159

دلیل دینے سے پہلے جان لیجئے کہ۔۔۔ فیصل ریاض شاہد

دلیل دو طرح کی ہوتی ہے؛
1۔ تحقیقی دلیل
2۔ الزامی دلیل
تحقیقی دلیل ایسی دلیل کو کہتے ہیں جس کے مقدمات نفس الامر میں آپ کے ہاں تو مسلم ہوتے ہیں لیکن مدمقابل کے نزدیک مسلم نہیں ہوتے (یاممکن ہے وہ ان مقدمات کا علم ہی نہ رکھتا ہو)۔ایسی دلیل کا مقصد مدمقابل کا منہ بند کرنا نہیں بلکہ حق کا اظہار ہوتا ہے۔مثلا میرا دعویٰ ہے کہ خدا موجود ہے۔ اس دعوے کی بنیاد میں دو مقدمات پر رکھتا ہوں۔
پہلا مقدمہ: کائنات میں زبردست نظم (ڈیزائن) موجود ہے
دوسرا مقدمہ: نظم بغیر ناظم (ڈیزائنر) کے وجود میں نہیں آ سکتا
نتیجہ/دعویٰ: پس ثابت ہوا کہ کائنات کا بھی ایک ناظم ہے اور وہی خدا ہے
اس قسم کی دلیل کہ جس میں مدمقابل کو اپنی بات سمجھانا اور اظہار حق مقصود ہو “تحقیقی دلیل” کہتے ہیں۔
دلیل کی دوسری قسم “الزامی دلیل” ہے۔ الزامی دلیل ایسی دلیل کو کہتے ہیں جس کے مقدمات آپ کے ہاں تو مسلم نہ ہوں(یا وقتی طور پر آپ انہیں موضوع نہ بنانا چاہتے ہوں) لیکن مدمقابل کے نزدیک مسلم ہوں۔ ایسی دلیل کا مقصد اظہار حقیقت یا مدمقابل کو مدعا سمجھانا نہیں بلکہ اس کی زبان بند کرنا ہوتا ہے۔ مقصد یہ باور کروانا ہوتا ہے کہ تم جو دعویٰ کر رہے ہو وہ دعویٰ خود تمھارے اپنے اصولوں کے خلاف ہے گویا اگر میں غلط ہوں تو داخلی تضاد کی وجہ سے تم بھی غلط ہو۔ مثلا مدمقابل (مثلا ملحد حیاتیات دان رچرڈ ڈاکنز)یہ دعویٰ کرتا ہے کہ خدا کا وجود سائنس کا موضوع ہے۔ اس دعوے کی بنیاد وہ دو مقدمات پر رکھتا ہے؛
پہلا مقدمہ: سائنس کائنات اور اس سے متعلق اشیاء کا مطالعہ کرتی ہے
دوسرامقدمہ: اگر کائنات خدا نے بنائی تو گویا خدا کائنات سے متعلق ہے
نتیجہ/ دعویٰ: پس ثابت ہوا کہ خدا سائنس کا موضوع ہے
ڈاکنز کے اخذ کردہ نتیجے یا دعوے پر غور فرمائیے۔ اس نے کہا کہ خدا سائنس کا موضوع ہے۔ یہ دعویٰ خود اسی کے ایک نظرئیے سے متصادم ہے۔ڈاکنز یہ بھی مانتا ہے کہ 
سائنس صرف مادی اشیاءکا مطالعہ کرتی ہے، 
مابعد الطبیعی موجودات کے مطالعے کا نام سائنس نہیں ہے۔ 
وہ یہ بھی مانتا ہے کہ خدا مابعدالطبیعی یا غیرمادی وجود ہے۔ 
لہذا اس کا دعویٰ اس کے اپنے نظریات سے متصادم ہے۔ ایک طرف وہ سائنس کو مادے تک محدود مانتا ہے اور دوسری طرف ایک غیر مادی وجود کو سائنس کا موضوع بنا رہا ہے۔ اس کے رد میں ہم کہتے ہیں کہ میاں! تمھارا دعویٰ خود تمھارے ہی نظرئیے کے خلاف ہے لہذا تم خود تردیدی کا شکار ہو پس ایسا کوئی دعویٰ تمھیں زیب نہیں دیتا۔ اس قسم کی دلیل کو “الزامی دلیل” کہتے ہیں جس کا مقصد اظہار حق نہیں بلکہ مدمقابل کی صرف بولتی بند کرنا ہوتا ہے۔

ہمیں چاہئے کہ ہم جب بھی کسی اعتراض کا جواب دیں تو ہمارا جواب حتی الامکان دونوں طرح کے دلائل سے پُر ہو۔ الزامی جواب کی اہمیت بھی اتنی ہی ہے جتنی اہمیت تحقیقی جواب کی ہے۔ الزامی جواب تحقیقی جواب سے مشکل ہوتا ہے کیونکہ اس کیلئے ناصرف اپنے مقدمات بلکہ مدمقابل کے مقدمات اور دیگر نظریات کے بارے میں جاننا بھی لازم ہوتا ہے۔

فیصل ریاض شاہد

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں