ نظریات سے بخوبی آگاہ تھا۔ آرفک (آرفیسی) مذہب سے ہی اس نے روح کے دوام کا نظریہ اخذ کیا۔ روح پر اس کا یقین اتنا پختہ تھا کہ وہ اس کی فلاح و بقاء کیلئے کسی بھی نفسانی خواہش سے متاثر نہ ہو سکا۔ اپنے نظریہ روح سے ہی اس نے فلسفہ میں غایتی تشریح کو اہمیت دی۔ گزشتہ فلسفی “کیسے” کا جواب تلاش کرنا چاہتے تھے، فلسفے کی تاریخ میں پہلی بار سقراط نے “کیوں” کا سوال اٹھایا یعنی وہ اس بات پر غور کرتا ہے کہ ہر شے کا مقصد اور غایت کیا ہے؟
بقول قاضی قیصر الاسلام یہ بات درست ہے کہ سوفسطائیوں نے جو نظریات پیش کئے ان میں سے بیشتر سقراط کے فلسفیانہ افکار سے متناقض تھے کیونکہ سقراط نے صداقت کی معروضیت کے نظرئیے کی نہ صرف یہ کہ تائید کی بلکہ اس نے سوفسطائی نظریات پر شدید تنقید بھی کی۔ جہاں سوفسطائی حقیقت کی معروضیت کے منکر تھے وہاں سقراط نے صداقت کو حقیقت قرار دیا اور صداقت کی معروضیت کا فلسفہ پیش کیا۔ سقراط کے فلسفے میں صداقت اور بصیرت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ بصیرت کی اصطلاح سقراط کے یہاں مختلف معنوں میں استعمال ہوتی ہے یعنی یہ لفظ فضیلت، اعلیٰ و ارفع، ظرف ، وسعت نظر اور زیرکی و محتاط روی کے معنوں میں بہ یک وقت استعمال ہوتا ہے۔ یعنی فضیلت ایک ایسا “حقیقی خیر” ہے جس کی جستجو کرنا ہر انسان کا فرض ہے۔
سقراط کے فلسفے میں “خود آگاہی”،”فضیلت” اور “علم” بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کا سارا فلسفہ انہی اصطلاحات پر مشتمل ہے۔ خودآگاہی سے سقراط کی مراد ایک ایسی بصیرت ہے جسے محاکمات قدر کے طور پر سب سے زیادہ معتبر معیار کی حیثیت حاصل ہے اور خود آگاہی وہ علم ہے جس کا حصول احتساب ذات کے علاوہ کسی طور پر ممکن ہی نہیں۔ وہ کہتا ہے کہ سائنسی علم کی بنیادی قدر اگر کچھ ہے تو وہ یہ ہے کہ انسان اپنی ذات کے بارے میں بہتر سے بہتر فہم رکھتا ہو۔ سقراط کہا کرتا تھا کہ اپنے نفس کوپہچانو اور یاد رکھو اگر تم یہ جان لیتے ہو کہ صحیح یا درست کیا ہے تو پھر ایسی صورت میں تمھارا یہی عرفان تمھیں خود بخود بغیر کسی کوشش کے صحیح عمل کی طرف مائل کر دے گا۔ گویا سقراط کے نزدیک خیر کو پالینا ہی فضیلت ہے۔
سقراط کے نزدیک علم کی اہمیت زندگی کی ہر شے سے بڑھ کر ہے۔ اس کا مشہور مقولہ ہے “علم خیر ہے۔” سقراط کا مکمل نظریہ علم اس سہ لفظی جملے میں بند ہے۔ فلسفے میں خیر کا سوال ایک بنیادی سوال ہے یعنی یہ سوال کہ خیر کیا ہے؟ اس کا جواب سقراط کے ہاں یہ ہے کہ خیر علم ہے یا دوسرے لفظوں میں علم خیر ہے۔
سقراط حیات بعد الموت کا بھی قائل تھا۔ اس کے مطابق مرنے کےبعد روح ایک ایسی دنیا میں چلی جاتی ہے جہاں اسے ابدیت حاصل ہو جاتی ہے۔ سقراط سے ماقبل یونان میں مختلف فلسفوں کے تحت روح کا تصور مسخ ہو چکا تھا، سقراط نے اس تصور کی پھر سے تجدید کر دی۔ سقراط بھی دیگر فلاسفہ کی طرح منکر وجود باری تعالیٰ نہیں تھا البتہ وہ یونانی دیومالائی خداوں کے خلاف تھا۔ وہ ایک گفتگو میں کہتا ہے کہ مجھے خدا کی طرف سے حکم ہوا کہ میں اپنی ساری عمر اس کام میں صرف کروں کہ ہر شخص کو روح کی اصلاح اور تشکیل کی تعلیم دوں اور یقینا اس نے اپنی ساری عمر اصلاح نفس کی کوششوں ہی میں بسر کی ۔ بلآخر معاشرے کو “خراب” کرنے کے جرم میں اسے زہر کا پیالہ پینا پڑا جسے اس نے فلسفیانہ اطمینان کے ساتھ نوش کر لیا اور ہمیشہ کیلئے امر ہو گیا۔

تاریخ الحاد مغرب
فیصل ریاض شاہد

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں