297

خدا کے عدل کا سوال!فیصل ریاض شاہد

فلسفے کی ایک شاخ کا نام Ethicsہے جس میں اس بات پر بحث کی جاتی ہے کہ عدل سے کیا مراد ہے؟ ظلم کسے کہتے ہیں؟ اچھائی کیا ہے اور برائی کیا ہے؟ ان اخلاقی اقدار کا ماخذSource اور ان کے بارے میں جاننے کا حتمی ذریعہ The Ultimate Source of Knowing good and evilکیا ہے؟
کیا مدد کرنا اچھائی ہے؟ ہاں، اچھائی ہے! اگر ظالم کے ظلم میں اس کی مدد کی جائے توکیا تب بھی “مددکرنا” نیکی کہلائے گا؟ ہر گز نہیں۔۔۔
تو سوچنے کی بات یہ ہے کہ ظالم کے ظلم میں اس کی معاونت کرنا اچھائی یا نیکی کیوں نہیں ہے؟ ہمیں کس نے بتایا کہ ظالم کی مدد کرنا اچھائی نہیں ہے؟ اس سوال کے متعدد جوابات ہو سکتے ہیں۔
مثلا
1۔ ہمیں خدا نے بتایا
2۔ ہمیں عقل نے بتایا
3۔ ہمیں ہمارے ضمیر نے بتایا
4۔ ہمیں معاشرے نے بتایا
اگر بالفرض پہلے جواب کو نظر انداز کر دیا جائے تو ہمارے پاس ذرائع علم جو باقی بچتے ہیں وہ ہیں عقل، ضمیر اور معاشرہ۔
لیکن سوچنے کی بات ہے کہ کیا عقل، ضمیر اور معاشرہ اس قابل ہیں کہ وہ خیر و شر کا معیار یا ماخذ بن سکیں؟
اس کا جواب ہے، “نہیں”۔۔۔
وحی کے علاوہ انسان کے پاس ایسا کوئی سورس نہیں جسے حتمی طور پر خیر و شر کا معیار مانا جا سکے۔ پس یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ ماورائے مذہب نہ تو کوئی تصور عدل و انصاف وجود رکھتا ہے نہ کوئی تصور حسن و قبح۔۔۔!
جب آپ یہ کہتے ہیں کہ کافر کے گھر میں بچوں کو پیدا کرنا خدا کی ناانصافی یعنی ظلم ہے تو گویا آپ بین السطور یہ تسلیم کررہے ہوتے ہیں کہ ماوراے مذہب بھی خیر و شر کا کوئی پیمانہ وجود رکھتا ہے۔ چونکہ آپ کا بنیادی مفروضہ ہی غلط ہوتا ہے، اس لئے خدا پر آپ کا الزام بھی کوئی علمی وقعت نہیں رکھتا۔
آپ پہلے یہ ثابت کریں کہ ماورائے مذہب بھی خیر و شر کے تعین کا کوئی ضابطہ موجود ہے تب آپ کی بات پر کان دھرے جا سکتے ہیں۔ اگر آپ اپنے دعوے کی بنیاد ہی ثابت نہیں کر سکتے تو آپ کو کوئی حق نہیں کہ خدا پر ظلم کا الزام لگائیں۔ گویا اگر آپ وحی کوذریعہ علم نہیں مانتے تو عقلی طور پر آپ کسی بھی فعل کو ظلم یا انصاف قرار نہیں دے سکتے۔۔۔!
مزید وضاحت کے طور پر عرض کرتا ہوں کہ ماوراے مذہب سے میری مراد کیا ہے؟
ماورائے مذہب سے میری مراد یہ ہے کہ مذہب، وحی، یا خدا کے بتائے بغیر انسان ہر گز کوئی ایسا پیمانہ مقرر نہیں کر سکتا جس کی بنیاد پر کسی کام کو انصاف اور کسی فعل کو ظلم قرار دیا جا سکے(یہی تصور تمام محدثین،فقہا، اشاعرہ اور ماتریدیہ کا ہے، صرف معتزلہ نے اس کا انکار کرکیا ہے)۔ گویا ظلم و انصاف اپنی اصل میں موضوعی Relative ہیں۔ یہ کوئی معروضی Objectiveتصورات نہیں ہیں کہ جن کی بنیاد پر کوئی فیصلہ کیا جا سکے۔ اگر آپ عقل، ضمیر، یا معاشرے کو پیمانہ قرار دیتے ہیں تو آپ پر لازم ہے کہ پہلے یہ تو ثابت کریں کہ آیا عقل، ضمیر اور معاشرہ تعین خیر و شر کا سورس بن بھی سکتے ہیں یا نہیں۔۔! اگر آپ یہ ثابت نہیں کر سکتے تو خدا جو مرضی کرے، آپ اسے ظالم قرار نہیں دے سکتے۔!

ف ر ش

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں