149

حقوق ِانسانی کا بین الاقوامی قانون اور ہم؛ دائمی شکست، عذر خواہی یا کچھ اور؟ ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

مسلمان معاشروں کے لیے بین الاقوامی قانون کا سب سے بڑا چیلنج اس وقت حقوقِ انسانی کے قانون کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ اس قانون کے متعلق یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ اس قانون کا بنیادی مفروضہ یہ ہے کہ انسان ’محکوم علیہ‘ نہیں بلکہ ’حاکم‘ ہے۔ ژاں ژاک روسو کا مشہور مقولہ ہے کہ انسان آزاد پیدا ہوا تھا لیکن اب ہر جگہ زنجیروں میں ہے۔
ویسٹ فالیا کے معاہدے کے بعد سے وجود میں آنے والے بین الاقوامی نظام نے ’ریاست‘ کو اکائی کے طور پر مان لیا اور فرد کی اہمیت اس نظام میں ثانوی تھی۔ اس قانون کا خطاب ریاست نامی شخص ِ اعتباری سے تھا، نہ کہ فرد سے۔ یہ نظام اسی اصول پر بیسویں صدی کی ابتدا تک چلتا رہا۔ چنانچہ بیسویں صدی کی ابتدا میں اوپن ہائم نے بین الاقوامی قانون پر جو مشہور کتاب لکھی اس میں تصریح کی کہ ریاست، اور صرف ریاست، ہی بین الاقوامی قانون کی مخاطب ہے۔

پہلی جنگ ِ عظیم (1914ء تا 1918ء) اور دوسری جنگ ِ عظیم (1939ء تا 1945ء) میں لاکھوں لوگ مارے گئے اور ان وحشیانہ جنگوں کے لیے ذمہ دار انسان ریاست کی اعتباری شخصیت کے پردے کے پیچھے (behind the corporate veil of the state) چھپ گئے۔ 1945ء میں پہلی دفعہ بین الاقوامی سطح پر کوشش کی گئی کہ یہ پردہ چاک کرکے ان افراد کو سزا دی جائے جنھوں نے یہ تباہی پھیلائی۔ نورمبرگ اور ٹوکیو میں چلائے جانے والے مقدمات پر بہت زیادہ تنقید کی جاتی ہے اور یہ تنقید بے جا نہیں ہے کہ یہ ’فاتح کا انصاف‘ (Victors’ Justice) تھا لیکن ان مقدمات نے حقوق ِ انسانی کے بین الاقوامی قانون کی تشکیل کی راہ ہموار کی۔ اس کے بعد سے ہی بین الاقوامی قانون نے ریاست کے علاوہ افراد کو بھی مخاطب کرنا شروع کیا جس کے نتیجے میں ایک جانب حقوق ِ انسانی کے بین الاقوامی قانون اور دوسری جانب ’بین الاقوامی فوجداری قانون‘ کا ارتقا ہوا۔ تقریباً پون صدی بعد آج فرد کو بھی بین الاقوامی قانون کا مخاطب سمجھا جاتا ہے،؛ بین الاقوامی قانون کی رو سے فرد کے حقوق مانے جاتے ہیں اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی پر فرد کو سزا دی جاتی ہے۔ تاہم آج بھی فرد اور ریاست بین الاقوامی قانون کی نظر میں برابر نہیں ہیں اور اب بھی بین الاقوامی قانون بنیادی طور پر ریاستوں کے تعامل کو منضبط کرنے کا کام کرتا ہے۔اسی طرح ریاست کے اقتدار اعلی کا تصور بھی بہت حد تک تبدیل ہوچکا ہے لیکن اب بھی یہ تصور موجود ہے اور اس کی وجہ سے مسائل بھی موجود ہیں۔

یہ قانون مغربی تہذیب کی اقدار پر مبنی ہے ۔
یہ صحیح ہے کہ توجہ اعتباری شخص سے حقیقی شخص کی طرف اور ریاست سے انسان کی طرف بڑھنی شروع ہوچکی ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یہ نظام مغربی نظام ہاے قوانین کے اقدار کو ہی مسلمات اور آفاقی حقیقت (universal truth) کے طور پر پیش کرتا ہے۔قومی ریاستوں کے تصور نے یورپی تاریخ کے ایک خاص موڑ پر جنم لیا اور انیسویں صدی کے نصف اول تک بین الاقوامی قانون کا اطلاق صرف یورپی مسیحی ریاستوں پر ہوتا تھا۔ 1856ء میں پہلی دفعہ عثمانی خلافت پر اس کا جزوی اطلاق کیا گیا لیکن ان کی ریاست بھی، مسیحی نہ سہی، یورپی تو بہرحال تھی۔ بیسویں صدی کی ابتدا میں جب جاپان کو اس لائق سمجھا گیا تو پہلی دفعہ اس قانون کا اطلاق یورپ سے باہر کیا گیا۔ تاہم بیسویں صدی کی ابتدا میں اوپن ہائم نے صراحت سے کہا کہ اس قانون کا اطلاق ایتھوپیا پر نہیں ہوسکتا کیونکہ اگرچہ وہ مسیحی ریاست ہے لیکن وہ تہذیب کی اس سطح تک نہیں پہنچی کہ اسے بین الاقوامی قانون کے اطلاق کے لائق سمجھا جائے۔ (امریکا کو اس نے مسیحی یورپ ہی کی توسیعی شکل قرار دے کر بین الاقوامی قانون کے اطلاق کے لائق قرار دیا تھا۔) اس نے یہ تصریح بھی کی کہ اس قانون کے خلا کو مسیحی اخلاقیات کے اصولوں کی روشنی میں پر کیا جائے گا۔ غیر یورپی اور غیر مسیحی اقوام پر اس قانون کے اطلاق کے لیے اوپن ہائم کی بیان کردہ شرائط اوپر ذکر ہوچکیں۔ ان شرائط سے معلوم ہوا کہ اس قانون کے اطلاق کے دائرے میں آنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس قانون کی اقدار کی آفاقیت کا دعوی تسلیم کرکے خود کو ان اقدار کے سانچے میں ڈھالنے کا اعلان کیا جائے۔ یہی مسلمانوں کے لیے آج بین الاقوامی قانون کا سب سے بڑا چیلنج ہے!

بیسویں صدی کے نصف آخر میں نظریاتی سطح پر سرمایہ دارانہ نظام اور اشتراکی نظام کی کشمکش بھی جاری رہی اور اس وجہ سے حقوق ِ انسانی پر عالمی سطح پر بہت عرصے تک اتفاق ِ راے ممکن نہیں ہوسکا۔ چنانچہ 1948ء میں ’حقوق ِ انسانی کے عالمی اعلان‘ کی بطور قرارداد اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے منظوری کے بعد اسے بین الاقوامی معاہدے کی صورت اختیار کرنے میں اٹھارہ سال لگے اور تب بھی ایسا ممکن صرف اس لیے ہوسکا کہ سرمایہ دارانہ ریاستوں کی دلچسپی والے حقوق (شہری و سیاسی حقوق) اور اشتراکی ریاستوں کی دلچسپی کے حقوق (معاشی، معاشرتی اور سماجی حقوق)کو الگ الگ معاہدات میں رکھا گیا۔ 1991ء میں اشتراکی روس کے بکھر جانے کے بعد یہ نظریاتی کشمکش ختم ہوگئی اور سابقہ اشتراکیوں نے بھی لبرلزم کا لبادہ اوڑھ کر حقوق ِ انسانی کی وہی تعبیر اپنا لی جو سرمایہ دارانہ نظام کے علم بردار پیش کررہے تھے اور یوں صورت ایسی بن گئی کہ:
من تو شدم، تو من شدی، من تن شدم، تو جاں شدی
تا کس نہ گوید بعد ازیں: من دیگرم، تو دیگری!

حقوقِ انسانی کے قانون کے متعلق مسلمانوں کے رویے
اس ساری بحث میں اسلامی قانون کا ذکر کہیں حاشیے میں بھی نہیں تھا لیکن اشتراکیت کی وجہ سے کم از کم یہ تھا کہ ایک متبادل تعبیر کا امکان تو مانا جارہا تھا۔ اشتراکی روس کے بکھر جانے کے بعد یہ امکان بھی ختم قراردیا گیا اور حقوق ِ انسانی کے سرمایہ دارانہ تصور ہی کو پوری دنیا کے تمام انسانوں اور تمام ادوار کے لیے ’آفاقی حقیقت‘ کے طور پر پیش کیا جانے لگا۔

اس کے جواب میں مسلمان اہل ِ علم کی جانب سے بالعموم دو طرح کے رویے سامنے آئے ہیں:
ایک رویے کو ہم perpetual surrender یعنی دائمی شکست کا نام دیں گے۔ اس رویے کے حاملین نے حقوق ِ انسانی کے مغربی اقدار کو واقعتاً آفاقی حقیقت کے طور پر تسلیم کیا ہے اور اسلامی قانون اور تراث میں اسے جو کچھ بھی ان اقدار سے متصادم نظر آتا ہے یہ گروہ اس کا انکار کرنے میں ہی عافیت سمجھتا ہے۔

دوسرا رویہ apologetic یعنی عذر خواہی کا ہے۔ اس رویے کے حاملین پہلے گروہ سے تھوڑا مختلف راستہ اختیار کرتے ہیں لیکن نتائج میں پہلے گروہ ہی سے اتفاق پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ یہ گروہ یہ دکھانے کی کوشش کرتا ہے کہ جو کچھ مغرب ہمیں حقوق ِ انسانی کے نام پر پیش کررہا ہے وہ تو اسلام صدیوں پہلے پیش کرچکا ہے۔ یوں یہ گروہ اسلامی تراث کو ان حقوق ِانسانی سے مکمل طور پر ہم آہنگ بنا کر پیش کرتا ہے اور جہاں اسے مسائل نظر آئیں وہاں یہ گروہ ایسی تاویل پیش کرتا ہے کہ اسلامی قانون کے مسائل کو ان مغربی اقدار کے مطابق ثابت کیا جائے اور جب یہ ممکن نہ ہو تو یہ کہا جائے کہ مسلمان اس مسئلے پر اسلام کو صحیح سمجھ نہیں سکے تھے، اس لیے مسئلہ اسلام کے ساتھ نہیں بلکہ مسلمانوں کے ساتھ ہے

ان دونوں رویوں میں بہت سنجیدہ مسائل ہیں اور اسی وجہ سے انھیں مسلمانوں کے ہاں ابھی تک عمومی قبولیت حاصل نہیں ہوسکی ہے۔

پس چہ باید کرد؟!
بین الاقوامی قانون کی ان تحدیات کے مقابلے میں مسلمانوں کو کیا پوزیشن اختیار کرنی چاہیے؟
ہمارے نزدیک سب سے اہم کام یہ ہے کہ پہلے اس حقیقت کا اعتراف کیا جائے کہ بین الاقوامی قانون مغربی تہذیب کی پیداوار ہے اور اس کے اقدار اسلامی قانون کے اقدار سے مختلف ہیں۔ (واضح رہے کہ ہم انھیں ’مختلف‘کہہ رہے ہیں جس کا لازمی مطلب ’متعارض‘ نہیں ہوتا۔) جب تک اختلاف کا اقرار نہیں کیا جاتا، اختلاف ختم کرنے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا جاسکتا۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ ان دونوں نظام ہاے قوانین میں موجود اختلاف معمولی نوعیت کا نہیں بلکہ یہ اختلاف اساسی امور پر ہے اور اقداری سطح پر ہے۔
اس لیے پہلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ اسلامی قانون کو بھی اپنی اقدار کو آفاقی اقدار کے طور پر پوری دنیا کے انسانوں کے سامنے پیش کرنے کا موقع فراہم کیا جائے۔ بہ الفاظِ دیگر، دونوں نظام ہاے قوانین کے درمیان آزاد انہ مسابقت ہونی چاہیے۔ جب تک بین الاقوامی قانون اپنے مقابل کے طور پر اسلامی قانون کا یہ حق نہیں مانتا، مسلمانوں اور مغرب کے درمیان ہونے والا کوئی بھی مکالمہ لایعنی اور بے مقصد ہے۔

جب تک ایسے آزادانہ مسابقت کا ماحول پیدا نہ ہوجس میں اسلامی قانون کو اپنی اقدار پوری دنیا کے سامنے آفاقی اقدار کے طور پر پیش کرنے کا موقع ہو، کم از کم یہ کیا جاسکتا ہے کہ دونوں نظام ہاے قوانین کے درمیان کوئی ’مشترک نکتہ‘ یا ’کلمۃ سوآء‘ تلاش کیا جائے لیکن اختلاف کی نفی کیے بغیر! کوئی بھی بامعنی مکالمہ اختلاف کی نفی کے ساتھ نہیں کیا جاسکتا۔ فریقین کو حالت ِ انکار (state of denial)سے نکلنا ہوگا۔

جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ اسلامی قانون روزِ اول سے ہی فرد سے مخاطب ہے اور کسی اعتباری شخصیت کا پردہ انسانوں کو اسلامی قانون کے خطاب سے نہیں روک سکا۔ مغربی بین الاقوامی قانون نے صدیوں کے سفر کے بعد بالآخر یہ راز پالیا ہے کہ جب تک وہ اعتباری شخصیت کا پردہ چاک کرکے براہِ راست انسان کو مخاطب نہ کرے، مسائل حل نہیں ہوں گے۔چنانچہ بیسویں صدی کے نصف ِ آخر میں اسے ریاست کی اعتباری شخصیت کے پردے میں چھید کرنے پڑے اور یوں حقوق ِ انسانی کے بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی فوجداری قانون نے جنم لیا۔ اس لیے یہ دونوں قوانین کم از کم اس بنیادی سطح پر اسلامی قانون سے قریب ہیں اور ان کو مشترک نکتے یا کلمۃ سوآء کے طور پرلیا جاسکتا ہے۔ ان دونوں قوانین پر بامعنی مکالمے کی ضرورت ہے۔

ایسا کوئی بھی مکالمہ تک تب تک بامعنی نہیں ہوسکتا جب تک یہ دو باتیں تسلیم نہ کی جائیں:
ایک یہ کہ دونوں نظام ہاے قوانین کے اقدار ایک دوسرے سے مختلف ہیں؛ اور
دوسری یہ کہ دونوں نظام ہاے قوانین کے اقدار میں ترتیب بھی ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ اس آخری نکتے پر وضاحت کی ضرورت ہو تو حقوق ِ انسانی کے بین الاقوامی میں اظہار ِ راے کی آزادی کے حق کا موازنہ اسلامی قانون کے تصورِ توہین ِ رسالت کے ساتھ کیجیے۔ ذرا سے تامل سے ہی معلوم ہوجائے گاکہ اقدار کی ترتیب پر اختلاف ہو تو قانون کی تفصیلات میں اس کے نتائج کیا نکلتے ہیں؟
ھذا ما عندی، والعلم عند اللہ!

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں