264

خدا کے اقرار سے فرار- فیصل ریاض شاہد

یونانی فلسفی تھیلیز آف میلٹس(جسے عرب فلاسفہ طالیس ملطی کہتے ہیں) کے مطابق ہماری یہ دنیا پانی پر تیر رہی ہے۔ اس غریب نے اپنے تئیں بہت بڑی بات کہی تھی، بلکہ پانچ سو قبل مسیح میں واقعی یہ ایک اہم علمی بات تھی۔ وہ الگ کہ فی زمانہ انسانی علم بہت زیادہ ترقی پا چکا ہے اور آج کا بچہ بھی یہ بات سن کر ہنس دے گا۔
اس نے کہا تھا کہ زمین پر زلزلے آنے کی وجہ یہ نہیں کہ دیوتا اسے حکم دیتے ہیں، بلکہ درحقیقت جب زمین کے نیچے موجود پانی میں مدوجزر آتا ہے یا حرکت ہوتی ہے تو اس کی وجہ سے زلزلہ آ تا ہے۔ لیکن آج ہم جان چکے ہیں کہ زلزلوں کی وجہ تہہ زمین کی پلیٹوں کا سرکنا ہے۔
وجہ چاہے جو بھی ہو، وہ ایک عدد سائنسی یا باالفاظ دیگر ظاہری وجہ یا سبب ہو گا۔ اور ظاہری اسباب کے حوالے سے مختلف اشیاء سے متعلق انسان کا علم ہر زمانے میں بدلتا رہا ہے، اور آئندہ بھی بدلے گا۔ کیونکہ یہ سائنسی/ظاہری علم کی فطرت ہے۔
تھلیز ہو یا جدید فیس بکی ملحدین، دونوں کا بنیادی اسلوبِ فکر ہی غلط ہے۔ کیونکہ مذہب نے کبھی ظاہری اسباب کا انکار نہیں کیا ۔ مذہب کا بنیادی مقدمہ اشیاء کے حقیقی اسباب پر استوار ہے۔ مذہب ظاہری افعال و واقعات کے اسباب کی جب کبھی بھی بات کرتا ہے تو وہ اسے خدا سے منسوب اس لئے کرتا ہے کیونکہ مذہب کا مقصد انسان کو خدا سے جوڑنا ہوتا ہے لہذا یہ عین قرین عقل ہے کہ مذہب انسان کو حقیقی اسباب اور خدا ہی کی طرف توجہ دلائے۔ اگر مذہب ایسا نہ کرے تو یہ مذہب کے غیر فطری ہونے کی دلیل ہوگی۔ ظاہری اسباب کی تلاش کا کام خدا نے انسان اور سائنس پر چھوڑ رکھا ہے، اہل فکر کا اس بات پر اجماع ہے کہ عقل سلیم ہو یا سائنسی حقیقت، کبھی بھی خدا کے عطا کردہ قطعی علم سے متعارض نہیں ہو سکتی کیونکہ کلام بھی خدا کی نشانی ہے اور کائنات بھی۔ مذہب کلام الہی سے بحث کرتا ہے جبکہ سائنس کائناتِ الہی سے بحث کرتی ہے۔
یہ دونوں کسی ایک مسئلے پر یقینا دو مختلف آراء قائم کریں گے لیکن ایک کا اثبات دوسرے کی نفی کی دلیل نہیں ہے۔ تھیلیز اور جدید جعلی ملحدین کی بنیادی غلطی یہی ہے کہ انہوں نے مادی سبب کا اثبات کیا اور روحانی سبب کا انکار کر دیا گویا ان کے نزدیک بہ یک وقت دونوں اسباب میں سے صرف ایک سبب وجود رکھ سکتا ہے۔ حالانکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ ایک شے کے دو اسباب بھی بہ یک وقت موجود ہو سکتے ہیں۔
مثلا تھیلیز یہ بھی تو کہہ سکتا تھا کہ زمین پانی کی حرکت کی وجہ سے زلزلے کا شکار ہوتی ہے اور پانی کی یہ حرکت خدا کے حکم سے ہوتی ہے۔ اسی طرح جدیدملحدین اگر عقل سلیم رکھتے ہوں تو یہ بھی تو سوچ سکتے ہیں کہ زمین کی تہیں سرکنے سے زلزلہ آتا ہے اور یہ تہیں خدا کے حکم سے سِرکتی ہیں۔۔۔آخر ان میں ایسا کونسا تعارض یا کوئی عقلی محال پایا جا رہا ہے جو انہیں اتنی چھوٹی سی بات سمجھ نہیں آتی!
اہل مذہب جب یہ کہتے ہیں کہ خدا زلزلوں سے خائف کر کے انسان کو اپنی طرف راغب کرنا چاہتا ہے تو فورا ملحدین یہ کہہ دیتے ہیں کہ پھر دیگر سیاروں پر زلزوں سے خدا آخر کس مخلوق کو اپنی جانب متوجہ کرنا چاہتا ہے؟
اصولی طور پر ملحدین کا یہ سوال نما اعتراض درست نہیں ہے۔ کیونکہ اس سےزلزلوں کے حقیقی سبب کا انکار لازم نہیں آتا، زیادہ سے زیادہ کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ چلیں ہم یہ مان لیتے ہیں کہ زلزلوں کا مقصد کوئی اور ہے جو ہمیں معلوم نہیں البتہ یہ پھر بھی ثابت نہیں ہوتا کہ ان زلزلوں کے پیچھے خدا کارفرما نہیں!
لیکن توجہ کیجئے تو ہم اس بیان کو بھی درست نہیں سمجھ سکتے کیونکہ ملحدین دیگر سیاروں کے حوالے سے جواعتراض کرتے ہیں اس کی اہمیت مغالطے سے زیادہ نہیں ہے۔
یہ تو بڑی سیدھی سی بات ہے کہ خدا نے انسان کو آزمائش کیلئے پیدا کیا ہے اور وہ انسان کو کسی بھی طرح آزما سکتا ہے۔ ہم دیگر سیاروں پر زلزلوں کی توجیہ یوں بھی تو پیش کر سکتے ہیں کہ ان سے خدا کا مقصود انسان کو آزمائش میں ڈالنا ہے، کیونکہ خدا جانتا تھا اکیسویں صدی کا انسان دیگر سیاروں کا علم بھی حاصل کر لے گا اس لئے اس نے ارادہ کیا کہ ان سیاروں پر زلزلوں کے ذریعے انسان کی آزمائش کی جائے، اور دیکھا جائے کہ کون کون حقیقی اسباب (خدائی کارفرمائی) کا انکار کرتا ہے اور کون نہیں!
گویا بات یہ ہے کہ ایک توجیہ اگر بالفرض غلط ہو بھی جائے تو اس سے مذہب کا مقدمہ غلط ثابت نہیں ہوتا، زیادہ سے زیادہ یہ ثابت ہوگا کہ وہ توجیہ ہی درست نہیں۔ تو اے گروہ ملحدین! اگر زلزلوں سے الی اللہ رغبت والی توجیہ آپ کو پسند نہیں توآئیے دوسری پیش کردہ توجیہ پر بات کیجئے!
حقیقت یہ ہے کہ خدائی کارفرمائی یا حقیقی اسباب سے انکار بعید ازعقل ہے۔ مظاہر فطرت اور حیات و کائنات کی سب سے بہترین اور عقل سلیم کے قریب و پسندیدہ ترین توجیہ وہی ہے جس میں بات خدا سے شروع کر کے خدا پر ختم کی جائے۔
سائنس تو خدا کے امکان پر مہر ثبت کر چکی ہے مگر یہ ملحدین ہیں کہ سائنس کو خدا ہی کی تردید کے الہ کار کے طور پر پیش کرتے ہیں، جس سے کم از کم اتنا ضرور واضح ہو جاتا ہے کہ مذہب تو مذہب، ان بدنصیبوں کو سائنس کا بھی علم نہیں!

فیصل ریاض شاہد

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں