329

خسروپرویز کا مکمل تعارف- فیصل ریاض شاہد

ساسانی خاندان کا اکیسواں بادشاہ خسرو پرویزمشہور ایرانی شہنشاہ نوشیرواں عادل کا پوتا اور ساسانیوں کا طاقتور ترین بادشاہ تھا۔یہی وہ بد بخت شہنشاہ تھا جس نے رسول اکرمؐ کے خط مبارک کو شہید کر ڈالا تھا۔اسکے عہد میں جب فارسیوں نے رومیوںسے یروشلم اور سکندریہ کے شہر چھین کراپنی سلطنت میں شامل کر لئے تو ساسانیوں کی سلطنت اس وقت دنیا کی عظیم ترین سلطنت بن گئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ خسرپرویز نے ساسانی حکومت کو ابتدائی ہخامنشی سلطنت کے برابر وسیع کر دیا تھا۔خسرو پرویز کے عہد میں جب رومی علاقے فتح ہو گئے تو اسکے نام کا سکہ مشرق میں بلوچستان اور مغرب میں سکندریہ (مصر) تک چلنے لگا۔چھیاسٹھ لاکھ مربع کلو میٹر تک پھیلی ہوئی اس عظیم الشان سلطنت پر صرف اسی کا حکم چلتا تھا۔خسروپرویز کی وسیع و عریض شہنشاہی میں ایران، عراق، الجزیرہ، بحرین، کویت، قطر، متحدہ عرب عمارات، شام، لبنان، فلسطین، اردن، ترکی کے کچھ علاقے، افغانستان، ترکمانستان، ازبکستان، تاجکستان ، یمن، عمان، اور پاکستان کے صوبہ سرحد و بلوچستان کے کچھ علاقے شامل تھے۔ یہی وجہ تھی کہ خسرو پرویز خود کو خدا سمجھنے لگ گیا تھا۔
خسرو اول جو نوشیروان عادل کے نام سے معروف ہے کی وفات کے بعد اس کا بیٹا ہرمز تخت ساسان کا وارث بناتھا۔ اپنے نامور باپ کی وسیع و عریض مملکت کے علاوہ اسے اپنے باپ کی شہرت، نیک نامی، عادلانہ اور دانشمندانہ آئین جہانبانی بھی ورثہ میں ملا۔ مزید برآں اسے بزرجمہر جیسے نیک نفس اور پاک طینت استاد اور فلسفی کی سرپرستی بھی میسر آئی جو اپنی علمی قابلیت اور فلسفایہ انداز فکر میں بےمثال تھا، لیکن جب بزرجمہر پیرانہ سالی کے باعث امور سلطنت سے الگ ہو کر گوشہ نشین ہوگیا، تو اس کے نواجوان شاگرد ہرمز کے اردگرد خوشامدی اور بددیانے لوگوں کا جمگھٹا ہوگیا۔ انہوں نے چن چن کر نوشیروان کے مخلص اور زیرک مشیروں کو دربار شاہی سے نکال دیا اور آہستہ آہستہ ہرمز کے دل کو عدل و انصاف، نیکی و رعایہ پروری کے جذبات سے متنفر کر دیا۔ رفتہ رفتہ ملک کا نظم و نسق تباہ ہونے لگا۔ جن لوگوں نے ازراء خیر خواہی بادشاہ کی توجہ کو بگڑتے ہوئے حالات کی طرف مبذول کرایا، انہیں قتل کر دیا گیا۔ جہاں کہیں اس ظلم و ستم کے خلاف فریاد اور احتجاج کی آواز بلند ہوئی اسے عسکری قوت سے کچل دیا گیا۔ ہرمز نے اعلان کر دیا کہ وہ صرف بادشاہ ہی نہیں، قاضی الحاجات بھی ہے اور اسی کا فیصلہ آخری فیصلہ ہے۔ شاہی محلات کے درودیوار، شاہی دربار کا کونہ کونہ مملکت کے تمام شہر اور دیہات اور دجلہ کا پانی بےگناہوں کے خون سے رنگین نظر آنے لگا۔ اور اسی جبرو تشدد پر ہرمز اظہار فخر و مباہات کیا کرتا۔
آخر تنگ آکر ملک کے مختلف صوبوں، بابل، سوسا اور کارمینہ نے علم بغاوت بلند کر دیا۔ عرب و ہند کے باجگزار سلاطین نے خراج ادا کرنے سے انکار کر دیا۔ ایران کے ملکی حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے رومیوں نے بھی از سر نو اپنی ترک تازیوں اور غارت گریوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔
ترکستان کا خانخاناں تین چار لاکھ ترکوں کی جمیعت لے کر ایران کی مشرقی سرحد پر آپہنچا اور ظاہر یہ کیا کہ وہ رومیوں کے مقابلہ میں ہرمز کی امداد کرنے کے لیے یہ لشکر جرار لے کر آیا ہے۔ ناعاقبت اندیش ہرمز اس دام فریب میں پھنس گیا۔ اس نے اپنے شہروں کے دروازے ترکوں کے لیے کھول دئیے۔ جب وہ اپنے قدم جما چکے تو اسے اس وقت معلوم ہوا کہ وہ تو فقط مملکت ساسان کا چراغ ہمیشہ کے لیے گل کرنے کے لیے آئے تھے اور ترکوں نے رومیوں کے ساتھ ساز باز کرنے کے بعد ادھر کا رخ کیا تھا۔ اب ایران دو جابر اور طاقتور دشمنوں کے چنگل میں پھنس چکا تھا۔ سارے خوشامدی لرزہ براندم تھے ہرمز خود پریشان تھا۔ اس وقت سپہ سالار بہرام چوبین آگے بڑھا اور دس بارہ ہزار بہادر سپاہیوں کو لے کر ترکوں کی ٹڈی دل افواج کو شکست فاش دی۔ ہرمز کے دل میں اس کے خلاف حسد کی آگ سلگنے لگی۔ اس کے حواریوں نے یہ چغلی کھائی کہ بہرام نے لوٹ کے مال سے قیمتی اشیاء اپنے لیے مختص کر لی ہیں۔ اس سے وہ اور بھڑکا، لیکن رومیوں کے اچانک ہلہ نے اسے انتقامی کاروائی سے روک دیا۔ بہرام کو بڑی پذیرائی بخشی گئی اور اسے رومیوں کے مقابلہ کے لیے مقرر کیا گیا۔ اس جنگ میں بہرام کا ایک جنگی منصوبہ بادشاہ کو پسند نہ آیا اور اس نے اسے بہانہ بنا کر اپنے ایک شاہی قاصد کے ذیعے اسے ایک سوت یا اون کاتنے کا لکڑی، چرخہ اور ایک زنانہ جوڑا بھیجا۔ اس نے بادشاہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے یہ زنانہ لباس پہنا اور اسی طرح اپنے لشکر کے سامنے آیا۔ اپنے بہادر جرنیل کی اس بےعزتی پر افواج کو یارائے صبر نہ رہا سب نے بغاوت کر دی اور بہرام کے ساتھ حلف وفاداری اٹھایا۔ دوسرا شاہی قاصد جو بیڑیاں لے کر آیا تھا تاکہ بہرام کو ان میں جکڑ کر حاضر دربار کرے۔ اسے لوگوں نے شدت غضب سے اپنے پاؤں کے نیچے روند ڈالا۔ قلیل عرصہ میں لوگ بہرام کے پرچم کے نیچے جمع ہوگئے۔ سارا ملک اور دار السطنت مدائن بھی ہرمز کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا۔ اس کا بڑا لڑکا خسرو دوم اس شور و شغب میں شہر سے نکلنے میں کامیاب ہوگیا۔ ایک ساسانی شہزادہ بنڈوز BINDOES کی ترغیب پر وہ واپس آیا اور تاج شاہی اس کے سر پر رکھ دیا گیا۔ ایک عام عدالت میں ہرمز کو بطور مجرم پیش کیا گیا اس کا اترا ہوا چہرہ خلعت شاہی کے بجائے اس کے بدن پر چیتھڑے، اس کی اشک بار آنکھیں، وہ زنجریں جن میں اسے جکڑا گیا تھا، دروں کے وہ نشان جو اس کے جسم پر جگہ جگہ نظر آرہے تھے، اس کے ظالمانہ، سفاکانہ اور وحشیانہ افعال کی شدت کو کم نہ کر سکے۔ اس نے مطالبہ کیا کہ خسرو کو معزول کر دیا جائے اور اس کے چھوٹے بیٹے کو تخت نشین کیا جائے۔ لیکن اس کی یہ خواہش ٹھکرا دی گئی، بلکہ اس کے سامنے اس کی ملکہ اور اس کے لڑکے کی لاش رکھ دی گئی۔ اس کی آنکھوں میں گرم سوئیاں چبھو دی گئیں۔ ہرمز کو یہ لرزہ خیز سزا دینے کے بعد اس کے بیٹے خسرو پرویزکی رسم تاجپوشی بڑی دھوم دھام سے منائی گئی۔ان حالات میں خسرو نے چاہا کہ بہرام چوبین کو اطاعت پر مائل کرے اسی مقصد کیلئے اس نے بہرام چوبین کو لکھا ”ہرمز ،جس سے تمھیں اختلاف تھا، اس دنیا سے رخصت ہو چکا ہے۔ اگر تم میری اطاعت قبول کر لو تو تمھیں فوجوں پر سپہ سالار مقرر کر دیا جائے گا ۔ اس طرح تمھیں بادشاہ کے بعد سب سے بڑا عہدہ مل جائے گا۔”لیکن بہرام نے خسرو کے خط کو در خور اعتنا نہ سمجھا اور جواب لکھا ”تو نے اپنے باپ سے وحشیانہ سلوک کیا۔ تو نے ہی لوگوں کو آمادہ کر کے اسے اندھا کروایا اور تخت سے اتروا کر قتل کروایا۔ بیٹا کبھی باپ کیساتھ ایسا سلوک نہیں کرتا۔تو اپنا تاج اتار کر میرے حضور آ تاکہ میں تجھے کسی صوبے کی گورنری تجھے عطا کر دوں!!!”
خسرو میں مقابلہ کی تاب نہ تھی۔ حالات بھی اس کے موافق نہ تھے۔ اسے اپنی جان کا بھی خطرہ تھا۔ چنانچہ اپنے دوستوں سے طویل مشورے کے بعد ترکوں کے ہاں پناہ لینے کے بجائے اس نے رومی حکومت میں پناہ لینے کا فیصلہ کیا۔ رومی سلطنت کی سرحد بھی قریب تھی اور راہ فراء بھی آسان تھی۔ چنانچہ وہ اپنی داشتہ عورتوں کو لے کر صرف تیس پہرہ دار سپاہیوں ی معیت میں رومی مملکت میں پناہ گزین ہوگیا۔ سرحدی حکام نے اسے پناہ دی۔ بڑے احترام کے ساتھ اسے بیزنطینہ کے بادشاہ ماریس MAURICE کے پاس پہنچا دیا گیا۔ رومی بادشاہ نے اس کا شاہانہ استقبال کیا۔ سابقہ رنجشوں کو بھلا کر اس کی خاطر مدارت کی حد کر دی۔ جلاوطن شہزادہ کو اس نے قیمتی تاج پہنایا۔ گراں بہا لعل و جواہر اسے بطور تحفہ دیے اور اپنے بہادر، وفا شعار جرنیل نارسس (NARSES) کو ایک لشکر جرار دے کر حکم دیا کہ وہ خسرو کا کھویا ہوا تخت اسے واپس دلائے۔ اس عرصہ میں لوگ بھی بہرام سے دل برداشتہ ہو چکے تھے اور اپنے کیے پر نادم تھے۔ جب خسرو رومی لشکر کو لے کر واپس آیا تو ایرانیوں نے اپنے معزول بادشاہ کا بڑے تپاک سے استقبال کیا اور اس کی فوج میں شامل ہوگئے۔ بہرام نے دو مقامات دریاے زور کے کنارے اور میڈیا کی سرحد پر خسرو کا مقابلہ کیا لیکن شکست کھائی۔ وہاں سے بھاگ نکلا، راستہ میں کسی نے زہر دی اور یہ ہلاک ہو گیا۔ اس طرح خسرو نے رومی بادشاہ ماریس کی اعانت سے اپنا کھویا ہوا تخت واپس لیا۔
خسرو ماریس کا طوطی بول رہا تھا، لیکن یورپ میں حالات کا رخ اس کے خلاف تھا۔ ماریس سے چند ایسی غلطیاں ہوئیں (جن کی تفصیل کا یہ مقام نہیں) کہ وہاں کے لوگ اس سے متنفر ہوگئے اور انہوں نے ایک معمولی فوجی فوکس (PHOCAS) کو اپنا سپہ سالار مقرر کر لیا اور قسطنطینہ پر چڑھائی کر دی لیکن باغیوں کو اپنی اسی جلد بازی پر ندامت ہونے لگی۔ اس کے باوجود وہ ماریس کو بادشاہ بنائے رکھنے پر رضا مند نہ ہوئے البتہ اس کے بیٹے تھیوڈوسس (HTEODOSIUS) اور اس کے سسر جرمانوس (GERMANUS) کے ساتھ دوستانہ خط و کتابت شروع کر دی۔ فوکس ایک بالکل غیر معروف آدمی تھا۔ قیصر روم اس کے نام تک سے واقف نہ تھا۔ جب اسے بتایا گیا کہ فوکس سازشی ہونے کے باوجود بزدل ہے تو اس کے منہ سے بےساختہ نکلا۔ افسوس! اگر وہ بزدل ہے تو یقیناً ایک قاتل ثابت ہوگا۔
حالات تیزی سے بگڑتے گئے۔ آخر کار بدقسمت ماریس اپنی بیوی اور نو بچوں کو لے کر ایک چھوٹی سی کشتی میں ایشیائی ساحل کی طرف بھاگ نکلا مگر باد مخالف کی شدت نے اس مجبور کر دیا کہ لیڈن کے قریب سینٹ آتو نومس میں پناہ لے۔ یہاں سے اس نے اپنے لڑکے کو ایران بھیجا تاکہ خسرو شاہ ایران سے امداد طلب کرے لیکن خود اس نے بھاگنے سے انکار کر دیا۔ اسے طرح طرح کی جسمانی اذیتیں دی گئیں، لیکن یہ صبر سے برداشت کرتا رہا۔ جب اسے شاہی تخت سے اتار دیا گیا، تو اس کے جانشین کے بارے میں اختلاف پیدا ہوگیا۔ آخر کار نظر انتخاب فوکس پر پڑی اور اس کے سرپر بازنطینی مملکت کا تا ج رکھ دیا گیا۔ اس نے اپنے حامیوں پر انعام و اکرام کی بارش کر دی۔ ان کے لیے خزانوں کے منہ کھول دئیے۔ پادریوں نے بھی اس کی شاہی کا اعلان کر دیا۔ چنانچہ یوحنا کے کلیسا میں لے جا کر اسے خراج عقیدے پیش کیا گیا۔ تیسرے روز وہ ایک شاہی رتھ پر سوار ہو کر جسے چار سفید و براق گھوڑے کھینچ رہے تھے نکلا تو بےشعور عوام نے اس پر دادو تحسین کے پھول برسانے میں حد کر دی۔
اسے معلوم ہوا کہ ماریس ابھی زندہ ہے۔ اس نے جلادوں کو بھیجا کہ اسے پکڑ کر لائیں۔ چنانچہ ماریس اپنے پانچ بیٹوں کے ساتھ اس مقدس کلیسا سے پکڑا کر لایا گیا۔ اس کے سامنے اس کے پانچوں بیٹوں کو یکے بعد دیگرے قتل کر دیا گیا۔ جب بھی جلاد اس کے کسی بیٹے کا سر قلم کرنے کے لیے ضرب لگاتا تو وہ بڑی جرات سے کہتا: ”اے خدا تو عادل ہے اور تیرے فیصلے درست ہیں”۔ آخر اس کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ ان کی لاشوں کو سمندر میں پھینک دیا گیا اور ان کے سروں کو سر بازار لٹکا دیا گیا۔ اس وقت اس کی عمر 63 سال تھی اور اس کا دور حکومت بیس سال۔
کچھ عرصہ بعد ماریس کی بیوہ کا نسٹینٹنیا (CONSTANTINIA) کو اس کی تین معصوم بچیوں سمیت کالسیڈن کے اسی میدان میں ذبح کر دیا گیا چند روز پہلے اس کے خاوند اور اس کے پانچ بچوں کو قتل کر دیا گیا تھا۔
جب ان خونی واقعات کا علم خسرو کو ہوا تو وہ آپے سے باہر ہو گیا اور اعلان کیا کہ وہ اپنے محسن اورمنہ بولے باپ ماریس، اس کی بیوہ، اس کے بچوں اور بچیوں کا انتقام فوکس سے ضرور لے گا چنانچہ خسرو نے فوکس کے خلاف اعلان جنگ کر دیا اور رومی مملکت پر چڑھائی کر دی۔
جلد ہی مارڈین، دلرا، امیڈا اور ایڈلیسا کے قلعوں کا محاصرہ کیا اور انہیں خاک سیادہ بنا کر رکھ دیا۔ دریائے فرات کو عبور کرکے اس نے شام کے مشہور، شہروں، لیسپو وغیرہ پر قبضہ کر لیا۔ ادھر رومی فوکس کے مظالم اور ایرانیوں کے مقابلہ میں اس کی شکست کے باعث اس سے دل برداشتہ ہوگئے۔ انہوں نے افریقہ کے گورنر ہر قل سے سازباز شروع کی کہ وہ روم کا تخت سنبھالے اور رومی سلطنت کو تباہی اور بربادی سے بچائے۔ ہرقل بوڑھا ہوچکا تھا اس لیے اس نے اپنے جواں سال بیٹے ہرقل ثانی کو اس مہم کے لیے نامزد کیا۔ اس نے بڑی جرات اور تیزی سے پیشقدمی کی اور فوکس کو ا س کے حملہ کی اس وقت خبر ہوئی جب اس نے اپنے محل کی کھڑکیاں سے ہرقل کے جنگی بیڑے کے بادبان اور بلند پرچم لہراتے ہوئے دیکھے۔ معمولی جھڑپ کے بعد ہرقل فتح کے شادیانے بجاتا ہوا قسطنطنیہ میں داخل ہوا۔ فوکس کو پانجولاں حاضر کیا گیا۔ اس کا سر کاٹ کر پھینک دیا گیا۔ اس کی لاش کو نذر آتش کر دیا گیا اور ہرقل نے فوکس کے حامیوں پر وہی ظلم و ستم کیے جو انہوں نے زمام اقتدار سنبھالتے وقت اپنے دشمنوں پر کیے تھے۔ یہ واقعہ 610 عیسوی کا ہے۔ یہ وہی سال ہے جب حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کا اعلان فرمایا تھا۔
خسرو جو اپنے محسن کا انتقام لینے کے لیے بڑھا چلا آرہا تھا اس کو پتہ چل گیا کہ اس کے محسن کا قاتل فوکس کیفرکردار کو پہنچ چکا ہے۔ اگر اس کی چڑھائی کا مقصد صرف انتقام لینا تھا تو وہ پورا ہو چکا تھا۔ اسے چاہئے تھا کہ وہ اب واپس لوٹ آتا، لیکن اس نے ایک فرضی آدمی کو ماریس کا بیٹا ظاہر کیا اور اپنا حملہ جاری رکھا۔ رومی مملکت کے جن علاقوں سے اس کا گزر ہوتا انہیں تاخت و تاراج کر دیا جاتا۔ ظاہر یہ کرتا کہ میں ماریس کے اس بیٹے کو تخت نشین کرنا چاہتا ہوں۔ یہ محض بہانہ تھا حقیقت میں وہ رومی مملکت پر قبضہ کرنا چاہتا تھا۔ اس نے اپنی اس مہم کو زیادہ زور دار اور پرجوش بنانے کے لیے اسے مذہبی رنگ دے دیا اور اسے مجوسیت اور عیسائیت کے درمیان جنگ قرار دے دیا۔ دوسری مذہبی اقلیتیں جو رومیوں کے متعصب حاکموں اور تنگ دل پادریوں کے مظالم کا شکار بنتی چلی آئی تھیں انہوں نے ایرانیوں کا ساتھ دیا۔ چنانچہ چھبیس ہزار یہودی خسرو کی فوج میں بھرتی ہوگئے۔ صرف غیر عیسائی اقلیتیں ہی نہیں بلکہ وہ عیسائی فرقے جن کو کلیسائے ملحد قرار دے دیا تھا نسطوری، یعقوبی وغیرہ وہ بھی خسرو کے ساتھ ہوگئے۔
ایرانی فوجوں نے انطاکیہ پر قبضہ کر لیا۔ 613 عیسوی میں دمشق میں داخل ہوئیں۔ 614عیسوی میں بیت المقدس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ ہیلینا اور قسطنطین کے شاہی قلعے مسمار کر دئیے گئے۔ کلیسوں کی ساری دولت لوٹ لی گئی۔ وہاں کا لاٹ پادری زکریا گرفتار کر لیا گیا اور اصلی صلیب جس پر عیسائیوں کے خیال کے مطابق حضرت مسیح کو سولی دی گئی فارس بھیج دی گئی اور26ہزار عیسائیوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح ذبح کر دیا گیا۔
انہیں ایام میں مکہ میں توحید و شرک کی آویزش سنگین صورت اختیار کرتی جا رہی تھی۔ مکہ اور مضافات کے مشرکین اسلام کی اس شمع کو بجھانے کے درپے ہوگئے تھے۔ مسلمان اپنی قوت ایمانی کے بل بوتے پر ان کے پیہم مظالم کو برداشت کر رہے تھے اور وہ نور اسلام کو پھیلانے کے لیے ہر طرح کوشاں تھے۔ جب شام اور فلسطین میں ایرانی مجوسیوں کی کامیابی اور رومی عیسائیوں کی شکست کی خبریں پہنچیں تو کفار مکہ کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ اور کہنے لگے جس طرح ہمارے آتش پرست اور مشرک بھائی تمہارے ہم مسلک اہل کتاب کی مرمت کر رہے ہیں اور قدم قدم پر انہیں شکست دے رہے ہیں ہم تمہیں بھی اسی طرح نیست و نابود کرکے رکھ دیں گے۔
یہ حالات تھے جب قرآن کریم کی سورۃ روم کی آیات طیبات اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب بندے اور آخری رسولؐ پر نازل فرمائیں جن میں یہ مژدہ سنایا گیا کہ چند سال میں رومی غالب آجائیں گے اور ایرانیوں کو شکست ہوگی۔
”ا ل م، (اہل) روم مغلوب ہو گئے، نزدیک کے ملک میں اور وہ عنقریب غالب آئیں گے، چند ہی سال میں اور پہلے بھی اور بعد میں بھی خدا ہی کا حکم ہے اور اس روز مومن خوش ہو جائیں گے یعنی خدا کی مدد سے اور وہ جسے چاہتا ہے مدد دیتا ہے اور وہی غالب مہربان ہے۔”
چنانچہ گبن لکھتا ہے:
”کہ جس وقت یہ پیشین گوئی کی گئی تھی۔ اس وقت اس کا پورا ہونا ناممکن تھا، کیونکہ ہر قل کے عہد حکومت کے پہلے بارہ سالوں میں ہر وقت یہ خطرہ لاحق تھا کہ رومی مملکت کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے”۔
حالات کفار مکہ کی تائید کر رہے تھے۔ رومیوں کی قوت دن بدن توڑ رہی تھی۔ ایرانی فوج اور ان کے شہنشاہ کی طاقت میں اضافہ ہو رہا تھا۔ رومی مملکت کے مفتوحہ صوبوں کے خزانے لد لد کر کسری کے قدموں میں ڈھیر ہو رہے تھے۔ اس کی فوجیں جدھر کا رخ کرتیں فتح و کامیابی ان کے قدم چومتی۔ شام، فلسطین، اردن، لبنان پر خسرو کا پرچم لہرانے لگا۔ افریقہ میں مصر سے لیبیا تک کا علاقہ فتح کر لیا گیا۔ دوسرے محاذ پر ایرانی فوجیں خود قسطنطنیہ کے دروازے پر دستک دینے لگیں اور شہر کے سامنے ایک بلند پہاڑی پر ایرانی فوجوں نے اپنا کیمپ قائم کر لیا۔ ان حیرت انگیز فتوحات کے علاوہ مشہور انگریز مؤرخ گبن (EDWARD GIBBON) خسرو کے جاہ و چشم کا یوں ذکر کرتا ہے:
”ایرانی شہنشاہ کی سطوت کے اظہار کے لئے 960 ہاتھی ہر وقت تیار رہتے۔ بیس ہزار اونٹوں پر شاہی سامان سفر لدا ہوتا تھا۔ شاہی اصطبل میں چھ ہزار خچر اور اصیل گھوڑے موجود رہتے۔ جن میں سے شبدیز اور بریدا پنے حسن اور خوبیوں کی وجہ سے لازوال شہرت حاصل کر چکے تھے شاہی محل کے دروازوں کے سامنے چھ ہزار شہ سوار پہرے دار مقرر تھے۔ محل کے اندر بارہ ہزار غلام مختلف خدمات سر انجام دینے کے لیے مامور تھے۔ تین ہزار کنواری دوشیزائیں ان کے علاوہ تھیں۔ دنیائے حسن و جمال کی ملکہ، شیریں کا نام کون نہیں جانتا۔ وہ خسرو کے محل کو چار چاند لگا رہی تھی، لیکن خسرو کے ساتھ شیریں کی سرد مہری اور بےالتفاتی کی تلافی کے لیے ایسا کی حسین و جمیل عورتیں موجود تھیں۔ قیمتی ہیرے، جواہرات، سونے چاندی کے نوادرات کا شمار تک نہ تھا”۔
گبن نے یہاں خوب لکھا ہے:
”جب خسرو اپنے عظمت و عروج کے نشہ میں مخمور تھا۔ اسے دنیا بھر میں اپنا کوئی ہمسر نظر نہ آتا تھا۔ اس وقت اسے ایک مکتوب موصول ہوا۔ ایک ایسی ہستی کی طرف سے جو مکہ کا باشندہ ہے اور غیر معروف ہے۔ اس خط میں خسرو کو یہ دعوت دی گئی ہے کہ تم سلامتی چاہتے ہوتو اسلام کو قبول کرلو، اللہ تعالیٰ کی توحید اور محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی رسالت پر ایمان لے آؤ۔ خسرو نے اس دعوت کو مسترد کر دیا اور اس نامہ کو پرزہ پرزہ کر دیا۔ اس کے اس نازیبا حرکت پر حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) نے یوں ارشاد فرمایا کہ خسرو نے میرا مکتوب پھاڑا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی مملکت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے پارہ پارہ کر دیا ہے”۔
خسرو کی نخوت اور غرور کا اندازہ اس خط سے بھی لگایا جا سکتا ہے جو اس نے بیت المقدس سے ہر قل کو لکھا تھا۔ اس کی عبارت پڑھ کر انسان کانپ اٹھتا ہے۔ کسرو نے ہر قل کو لکھا:
”سب خداؤں کے بڑے خدا، تمام روئے زمین کے مالک خسرو کی طرف سے اس کے کمینے اور بےشعور بندے کے نام۔ توکہتا ہے کہ تجھے اپنے رب پر بھروسہ ہے کیوں نہ تیرے رب نے یروشلم کو میرے ہاتھ سے بچا لیا”۔
ایک ایرانی جرنیل سین (SAIN) نے جب ہرقل کو مشور دیا کہ وہ صلح کے لیے اپنا سفیر خسرو کی خدمت میں بھیجے شاید جان بخشی کی صورت نکل آئے۔ اس رسوا کن تجویز کو ہر قل نے فوراً قبول کر لیا اور اپنا سفیر امن اور معذرت خواہی کے لیے خسرو کے دربار میں بھیجا۔ اس نے جب یہ درخواست پیش کی تو خسرو غصہ سے بے قابو ہوگیا اور گرج کر بولا:
”سفیر نہیں بلکہ خود ہرقل کو زنجیروں میں جکڑ کر میرے تخت کے سامنے لایا جائے اور میں شاہ روم کو کبھی امن نہیں دوں گا جب تک اپنے مصلوب خدا کا انکار کرکے سورج دیوتا کی پوجا شروع نہ کردے اور میرا مذہب نہ اختیار کر لے”۔
جب اس ظالم و سفاک کے پنجہ استبداد سے نجات کی کوئی راہ نظر نہ آئی تو ہرقل نے اپنی عظیم مملکت کو بچانے کے لیے جان کی بازی لگا دینے کا عزم مضمم کر لیا۔ سب سے پہلے اسے جنگی تیاریوں کے لیے روپیہ کی ضرورت تھی۔ شاہی خزانہ پیہم جنگ و جدال اور فتنہ و فساد کی وجہ سے خالی ہو چکا تھا؛ چنانچہ اس نے کلیساؤں میں جمع شدہ دولت حاصل کرنے کی کوشش کی اور بڑی منت سماجت کے بعد پادر لوگ بھاری شرح سود پر قرضہ دینے پر رضا مند ہوئے۔ انہوں نے قیصر سے پختہ وعدہ لیا کہ وہ رقم بمع سود واپس کر دے گا۔ مالی مشکلات پر قابو پانے کے بعد اس نے آزمودہ کار سپاہیوں کا ایک لشکر فراہم کیا اور ایسٹر کی عید کے دو روز بعد اس نے کوچ کا طبل بجا دیا۔ اس نے شاہی خلعت فاخرہ اتاردی اور سپاہیانہ سادہ لباس زیب تن کیا اور اس عظیم تاریخی مہم پر روانہ ہوگیا۔ اس نے بری راستہ کے بجائے بحری راستہ اختیار کیا اور بڑی سرعت کے ساتھ اپنے جنگی بیڑے کو شام کے ساحل پر لنگر انداز کر دیا۔ ایرانی فوجیں عرصہ سے قسطنطنیہ کے قریب خیمہ زن تھیں۔ ان کے نرغے سے قیصر کس طرح نکلا اس کی تفصیل علامہ ابن کثیر نے لکھی ہے جس کی یہاں گنجائش نہیں۔ قیصر اپنے جنگی بیڑے کے ساتھ شام کے ساحل پر لنگر انداز ہوگیا اور آرمینیا کے کوہستانی دشوار راستوں سے ہوتا ہوا ایران کے قلب پر حملہ آور ہوا۔ اور ابن کثیر کے قول کے مطابق وہ بڑھتا چلا گیا یہاں تک کہ ایران کے پایہ تخت مدائن پر قبضہ کر لیا۔ وہاں بےشمار لوگوں کو یہ تیغ کیا اور خزانہ میں جو دولت تھی اسے لوٹ لیا۔ کسریٰ کی بیویوں اور اس کے اہل خانہ کو گرفتار کر لیا۔ اس کے لڑکے کا سرمونڈ دیا اور اسے گدھے پر سوار کرکے کسریٰ کی طرف بھیج دیا۔ کسریٰ جواب تک قسطنطنیہ کا محاصرہ کیے ہوئے تھا چالیس ہزار کا لشکر لے کر واپس لوٹا۔ ہرقل کی پیشقدمی جاری رہی۔ اس نے ان کے سب سے بڑے مقدس آتشکدہ کو بجھا دیا۔ ان کی عبادت گاہوں کو تباہ و برباد کر دیا اور زرتشت کے مقام پر پیدائش آرمیا کو تباہ کر دیا۔ اس طرح اس نے اپنے مقامات مقدسہ کی بےحرمتی کا انتقام لیا۔
یوں سورۃ روم کی ابتدائی آیات زندہ معجزہ بن کر اللہ اور اسکے حبیب ؐ کی سچائی بیان کر رہی ہیں۔ حتیٰ کہ وہ مستشرقین جنہوں نے قرآن پاک کو اپنا موضوع بنایا،بھی ان آیات کو قرآن کی محیر العقول پیش گوئی قرار دیتے ہیں۔
الغرض خسرو پرویز بذات خود کوئی نڈر بادشاہ نہ تھا بلکہ اس نے مشرق و مغرب میں جو فتو حات حاصل کیں وہ اسکے ہونہار جرنیلوں شاہین اور شہر برازکے کارنامے تھے۔ جب شاہین کو ایک میدان میں رومیوں کے مقابلے میں شکست ہوئی تو اس نے غیرت میں آ کر خود کشی کر لی لیکن خسرو ایسا ‘بے غیرت’ نکلا کہ اس کی لاش کو نکلوا کر اسکی بے ہرمتی کی۔ اسے یہ بھی یاد نہ رہا کہ اس کے سالار نے شکست تو قبول کر لی تھی لیکن اسکی ،مثل جنگ سے بھاگا نہیںتھا!
شہر براز کیساتھ بھی خسرو کا کچھ اسی قسم کا رویہ رہا۔خسرو ایک طرف طاقتور بادشاہ تھاتو دوسری طرف اتنا ہی مغرور اور بد طینت تھا۔ یہ شخص انتہا درجے کا لالچی اور حاسد تھا، جہاں کہیں دولت دیکھتا ،چندھیا جاتا۔ چنانچہ طبری لکھتے ہیں کہ
”خسرو کو اقبال مندی نے تکبر اور حرص میں مبتلا کر دیاتھا۔وہ اپنی رعایہ کے مال و متاع پر حسد کرتا تھا اور کسی نہ کسی طریقے اسے چھین لینے کے منصوبے بناتا رہتا تھا۔اسی لئے لوگ اس سے نفرت کرتے تھے۔خسرونے اپنے وفاداروں کیساتھ بھی بے وفائی کی جن میں بندوی اور بسطام خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔”
آرتھرکرسٹن سین لکھتا ہے خسرو کے جو حالات مختلف تاریخی مآخذ سے ہم تک پہنچے ہیںان کو دیکھ کر ہمیں اس کے ساتھ کوئی محبت یا ہمدردی پیدا نہیں ہوتی، اس کینہ پرور، مکار، حریص اور بزدل بادشاہ کے خصائل میں کوئی دلکش چیز تلاش کرنا بے سود ہے۔
یہی مؤرخ لکھتا ہے کہ اپنی اڑتیس سال کی حکومت میںاس نے ہر جائز و ناجائز طریقے سے دولت اکٹھی کی اور رفاہِ عامہ کے کاموں پر خرچ کرنے کی بجائے اپنے خزانوں میں محفوظ کیا۔اپنے عہد کے اٹھارویں سال (607-608ء)جب اس نے طیسیفون (مدائن)میں اپنے خزانے کو نئے محل میں منتقل کیا تواس میں تقریبا 46 کروڑ80 لاکھ مثقال (52,650من) سونا تھا۔ جواہرات اور قیمتی کپڑوں کی کثیر تعداد اس کے سواتھی۔بارہ سال بعد طویل جنگیں لڑنے کے باوجود اسکے خزانے کی مقدار ایک ارب ساٹھ کروڑ مثقال(180,000من) تک پہنچ گئی۔ لڑائیوں سے جو مال غنیمت حاصل ہوا وہ اس کے علاوہ تھا۔
خسرو اپنے خزانوں کی وجہ سے خاص طور پر مشہور تھا۔اس کے خزانوں میں ایک خزانہ ‘گنزوازآورد’تھا جو اصل میں قیصر روم کا تھا۔یہ خسرو کے ہاتھ ایسے لگا کہ جب قیصر نے ایک دفعہ اپنے ملک سے فرار کا ارادہ کیا تھا تو اس نے اپنا خزانہ کشتیوں میں لاد کر سمندر کے راستے پہلے ہی روانہ کر دیا تھا۔سمندر میں طوفان اٹھا اور خزانہ خلیج فارس سے آ لگا۔اس طرح خسرو قیصر روم کا خزانہ ہڑپ کر گیا۔جب قیصر نے اپنا خزانہ واپس مانگا تو خسرو نے کہاکہ ہوا اسے مجھ تک لائی ہے لہٰذا اس کازیادہ حقدار میں ہوں۔
ایک اور خزانہ ‘گنج گاؤ’ تھا۔وہ بھی ایک کسان کو زمین میں سے ملا تھا۔یہ خزانہ سکندر مقدونی نے زمین میں دبایا تھا جو آج کسان کے ہاتھ لگ گیا لیکن خسرو اسے بھی ہڑپ کر گیا۔ان خزانوں کے علاوہ گنج خسرو،گنج عروس اور گنج افراسیاب بھی خسرو کے خزانے تھے۔خسرو کنجوس تو تھا لیکن جب کبھی اسے اپنی (جھوٹی) شان آشکار کرنا مقصود ہوتی تو دل کھول کر روپیہ پیسہ خرچ کرتا۔
خسرو کے پاس پچاس ہزارگھوڑے،بارہ ہزار اونٹ ،ایک ہزارہاتھی اور بارہ ہزار خچرتھے جو اسکی ذاتی ملکیت تھے۔’شبدیز ‘نام کا گھوڑا اسکی سواری کیلئے مختص تھا۔خسرو کو اپنے گھوڑے سے اتنا پیار تھا کہ کہا کرتا تھا”جس نے میرے شبدیز کے مرنے کی خبر سنائی اس کا سر قلم کر دیا جائے گا۔”
آپ نے فرہاد اور شیریں کا ذکر تو ضرور سنا ہو گا۔شیریںاسی خسروپرویز کی بیوی تھی اور کسی غریب عیسائی خاندان کی لڑکی تھی۔کہا جاتا ہے کہ شیریں بہت خوبصورت بلکہ چندے آفتاب چندے مہتاب تھی۔خسرو اور شیریں کی محبت کے قصے پرانے زمانے سے ہی مشہور ہیں۔ خسروکی ایک بیوی ماریہ بھی تھی لیکن شیریں کے حسن نے خسرو کو دیوانہ کر رکھا تھا ۔شیریں عیسائی تھی ، اسی وجہ سے امراء اور وزراء اسے پسند نہیں کرتے تھے لیکن خسرو اس کا شیدائی تھا۔خسرو تو اسکا شوہر تھاہی لیکن فرہاد بھی اس کا امیدوا ر نکلا ۔
مدائن سے ہمدان آنے والی شاہرا پرکھنڈرات نظر آتے ہیں جو قصر شیریں کے نام سے موسوم ہیں۔ یہی وہ محل تھا جس میں خسرو کی محبوبہ شیریں رہا کرتی تھی۔یہ کھنڈرات خانقین اور حلوان کے درمیان (موجودہ ایران و عراق کی سرحد پر)موجود ہیں۔ یہاں ایک مربع شکل کاقلعہ بھی ہے جسے قلعہ خسروی کہتے ہیں۔یہاں پر ایک اور بڑا محل بھی تھا جسے موسم گرما کے قیام کیلئے بنایا گیا تھا جس کو آجکل حاجی قلعہ کہتے ہیں۔ایک اور بڑی عمارت تھی جسے آجکل چار قاپو(چہار دروازہ)کہا جاتا ہے۔
خسرو نے حرم میں تین ہزار کنواریاں رکھی ہوئی تھیں جو اسکی شب کاری کے کام آتی تھیں۔آرتھر کہتا ہے کہ طبری نے تین ہزار کی تعداد کم بتائی ہے۔ان تین ہزار کے علاوہ ہزار ہا خدمت گزاراورگانے بجانے والی لڑکیاں تھیں۔علاوہ ازیں تین ہزار نوکر بھی تھے۔
لوگ فرعون مصر کا رونا روتے ہیں،میں کہتا ہوں خسرو پرویزکے سامنے فرعون کی ”اوقات” کیا تھی!

تاریخ فتوح الفارس(تاحال غیر مطبوعہ)
فیصل ریاض شاہدؔ

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں