175

حقوقِ انسانی کا دن : ایک اہم سوال – ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

دوسری جنگِ عظیم سے قبل سوشلسٹ روس کو سرمایہ دار برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے سخت مخالفت کا سامنا تھا جس کی وجہ سے طویل عرصے تک اسے “مجلسِ اقوام” کا رکن بھی نہیں بننے دیا گیا۔ تاہم جب 1941ء میں جرمنی نے پولینڈ پر حملہ کیا اور اس کے بعد روس کا رخ کیا تو اب روس کے ساتھ اتحاد سرمایہ دار بلاک کی مجبوری بن گئی۔ جنگ کے دوران میں محبت کی پینگیں بڑھائی گئیں اور یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ جنگ کے بعد مجلسِ اقوام کی جگہ ایک اور تنظیم بنائی جائے گی جس کے ذریعے عالمی سطح پر “حقوقِ انسانی” کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔ کسے خبر تھی کہ جنگ کے خاتمے پر سوشلسٹ اور سرمایہ دار پھر باہم دست و گریباں ہوں گے اور اس کا آغاز جرمنی پر تسلط کی کوشش سے ہی ہوگا!

بہرحال اس کھینچا تانی کا نتیجہ یہ ہوا کہ اقوامِ متحدہ کے منشور میں حقوقِ انسانی کی فہرست نہیں دی جاسکی اور صرف تنظیم کے اغراض و مقاصد کی حد تک ہی حقوقِ انسانی کا ذکر ہوسکا۔ جنگ کے خاتمے اور اقوامِ متحدہ کے وجود میں آچکنے کے بعد جب حقوقِ انسانی کےلیے الگ سے معاہدے کی کوشش شروع ہوئی تو معلوم ہوا کہ اتنا آساں نہیں لہو رونا! ایک ایک حق کے حق ہونے اور پھر اس حق کے مفہوم پر سوشلسٹوں اور سرمایہ داروں کی لمبی بحث ہونے لگی۔ بالآخر طے پایا کہ معاہدے کے بجاے ایک “اعلان” (declaration) پر ہی اکتفا کیا جائے۔ طویل بحث کے بعد 1948ء میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے ایک قرارداد منظور کی گئی جسے “حقوقِ انسانی کا آفاقی اعلان” (Universal Declaration of Human Rights) کہا جاتا ہے۔

پھر جب اس اعلان کو باقاعدہ معاہدے کی صورت میں نافذ کرنے کی کوشش کی گئی تو سوشلسٹوں اور سرمایہ داروں کے اختلافات نے مزید رکاوٹیں ڈال لیں۔ آخر فیصلہ یہ کیا گیا کہ سوشلسٹوں کے من پسند حقوق کےلیے الگ معاہدہ اور سرمایہ داروں کے من بھاتے حقوق کےلیے الگ معاہدہ تشکیل دیا جائے اور دنیا کی تمام ریاستوں کو موقع دیا جائے کہ ان میں کسی ایک یا دونوں معاہدات میں شامل ہوجائیں۔ یوں 18 سال بعد 1996ء میں اقوامِ متحدہ دو معاہدات سامنے لاسکی:
بین الاقوامی معاہدہ براے شہری و سیاسی حقوق (ICCPR) جو سرمایہ دار بلاک کی خواہش پر مبنی ہے؛ اور
بین الاقوامی معاہدہ براے معاشی، معاشرتی و ثقافتی حقوق (ICESCR) جو سوشلسٹ بلاک کی مرضی کا اظہار کرتا ہے۔
اس کے بعد سے حقوقِ انسانی پر عالمی سطح پر جو حرکت نظر آتی ہے اس کے دو پہلو نمایاں ہیں:
ایک یہ کہ عام انسانی حقوق سے توجہ خصوصی گروہوں کے حقوق کی طرف ہوگئی، جیسے خواتین کے حقوق، بچوں کے حقوق، اقلیتوں کے حقوق وغیرہ؛ اور
دوسرا یہ کہ عالمی سطح پر حقوقِ انسانی کی تنفیذ سے توجہ علاقائی مکینزم تشکیل دینے کی طرف ہوگئی، جیسے یورپی یونین کا نظام، افریقی یونین کا نظام وغیرہ۔

1989ء میں افغانستان سے روسی افواج کے انخلا اور پھر دیوارِ برلن گرنے کے بعد معلوم ہوگیا تھا کہ سوشلسٹ بلاک کی شکست و ریخت شروع ہوچکی ہے جس کا باقاعدہ اظہار 1991ء میں سوشلسٹ روس کے بکھر جانے سے ہوا۔ اس کے بعد سابقی سوشلسٹ ریاستیں بہت جلد سرمایہ دارانہ نظام میں شامل ہوکر اس شعر کی تفسیر بن گئیں:
من تو شدم، تو من شدی، من تن شدم، تو جاں شدی
تا کس نہ گوید بعد ازیں، من دیگرم، تو دیگری!

نہ صرف یہ، بلکہ مسلمانوں نے بھی ان کی دیکھا دیکھی سرمایہ دارانہ نظام میں معمولی پیوندکاری کرکے اسے اپنے تئیں”اسلامائز” کرلیا۔ چنانچہ پاکستان سمیت دیگر اسلامی ممالک میں حقوقِ انسانی کا سارا ڈسکورس monotonous ہوگیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا اس سارے ڈسکورس میں اسلامی قانون کو درخوراعتنا سمجھا گیا ہے؟ سوشلسٹوں یا سرمایہ داروں سے کیا گلہ، مغربی ریاستوں سے کیا شکوہ، سوال مسلمان کہلوانے والے دانش وروں اور اسلامی کہلوانے والی ریاستوں سے ہے۔ کیا ساری بحث صرف اسی حد تک محدود رہے گی کہ فلاں فلاں حق تو ہم نے چودہ سو سال قبل مانا ہوا ہے۔
یاد رکھیے۔ کوئی بھی حق تنہا کوئی مفہوم نہیں رکھتا بلکہ ہر حق کا کسی دوسرے حق کے ساتھ مقابلہ ہوتا ہے اور ہر قانونی نظام نے باہم مقابل حقوق کے درمیان ترجیح کےلیے الگ اصول دیے ہوئے ہیں۔ اسی لیے سوشلسٹ نظام میں “فرد کی آزادی” سے زیادہ اہمیت “افراد کے درمیان مساوات” کی ہوتی ہے اور سرمایہ دارانہ نظام میں اس کے برعکس ہوتا ہے۔
پس اصل سوال یہ ہے کہ اسلام کے قانونی نظام میں حقوق کے درمیان ترجیح اوار ترتیب کے لیے اقدار کا نظام (value system) کیا ہے اور وہ معاصر حقوقِ انسانی کے نام نہاد “آفاقی اقدار” (universal values) سے کتنا مختلف ہے؟ زیادہ نہیں تو اظہارِ راے کی آزادی اور توہینِ مذہب پر سزاے موت کے مسئلے پر ہی غور کیجیے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں