62

حسن و قبح کی بابت ماتریدیہ کی اصل پوزیشن- ڈاکٹر زاہد مغل

مسئلہ حسن و قبح میں ماتریدی نکتہ نگاہ پر غور کرتے ہوئے ایک سوال یہ ذھن میں آتا ہے کہ کیا کوئی ایسا خیر (بھلا کام) ہے جو شرع کی نظر میں پسندیدہ نہ سمجھا گیا ہو؟

اشاعرہ کے نکتہ نگاہ سے اس سوال کا جواب واضح طور پر نفی میں ہے، یعنی چونکہ خیر ڈیفائن ہی شرع سے ہوتا ہے تو ایسے کسی خیر کا کوئی امکان و مطلب نہیں جسے شرع نے پسندیدہ نہ کہا ہو۔ البتہ ماتریدی نکتہ نگاہ سے یہ سوال بظاہر معنی خیز معلوم ہوتا ہے کیونکہ وہ حسن و قبح کے ذاتی و عقلی ہونے کے قائل ہیں۔ ماتریدی نکتہ نگاہ سے اس سوال کا جواب سمجھنے کے لئے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ جب ماتریدیہ یہ کہتے ہیں کہ حسن و قبح افعال کے ذاتی اوصاف ہیں تو یہ دعوی وہ مجرد عقل کی بنیاد پر نہیں کرتے بلکہ نصوص کی بنیاد پر کرتے ہیں، یعنی ان کے نزدیک چونکہ نصوص سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ افعال اچھے و برے ہوتے ہیں لہذا وہ ایسا مانتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں ان کا استدلال یہ نہیں ہے کہ چونکہ ہمیں از خود اپنی عقل استعمال کرکے کچھ ایسے اصول معلوم ہوگئے ہیں (یا ایسے اصول از خود وضع کئے جاسکتے ہیں) جن سے خیر و شر بدون وحی معلوم کیا جاسکتا ہے لہذا اب ان اصولوں کی روشنی میں بھی کچھ خیر ڈیفائن کیا جاسکتا ہے۔

(اشاعرہ کا کہنا ہے کہ “بدون وحی عقل کے ذریعے خیر و شر کا تعین ممکن نہیں ہے”۔ ان کی اس پوزیشن کی مخالفت صرف معتزلہ ہی نہیں کرتے بلکہ اہل سنت میں علمائے ماتریدیہ بھی کرتے ہیں۔ ان کی اس پوزیشن پر یہ دوسرا گروہ جو دلائل دیتا ہے ان کی نوعیت اس قسم کی ہوتی ہے: “فلاں عالم و شیخ نے دو درجن آیات سے ثابت کیا ہے کہ عقل سے خیر و شر کا تعین ممکن ہے”۔ اب بتائیے کہ بھلا اس بیان سے بڑھ کر بھی کوئی اثبات ہوگا اشاعرہ کی بات کا؟ حیرت ہوتی ہے کہ جب پڑھے لکھے لوگ بھی اس کو اشاعرہ کے خلاف بحث میں دلیل سمجھتے ہیں۔)

 اگر تو ان کا یہ استدلال ہوتا تو یہ سوال ان کے فریم ورک میں معنی خیز ہوتا، لہذا ماتریدیہ کے نکتہ نگاہ سے بھی یہ سوال غیر متعلق ہے کہ کیا کوئی ایسا خیر ہے جس کا استحباب شرع میں نہ ہو؟ الغرض یہ سوال معتزلی پیراڈئیم ہی میں معنی خیز ہے۔ یہ سوال ماتریدی فریم ورک میں غلط ہے، اسے سمجھنے کے لئے اتنی سی بات پر غور کرلینا چاہئے کہ ماتریدیہ کے اصول فقہ میں انہی ماخذات کا ذکر ہے جو اشاعرہ کے ہیں۔ ان دونوں میں سے کسی نے عقل، فطرت یا عدل نامی کسی اصول کو ماخذات شرع میں شمار نہیں کیا۔ اعمال کو ماقبل وحی اچھا برا کہنے سے فورا دو سوالات پیدا ہوتے ہیں: (الف) انہیں ماقبل وحی کیسے جانا جاسکتا ہے؟ (ب) کیا انسان پر ان پر عمل کرنا لازم ہوگا یا نہیں؟ ہر وہ شخص جو ماقبل وحی خیر و شر معلوم ہونے کا دعوی کرے گا، منطقی ہم آھنگی کا تقاضا ہے کہ وہ اسے معلوم کرنے کے اصول بھی بتائے نیز یہ بھی مانے کہ انسان کو ایسے خیر پر عمل بھی کرنا ہوگا۔ ماتریدیہ کی پوزیشن چونکہ مجرد عقل نہیں بلکہ وحی پر مبنی ہے یہی وجہ ہے کہ وہ ایسے کسی اصول کا ذکر نہیں کرتے جن کے ذریعے بدون وحی خیر معلوم کیا جاسکے نیز نہ ہی وہ ایسے کسی خیر کی تکلیف فرد پر لازم مانتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں