440

خاندانی منصوبہ بندی کی تحقیق- علامہ غلام رسول سعیدی

خاندانی منصوبہ بندی کو کسی عام قانون کے ذریعے جبرا تمام مسلمانوں پر لاگو کردینا جائز نہیں ہے ، کیوں کہ اول تو اس کی اباحت تمام مکاتب فقہ کے نذدیک متفقہ علیہ نہیں ہے ، شیخ ابن حزم اور علامہ رویانی عزل کو ناجائز قرار دیتے ہیں اور بعض فقہا کراہت کے ساتھ اس کی اجازت دیتے ہیں اور جو فقہا بلا کراہت اس کی اجازت دیتے ہیں وہ اس کو بیوی کی اجازت کے ساتھ مشروط کرتے ہیں اس لیے خاندانی منصوبہ بندی کو کسی قانون کے ذریعےہر شخص پر لازم کر دینا شرعا جائز نہیں اور انفرادی طور پر بھی دو صورتوں میں خاندانی منصوبہ بندی جائز نہیں.

ضبط تولید کے عدم جواز کی دو صورتیں
1) تنگی رزق کی بنا پر ضبط تولید کرنا جائز نہیں کیوں کہ اللہ تعالی نے فرمایا
وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ ۖ نَّحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُمْ ۚ (بنی اسرائیل : 31)
اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو ہم ان کو بھی رزق دیتے ہیں اور تم کو بھی
اگر چہ خاندانی منصوبہ بندی کے طریقے پر عمل کے وقت اولاد کا تحقق نہیں ہوتا اس لیے اس عمل سے قتلِ اولاد کا ارتکاب تو لازم نہیں آتا لیکن اس کی ممانعت کی علت مفلسی اور تنگی رزق کا ڈر ہے اور وہ خاندانی منصوبہ کے طریقے میں بھی موجود ہے لہذا تنگی رزق کے ڈر کی وجہ سے بھی خاندانی منصوبہ بندی کے طریقے پر عمل کرنا جائز نہیں ہے
2) اگر کوئی شخص اس وجہ سے ضبطِ تولید کرے کہ اس کے ہاں بار بار لڑکیاں پیدا ہوتی ہیں اور لڑکیوں کا وجود باپ کے لیے باعثِ عار و مشقت ہوتا ہے تو یہ بھی ناجائز ہے قران میں اس کی بہت مذمت کی گئی ہے
وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُم بِالْأُنثَىٰ ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًّا وَهُوَ كَظِيمٌ (النحل : 58 )
اور جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی بشارت دی جاتی تو اس کا چہرہ سارا دن سیاہ رہتا اور وہ غم زدہ رہتا ہے
یعنی زمانہ جاہلیت میں لوگ بیٹی کی پیدائش پر غم گین ہوتے تھے اور قران مجید نے اس کی مذمت فرمائی ہے لہذا بیٹیوں کی پیدائش سے بچنے کے لیے ضبطِ تولید کرنا حرام ہے

ضبطِ تولید کی جائز صورتیں
1) باندیوں سے ضبطِ تولید کرنا تاکہ اولاد مزید باندی اور غلام بننے سے محفوظ رہے ، ہر چند کہ اب باندیوں اور غلاموں کا رواج نہیں لیکن اسلام کے احکام دائمی اور کلی ہیں، اگر کسی زمانے میں باندیوں کا رواج ہو جائے تو ضبطِ تولید کا جائز ہے ۔
2) اگر بچوں کی پیدائش کے عمل کو قائم رکھنے سے بیوی کے سخت بیمار رہنے کا خدشہ ہو تو ضبطِ تولید جائز ہے۔
3)اگر بچوں کی مسلسل پیدائش سے بچوں کی تربیت اور نگہداشت میں ہرج کا خطرہ ہے تو وقفہ وقفہ سے پیدائش کے لیے ضبط تولید کرنا جائز ہے کیوں کہ جب گھر میں صرف ایک بیوی ہو اور نو دس ماہ میں دوسرا بچہ پیدا ہو جائے تو بیوی کے لیے دونوں بچوں کو سنبھالنا مشکل ہوگا۔
4) حمل اور وضع حمل کے دوران کے وقفوں کے درمیان بعض صورتوں میں انسان اپنی جنسی خواہش پوری نہیں کر سکتا اس لیے زیادہ عرصہ تک بیوی سے جنسی خواہش پوری کرنے کی نیت سے ضبط تولید کرنا جائز ہے۔
5) عام طور پر بچوں کی پیدائش سے عورتوں کا حسن و جمال کم یا ختم ہو جاتا ہے ، اس لیے اگر وہ عورت کے حسن و جمال کو قائم رکھنے کے لیے ضبط تولید کا عمل کرے تو صحیح ہے۔ امام غزالی نے عزل کو جائز قرار دیا ہے (احیاء العلوم الدین ج 2 ص 52 )
6) زیادہ بچوں کی پرورش اور ان کی تعلیم و تربیت کے لیے انسان کو زیادہ آمدنی کے حصول کے لیے معمول سے زیادہ مشقت کرنی پڑتی ہے ۔ انسان کو دوہری ، تہری نوکریاں اور اوور ٹائم کرنا پڑتا ہے بعض اوقات ناجائز وسائل کو بھی اختیار کرتا ہے اس لیے اپنے آپ کو اس مشقت سے بچانے سے اور بار معیشت کو کم کرنے لیے ضبط تولید کا عمل جائز ہے کیون کہ جس قدر آمدنی کے لیے مشقت کم ہوگی وہ اتنا ہی عبادت کے لیے فارغ ہوگا، امام غزالی نے بھی اس وجہ سے عزل کو جائز قرار دیا۔
7) بعض اوقات سرجری کے زریعے بچہ پیدا ہوتا ہے سو بیوی کو سرجری کی تکلیف اور جان کے خطرے سے بچانے کے لیے ضبط تولید جائز ہے

ضبطِ تولید کا وجوب
جب پیٹ میں مزید سرجری کی گنجائش نہ رہے تو پھر ضبط ےتولید کا ایسا طریقہ اختیار کرنا ( یعنی نل بندی) واجب ہے ہے جس کی وجہ سے سلسہ تولید بالکلیہ بند ہو جائے۔

ضبطِ تولید کی ناجائز صورت
ضبط تولید کا ممنوع طریقہ یہ ہے کہ مرد کی نس بندی کی جائے ۔ اس عمل کے ذریعے مرد کی جن نالیوں سے تولیدی جرثومے گزرتے ہیں ان نالیوں کو کاٹ کر باندھ دیا جاتا ہے ۔ اس عمل کے بعد مرد میں بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتی ہے ۔
نس بندی سے مرد بانجھ ہو جاتا ہے اور مرد کا اپنے آپ کو بانجھ کرالینا جائز نہیں ہے کیوں کہ انسان اپنے جسم کا خود مالک نہیں ہے ، انسان خود کو بیچ سکتا ہے نہ خود کشی کر کے خود کو ختم کر سکتا ہے نہ اپنا کوئی عضو کاٹ کر کسی کو دے سکتا ہے اسی لیے اسلام میں اعضا کی پیوند کاری بھی جائز نہیں بنا بریں نس بندی بھی جائز نہیں ہے ۔

اس اشکال کا جواب کہ ضبط تولید کا عمل اللہ تعالی کی رزاقی پر توکل کے خلاف ہے
اللہ تعالی نے فرمایا
وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا
اور زمین پر چلنے والے ہر جان دار کا رزق اللہ کے ذمہ (کرم پر ) ہے
اللہ نے رزق کا ذمہ لے لیا ہے اس کے باوجود لوگ حصول رزق کے لیے کاروبار کرتے ہیں اور ،ستقبل کے لیے رقم پس انداز کرتے ہیں اور ان کا یہ عمل اللہ کی رزاقی پر توکل کے خلاف نہیں ہے سو اسی طرھ بارِ معیشت کو کم کرنے کے لیے اور دیگر طبی وجوہ کی بنا پر ضبط تولید کا عمل جائز ہے

(ماخوذ از نعم الباری ج 9 ص 669 تا 671 علامہ غلام رسول سعیدی رحمہ اللہ )

مرتب ابو تراب محمد فرحان انصاری

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں