272

حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا -2- شہزاد محمود

حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا…..(2)

Homo Sapiens کی تاریخ بتاتی ہے کہ انسانوں کی ترقی

اور ارتقا کے سفر میں جس چیز نے سب سے ذیادہ روڑے اٹکائے ہیں وہ اس کے علمی تعصب کا رویہ ہے، اپنی نسل، اپنی زبان، اپنے اجداد، اور اپنے خود ساختہ تصورات کے خلاف حق بات سننے کی برداشت اس میں بہت کم ہے، اپنے اجداد کی ناجائز باتوں کی بلاجواز و بلا دلیل حمایت اسکے لیے سّدِراہ کی حثیت رکھتا ہے، قرآن نے جا بجا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا کے رویّے کی مذمت کی ہے اور انسان کو مائل کیا ہے اس کائنات اور آفاق و أنفس کو نگاہ بصیرت سے دیکھے.
عالم ہے فقط مومن جانباز کی میراث
مومن نہیں جو صاحب لولاک نہیں ہے
یہ انسانی رویہ زندگی کے ہر گوشے میں نظر آتا ہے. سائنس کی تاریخ بھی اس رویّے سے خالی نہیں ہے.
نیوٹن کے پیش کردہ تجاذب کے اصول(Law Of Gravitation) کے تحت اس نے سیب کے گرنے سے یہ insiprationلی کہ کوئی قوت ہے جو سیب کو زمین کی جانب کھینچ رہی ہے اور اس جینئس شخص نے یہ بھی دریافت کر لیا کہ یہی وہ قوت ہے جو سورج اور زمین کے درمیان پائی جاتی ہے یعنی  اسی کشش کے باعث زمین سورج اور چاند زمین کے گرد چکر لگا رہا ہے، یہ اصول اس نے ریاضی کی مساوات کی شکل میں بھی لکھ دیا. اسی اصول کے باعث آج ہم اس قابل ہوئے کہ سیاروں کی حرکت اور ان کے مداروں کے بارے میں جان سکیں، اور یہ جان سکیں کہ سورج کس قوت سے زمین کو اپنی جانب اور زمین کس قوت سے چاند کو اپنی جانب کھینچ رہی ہے. مصنوعی سیارے اور راکٹ اسی اصول کو جاننے کے باعث بھیجنا ممکن ہوئے، غرض انسانوں کے ہاتھ گویا شاہ کلید(Master Key)آ گئی اور نیوٹن  سے ایسی عقیدت وابستہ ہوئی کہ اس کے کام پر سوال اٹھانا بھی قابل مذمت ٹھرا. یہ طے شدہ بات ہے کہ جہاں عقیدت ہو وہاں تحقیق دم توڑ جاتی ہے.
نیوٹن کی کتاب (Mathematical Principles of Natural Philosophy)جسے مختصراً Principia بھی کہا جاتا ہے،تین جلدوں میں تحریر کی. اس کتاب میں اس نے تجاذب کے قانون کے تحت ریاضی کی وہ مساواتیں درج کر دیں جن کے تحت یہ معلوم کرنا تو آسان ہو گیا کہ دو اجسام کن ریاضیاتی اصولوں کے تحت آپس میں کشش کے لیے کتنی قوت لگاتے ہیں…….یہ بلا شبہ انسانی تاریخ کی عظیم ترین دریافت تھی لیکن وہ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ اس بات کا جواب نیوٹن کے پاس بھی نہ تھا، ہاں قوت لگتی تو ہے، یہ بھی نیوٹن نے معلوم کیا َ کتنی لگتی ہے، یہ بھی نیوٹن کی مساوات بتاتی ہے، فاصلہ گھٹے یا بڑھے تو کشش پر کیا اثر ہوتا ہے، یہ راز بھی اس نے دنیا کو بتا دیا لیکن آخر دونوں اجسام ایسا کیوں کرتے ہیں، اس جواب کے نہ ہونے کا صاف اعتراف نیوٹن نے اپنے ایک دوست رچرڈ بنٹلے “Richard Bentley” کو لکھے گئے خط میں کیا ہے، جس میں وہ کہتا ہے کہ
“یہ ناقابل فہم ہے کہ مادہ کسی وسیلے اور رابطے کے بغیر دوسرے مادے پر اثر انداز ہو. (میرا خیال ہے) کہ مادے کے اندر کشش کی یہ صلاحیت ہونی چاہیے تاکہ ایک جسم کسی وسیلے کے بغیر کسی دور دراز جسم پر اثر انداز ہو سکے. (آگے کچھ سطروں کے بعد وہ لکھتا ہے کہ) کشش کرنے کے لیے ضروری ہے کہ کوئی قوت خاص قانون کے تحت اپنا اثر ڈالے لیکن اس قوت کے مادی یا غیر مادی ہونے کا فیصلہ میں اپنے پڑھنے والوں پر چھوڑتا ہوں”
اس سارے واقعہ میں حیرت کی بات یہ ہے کہ آئندہ دو سو سال تک اس نہایت بنیادی بات پر کسی نے سوال تک نہیں اٹھایا اور غور کرنے کی زحمت نہیں کی کہ آخر ایسا ہوتا کیوں ہے. نیوٹن کے واضح  اعتراف کے باوجود نیوٹن کی ذات عقیدت کا روپ دھار چکی تھی اور جہاں عقیدت ہو وہاں تحقیق مفقود ہوتی ہے، جیسے ہمیشہ تجربات اُس لاش پر کیے جاتے ہیں جو لاوارث ہو کبھی کسی نے اپنے والد کی لاش کو اپنے تجربات کا تختہ مشق نہیں بنایا کہ اس سے عقیدت کا تعلق ہوتا ہے.
قرآن جس رویے کو انسانی ارتقا اور بلوغت کے لیے سمِ قاتل سمجھتا ہے اس کا ذکر بار بار حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا کے تحت کرتا ہے کہ اے اللہ  کے بندو، عقل سے کام لو، کوئی بات محض اس لیے حق نہیں ہو سکتی کہ تم سے پہلے کے لوگ ایسا کیا کرتے تھے.
نیوٹن سے دو سو سال بعد اس ادھوری کہانی کو ویسے ہی ایک جینئس نےپایہ تکمیل تک پہنچایا جس نے اسی نقطے پر سوچا جس کا سراغ نیوٹن نہ پا سکا تھا. آئن سٹائن نے یہ بتایا کہ تجاذب ایک قوت نہیں بلکہ یہ تو دراصل زمان و مکان کا خم (Space Time Curvature) ہے جس کے باعث مختلف اجسام ایک دوسرے کے گرد حرکت پر مجبور ہیں گویا سورج چاند زمین وغیرہ ایک ربڑ کی تَنی ہوئی شیٹ پہ محو سفر ہیں ان میں سے جو ذیادہ بھاری ہے وہ اس ربڑ کی چادر پر ذیادہ گہرا خم بناتا ہے اور اسی خم کے باعث دوسرے اجسام اس کر گرد گھومنا شروع ہو جاتے ہیں. اس کی مثال یوں ہے کہ گویا ایک بہت بڑا بھنور ہے جس کی زد میں آ کے ایک کشتی گھومتی چلی جا رہی ہے یہاں بھنور اور کشتی کے درمیان کوئی قوت نہیں ہے بلکہ جونہی کشتی بھنور کے باعث اس خم کے دائرے کی ذد میں آتی ہے، بھنور کا خم کشتی کو گھومنے پر مجبور کر دیتا ہے. کائنات کی ہر شے سپیس ٹائم فیبرک کے اوپر محو سفر ہے حتی کہ روشنی بھی جب اس چادر کی سطح کے ساتھ سفر کر رہی ہوتی ہے تو جہاں جہاں کسی بھاری جسم کی وجہ سے اس چادر میں خم ہوتا ہے روشنی کو بھی اس خم میں سے گزرنا پڑتا ہے. (آئن سٹائن کے گریویٹی کے کانسیپٹ کے لیے لنک ذیل میں درج ہے)
http://u2.lege.net/cetinbal/AE/Einsteingravity.gif

اس بات کو آئن سٹائن نے ایک نئے Thought experiment سے سمجھانے کی کوشش کی. سب سے پہلے تو اس نے خود سے یہ سوال کیا کہ اگر فرض کریں کہ سورج اِسی لمحے اپنی جگہ سے اُڑ کے کہیں اور چلا جائے توہمیں کب پتہ چلے گا کہ سورج اپنی جگہ چھوڑ چکا ہے. نیوٹن کی فزکس تو اس مسئلے کا جواب یہ دے رہی تھی کہ اس کے اثرات عین اسُی لمحے زمیں پر پائیں جائیں گے یعنی زمین اپنے مدار پر حرکت کرنا چھوڑ دے گی اور کسی نامعلوم سمت کی جانب چلی جائے گی کیونکہ اسے باندھ کر رکھنے والی قوت تجاذب جو سورج کی کشش کے باعث موجود تھی، سورج کے جانے کے بعد تو ختم ہو گئی لہذا کشش بھی ختم ہو گئی گویا سورج اور زمین ایک رسی سے بندھے ہوئے تھے اور رسے کے اچانک کٹنے پر زمین سورج سے الگ ہوگئی.
آئن سٹائن کے سپیس ٹائم فیبرک کے تصور نے اس کا بالکل مختلف جواب دیا اس کی رو سے ہمیں سورج کے اپنی جگہ سے چلے جانے کا فورا پتہ ہی نہیں چلے گا کیونکہ ہمیں کائنات میں ہر شے کی خبر تو روشنی کی کرن دیتی ہے یعنی فوٹان.،اور روشنی کی کرن کی رفتار 186000 میل فی سیکنڈ ہے اور جس چادر(Space Time Fabric) پر روشنی کی کرن تیرتی ہوئی زمین تک آتی ہے تو اس آخری سورج کی کرن جو سورج کے غائب ہونے سے ایک لحظہ پہلے سورج سے نکلی ہوگی ہم تک آٹھ منٹ کے بعد پہنچے گی, سو سورج کے غائب ہونے کی خبر ہمیں جس ذریعے سے ملے گی وہ روشنی ہے اور روشنی آٹھ منٹ بعد ہم تک پہنچے گی اور یاد رہے کہ روشنی کی رفتار کائنات میں خلا کے اندر سب سے ذیادہ ہے.
آئن سٹائن کی وضاحت نے اس سوال کی گُتھی سلجھا دی جو نیوٹن کے ذہن میں بھی کلبلا رہا تھا کہ دو اجسام آپس میں کشش کیوں کرتے ہیں. نیوٹن کے علمی قد اور “حسبنا ما وجدنا علیہ أبناءنا” کے رویے کے باعث یہ سوال ایک عرصہ تک لاینحل رہا.

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں