384

خدا اور بھاری پتھر کا مغالطہ – فیصل ریاض شاہد

خدا کی قوت ِ تخلیق پر ملحدین کا ایک سوال ہمیشہ سے بحث کا موضوع رہا ہے، اسے Omnipotence paradox کہا جاتا ہے۔ یہ سوال سب سے پہلے لیوکریٹیس (1)نے اٹھا تھا۔ وہ کہتا ہے؛
” اگر خدا قادرمطلق ہے تو وہ ایک اتنا بھاری پتھر بھی بنا سکتا ہے جسے وہ خود بھی نہ اٹھا سکے۔تو گویا ایک کام ایسا ہوا جس پر خدا بھی قادر نہ ہوا ، وہ یہ کہ وہ پتھر کو اٹھا سکنے سے قاصر ہے۔ لہذا خدا کا کوئی وجود نہیں۔”
یہ پیراڈوکس بھی بظاہر بہت جاندار ہے لیکن حقیقتا کم علمی پر مبنی ہے۔ اس پیراڈوکس میں دو مقدمات کو تسلیم کیا گیا ہے؛
1۔ خدا قادر مطلق ہے،
2۔ ایسے پتھر کا وجود ممکن ہے جسے خدا بھی اٹھانے سے قاصر ہو،
ان دونوں مقدمات کو بہ یک وقت درست نہیں مانا جا سکتا، یہ منطقی تضاد ہو گا۔ کیونکہ پہلا مقدمہ دوسرے کی ضد ہے جبکہ دوسرا مقدمہ پہلے مقدمے کی ضد ہے۔ اگر خدا ایسا پتھر بنانے پر قادر ہو تو گویا وہ خدا ہی نہیں(کیونکہ عاجز ہو گا اور جو عاجز ہو وہ خدا نہیں ہو سکتا)، اور اگر خدا ایسا پتھر بنانے پر قادر نہ ہو تو پھر بھی وہ خدا نہیں کہلا سکتا کیونکہ پھر وہ قادر مطلق نہیں کہلا سکتا۔ لیوکریٹیس کا یہ پیراڈوکس خدا کے تعارف کی بابت کم علمی کا نتیجہ ہے، اگر وہ خدا کا صحیح تعارف حاصل کر لیتا تو یقینا ایسا منطقی شگوفہ پیش نہ کرتا۔ اس قضئیے کو سمجھے کیلئے چند ضروری باتوں کو اولا ذہن نشین رکھنا چاہئے۔
ہماری اس کائنات میں جتنی بھی اشیاء ہیں، وہ سب “موجود” ہیں یعنی وہ اپنا وجود رکھتی ہیں۔
بہت سی اشیاء ایسی بھی ہیں جو ماضی میں موجود نہیں تھیں مثلا سائنسی ایجادات وغیرہ۔ یہ اشیاء ماضی میں تو موجود نہیں تھیں البتہ حال میں موجود ہیں اور ممکن ہے مستقبل میں بے شمار نئی چیزیں وجود میں آ جائیں۔
تو گویا اشیاء دو طرح کی ہوتی ہیں؛
1۔ موجود
2۔ ممکن
اشیاء کی ایک تیسری قسم بھی ہے جو نہ تو موجود ہیں اورنہ موجود ہو سکتی ہیں، انہیں محال بالذات کہا جاتا ہے۔ اہل مذہب جب خدا کے تعارف میں یہ بات کہتے ہیں کہ خدا قادر مطلق ہے تو اس سے ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ خدا صرف موجود اور ممکن اشیاء پر قادر ہے۔ مثلا جیسا کہ قرآن پاک میں متعدد مقامات پر فرمایا گیا؛
ان اللہ علی کل شئی قدیر
” بے شک اللہ ہر شے پر قادر ہے”
یہاں خدا نے اپنے تعارف میں یہ فرمایا کہ وہ قادر مطلق ہے لیکن قادر مطلق کے معنی یہ نہیں کہ وہ محال بالذات اشیاء پر بھی قادر ہے، بلکہ اس سے مراد اتنا ہے کہ وہ موجود ات اور ممکنات پر قادر ہے۔ محالات اس کی قدرت سے خارج ہیں،
محالات اسی وجہ سے تو محالات ہیں کیونکہ وہ تحت قدرت باری تعالیٰ نہیں۔ ان کے تحت قدرت باری تعالیٰ نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ان سے منطقی تضاد لازم آتا ہے اور خدا منطقی تضاد سے بالا ہے۔
جیسا کہ مذکورہ پیراڈوکس میں پتھر کی مثال دی گئی، جس میں منطقی تضاد پایا جاتا ہے، اسی طرح کے ہم سینکڑوں سوالات قائم کر سکتے ہیں ؛مثلا
دائرے میں کتنے کونے ہوتے ہیں؟
ہاتھی فضا میں کتنی رفتار سے اڑتا ہے؟وغیرہ
اسی طرح ہم خدا سے متعلق بھی کئی سوالات بنا سکتے ہیں، مثلا
اگر خدا قادر مطلق ہے تو کیا وہ دوسرا خدا پیدا کر سکتا ہے؟
اگر خدا ہر شے پر قادر ہے تو کیا وہ خود کشی کر سکتا ہے؟وغیرہ
پس ان سوالات کی طرح بیان کردہ پیراڈوکس بھی منطقی تضاد ہے۔ دائرے میں کونوں کا پایا جانا محال ہے کیونکہ جس دائرے میں کونے ہوں وہ دائرہ ہی نہیں ہوتا، ہاتھی فضا میں اڑنے سے رہا!یہ دونوں باتیں محال بالذات ہیں۔ خدا اگر دوسرا خدا پیدا کر سکنے پر قادر ہو تو اس کا مطلب یہ ہو اکہ دوسرے خدا کا وجود ممکن ہے، یعنی دوسرے خدا کا امکان موجودہے۔۔۔ حالانکہ دوسرے خدا کا امکان نہیں ہے، گویا دوسرا خدا ممکن نہیں، بلکہ محال بالذات ہے۔ اسی طرح اگر خدا خودکشی پر قادر ہو تو گویا خدا کا فنا ہو جانا محال نہیں ممکن ہے۔۔۔حالانکہ نہ تو دوسرا خدا ممکن ہے اور نہ خدا کا فنا ہونا ممکن ہے۔ یہ دونوں محالات ہیں۔
الحاصل یہ کہ خدا موجودات اور ممکنات پر قادر ہے۔ وہ محالات پر قادر نہیں ہے کیونکہ محال وہ شے ہے جس پر قدرت سے منطقی تضاد اور خدا میں فساد لازم آتا ہے اور یہ بجائے خود محال ہے۔ پس لیوکرایٹیس کے پیراڈوکس کا جواب یہ ہے کہ خدا قادر مطلق ہے، وہ ایسا پتھر نہیں بنا سکتا جسے وہ خود بھی نہ اٹھا سکے، کیونکہ ایسا پتھر محال بالذات ہے۔ اور اس کا ایسے پتھر پر قادر نہ ہونا اس کی قدرت کی دلیل ہے، اس کا ایسا پتھر پر قادر نہ ہونا اس کی قدرت مطلقہ کے منافی نہیں ہے ، نقص خدا کی قدرت میں نہیں بلکہ قدرت مطلقہ کے مفہوم کو نہ سمجھنے والے کی عقل میں ہے۔
…………………………
(1) رومیوں کو لذتیت (اپیقیورنزم) سے متعارف کروانے والا شخص لیوکریٹس تھا جو 99ق م میں پیدا ہوا اور 55 ق م میں فوت ہوا۔ وہ رومی شاعر و فلسفی تھا جس کے نظریات پر ڈیمقراطیس کی جوہریت اور اپیقیوریس کی لذتیت کی گہری چھاپ تھی۔ تاریخ میں اس کے حوالے سے بہت کم معلومات دستیاب ہے۔ اس کا ایک اہم تعارف اسکی نظم “فطرتِ اشیاء On The Nature of Things” ہے جو قرون وسطیٰ میں تو غائب رہی لیکن 1417ء میں دریافت کر لی گئی۔

فیصل ریاض شاہد

اپنی رائے کا اظہار کریں

3 تبصرے “خدا اور بھاری پتھر کا مغالطہ – فیصل ریاض شاہد

  1. ماشاءاللہ عزوجل اللہ عزوجل آپکی سعی کامل کو قبول فرماۓ اور اجر عطا فرماۓ
    اسی سے میرے ذھن میں بہت سی چیزیں آئیں کہ بالیقین خدا کی ذات محالات پہ قدرت نہیں رکھتی ورنہ تو لازم آۓ کہ خداجھوٹا زانی شرابی وغیرہ وغیرہ بھی ھوسکتا ھے بلکہ شوھر باپ بیٹا بھی ھوسکتا ھے حالانکہ یہ سب محالات کے قبیل سے
    ھیں

  2. خوبصورت انداز میں سمجھایا ہے

    دنیا کا کوئی خدا کوئی پتھر بنائے
    اللہ اسے اپنے ایک حکم بلکہ ایک ارادے سے اٹھا سکتا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں