196

دو ٹوک ، ننگی لیکن سچی باتیں۔۔۔فیصل ریاض شاہد

حق و باطل میں رشتہ امن کا نہیں ، جنگ کا ہوتا ہے۔۔۔!
رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن۔۔۔

یہ سب مغالطے ہیں!
“اسلام امن کا دین ہے”، 
“اسلام مساوات کا درس دیتا ہے”، 
“اسلام ترقی اور تسخیر کائنات کا درس دیتا ہے”، 
“اسلام آزادی کا دین ہے”۔۔۔ 
یہ سب مغالطے ہیں۔۔۔!!!

جی ہاں، ایسے تمام “عمومی جملے” مغالطہ ہوتے ہیں۔یہ آدھا سچ ہیں، بات پوری بتائیے!!!
بات کو زرا توجہ سے سمجھئے گا؛
پوری اسلامی تاریخ کی اسلامیات کی تمام کتابیں اٹھا کر دیکھ لیجئے،” امن، مساوات، ترقی اور آزادی” کے چار الفاظ کا استعمال اتنی کثرت سے کبھی نہیں کیا گیا جتنی کثرت سے گزشتہ ڈیڑھ سو سال میں ان الفاظ کا منجن خود ہمارے مسلمان، بلکہ ذہنی غلام مسلم سکالرز اور معذرت خواہ، مغرب کے نیچے لگے ہوئے علماء نے بیچا ہے۔۔۔! جی ہاں، تجربہ کر لیجئے۔۔۔

ہم برصغیر کے مسلمان ہزار سال ہندووں پر حکومت کر کے بھی انہیں اتنا ذہنی غلام نہیں بنا پائے جتنا زیادہ نمک حلال ذہنی غلام گوروں نے ہمیں ڈیڑھ سو سال میں بنا ڈالا!
وہ ایسے کہ ہم نے اپنی دینی مابعد الطبیعات کو اپنے گورے آقاوں کے فلسفہ ہیومنزم (انسانیت پرستی) کی بھینٹ چڑھا دیا ۔۔۔۔۔ اور یہ وہ ٖغلطی ہے کہ جس کے ارتکاب میں “سو کالڈ ماڈرن مسلم سکالرز” نے بڑھ چڑھ کر صفحے کالے کئے ہیں۔ مزید ظلم یہ کہ آج اکثریت کو معلوم بھی نہیں کہ یہ ہیومنزم بلا کیا ہے! اس سے زیادہ پستی مسلمانوں پر کبھی نہیں آئی، دورِ حاضر کا مسلمان تاریخ کا غلام ترین مسلمان ہے!
خدارا ان حقائق کو تسلیم کیجئے اور اس پستی سے نکلنے کی کوشش کیجئے۔ مغرب کو سمجھئے۔۔۔
مغرب نے گزشتہ چار سو سال میں (عہد تنویر سے اب تک)جو الفاظ سب سے زیادہ بولے ہیں ان میںTolerance، Equality، Progress اور Peace سر فہرست ہیں، انہی الفاظ کا ترجمہ ہم حسب ترتیب “رواداری، مساوات، ترقی اور امن “سے کرتے ہیں۔ گورے جب یہاں آئے تو اسلحے کے ساتھ ساتھ وہ اپنی اصطلاحات بھی یہاں لائے تھے۔ یہاں کے مسلمانوں کو گوروں کی توپوں تلواروں اور بندوقوں نے اتنا گھائل نہیں کیا جتنا ان چار الفاظ نے روندا ہے۔ پھر اسلام پر بھی اتنا ظلم گوروں نے نہیں ڈھایا جتنا خود ہمارے اندر پیدا ہونے والے کالے انگریز مسلم سکالرز نے ڈھایا ہے۔ ان کی باقیات آج بھی ٹی وی اور یوٹیوب چینلز پر انجینئیر علی مرزا اور جاوید احمد غامدی کی صورت میں دیکھی جا سکتی ہیں۔۔۔!
بات یہ ہے کہ ہم مسلمان بھی امن، مساوات، ترقی اور آزادی کا نعرہ لگاتے ہیں جب کہ مغرب بھی انہیں الفاظ کی جگالی کرتا ہے۔ آپ مجھ سے پوچھئے کہ پھر فرق کیا ہے؟ میں اتنا سیخ پا کیوں ہوں؟ تو عرض ہے کہ

یہ جو جملہ ہے کہ اسلام امن کا درس دیتا ہے، اس جملے کی تاریخ پر غور کیجئے۔ یہ جملہ جنگ 57ءاور مغرب سے “روشن خیالی” وصول کرنے کے بعد مسلمانوں میں عام ہوا ہے۔ یہ ایک معذرت خواہانہ جملہ ہے جو ہمارے پرانے بابوں نے انگریز آقا کو خوش کرنے کیلئے عام کیا تھا۔ سر سید احمد خان صاحب کی مثال سامنے ہے!مذکورہ باقی جملوں کا تاریخی مصدر اور تناظر بھی یہی ہے۔

اب اصل بات کی طرف آئیے۔ کچھ عرصہ قبل مولانا خادم حسین رضوی صاحب نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اسلام امن کا درس کوئی نئیں دیتا، تو اس جملے پر سوشل میڈیا میں بڑی لے دے ہوئی تھی۔ اس وقت بھی میں نے مولانا کے اس جملے کا دفاع کیا تھا اور اس کا حقیقی مفہوم سمجھانے کی کوشش کی تھی، آج بھی وہی عرض کر رہا ہوں کہ ایسا کہنا کہ “اسلام امن کا درس دیتا ہے” ادھورا سچ ہے جس سے مغالطہ پیدا ہوتا ہے اور یہ وہ مغالطہ تھا جو ہمارے شاطر سکالرز نے خود مسلمان عوام کیلئے گھڑا تھا۔ اسلام امن کا درس تو دیتا ہے لیکن جناب بات کو مطلق مت چھوڑئیے یہ بھی تو بتلائیے کہ اس جملے کی مراد کیا ہے؟ اس سوال کے جواب میں مغرب کے نمک خور سکالرز جھٹ سے کہیں گے کہ اسلام نرمی کا دین ہے، کافر کوبھی کافر نہ کہو، دین میں جبر نہیں، دل کا حال اللہ جانتا ہے، فلاں ہے فلاں ہے فلاں اور جانے کیا کیا کچھ سنانے لگ جاتے ہیں لیکن اصل بات کی طرف نہیں آتے۔
اصل بات یہ ہے کہ اسلام امن کا درس ضرور دیتا ہے لیکن یہاں “امن” سے بے غیرتی والا مغربی امن مراد نہیں ہے۔ یہاں امن سے یہ مراد نہیں کہ اب کفار کی گردنیں نہیں کاٹی جائیں گی، یہ مراد نہیں کہ اب جہاد معطل ہو گیا ہے(جیسا کہ غامدی صاحب کہتے ہیں)، یہ بھی مراد نہیں کہ مسلمان کافر سارے مل جل کر”سیکولر بھائی بھائی” بن کر رہیں۔۔۔! بلکہ قدیم حقیقی اسلامی (ناکہ مغرب زدہ اسلامی) ڈسکورس میں جو یہ کہا گیا کہ اسلام دین امن ہے تو اس سے مراد یہ ہے 
//کہ اسلام “امن” کی ایک تعریف خود پیش کرتا ہے اور پھر جو اسلامی شرائط پر پورا اترے، اسلام اس کے ساتھ امن کا درس دیتا ہے، ہر ایرے غیرے کافر ملحد وغیرہ کے ساتھ امن کا درس اسلام نے کہیں نہیں دیا۔ بھلا حق کبھی باطل کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ کی تعلیم دے سکتا ہے۔!!! کومن سینس کی بات ہے!//

اسلام اپنا ذاتی ایک تصور امن پیش کرتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اسلامی ریاست میں مسلمانوں کیلئے امن تو ہے ہی سہی، کفار وغیرہ کیلئے امن صرف تب ہے جب وہ یا تو مسلمان ہو جائیں، یا جزیہ دیں ، اسلامی ریاست میں کفار کیلئے مطلق امن کی تیسری کوئی صورت سرے سے موجود نہیں۔ ہاں البتہ اسلام کو مغرب کے ساتھ ایڈجسٹ کرنے میں ہمارے “روشن خیال مسلم سکالرز” ویسے ہی ماہر ہیں، ان کیلئے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا، جا کر فتویٰ لے لیجئے، غیر محرم کے ساتھ ہاتھ ملانا بھی جائز لکھ دیں گے!(یہ غامدی صاحب کا فتویٰ ہے کہ غیر محرم سے ہاتھ ملانا صرف رسول پاکﷺ کو منع تھا، باقی سب کیلئے جائز ہے)
تحریر طویل ہو رہی ہے، قصہ مختصر یہ کہ
ایسا کہنا “اسلام امن کا درس دیتا ہے” ایک عدد مغالطہ اور آدھا سچ ہے۔ بات پوری کیا کریں اور یوں کہا کریں کہ “اسلام امن کا دین ضرور ہے لیکن اسلام امن کا اپنا ذاتی تصور رکھتا ہے، وہ مغربی سیکولرتصور امن کو رد کرتا ہے۔” اور اسلام کا تصور امن یہ ہے کہ کفار صرف تب تک امان میں ہیں جب تک جزیہ دیں، یا مسلمان ہو جائیں۔ علاوہ ازیں کافر ایک مسلمان کیلئے ہمیشہ دشمن تھا، دشمن ہے اور دشمن ہی رہے گا۔ حق و باطل میں رشتہ امن کا نہیں ، جنگ کا ہوتا ہے۔۔۔!!!

ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
(اقبال)

(میری کوشش تھی کہ بقیہ تین جملوں پر بھی لکھوں لیکن تحریر بہت طویل ہو جائے گی، انہیں دوسرے کسی موقع کیلئے چھوڑ دیتا ہوں)

فیصل ریاض شاہد

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں