122

حسن و قبح کی بابت اشاعرہ کی اصل پوزیشن- ڈاکٹر زاہد مغل

اشاعرہ کی پوزیشن کا حاصل یہ ہے کہ شرع عقل و فطرت جاننے کا معیار ہے، یعنی وہ اسے ڈیفاائن کرتی ہے۔ جب صورت حال یہ ہے تو پھر ماتریدیہ کے یہ کہنے کا کیا مطلب کہ بدون و ماقبل شرع بھی کوئی ایسی “تکوینی” عقل و فطرت ہے جسے بہرحال جانا تو جاسکتا ہے اگرچہ وہ بائنڈنگBinding(حجت) نہیں؟ یہ بات ہی متضاد ہے۔

اس پوزیشن پر ایک اعتراض یہ پیش کیا جاتا ہے کہ اگر شریعت کا نزول نہ ہوتا تو عقل کی ڈیفینشن ہی نہ ہوتی، کیا سارے انسانوں کو سرے سے یہ پتہ ہی نہ ہوتا کہ کیا اچھا ہے اور کیا برا؟ کیا عقل سلیم رکھنے والے اس تکوینی خیر کو نہ پہچان پاتے جس پر خدا نے بندوں کو پیدا کیا؟ اس سوال پر عرض ہے کہ یہ فرضی و غلط سوال ہے کیونکہ یہ سوال اس غلط فہمی پر مبنی ہے گویا کوئی ایسا دور گزرا ہوگا جب شرع تو نہ تھی مگر انسان اپنی عقل و فطرت کے معیاری تصورات کے ساتھ موجود تھا اور پھر وحی نے آکر اس کی تصدیق کردی۔ اور اگر اس فرضی سوال کو ایک لمحے کے لئے درست مان لیا جائے تو پھر جواب یہ ہے کہ “جی ہاں پھر اس کا تعین کرنا ناممکن ہے کہ کیا عقل ہے اور کیا بیوقوفی، کیا عدل ہے اور کیا ظلم، کیا علم ہے اور کیا جہالت”۔ اس فرضی صورت حال میں اگر سارے انسان مل کر کسی شے کا نام عدل رکھ لیں اور وہ انہیں اچھا بھی لگنے لگے تو لگتا رہے۔ لیکن کیا یہ واقعی اچھا بھی ہے، اس کا ان میں سے کسی کو بھی پتہ نہیں ہوگا اگرچہ اتفاقی طور پر ان کی یہ رائے درست ہی ہو۔ “انسان کی تکوین کیا ہے؟، عقل سلیم کیا ہے؟” اگر ان کے جواب میں دی گئی ہر رائے کو آپ وحی پر جانچتے ہیں اور اس کے باہر کسی علمی پیمانے کو قبول نہیں کرتے تو جان لیجئے کہ آپ اشاعرہ کے آگے چت ہوچکے۔ یہ ہے اشاعرہ کی پوزیشن کی اصل قوت۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں