50

جدیدیت اور محترم عمار خان ناصر صاحب کا مسئلہ-محمد دین جوہر

محترم عمار خان ناصر صاحب نے جدیدیت پر مذہبی اور علمی موقف کو “روایتی مذہبی فکر” اور “روایت پسندی” کے دو مبہم زمروں میں تقسیم کرتے ہوئے اپنی پوزیشن کو بجا طور پر اخفا میں رکھا ہے تاکہ علمی ذمہ داری سے حسبِ منشا پہلو تہی کرتے ہوئے انہیں یہ کہنے میں آسانی ہو کہ “میرا سوال کچھ اور ہے”، “میں کسی اور plane پر بات کر رہا ہوں”، “آپ میری مراد نہیں سمجھے” وغیرہ وغیرہ۔ لیکن میں ان کی تحریروں کی بنیاد پر انہیں لبرل متجدد (لبرل ماڈرنسٹ) خیال کرتے ہوئے گفتگو میں شریک ہو رہا ہوں۔

علمی تحریروں میں عموماً افکار و تصورات زیربحث آتے ہیں، اور بعض اوقات، زیربحث تحریر کی طرح، ان کا مقصد علوم اور اہل علم کی درجہ بندی کرتے ہوئے اپنے ثقافتی اور سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانا ہوتا ہے۔ میں چونکہ ”روایتی مذہبی فکر کے حاملین/اہل روایت“ کے آنجناب کے بارے میں موقف اور مسائل سے آگاہ ہوں، اس لیے اس تحریر کو نالج پولٹکس کی ایک عمدہ مثال سمجھتا ہوں۔ اس تحریر میں انہوں نے ”روایتی مذہبی فکر کے حاملین/اہل روایت“ کو بساط بھر تسلی دینے اور سمجھانے پر کافی زور لگایا ہے کہ ان کے بہی خواہ کون ہیں، اور ان کو اصل خطرہ کہاں سے ہے۔ یہ امر معلوم ہے کہ لبرل جدیدیت، تجدد اور غامدیت کے ایک فعال پرچارک کی حیثیت سے ”روایتی مذہبی فکر کے حاملین/اہل روایت“ کو ان پر سخت دینی اعتراضات رہے ہیں اور ہیں۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ”روایتی مذہبی فکر کے حاملین/اہل روایت“ کو ان سے مکالمہ کرنے میں چند در چند دشواریوں کا سامنا بھی رہا ہے۔ اس صورت حال میں ”روایت پسندوں“ کی تحریریں بالعموم نہ صرف ”روایتی مذہبی فکر کے حاملین/اہل روایت“ کی تائید کرتی ہیں، بلکہ لبرل جدیدیت، تجدد اور غامدیت کے لیے پریشانی کا موجب رہی ہیں۔ زیربحث تحریر کو اسی سیاق و سباق میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ عمار خان ناصر صاحب نئی صف بندی کسی اصول کے تحت یا علم کی خدمت کے لیے یا دین کی سربلندی کے لیے نہیں کر رہے بلکہ انہیں صرف اپنے راستے اور اپنے ایجنڈے کی فکر ہے۔

چونکہ ”روایت پسندوں“ کی تنقید کا رخ اصل میں اہل تجدد کی چوپٹ نویسی رہا ہے، اور یہ تنقید ان کے لیے مشکلات کا باعث رہی ہے، اس لیے علمی سے زیادہ میڈیائی، سماجی، ثقافتی اور سیاسی ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے ان کی ایمانی اور اخلاقی حیثیت کو مشتبہ بنایا گیا، ان کی حیثیت عرفی کو نشانہ بنایا گیا اور ان کو demonize اور delgitmize کرنے کی مہم سے ان کو نکو بنایا گیا۔ موجودہ تحریر میں محترم عمار خان ناصر صاحب کی کوشش علم کی درجہ بندی کرنا وغیرہ نہیں ہے بلکہ دو باہم تکمیلی مواقف کو متضاد باور کرا کے انہیں ایک دوسرے کے سامنے کھڑا کرنا ہے۔ یہ کوئی علم پروری نہیں، بلکہ فتنۂ جوئی کی بھونڈی کوشش ہے۔ اس موقعے پر ان مباحث کو چھیڑنے کا بڑا مقصد مدرسہ ڈسکورسز سے توجہ ہٹا کر لوگوں کو بیوقوف بنانا ہے۔

یہ امر عمار خان صاحب سے اوجھل نہیں ہو گا کہ علمی درجہ بندی کی اساس کسی بنیادی موقف پر بنیادی اختلاف ہوتا ہے، جبکہ ”اہل روایت“ اور ”روایت پسندوں“ میں یہ امر سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ ”روایت پسند“ مذہباً انہی علما کے پیروکار ہیں، اور ان کے مابین مذہب فی نفسہٖ کی تعبیر پر کوئی اختلاف ہے ہی نہیں۔ جبکہ عمار خان ناصر صاحب جیسے لبرل ماڈرنسٹ ان کی عین اسی مذہبی پوزیشن کو رد کرتے ہیں۔ ”اہل روایت“ اور متجددین کے مکاتب فکر دین کی بالکل مختلف تعبیر پر کھڑے ہیں، اور ان کا اختلاف بہت ٹھوس بنیادیں رکھتا ہے۔ اس منظرنامے میں ”روایت پسند“ متجددین کی بجائے ”اہل روایت“ کی دینی پوزیشن کے ساتھ ہیں۔ ”اہل روایت“ اور ”روایت پسندوں“ کے مابین جدیدیت اور مذہب کے مابین علمی نسبتوں میں بھی کوئی اختلاف نہیں ہے، کیونکہ ”اہل روایت“ کا یہ کوئی علمی موضوع نہیں ہے، تطبیقی کوشش کا دائرہ کار ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ اس تطبیقی دائرہ کار میں کچھ سوالات ضرور اٹھائے گئے ہیں، جن کی نوعیت مذہبی فتوے کی نہیں ہے بلکہ جائز طور پر نظری اور علمی ہے۔

اپنی حد تک میں نے ہمیشہ ایک عامی مقلد کی مذہبی پوزیشن اختیار کی ہے، اور مذہبی معاملات پر کوئی بات کرنا میرے موضوع سے خارج رہا ہے۔ میری دلچسپی علمی موضوعات میں ہے، اور مذہبی رہنمائی کے لیے میں انہیں اہل علم سے رجوع کرتا ہوں اور انہیں کی رائے کو حتمی سمجھتا ہوں جن کے لیے عمار خان صاحب اس وقت ناصح بننے کی کوشش میں ہیں۔ ”روایتی مذہبی فکر“ کے حاملین سے ان کی مراد اہل دیوبند ہیں، اور انہوں نے ”روایت پسندوں“ کے ساتھ ان کے مفروضہ ”تضاد اور اختلاف“ کو فوکس میں لانے اور اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے یہ جعلی اصطلاح وضع کی ہے۔ اس جعلی اصطلاح کا فائدہ یہ ہے کہ بریلوی حضرات کے اس ”کار خیر“ میں شریک ہونے کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔ اس سے قبل بھی عمار خان صاحب دیوبند کے حوالے سے غلط چیزوں کو میری طرف منسوب و مشتہر کر چکے ہیں اور میری گزارش پر انہیں اپنے کلمات کو ہٹانا پڑا۔ اس بار انہوں نے زیادہ چابک دستی سے کام لیا ہے، اور میری تحریروں کو توڑ مروڑ کر ایک فرضی کیٹیگری ”روایتی مذہبی فکر“ کو اس کا مصداق قرار دیا اور پھر ”روایتی مذہبی فکر“ کا مصداق اہل دیوبند کو قرار دے کر اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی افسوسناک کوشش کی ہے۔ عمار خان صاحب جیسے روشن خیال، امن کوش، ڈسکوس پرور، لبرل ماڈرنسٹ سے گزارش ہے جعل سازی چھوڑ کر علمی کاموں کی طرف توجہ دیں، اور اپنی ”سند یافتہ“ اور ”کمک یافتہ“ دینداری کا کوئی بہتر مصرف تلاش کریں۔

یہاں پس منظر کے طور پر ضمناً یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ عمار خان ناصر صاحب جس تعبیر دین کو آگے بڑھا رہے ہیں، وہ یقیناً ”وقت“ کی ضرورت ہے اور اس ضرورت کا تعین وقت کی قوتوں نے کیا ہے، اسلام یا اہل اسلام نے نہیں۔ وہ جن علمی فراٹوں کو بھرنے کی کوشش میں ہیں، وہ پہلے ہی بھرے ہوئے ہیں، یہ ان کے محض پھریرہ بردار ہیں۔ یہ بھی شاید محض اتفاق ہے کہ مدرسہ ڈسکورسز عالمگیر استعماری ڈسکورسز کے ہم قدم اور یک قبلہ ہیں۔ جدید کلچر کی ہوائیں بھی ان کے علمی بادبانوں کو بہت راس آئی ہیں۔ جدید میڈیا کی مانگ بھی وہی ہے جو ان کی فخریہ پیشکش ہے۔ استعماری سرمائے کی گہری تجوریاں بھی ان کی چشم براہ ہیں۔ استعماری کلچر کی ”رواداری“ اور ”بین المذاہب مکالمے“ کی مسلم کُش آغوش بھی ان کے لیے چشم براہ ہے۔ اس پر ہمیں اپنی ”اوقات“ بھی معلوم ہے کہ ”گھر“ میں کوئی نوکری دیتا ہے اور نہ ”باہر“ کوئی گھاس ڈالتا ہے۔ اس بدحال مستی میں ناچیز کی تحریروں پر آنجناب کا غضب نہیں بھڑکے گا تو کیا وہ گل پاشی فرمائیں گے؟ اہل نظر سے یہ اوجھل نہیں کہ ایسی تحریروں کے ”اسباب“ معلوم کرنے کی استقرائی مہم سر کرنا ان کو تفویض شدہ فرائض منصبی میں شامل ہے۔

میری کوئی حیثیت نہیں اور ’چھوٹا منہ بڑی بات‘ والا معاملہ ہو گا، لیکن یہ موقع ہے کہ اہلِ دیوبند کے بارے میں میں اپنا موقف بھی بیان کر دوں۔ اس سلسلے میں گزارش ہے کہ پاکستان اور تحریکِ پاکستان کے حوالے سے بالکل متضاد موقف کے باوجود مولانا حسین احمد مدنیؒ اور ان کے ہم خیال علما کے بارے میں ہم کبھی کسی کوتاہی یا سوئے ادب کے مرتکب نہیں ہوئے۔ اس میں ایک استثنا مولانا ابوالکلام آزاد کی ہے، جنہیں ناچیز کا ذہن کسی بھی تناظر میں قبول نہیں کرتا۔ اس کے علاوہ، تحریک وہابیت کے بارے میں ناچیز کا موقف بھی کوئی ڈھکا چھپا نہیں۔ تحریک وہابیت اور تحریک پاکستان کے حوالے سے خود اہل دیوبند میں اختلافات موجود رہے ہیں۔ ان تحاریک کے مذہبی پہلوؤں کو ایک طرف رکھتے ہوئے، ان کو تاریخی اور علمی تناظر میں زیربحث لانے کی گنجائش یقیناً موجود رہتی ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے علما نے جن جدید موضوعات پر اظہار خیال کیا ہے، مثلاً جدید تعلیم، سائنس، جمہوریت، سرمایہ داری نظام، کلچر اور جدیدیت وغیرہ، تو ان کے حوالے سے کسی علمی گفتگو پر کوئی قدغن کیونکر لگائی جا سکتی ہے، میری سمجھ سے باہر ہے۔ اور اگر ان موضوعات پر ہمارے علما کا موقف مطلوبہ نظری اور علمی شرائط پوری نہیں کرتا، تو اس کی نشاندہی کرنا میرے نزدیک علما کی معاونت کرنا ہے، سوئے ادب نہیں ہے۔ اگر ایسے مواقف گھر میں ہی کھڑے نہیں رہ سکتے تو وسیع تر دنیا میں وہ کیسے قبولیت حاصل کر سکتے ہیں؟ اسی باعث یہ نہایت ضروری ہے کہ تہذیبوں کے داخلی مباحث مضبوط علمی بنیادوں پر استوار ہوں تاکہ وہ مخاصمانہ دنیا میں قائم رہ سکیں۔

مذہب و تصوف اور ان کے نمائندہ علما کے حوالے سے ایک اہم پہلو کی طرف اشارہ کرنا بھی ضروری ہے کہ بھلے وہ کسی بھی مکتبِ فکر سے تعلق رکھتے ہوں، ان کی تنقید و تنقیص کا ایک لازمی نتیجہ مذہب کی ناقدری کی صورت ہی میں نکلتا ہے۔ یہ تنقید غیرعلما کی طرف سے ہو یا پبلک sphere میں علما کے باہمی مکالمے/مناظرے کی صورت میں سامنے آئے، اس کا اثر مذہب کی بالمعوم ناقدری اور بےحیثیتی کا ہوتا ہے۔ یہ بھلا کس کےعلم میں نہیں ہے کہ ”مولوی“ کی ثقافتی demonization اور اس کو نکو بنانا آخرکار مذہب ہی کی ناقدری اور تذلیل پر منتج ہوا ہے۔ کون سا مسلمان ہو گا جس کے لیے یہ امر تکلیف کا باعث نہیں ہے؟ جدیدیت اور مذہب کے تلازمات پر گفتگو کرتے ہوئے علما کی حیثیت عرفی کو پیش نظر رکھنا ایک اخلاقی ذمہ داری ہے جس کو پورا کرنا ہر علمی مکالمے کی شرط اول ہے۔ ایک طاقتور معاشرتی اور تاریخی عامل کی حیثیت سے مذہب کو تاریخ اور علم کے غیرفرقہ ورانہ تناظر میں زیر بحث لانا ہم عصر شعور تک رسائی اور نصرت کا ذریعہ ہو سکتا ہے۔

اب جناب عمار خان ناصر صاحب کے اصل سوال، بلکہ پلندۂ سوالات کو دیکھنے کی ضرورت ہے:

“پس ہمارا اصل سوال، تعبیر میں ذرا تبدیلی کے ساتھ، وہیں موجود ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ روایتی مذہبی علوم سے وابستہ طبقے نے بطور طبقے کے ان علوم سے صحیح راہ نمائی لینا چھوڑ دی اور یہ سعادت کلیتاً روایت پسندوں کے حصے میں آ گئی کہ وہ ان علوم کی تدریس و تحقیق سے متعلق نہ ہونے کے باوجود زیادہ صحیح اور مستند مذہبی پوزیشن اختیار کر سکیں؟ اگر یہ اجتماعی بے حمیتی کا مسئلہ ہے جس کا روایتی علوم سے وابستہ طبقہ شکار ہے تو پھر سوال اور بھی گمبھیر ہو جاتا ہے: یہ بے حمیتی بطور طبقے کے روایتی علوم پڑھنے پڑھانے والوں پر ہی کیوں مسلط ہے؟ اور حمیت صرف اس طبقے میں ہی کیوں ہے جو روایتی علوم پڑھتا پڑھاتا نہیں؟ اس تقسیم میں آخر ’’دینی علوم سے وابستگی’’ ہی کیوں فارق اور فاصل بن رہی ہے؟“

ایک دفعہ عمار خان صاحب سے مکالمہ ہوا تو انہوں نے ناچیز پر خیانت اور بددیانتی کے الزامات لگائے۔ میں خاموش رہا کہ علما سے کوئی دن کی ہمکلامی سے ہم بھی ایک دن دیانت داری اور امانت کے اعلیٰ معیار سیکھ ہی جائیں گے۔ یہ پلندۂ سوالات بھی ان کی دیانت اور علم پروری کی بروقت مثال ہے۔ میں ان سے ضرور پوچھنا چاہوں گا کہ مثلاً ”آخر کیا وجہ ہے کہ روایتی مذہبی علوم سے وابستہ طبقے نے بطور طبقے کے ان علوم سے صحیح راہ نمائی لینا چھوڑ دی اور یہ سعادت کلیتاً روایت پسندوں کے حصے میں آ گئی کہ وہ ان علوم کی تدریس وتحقیق سے متعلق نہ ہونے کے باوجود زیادہ صحیح اور مستند مذہبی پوزیشن اختیار کر سکیں؟“، ان کے خود تخلیق کردہ ”روایت پسندوں“ میں سے کس کا دعویٰ ہے؟ پھر کس ”روایت پسند“ کا موقف ہے کہ ”روایتی مذہبی علوم سے وابستہ طبقے نے … ان علوم سے صحیح راہ نمائی لینا چھوڑ دی“؟ اور کون سا ”روایت پسند“ کہتا ہے کہ اس نے ”ان علوم کی تدریس و تحقیق سے متعلق نہ ہونے کے باوجود زیادہ صحیح اور مستند مذہبی پوزیشن“ حاصل کر لی ہے“؟ استغفر اللہ من ذلک۔ کسی کے موقف کو غلط سمجھنے کا علمی امکان یقیناً موجود ہوتا ہے۔ لیکن یہاں تو صریحاً غلط موقف شریکِ مکالمہ کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ تفاوتِ استعداد کے سبب، علمی غلطی قابل گرفت نہیں ہوتی، لیکن یہ تو اخلاقی معاملہ ہے اور اخلاقیات کی ایسی پاسداری پر سوائے افسوس کے آدمی کیا کر سکتا ہے؟ ایسا لگتا ہے کہ خود کلامی میں وہ اپنے ایجنڈے اور علمی سوالات کو گڈ مڈ کر بیٹھے۔ اس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ”روایت پسندی“ بھی ان کے تخیل ہی کی کوئی اختراع ہے، حقیقی بات نہیں ہے۔

اس الزام بازی تک پہنچنے سے پہلے وہ ”روایت پسندوں“ کے فہم جدیدیت کو مذہبی بنیاد پر رد کر چکے ہیں، اور فرما چکے ہیں کہ جس چیز کو ”روایتی مذہبی فکر“ کے حاملین عملی طور پر قبول کر چکے ہیں، اسی کو وہ مذموم قرار دیتے ہیں۔ یہ بتانے کا مقصد علما کی توجہ اس امر کی طرف مبذول کرانا ہے کہ اصل مجرم وہ لوگ ہیں”جو روایتی علوم پڑھتے پڑھاتے [بھی] نہیں“ ہیں اور ان کے کیے کرائے کو غارت بھی کیے جاتے ہیں۔ ان کی یہ جرأت؟ یہاں جدیدیت پر دین کا موقف غیراہم ہے، کیونکہ ان کے بقول ”روایتی مذہبی فکر“ والوں نے بطور عینی شاہدین جدیدیت کو دیکھا ہے، اور اچھی طرح دیکھ بھال کے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ اس میں خطرے کی کوئی بات نہیں۔ مزیدبرآں، جدیدیت کے ”عملی مظاہر“ کو بھی دین کے ساتھ بآسانی تطبیق دی دے گئی ہے لیکن یہ ”روایت پسند“ لوگ ہیں کہ اس ”دینی موقف“ کی خلاف ورزی پر تلے ہوئے ہیں۔ یہاں میں ”روایتی مذہبی فکر“ کے علما سے یہی گزارش کروں گا کہ اس خدمت کے صلے میں وہ مدرسہ ڈسکورسز کی تائید میں چند ایک مضامین ہی شائع کرا دیں تاکہ یہ فقیر تو آنجناب کی ڈسکورسی آناکانی اور تحریری آپا دھاپی سے محفوظ رہے۔

ہمارے روایتی علما کے ہاں تفہیمِ جدیدیت کی نوعیت کیا رہی ہے، اور وہ کس درجے کی تھی یا ہے، ظاہر ہے کہ اس پر گفتگو عمار خان صاحب کے طے کردہ خانہ زاد فریم ورک اور ان کے دامِ تزویر میں رہ کر نہیں کی جا سکتی۔ اس کا درست تر محل مغرب اور اسلام کے تہذیبی تناظرات ہیں، جن کی مبادی پر اتفاق کے بعد اس گفتگو کا آغاز ہو سکتا ہے۔ لیکن دلچسپ سوال یہ ہے کہ بطور ایک لبرل ماڈرنسٹ عالم خود ان کے ہاں جدیدیت اور تہذیبِ مغرب کی تفہیم کیا ہے؟ ”روایت پسندوں“ اور ”روایتی مذہبی فکر“ کے ہاں تفہیم جدیدیت پر ان کی فکرمندی بالکل جعلی معلوم ہوتی ہے جب وہ اپنی پوزیشن کو مسلسل اخفا میں رکھتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ مسئلہ ہی نہیں ہے بلکہ ان کا سوال اور ایجنڈا ”کچھ اور“ ہے۔ وہ دراصل اپنی متجددانہ تفہیمِ دین کو آگے بڑھانے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں، اور یہ تفہیمِ دین ”روایتی مذہبی فکر“ کے علما کی رائے کے بعد کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ ان کا اصل مقصد دہرا ہے۔ ایک یہ کہ وہ ”روایتی مذہبی فکر کےحاملین/اہل روایت“ کی دینی فہم و موقف کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ وہ ”روایت پسندوں“ کی تفہیم جدیدیت و مغرب کو مسترد کرنا چاہتے ہیں۔ وہ ایک تیر سے دو شکار کرنا چاہتے ہیں۔ اس کی وجوہات بالکل واضح ہیں۔ روایتی علما کا دینی موقف ان کے ڈسکورسی ایجنڈے کو قبول نہیں کرتا۔ اور ”روایت پسندوں“ کا فہم جدیدیت بھی اس کو رد کرتا ہے۔ یہ بھی تو جدیدیت کا پیدا کردہ مسئلہ ہے اور اس میں دونوں کا موقف ایک ہے، اور یہی بات ان کے بے اصل موقف کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے کافی ہے۔ عمار خان ناصر صاحب اپنے ناقدین کی درجہ بندی اپنے مفاد کے مطابق، اور استعماری فکر کا لحاظ رکھتے ہوئے کرنا چاہتے ہیں کیونکہ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ (امریکی وزارت خارجہ) کا بھی یہی موقف ہے۔ اتنی دور سے علمی کوڑی اٹھا لانے پر میں عمار خان ناصر صاحب کو تہہ دل سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ یہ کوڑی چونکہ ”راسخ العقیدگی“ کے عوض ان کی دینداری کے ہاتھ لگی ہے اس لیے ان سے گزارش ہے کہ اسے سینت سینت کے رکھیں کہ ڈالروں میں اس کا زر تبادلہ بہت زیادہ ہے۔ یہ کون نہیں جانتا کہ ”روایتی مذہبی فکر“ کے حاملین اور دینی تناظر میں تفہیم جدیدیت کے لیے کوشاں ”روایت پسند“ مغرب میں کس قدر ناپسندیدہ ہیں، اور یہی دونوں ان کے نشانے پر بھی ہیں۔

انہوں نے اپنے مضمون میں علم کے جو ”نئے تصورات“ اور ”نئی منہجِ علمی“ متعارف کرائی ہے اور وہ خود ان پر جس طرح سے عمل پیرا ہیں، اس سلسلے میں چند ایک مزید گزارشات ضروری ہیں۔ عمار خان صاحب ارشاد فرماتے ہیں:

“گزشتہ دو صدیوں میں مغرب میں فلسفیانہ فکری نظام چاہے کتنے ہی سامنے آئے ہوں، مغربی تہذیب کا جو رخ اور مزاج متعین ہوا ہے، وہ ایک ہی ہے اور اس کے اور اسلام کے مابین پائے جانے والے کسی تضاد کو سمجھنے کی وجدانی صلاحیت اقبال جیسے فلسفی اور کسی دور افتادہ گاوں میں رہنے والے ایک سادہ صاحب ایمان کو یکساں حاصل ہے۔“

اس دعوے میں خلط مبحث بہت واضح ہے۔ یہ معلوم ہونا کہ کوئی فرد، معاشرہ یا تہذیب کفر یا اسلام پر ہے، ایک بدیہی امر ہے، اور یہ بدیہی معلوم کے طور پر اہل ایمان اور اہل کفر کو علی الاطلاق حاصل ہے۔ یعنی کون سا معاشرہ کفر پر قائم ہے اور کون سا اسلام پر، یہ ہر کسی کے لیے ایک تاریخی مظہر کے طور پر بدیہی معلوم ہے۔ لیکن دینی مظہر کے طور پر مسلمانوں کو ہدایت سے معلوم ہے، اور اس معلومیت میں کسی فلسفی، دیہاتی کا کوئی فرق نہیں۔ فلسفی اور دیہاتی میں یہ مشترک معلومیت کفر و اسلام کے باہم نقیض امتیاز تک محدود ہے۔ فلسفی اور دیہاتی کی معلومیت میں جو مماثلت ہے، اس کا معیار فلسفی نہیں، دیہاتی ہے۔ اس معلومیت میں جو فلسفی اور دیہاتی دونوں کے لیے بیک وقت فرض کی جا رہی ہے ”فلسفیانہ فکری نظام“، ”مغربی تہذیب کا رخ اور مزاج“ وغیرہ شامل نہیں ہیں ۔ جس معلومیت میں دونوں مشترک ہیں، وہ ہدایت ہے جیسا کہ میں عرض کر چکا ہوں۔ یہ التباس پیدا کرنے کے بعد، وہ یہ بھی فرض کر رہے ہیں کہ کفر و اسلام کی معلومیت، ”فلسفیانہ فکری نظام“ یعنی نظری اور فنی علم کو بھی مستلزم ہے اور اسلام سے ان کے تضاد کے فہم کو بھی۔ عمار خان ناصر صاحب جیسے صاحبِ علم و فضل سے ناچیز کو اس لغویت کی توقع نہیں تھی۔ سادہ لفظوں میں وہ ہمیں یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں صاحب ایمان ہوتے ہی آدمی کو ”مغرب [کے] فلسفیانہ فکری نظام“ کی فہم ازخود حاصل ہو جاتی ہے اور وہ کانٹ اور آئن سٹائن بن جاتا ہے۔ لیکن دلچسپ امر یہ ہے کہ خود ان کو اور ان کے مدرسہ ڈسکورسز کو اس اصول سے استثنا حاصل ہے۔ ہم حیران ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ صاحبِ ایمان ہونے کے بعد ”وجدانی صلاحیت“، ”عینی شہادت“، ”روزمرہ تجربہ“ اور ”کامن سینس“ ان کو بھی حاصل ہے۔ وہ خود فرما چکے ہیں کہ عین یہی چیزیں علما کے لیے جدیدیت کی تفہیم کا ذریعہ بن چکی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ ”ذرائعِ علم“ ان کے لیے جدیدیت کی تفہیم اور متجددانہ علم کا ذریعہ کیوں نہ بن سکے اور ان کو مدرسہ ڈسکورسز کی ضرورت کیوں پڑ گئی؟ اور وہ کیوں امریکیوں کے پیچھے ہلکان ہوئے پھرتے ہیں؟ اگر وہ ان سے دین سیکھنا چاہتے ہیں، تو یہ موقف ہی شرمناک ہے اور یقیناً ان کا یہ موقف نہیں ہے، اور اگر وہ جدیدیت سیکھنا چاہتے ہیں تو خود ان کے اصول پر یہ تحصیل حاصل ہے۔ مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ وہ مغرب کی شرائط پر دین اور جدیدیت بیک وقت سیکھنا چاہتے ہیں، اور یہ استعماری معجون اب وہیں تیار ہوتی ہے جہاں وہ پہنچے ہیں۔

عمار خان صاحب مزید اصول سازی کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”اس کی وجہ یہ ہے کہ مذہبی موقف کا تعلق جدیدیت کے پیدا کردہ عملی احوال سے براہ راست اور اساسی ہے، اور اس کی فکریات اور عقلیات سے ضمنی و ثانوی۔“

پیچیدگی اور طوالت کے خوف کے باوجود، اس مسئلے کی اہمیت کے پیش نظر اس پر کچھ کلام کرنا ضروری ہے۔ اہلِ تجدد کے ہاں یہ اصول بنیادی ہے کہ ”مذہبی موقف کا تعلق جدیدیت کے پیدا کردہ عملی احوال سے براہ راست اور اساسی ہے“۔ روایتی علما کی آڑ میں وہ اصلاً اپنا موقف ہی بیان کر رہے ہیں۔ اہل تجدد کے ہاں اس اصول کا تتمہ یہ ہے کہ ”مذہبی موقف کا تعلق جدیدیت کی فکریات اور عقلیات سے ضمنی و ثانوی [ہے]“۔ یہ بھی عمار خان صاحب نے تکلف فرمایا، ورنہ اہلِ تجدد کے ہاں اس طرح کا کوئی تعلق سرے سے تسلیم ہی نہیں کیا جاتا کیونکہ ان کے ہاں یہ کبھی، کہیں ضمناً بھی زیربحث نہیں آتا۔ بہرحال یہ ایک بڑی پیشرفت ہے کہ ایک لبرل ماڈرنسٹ عالم ”جدیدیت کی فکریات اور عقلیات“ نام کی کسی چیز کے موجود ہونے کو کم از کم تسلیم تو کر رہا ہے۔ جہاں تک ”اہل روایت“ کے ہاں جدیدیت سے تطبیق کا تعلق ہے، تو عمار خان صاحب نے اس انتساب میں غلطی کی ہے۔ ہمارے روایتی مذہبی علما خاص تاریخی عوامل کی وجہ سے ”جدیدیت“ نام کی کسی چیز سے واقف ہی نہیں تھے، کجا یہ کہ وہ اس سے تطبیق کا کام کرتے۔ یہ ان پر بہتان ہے۔ ہمارے علما کے ہاں بطور تصور اور تاریخی کنڈیشن جدیدیت کے ادراک کے شواہد موجود نہیں ہیں۔ ہاں اگر عمار خان ناصر صاحب ’جدیدیت‘ کی بجائے ’ٹیکنالوجی‘ کہتے تو بات قابل فہم تھی۔ ہمارے علما نے ٹیکنالوجی کے مظاہر سے ”دینی موقف“ کی، جس سے وہ فقہ مراد لے رہے ہیں، تطبیق کی کوشش ضرور کی ہے، اور اسے جدیدیت کے ساتھ تطبیق قرار دینا بالکل بے تکی بات ہے۔ فقہ جز سے بحث کرتا ہے، خوگر محسوس ہے یعنی عمل جوارح کو دیکھتا ہے، اس لیے جدیدیت سے، جو ایک کل ہے، اس کی تطبیق کی بات کرنا بےخبری اور غیرعلمی بات ہے۔ ’ٹیکنالوجی‘ سے ”اہل روایت“ نے فقہی تطبیق کی کوشش ضرور کی، لیکن وہ بھی جلد ہی غیر اہم ہو گئی کیونکہ ”جدیدیت کے پیدا کردہ عملی احوال“ اتنی کثرت میں سامنے آنے لگے کہ وہ تطبیقات سے بے نیاز ہو گئے۔ ٹیکنالوجی ایک خود کار، تیز رو تاریخی عمل سے معاشرے کا حصہ بنتی چلی گئی۔ ٹیکنالوجی اور ”عملی احوال“ کے مندرس ہو جانے پر نئے حالات ان کی جگہ لیتے رہے، اور مسلمان بس دیکھتے کے دیکھتے رہ گئے۔ لیکن ٹیکنالوجی سے تطبیق کا مرحلہ بھی بہت مختصر رہا۔ مثلاً کمپیوٹر اور ”مذہبی موقف“ کی تطبیق پر کوئی سوال ناچیز کی نظر سے نہیں گزرا۔

ٹیکنالوجی کی پیدا کردہ شے/پراڈکٹ جیسے موبائل فون اور اس شے کے پیچھے کام کرنے والے وسیع تر اور عالمگیر سسٹم میں فرق ہے، اور انسان سے ان کی نسبتیں بھی الگ ہیں۔ شے/پراڈاکٹ انسان کی جیب میں ہوتا ہے اور خود انسان سسٹم کے پیٹ میں رہتا ہے۔ یعنی ایک ہے لاؤڈ سپیکر اور ”دینی موقف“ میں تطبیق کرنا، اور ایک ہے بینکاری نظام اور ”دینی موقف“ میں تطبیق کرنا، یہ دو قطعی مختلف چیزیں ہیں۔ کیونکہ شے حسی ہے، لیکن سسٹم، آرگنائزیشنوں کا مجموعہ ہے، حسی نہیں ہے، اور فقہ میں ”نامعلوم“ ہے، تو ایک چیز جس کو فقہ خود ”نامعلوم“ کہتا ہے، اس سے تطبیق کیسے ممکن ہو گئی؟ عمار خان صاحب نے ابہام نویسی سے یہاں بھی خلط مبحث پیدا کیا ہے۔ یعنی دینی موقف کی پراڈکٹ اور سسٹم سے تطبیق دو قطعی مختلف چیزیں ہیں۔ ان پر بنیادی سوالات کے بغیر کارِ تطبیق کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔

اب یہاں کارِ تطبیق پر چند گزارشات ضروری ہیں۔ تطبیق، علوم اور تہذیب کا عقبی دروازہ ہے اور کارِ تطبیق اِن کی داخلی سرگرمی ہے۔ غیر تہذیب اور غیر دین سے علمی تعامل کا اصول تطبیق نہیں ہے۔ ہمارے علما کے ہاں جو تطبیقی کام تہذیبِ مغرب کے ٹیکنالوجی پراڈکٹ/شے سے شروع ہوا، وہ بہت جلد اہلِ تجدد کے ہاں پورے دین اور تہذیب تک پھیل گیا ہے۔ غیر تہذیب کے جز سے ارادی تطبیق کی منزل کل میں عینیت ہے۔ عمار خان ناصر صاحب کا یہ فرمانا ”… … بلکہ دینی فکر اور دینی علوم میں ان نظاموں کے پیدا کردہ احوال کے ساتھ مطابقت کی گنجائش اور بنیاد مہیا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انھیں خلافت کے روایتی نظام کے احیاء اور دنیا کو دار الحرب اور دار الاسلام میں تقسیم کرنے سے دلچسپی نہیں اور قومی ریاست اپنے لوازمات مثلاً جمہوریت وغیرہ کے ساتھ ان کے لیے بالکل قابل قبول ہے۔ پورے عالم اسلام کی فقہی دانش جدید معاشی نظام میں تجارت اور کاروبار کی اسلامی شکلوں کی دریافت اور توضیح میں مصروف عمل ہے، اور جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کے بارے میں بھی ان کا بنیادی زاویہ نظر تردیدی نہیں ہے“ اصل میں اسی عینیت کا اعتراف ہے۔ یہ جو ارشاد ہے اس کا مطلب ہے کہ اسلام اور مغرب اب جز میں عینیت کی منزل سے گزر کر کل میں عینیت کی منزل پر فائز المرام ہو چکے ہیں۔ اہل اسلام کے لیے اس سے بڑی ”خوشخبری“ اور کیا ہو سکتی ہے؟ ان کا یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ ”کرب و اضطراب“ کے شکار لوگوں کا ایسی ”مبشرات“ پر سوال اٹھانا ”غیردینی“ روش ہے اور وہ اس کو قبول نہیں کریں گے! لیکن اگر وہ خود اعتراف کر لیں تو دین کی مستند مراد ہے، اور اگر ہم عرض کر دیں تو جرم ہے۔

مذہب کی داخلی سرگرمی کے طور پر اجزائی تطبیق اس لیے ممکن ہوتی ہے کہ اصول اول میں اتفاق پہلے سے موجود ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں روایتی علما ”دینی موقف“ اور بینکاری نظام میں تطبیق کی جو مزاحمت کر رہے ہیں، وہ اسی اصول کا عملی مظہر ہے۔ اگر غیر تہذیب سے اجزائی تطبیق کو اصول کے طور پر مان کر کام کا آغاز کیا جائے تو آخرکار یہ بنیادی اصول میں عینیت پر منتج ہوتا ہے۔ کارِ تطبیق کے اس پہلو کو کیوں نظرانداز کیا جا سکتا ہے؟ غیرمعمولی کارِ تجدد کے بعد، اب وہ وقت دور نہیں جب اپنے ہی جدید علما کی زبان سے ہم سنیں گے کہ ”کافر ہونا عین اسلامی ہے“۔ آقائے سرسید تو فرما ہی چکے ہیں کہ انگریزوں کی حکومت دین کی عین مراد ہے۔ یعنی تہذیب کی سطح پر یہ کام مکمل ہو چکا، اب فرد کو یہ ”خوشخبری“ دینا باقی رہ گیا ہے کہ کافر ہونا بھی عین اسلامی ہی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ جرأتِ تحقیق بھی اہل تجدد ہی کے حصے میں آیا چاہتی ہے۔ اہل نظر سے اس موقف کی طرف اشارہ کرنے والے روزمرہ واقعاتی مظاہر یقیناً اوجھل نہیں ہوں گے۔

اول اصول یہ ہے کہ کیا کفر اور اسلام میں تطبیق ممکن ہے؟ اگر کل میں تطبیق ممکن نہیں، تو اجزا میں کارِ تطبیق کی کیا صورت ہو گی؟ اس امر کو اصول کی سطح پر دیکھا ہی نہیں گیا۔ بنیادی اصول کو نظرانداز کرتے ہوئے اجزا میں تطبیق کے نتائج اب ہمارے سامنے ہیں۔ من حیث القوم ہم ان کو قبول کر چکے ہیں۔ بطور معاشرہ ہمارے تمام تہذیبی وسائل مغرب سے حاصل ہوئے ہیں، اور وہی ہمارا کل طرزِ زندگی ہے۔ ہم اس پر کوئی ”اعتراض“ نہیں اٹھا رہے، صرف صورت حال کی واقعیت عرض کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس پر بھی مورد عتاب ٹھہرتے ہیں۔

فقہی تطبیق میں جو اصل مسئلہ ہے، اسے موجودہ بحث سے غیرمتعلق ہونے کی وجہ سے میں نہیں اٹھا رہا۔ لیکن اس کا ذکر کرنا ضروری ہے۔ عرض ہے کہ فقہ کا بنیادی موضوع انسانی عمل ہے۔ جدیدیت کے پیدا کردہ احوال و حالات میں انسانی عمل کی کل تقویم بدل چکی ہے، لیکن ہم اس کو دیکھنا ہی نہیں چاہتے، سمجھنا تو دور کی بات ہے۔ جدید معاشروں میں انسانی عمل کی خودمختار حیثیت یا تو ختم ہو گئی ہے یا موہوم ہے۔ میکانکی عمل، اس سے صرف مشینی عمل مراد نہیں، عمل کا نیا سانچہ ہے جس میں فطری انسانی عمل جذب ہو چکا ہے۔ انسانی عمل کی جدید تقویم کو سمجھے بغیر فقہی تطبیق اور اجتہاد کی بحثیں دراز نفسی کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہیں۔

اب ہم ”جدیدیت کے پیدا کردہ عملی احوال“ کی طرف واپس آتے ہیں۔ اس صورت حال میں جو پیچیدگی ہے اور اس سے جو خلط مبحث پیدا ہوا ہے، وہ بہت گہرا اور طویل المیعاد ہے۔ گزارش ہے کہ ”مذہبی موقف“/شریعت/فقہ ”جدیدیت کے پیدا کردہ [کسی بھی] عملی احوال سے براہ راست اور اساسی“ طور متعلق ہے ہی نہیں اور نہ وہ ان سے مخاطب ہے۔ ہدایت/مذہبی موقف/شریعت/فقہ براہ راست انسان سے، مکرر انسان سے مخاطب ہے، اس کے افعال و اعمال میں رہنما ہے اور ان پر ججمنٹ ہے۔ انسانی اعمال و افعال یقیناً کسی سماجی اور تاریخی صورت حال میں ہی واقع ہوتے ہیں، لیکن وہ انسانی عمل سے منفک اور الگ ایک چیز کا نام ہے۔ وہ صورت حال نظری علم کا موضوع ہے، ہدایت کا نہیں۔ ہدایت/”مذہبی موقف“ کا مخاطب انسان ہے، کوئی اور شے نہیں۔ جونہی ہدایت/”مذہبی موقف“ کو ”جدیدیت کے پیدا کردہ عملی احوال“ یا تاریخی صورت حال سے براہ راست متعلق کیا جاتا ہے، تو مذہبی موقف/ہدایت کی حیثیت آلاتی ہو جاتی ہے، اور اس کا ہدایت ہونا بتدریج غیر اہم اور غیر متعلق ہو جاتا ہے۔ عملی احوال/تاریخی صورتحال کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ ہر لحظہ متغیر ہوتی ہے، اور اس کا تفہیمی اور تعبیراتی علم خود صورت حال کے تابع ہوتا ہے۔ صورت حال کے تبدیل ہونے کے ساتھ ہی اس کا تفہیمی اور تعبیراتی علم بھی مندرس (آؤٹ ڈیٹڈ) اور بالآخر مسترد ہو جاتا ہے۔ ہدایت کو صورتحال سے براہ راست متعلق کرنے کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ حالات بدلنے سے ہدایت بھی غیر اہم ہو جاتی ہے اور اس کے لازمانی ہونے کا دفاع کرنا ممکن نہیں رہتا۔ یہ مذہب کی جڑیں کھودنے کے مترادف ہے۔ مذہب کے مندرس/آؤٹ آف ڈیٹ ہونے کا تصور بھی اسی غلط علمی اپروچ سے پیدا ہوا ہے۔ یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ ہدایت کا تاریخی صورت حال سے کیا تعلق ہے، لیکن اس کو زیربحث لانے کا یہ محل نہیں ہے۔

تجدد پرستی اور جدید تعبیراتِ دین کی کوکھ ہدایت کو براہ راست علمی، سماجی، ثقافتی اور تاریخی صورت حال سے متعلق کرنے کا موقف ہے، اور یہ اپروچ نہ دین کا رہنے دیتی ہے اور نہ دنیا کا۔ اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ تجدد پرست ایسا آدمی ہے جو نہ تو اللہ کا بندہ ہے اور نہ دنیا کا بندہ ہے، بلکہ وہ صورتحال کے بھنور میں سسکتی کسی مخلوق کا نام ہے۔

آخر میں عمار خان ناصر صاحب کی متعارف کردہ نئی ”منہج علم“ کے ذرائع کا مختصر احاطہ کرنا ضروری ہے۔ اپنے فرمودات کے آغاز میں مغربی تہذیب کے حوالے سے انہوں نے چار موضوعات کا ذکر کیا ہے: (۱) قومی ریاست، خلافت اور جہاد؛ (۲) جمہوریت؛ (۳) سرمایہ داری اور بینکنگ؛ (۴) جدید سائنس اور ٹیکنالوجی۔ یہ ذکر محض تقریبِ رونمائی کے لیے تھا کیونکہ پھر وہ ان کی طرف نہیں لوٹے۔ اپنے مضمون میں ان کا زور بیان اس چیز پر صرف ہوا ہے اور ان کا مقدمہ بھی یہی ہے کہ ”وجدانی صلاحیت“، ”عینی شہادت“، ”روزمرہ تجربہ“ اور ”کامن سینس“ وغیرہ ان موضوعات کے علم اور محاکمے کے لیے کافی ہیں۔ یہ جدید علم کے بہت اہم، وسیع و عریض اور کئی صدیوں تک پھیلے ہوئے مباحث و موضوعات ہیں۔ ان کے علم اور محاکمے سے عمار خان ناصر صاحب کے تجویز کردہ ذرائع کا تعلق وہمی تو ہو سکتا ہے حقیقی نہیں ہے۔

روزمرہ عمومی مشاہدہ ضروری معلومات کے حصول کا ذریعہ یقیناً ہے، لیکن یہ علم کو مستلزم نہیں ہے۔ مجھے یہ تسلیم ہے کہ ایک ”تارک الدنیا سادھو“ بھی اوباما کی جگہ ٹرمپ کے آنے یا پاکستان میں حکومتی تبدیلی سے واقف ہو گا۔ اب کیا یہ واقفیت امریکی سیاسی طاقت اور سرمائے کے نظریے اور نظام کی تفہیم کو بھی مستلزم ہو گئی ہے؟ عمار خان صاحب زیادہ جرأت آزما ہیں ان کا یہی موقف ہے۔ وہ مزید فرماتے ہیں: ”جدیدیت [کی متعارف کردہ] تبدیلیاں معاشرت، سیاست، معیشت، تعلیم، ثقافت، ہر ہر سطح پر ظاہر ہو رہی تھیں اور معاشروں کو تلپٹ کر رہی تھیں، اور مذہبی علماء ان کے عینی شاہد تھے“۔ ایک عینی شاہد دیکھتا ہے کہ ریلوے اسٹیشن پر ایک گاڑی جنوب کو چلی گئی اور دوسری شمال کو۔ عینی شہادت کی بنیاد پر اس کی معلومات اور بیان بالکل درست ہے۔ لیکن کیا اس عینی شہادت سے اس کو پورے مواصلاتی نظام کی فہم بھی ازخود حاصل ہو گئی؟ عینی شہادت واقعات کی ہوئی ہے، سسٹم اور علوم کی نہیں ہوتی۔ کیا (۱) قومی ریاست، خلافت اور جہاد؛ (۲) جمہوریت؛ (۳) سرمایہ داری اور بینکنگ؛ (۴) جدید سائنس اور ٹیکنالوجی محض حسی اور عینی مشاہدے سے سمجھ میں آنے والی چیزیں ہیں؟ عمار خان صاحب کے ارشاد سے تو یہی متبادر ہے۔ وہ مزید فرماتے ہیں کہ ”یہ سمجھنے کے لیے کہ یہ تبدیلیاں مذہبی مرادات کے کتنے خلاف ہیں اور کیا قیامت ڈھا رہی ہیں، فقہ یا کلام میں کسی تخصص کی نہیں، صرف کامن سینس کی ضرورت تھی جو یقیناً مذہبی علماء کو بھی حاصل تھی“۔ شکر ہے کہ ہمارے علما نیک نیتی، دینداری، اسلاف سے محبت اور دینی بصیرت جیسے صرف ”کامن سینس“ سے کہیں بڑے اوصاف کے حامل تھے۔ مسئلہ عمار خان صاحب کو ہے کہ وہ صرف ”کامن سینس“ کو ہی کل دین سمجھ کر مدرسہ ڈسکورسز میں شامل ہو ئے ہیں۔ وہ کارِ تطبیق کی بنیاد کے طور پر ”فقہی بصیرت“ کا ذکر بھی ذکر کرتے ہیں، لیکن یہاں وہ بھی جاتی رہی اور ”کامن سینس“ ہی نجی اصول علم کے طور باقی رہ گئی ہے۔

وہ مزید فرماتے ہیں: ”سوال یہ ہے کہ ان کھلی کھلی اور اندھے کو بھی دکھائی دینے والی تبدیلیوں کے متعلق تطبیق و مطابقت کے رجحان کی یہ توجیہ کیونکر ہو سکتی ہے کہ روایتی علوم جدیدیت کے فہم کے وسائل نہیں رکھتے تھے؟ مثلاً اسلامی اقتدار کا خاتمہ ہو گیا ہے، مسلمانوں کی سیاسی وحدت ختم کر کے انھیں قومیتوں میں بانٹ دیا گیا ہے، قانونی اور عدالتی نظام کو شریعت کے بجائے اور قانون کی تعبیر کو مستند فقہی روایت کے بجائے نئے قانونی اصولوں پر استوار کیا جا رہا ہے، اسلامی اصول تجارت کی جگہ یکسر مختلف اہداف ومقاصد رکھنے والے نظام معیشت جڑ پکڑ رہا ہے، آخر ان تبدیلیوں اور ان کے ’’غیر اسلامی پن’’ کو سمجھنے کے لیے کون سے جدید علوم اور ان کے کتنے گہرے مطالعہ کی ضرورت تھی جو مذہبی علماء کو حاصل نہیں تھا اور روایت پسندوں کو حاصل ہے؟ اور اگر جدیدیت کے احوال سامنے کی بات تھے اور پورے معاشرے کے لیے روز مرہ تجربے کی حیثیت رکھتے تھے تو ایسا کیوں ہوا کہ مذہبی علوم سے تعلق رکھنے والے طبقے میں تطبیق و مطابقت کا رجحان پختہ ہوتا چلا گیا، جبکہ مزاحمت اور قومی ودینی حمیت کی اصل اور مستند اسلامی اسپرٹ نے اپنے مسکن کے لیے روایت پسندوں کے قلب و دماغ کو چننا زیادہ مناسب خیال کیا؟“ کسے انکار ہے کہ ”وجدانی صلاحیت“، ”عینی شہادت“، ”روزمرہ تجربہ“ اور ”کامن سینس“ وغیرہ روزمرہ معلومات کا اہم ذریعہ ہے، لیکن علم کا ذریعہ نہیں ہے۔ وہ بلاوجہ زورآزمائی کر رہے ہیں جبکہ معاملہ بہت سادہ ہے۔ یہ سامنے کی چیز ہے کہ ہمارے روایتی علما نے نہایت نیک نیتی سے دستیاب فقہی علمی وسائل میں رہتے ہوئے ٹیکنالوجی کو سمجھنے کی کوشش کی اور اسی فہم کو اپنے فتاویٰ کی بنیاد بھی بنایا۔ یعنی علما کی فہم ان کے فتاویٰ کی بنیاد ہے۔ عمار خان صاحب اس بات پر بضد ہیں کہ فتاویٰ کی بنیاد میں کارفرما فہم دراصل جدیدیت کی تفہیمِ کامل ہے، حالانکہ اس کا تعلق صرف ٹیکنالوجی سے ہے اور یہ الگ سے نظری مبحث کے طور پر کہیں موجود بھی نہیں ہے۔ علما کا بھی یہ دعویٰ نہیں کہ وہ ”تفہیمِ جدیدیت“ کر رہے ہیں، بلکہ وہ تو اپنی نیک نیتی اور دینداری میں ایک مذہبی ذمہ داری نبھانے کی کوشش میں ہیں۔ بلاشک، مجموعی ہم عصر حالات پر ہمارے علما کا غور و فکر اور فہم ہی ان کے فتاویٰ کی بنیاد بنی تھی، اور یہ صرف ”تفہیم جدیدیت“ نہیں تھی۔ لیکن جس حد تک بھی تفہیمِ جدیدیت/ٹیکنالوجی ہمارے علما کے فتاویٰ میں متضمن ہے اس کے طریقۂ کار، نوعیت، معیار، ثقاہت اور حتمیت کے بارے میں صرف اندازہ ہی لگایا جا سکتا ہے کیونکہ فتاویٰ سامنے ہیں اور وہ فہم سامنے نہیں ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ فتویٰ کی بنیاد میں کارفرما فہم پر کوئی کلام ہی نہیں کیا جا سکتا جب تک اس کا کوئی مربوط بیان موجود نہ ہو، کجا یہ کہ ان فتاویٰ پر کوئی تنقید کرے۔

زیر بحث معاملے کی نوعیت کچھ اور ہے جسے عمار خان صاحب بلاوجہ الجھا رہے ہیں۔ جیسا کہ عرض کیا کہ روایتی علما کا ہم عصر حالات کا فہم فتاوی کی بنیاد ہے جو انہوں نے (۱) قومی ریاست، خلافت اور جہاد؛ (۲) جمہوریت؛ (۳) سرمایہ داری اور بینکنگ؛ (۴) جدید سائنس اور ٹیکنالوجی وغیرہ یا دیگر جدید چیزوں کے بارے میں دیے۔ لیکن یہ بالکل سامنے کی بات ہے کہ مثلاً ریاست یا جمہوریت یا سرمایہ داری کے علوم اور ان کی فہم، اس فہم تک محدود نہیں ہے جو فتاوی کی بنیاد بنی ہے۔ ان موضوعات پر الگ سے وسیع و عریض فکری اور نظری مباحث موجود ہیں جو اہل علم کے لیے قابل رسائی ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی مسلمان جو دین کی بنیادی مرادات کو جانتا اور ان پر ایمان رکھتا ہے، ان وسیع و عریض فکری اور نظری مباحث سے براہ راست واقف ہے اور ان کے عینِ دین ہونے سے انکار کرتا ہے، یا ان کی دین سے موافقت کو موہوم خیال کرتا ہے، تو وہ علما کی فہم کا مخالف کیسے ہو گیا؟ جبکہ ہمارے علما اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ وہ براہِ راست ان موضوعات سے تعرض نہیں کرتے، اور ان موضوعات کے محاکمے کا دعویٰ بھی نہیں رکھتے۔ عمار خان صاحب اس بات پر مصر ہیں کہ جدید چیزوں پر فتوی اور فہمِ جدیدیت مساوی ہیں۔ یہاں بھی ان کا مقصد صرف التباس پیدا کرنا ہے۔

عمار خان صاحب اس بات پر بھی بضد ہیں کہ فتاویٰ کی بنیاد میں کارفرما تفہیم کافی و شافی ہے اور ”روایت پسندوں“ کو یہ حق نہیں کہ وہ تفہیم مغرب اور تفہیم جدیدیت کے نظری مباحث چھیڑیں، جن کے بارے میں انہیں شبہ ہے کہ آگے چل کر ان کے کاروبار فہم کے لیے مشکلات پیدا سکتے ہیں۔ اگر عمار خان ناصر صاحب ان فتاویٰ کی بنیاد میں کارفرما تفہیم جدیدیت کا مفصل بیان کر سکیں، تو اس سے ان کے خود ساختہ ”روایت پسندوں“ کی تفہیم مغرب اور تفہیم جدیدیت از خود رد ہو جائے گی اور روایتی علما کی جو خدمت ہو گی اس پر ثواب الگ سے ملے گا۔

آخر میں عرض ہے کہ کیا پورے کے پورے مسلم معاشروں نے جدیدیت کی پیدا کردہ ٹیکنالوجی اور اداروں سے جو تطبیق پیدا کی ہے، وہ کسی فقہی اصول کے تحت حاصل ہوئی ہے یا تاریخی عمل کے بہاؤ سے پیدا ہوئی ہے؟ تطبیق میں یہ سوال اہم ہے کہ کیا واقعات کا تاریخی بہاؤ اس کے تابع ہے یا تطبیق اس کی پیروی کر رہی ہے؟ کسی چیز کے وقوع میں آ جانے کے بعد، تاریخی مراد ظاہر ہوئی ہے یا دین کی مراد پوری ہوئی ہے؟ اب کسی واقعے/نئی ٹیکنالوجی سے تطبیق تاریخی مراد کو دین پر حاوی کرتی ہے یا دین کو تاریخ پر مقدم رکھتی ہے؟ تطبیق کی ضرورت ہی اس لیے پیش آتی ہے کہ تاریخی واقعہ دین کی مراد کے برخلاف ظہور میں آ چکا ہے۔ اب دینی موقف کی اس واقعے/ چیز/سسٹم سے تطبیق محض ایک face-saving کی حیثیت رکھتی ہے۔ ہماری گزارش ہے کہ جو تاریخ پوری تہذیب کو روند ڈالے، اس کے سیلاب کے سامنے تطبیق کے روڑے اٹکانا اپنے آپ سے مذاق کرنا ہے۔ ایسے حالات میں دینی شعار کو تطبیق کی بجائے مزاحمت پر منتقل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ لمحہ تہذیبی مزاحمت کو دینی علم اور دینی کردار سے سینچنے کا لمحہ ہے، تطبیق کا نہیں۔ اور اس مزاحمت کا نقطۂ آغاز انفس اور علم ہے۔ تفہیم مغرب/جدیدیت کا یہ مزاحمتی پہلو ہی عمار خان صاحب کو پریشان رکھتا ہے کیونکہ وہ تو اب دینی تعبیرات کو بھی براہ راست مغرب سے درآمد کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہیں۔

محمد دین جوہر

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں