132

دیاغوراس – پہلا یونانی ملحد- فیصل ریاض شاہد

وہ پہلا یونانی شخص جسے سب سے پہلا باقاعدہ منکر باری تعالیٰ ملحد قرار دیا جاتا ہے، پانچویں صدی ق م میںMelos کا رہنے والاسوفسطائی شاعر دیاغوراس، تھا۔ جو سرعام یونانی خداوں پر نکتہ چینی کیا کرتا تھا۔ عہد قدیم میں دیاغوراس وہ واحد شخص تھا جس کے ملحد ہونے کی خبر ہر طرف عام تھی لیکن اس کے باوجود قطعیت کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا کہ آیا وہ صرف دیوتاوں کا منکر تھا یا وجود باری تعالیٰ کا انکار کرتا تھا۔
جب اہل ایتھنز نے میلوس کو فتح کیا تو دیاغوراس کو غلام بنا لیا جسے بھاری قیمت ادا کرنے کر کے ڈیمقراطیس نے آزاد کروایا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ جوہری(ایٹمسٹ) فلسفی ڈیمقراطیس کا شاگرد تھا لیکن تاریخی طور پر ایسی کوئی شہادت موجود نہیں۔ اس کی شہرت کا سبب یہ بنا کہ ایک بار اس نے شلجم ابالنے کیلئے دیومالائی خدا ہیراکلزHeracles، جو زیوس کا بیٹا تھا، کا لکڑی کا بت جلا ڈالا۔وہ اساطیری خداوں کی قلعی کھولنا چاہتا تھا۔اسکا مقصد یہ واضح کرنا تھا کہ لکڑی کے یہ دیوتا محض من گھڑت خدا ہیں لیکن یونان میں اگر سب سے بڑا کوئی جرم ہو سکتا تھا تو وہ یہی تھا!اس گناہ عظیم کے سبب415ق م میں اہل ایتھنز نے اسے ملحد قرار دے دیا۔ جان بچانے کیلئے وہ Corinthچلا گیا جہاں اس کی موت واقع ہوئی۔
ایرسٹوفنیزAristophanes، جو اس زمانے کا معروف ڈرامہ نگار تھا، نے اپنے ڈرامہ “بادل The Clouds ” میں دیاغوراس کو مشہور شخص کے طور پر پیش کیا ہے۔ مورخ ڈیوڈورس Diodorus Siculusکے بقول حکومت ایتھنز نے دیاغوراس کو زندہ یا مردہ پکڑ لانے پر انعام رکھا تھا، ایک ٹیلنٹ (قدیم یونانی اکائی) اس شخص کیلئے جو ڈیاغوراس کی لاش لائے گا اور دو ٹیلنٹ اس شخص کیلئے جو اسے زندہ پکڑ لائے۔(1)
سسروCicero پہلی صدی قبل مسیح میں ہمیں دیاغوراس کاایک واقعہ بتاتا ہے کہ کس طرح دیاغوراس کے ایک دوست نے اسے دیوتاوں کے وجود پر ایمان لانے پر مائل کرناچاہا اور کہا کہ اگر دیوتا موجود نہیں اور ہماری مدد کو نہیں آتے تو پھر طوفان میں جب کشتی ڈگمگا جائے اور لوگ دیوتاوں کو پکارتے ہیں تو پھر کون ان کی مدد کرتا ہے، کون انہیں بچاتا ہے! یہ سن کر دیاغوراس نے کہا کہ ایسے لوگ بھی تو کتنے ہیں جو دیوتاوں کو پکارنے کے باوجود غرق ہو جاتے ہیں!(2)
جیمز تھرور کہتا ہے کہ دیاغوراس کوئی نظری ملحد نہیں تھا بلکہ اس کے الحاد کی وجوہات صرف یہ تھیں کہ اس کا کوئی قلمی نسخہ گم ہوگیا اور دیوتاوں سے بارہا دعا و مناجات کے باجود اسے وہ کھویا ہوا نسخہ واپس نہ مل سکا۔(3) کیری والٹرز خدا پر سے ایمان اٹھ جانے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ بعض لوگ کسی ناگوار تجربے کی بنا پر بھی ملحد ہوجاتے ہیں۔ اس ضمن میں وہ دیاغوراس کو بطور مثال پیش کرتا ہے۔(4)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1) Diodorus, Siculus, xiii. 6, Bremmer, Atheism in Antiquity, pg. 18
(2) Cicero, De Natura Deorum, iii 89,
(3) Thrower, James, Western Atheism, pg. 32
(4) Walters, Kerry, Atheism- A Guide for the Perplexed, Continuum, New York, 2010, pg. 13
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“مغربی الحاد کی تاریخ” از فیصل ریاض شاہد

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں