167

سقراط کا مقدمہ- فیصل ریاض شاہد

سقراط ایک مذہبی انسان تھا لیکن اس کا خدا یونانیوں کے خداوں سے الگ تھلگ تھا۔ وہ کہا کرتا تھا کہ ایک خاص آواز میری رہنمائی کرتی ہے، وہ میرا خدا ہے جو مجھے ہدایات دیتا ہے لیکن یونانیوں کو اپنے “آفیشل” خداوں کے علاوہ کوئی خدا منظور نہ تھا۔ اس لئے سقراط کو سزاے موت سنائی گئی۔

سقراط کے مقدمے کے بنیادی مصادر اس کے دو ہونہار شاگردوں افلاطون اور زینوفون کی کتب ہیں۔ ان دونوں کی کتاب کا نام Apology of Socrates(سقراط کی معذرت خواہی) ہے۔جدید مصادر میں آئی ایف سٹون کی کتابWhy Socrates Died(1988 AD)اور روبن واٹرفیلڈ کی کتاب Dispelling the Myths(2009 AD)شامل ہیں۔ ان کے علاوہ بھی سقراط کے مقدمے اور موت کے حوالے سے بہت کچھ لکھا گیا ہے، مختلف مولفین نے مختلف نقاط نظر بیان کئے ہیں البتہ جو معروف واقعات ہیں ہم انہی کو بیان کرنے پر اکتفاء کریں گے۔

ایتھنز میں کوئی بھی شخص کسی کے خلاف بھی مقدمہ دائر کروا سکتا تھا۔ سقراط کے خلاف جس شخص نے مقدمہ دائر کروایا اس کا نام میلٹسMeletusتھاجو ایک شاعر تھا۔ گواہوں کی موجودگی میں سقراط کو زبانی پیغام بھجوایا گیا کہ وہ سینٹرل ایتھنز میں مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہو کر اپنی صفائی پیش کرے۔ اس مقدمے میں میلٹس کے ساتھ غالبا اینیٹس اور لیکون بھی شریک تھے۔ پہلی سماعت کی تاریخ متعین کی گئی اور سقراط کو عدالت میں حاضر کیا گیا۔ یہ عدالت پانچ سو مردججوں پر مشتمل تھی۔ ہمارے ہاں منصفین کی تعداد اتنی زیادہ نہیں ہوا کرتی لیکن اُس زمانے کے ایتھنز میں عموما ایسے مقدمات کیلئے پانچ سو منصفین فیصلہ صادر کیا کرتے تھے جنہیں عوام الناس جمہوری طریقے سے چنا کرتے تھے۔ یہ جج حضرات عموما 30 سال سے زائد عمر کے ہوا کرتے تھے، فیصلہ کثرت رائے کی بنیاد پر کیا جاتا تھا۔

ایتھنز میں وکیلوں کی بجائے لوگ اپنا مقدمہ خود لڑا کرتے تھے چنانچہ پانچ سو منصفین کی عدالت میں مجسٹریٹ نےمیلٹس اور سقراط کو کٹہروں میں کھڑاکر لیا اور میلٹس کو حکم دیا کہ وہ سقراط پر عائد کردہ فردِ جرم پڑھ کر سنائے۔مقدمے کی سماعت صبح کے وقت شروع کی گئی جو چھ گھنٹے تک جاری رہی۔ سقراط کے تمام شاگرد، اس کے دوست، مخالفین اور عوام الناس کا جم غفیر عدالت میں موجودتھا۔ میلٹس کے پاس اپنے اعتراضات کو مع ثبوت ثابت کرنے کیلئے تین گھنٹے کا وقت دیا گیا(وقت کی پیمائش پانی کی گھڑی سے کی گئی)۔ اس نے فرد جرم پڑھ کر سنائی، سقراط پر دو الزامات تھے؛

1۔ اول یہ کہ وہ ایتھنز کے “آٖفیشل” خداوں کا منکر ہے
2۔ اور دوم یہ کہ وہ ایتھنز کے نوجوانوں کو آفیشل خداوں کے خلاف بھڑکاتا ہے اور ایک نئے خدا کو متعارف کرواتا ہے۔(ایتھنز کے روایتی تناظر میں گویا وہ ملحد ہو چکا ہے)

یہ فرد جرم اپنی اصلی حالت میں قریبا 200ء تک محفوظ رہی لیکن بعد ازاں تلف ہو گئی۔بعض محققین کے نزدیک مدعیان نے زیادہ زور پہلے جرم پر دیا جو کہ مذہبی نوعیت کا جرم تھا جبکہ بعض کہتے ہیں کہ مدعیان نے دوسرے جرم، جو قومی نوعیت کا جرم تھا، پر زیادہ زور دیا۔

افلاطون اور زینوفون اس بات پر متفق ہیں کہ بجائے اپنا دفاع کرنے کے، سقراط نے جان بوجھ کر منصفین اور میلٹس کو اپنے خلاف ابھارا اورسوالات کے غیر متعلقہ جوابات دئے۔ محققین نے اس کی کئی توجیہات پیش کی ہیں۔ تین گھنٹے تک میلٹس سقراط سے مختلف سوالات کرتا رہا اور سقراط جوابات دیتا رہا۔
دوسرے مرحلے میں سوالات کی باری سقراط کی تھی اور اسے کہا گیا کہ اب وہ فرد جرم کی تردید کرے اور اپنے حق میں دلائل پیش کرے۔ لیکن خدا جانے سقراط اپنے دفاع میں ناکام کیوں رہا۔

اب وہ مرحلہ آن پہنچا تھا جب منصفین نے اپنا اپنا فیصلہ سنانا تھا۔ فیصلہ سنانے کا طریقہ کار یہ تھا کہ عدالت میں دو برتن رکھے ہوتے تھےجن میں منصفین اپنا ووٹ ڈالتے تھے۔ مقدمے کے اختتام پر جب ووٹ شمار کئے گئے تو 280 ووٹ سقراط کے خلاف نکلے جبکہ 220 منصفین نے اس کے حق میں ووٹ دیا۔ گویا ایتھنز کی عدالت میں سقراط مجرم قرار پا چکا تھا۔

اب سقراط کے پاس دو راستے تھے۔ یا تو رواج کے مطابق زہر کا پیالہ پی جائے جا شہر چھوڑ کر چلا جائے۔ لیکن سقراط نے ایتھنز کو چھوڑنا گوارا نہیں کیا۔ رواج کے مطابق عدالت نے میلٹس اور سقراط دونوں کو اجازت دی کہ وہ مجرم کیلئے کوئی سزا تجویز کریں۔ میلٹس نے تو صاف صاف سزاے موت تجویز کردی البتہ سقراط نے ایک عجیب و غریب سزا متعین کی۔ اس نے جان بوجھ کر ہنسی مزاق کیا تاکہ منصفین اس کی سزائے موت پر مہر تصدیق ثبت کر دیں، اس نے کہا کہ میری عمر ستر سال ہوچکی ہے، میرے لئے یہ سزا کافی ہے کہ بقیہ تمام زندگی کیلئے حکومت میرے لئے کھانے پینے کا بندوبست کرے اور میرے لئے وظیفہ مقرر کرے کیونکہ میں اہل ایتھنز کا خیر خواہ ہوں!لیکن منصفین نے سقراط کو ڈانٹ دیا اور کہا کہ کوئی سنجیدہ سزا تجویز کرے۔ اس کے بعد سقراط نے کہا کہ مجھ سے میری جائیداد کا پانچواں حصہ لے لیا جائے(جو کہ بہت کم تھا) لیکن عدالت نے منظور نہیں کیا۔القصہ 360 منصفین نے سقراط کیلئے سزائے موت منظور کی جبکہ بقیہ 140 نے جرمانے کی سزا کے حق میں ووٹ دیا۔

موت اب سقراط کا مقدر ہو چکی تھی۔ اس کے شاگردوں سے کہا گیا کہ اسے آخری غسل دے دیں۔ یہ سن کر اسکا ایک شاگرد داڑھیں مار کر رونے لگا۔ سقراط نے اسے دلاسہ دیا اور کہا کہ میں اپنے جسم کو غسل خود دوں گا چنانچہ وہ نہا دھو کر عدالت میں حاضر ہوااور اپنا آخری خطبہ سنایا، جس کے کچھ اقتباسات پیش خدمت ہیں۔

رسل کے بقول ؛
“God oders me to fulfill the philosopher’s mission of searching into myself and other men.”
” خدا مجھےحکم دیتا ہے کہ میں اپنے اور دوسروں کے نفوس پر غور و فکر کرنے کے فلسفیانہ مشن کو پورا کروں۔”

“Men of Athens, I honour and love you; but I shall obey God rather than you.”
” اے ایتھنز کے رہنے والو! میں تمھاری عزت اور تم سے محبت ضرور کرتا ہوں لیکن میں خدا کے حکم کی تعمیل کروں گا”

“ The hour of departure has arrived, and we go our ways- I to die, and you to live. Which is better God only knows.”
“رخصت کی گھڑی آن پہنچی ہے، اب ہمیں اپنی اپنی راہ لگنا ہے، مجھے موت کی طرف اور تمھیں زندگی کی طرف، کونسی راہ بہتر ہے یہ صرف خدا ہی جانتا ہے”

افلاطون سقراط کی زبانی لکھتا ہے؛
” ایک فلسفی کبھی موت سے نہیں ڈرتا لیکن خودکشی کو حرام سمجھتا ہے”(یاد رہے ایتھنز میں خودکشی کو حرام نہیں سمجھا جاتا تھا)

جب اس کے ساتھی اس سے پوچھتے ہیں کہ خودکشی حرام کیسے ہے. تو وہ جواب دیتا ہے؛
“جب ایک مالک اپنے مویشیوں کو چرائے اور انہیں سیدھے رستے پر چلنے کا کہے ایسے میں ایک مویشی سیدھےرستے سے انحراف کرے تو مالک کا غصہ بجا ہے وہ ناراض ہوگا، مویشی اور مالک کا رشتہ بندے اور خدا کا ہے۔ اگر بندا خدا کے بتائے رستے سے ہٹ کر چلے اپنی مرضی کرے تو خدا ناراض ہوگا لہذا خودکشی حرام ہے اس لئے بندے کو چاہیے کہ وہ اس وقت کا انتظار کرے جب اسکا خدا چاہتا ہے کہ بندا اسکے پاس آئے جیسے کہ میرا خدا مجھے بُلا رہا ہے اور موت کا وقت آگیاہے”.

یہ 399ق م کا کوئی دن تھا جب دوپہر بارہ بجے کے قریب سورج پورے عروج پر تھا، سقراط اس کی ضیاء میں کہیں گم ہو گیا۔ وہ زہر کا پیالہ پی کر ہمیشہ کیلئے امر ہو گیا!

“مغربی الحاد(لادینیت) کی تاریخ – نشاۃ ثانیہ تا مابعد جدیدیت”
از فیصل ریاض شاہد

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں