121

تمھیں علم دیا گیا، لیکن بہت کم۔۔۔(1) شہزاد محمود

وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا…… (حصہ اول)
انسانی علوم کا حال بھی عجیب و غریب ہے، معلوم انسانی تاریخ سے آج تک علومِ انسانی نے “(سَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي الْأَرْضِ)” کے مصداق بے پناہ ترقی کی ہے لیکن اسقدر ترقی کے باوجود انسانی علم کی کسی بھی شاخ کو اٹھا کر دیکھ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ایک قدم آگے بڑھانے کی کوشش میں دو قدم پیچھے ہٹنا پڑا ہے، ایک شے کو معلوم کرنے کی کوشش میں چار نامعلوم ہو جاتیں ہیں.
سترھویں صدی میں نیوٹن کے قوانین حرکت کے بعد یہ سمجھ لیا گیا کہ کائنات کچھ ناقابل تغیر قوانین میں بندھی ہوئی ہے اور چونکہ کائنات کی ہر چیز علت و معلول (Cause & Effect) کے دھاگے میں بندھی ہوئی ہے لہذا اسی نیوٹونین فزکس Newtonian Physics  کی بنیاد پر ایک فرانسیسی ماہر طبیعیات و ریاضیات، لاپلاس Laplace (1749_1827) نے  یہ دعوی کیا کہ اگر ہمیں کائنات میں پائے جانے والے تمام ذرات کی پوزیشن اور مومینٹم معلوم ہو جائیں اور ان پر اثر انداز ہونے والے تمام عوامل(Forces) کا ہمیں علم ہو جائے تو ہم مستقبل میں ہونے والے ہر ہر واقعہ کی پیشینگوئی بالکل اسی طرح یقینی طریقے سے کر سکتے ہیں جس طرح گزرا ہوا ماضی، جو کہ یقینی ہوتا ہے یعنی کائنات ایک Principle Of Certainity کے اصول پر عمل کرتی ہے, جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہم ایک جیسے حالات پیدا کر کے باربار کسی تجربے کو دہرائیں تو ہر بار ایک سا نتیجہ پیدا ہوگا اور فطرت کے پاس چلنے کے لیے ایک ہی رستہ ہے جس سے وہ انخراف نہیں کر سکتی. جس میں ہر ہر ذرے کی حرکت متعین ہے.
مثال کے طور پر اگر ہم ایک پتھر کو ہوا میں پھینکیں، اور ہمیں پتھر کا وزن، اس پر لگائی جانے والی قوت، اس کی سمت اوراس پر عمل کرنے والی ہوا کی رگڑ معلوم ہو تو ہم پتھر کے گرنے کے مقام کی ٹھیک پیشینگوئی کر سکتے ہیں یعنی ہم بتا سکتے ہیں کہ پتھر کتنی دیر ہوا میں رہے گا اور کہاں جا کر گرے گا؟ ، چونکہ کائناتPrinciple Of Certainty کے تحت  میکانکی اور مشینی طریقے سے عمل کرتی ہے لہذا کائنات میں ہونے والے ہر ہر عمل کی پیشین گوئی کرنا ممکن ہے. اسے Laplace Interpretation کہا جاتا ہے، یہ گویا کائنات کی ایک مشینی تعبیر تھی جو خودکار طریقے سے رواں دواں تھی جس میں کائنات کا ذرہ ذرہ علت و معلول کے جبر(Determination) میں جکڑا ہوا طے شدہ متعین راستے پر چلنے پر مجبور تھا سو پوری کائنات Predictable ہے. اس سارے سکول آف تھاٹ نے جبریت Determinism کے نظریہ کو جنم دیا، جس کے مطابق ہر ذی روح، اور مادے کے تمام افعال اور ان کے انجام تک کی پیشینگوئیاں ممکن ہیں کیونکہ ان کے خیال میں کائنات اس چابی والی گھڑی کی مانند تھی جسے ایک بار چابی دے کر چلا دیا گیا ہو اور اب وہ خودکار طریقے سے چلتی جا رہی ہے.
               Newtonian physics کے قریبا دو سو سال بعد فزکس کی ایک نئی شاخ وجود میں آئی جسےکوانٹم فزکس (Quantum Physics) کا نام دیا گیا جس کا ایک اصول  “غیر یقینیت کا اصول” Uncetainity Principle”  ہے جسے ایک جرمن سائنسدان ہائزن برگ(Hisenberg (1901_1976) نے دریافت کیا. اس اصول کے تحت کائنات مائیکرو لیول پر جہاں جسامت بہت باریک اور پیمائشیں انتہائی چھوٹی سطح پر کی جاتیں ہیں یعنی الیکٹران یا اس سے بھی باریک ذرات کی سطح پر. یہ دراصل کائنات کے وہ بنیادی ذرات ہیں جن سے مل کر یہ کائنات بنی ہے. جب نیوٹونین فزکس کے قوانین ان  انتہائی باریک ذرات پر اپلائی کرتے ہیں تو انکی پوزیشن یا مومینٹم کی درست  پیمائش کرنا ممکن ہی نہیں رہتا یعنی ہمارے لیے یہ بتانا ممکن ہی نہیں کہ اِس لمحے ایک الیکٹران جسے ہم دیکھنا چاہ رہے ہیں، کہاں پر ہے.
سادہ مثال سے یہ بات یوں سمجھیں کی مادےکے ایک باریک ذرے الیکٹران کو اگر ہم دیکھنا چاہیں تو اس مقصد کے لیے ہمیں روشنی کے سب سے باریک ذرے فوٹان کو اس الیکٹران کی جانب پھینکنا پڑے گا اور جب یہ فوٹان الیکٹران سے ٹکرا کر ہماری آنکھ میں داخل ہوگا تو ہمیں اس وقت وہ الیکٹران دکھائی دے گا کیونکہ یاد رہے ہم ہر چیز کو روشنی کی مدد ہی سے دیکھتے ہیں لیکن عین اسی لمحے جب روشنی کا ذرہ یعنی فوٹان ہماری آنکھ میں داخل ہوگا تو وہ الیکٹران جس سے ٹکرا کر فوٹان ہماری آنکھ میں داخل ہوا تھا اپنی جگہ چھوڑ کر کہیں اور جا چکا ہوگا اور اس الیکٹران کی اگلی پوزیشن کو ہم جان نہیں پائیں گے جبتکہ فوٹان دوبارہ اس الیکٹران تک نہ بھیجا جائے اور ہر بار یہ عمل دہرانے وقت کا جو دورانیہ فوٹان کے آنے اور جانے میں صرف ہوگا اس عرصے میں الیکٹران تو کہیں کا کہیں پہنچ چکا ہوگا اور ہر بار یہ عمل دوہرانے میں ایسی ہی بےچارگی کا سامنا کرنا پڑے گا، یعنی ہم کبھی بھی حتمی طور پر نہ بتا پائیں گے کہ عین اس لمحے جب روشنی کی شعاع ہماری آنکھ میں داخل ہوئی تو الیکٹران کہاں تھا، کیونکہ جس لمحہ فوٹان الیکٹران سے ٹکرا کر آنکھ کی جانب محو سفر تھا تو اسی لمحہ الیکٹران بھی تو فوٹان سے ٹکرا اپنی جگہ چھوڑ چکا تھا، ذرا چشم تصور میں اس سارے عمل کو سلو موشن(Slowmotion ) میں دیکھیں جیسا لنک میں ایک animationمیں دکھایا گیا ہے (https://i.gifer.com/BDwY.gif)
تو معلوم ہوگا کہ الیکٹران سے ٹکرا کر فوٹان کے آنکھ میں داخل ہونے تک تو بہت سا وقت گزر چکا ہوگا اور الیکٹران حقیقت میں تو وہاں ہو گا ہی نہیں جدھر ہونے کی خبر فوٹان نے إنکھ کو دی.
اب اگر کوئی یہ کہے کہ ایک بہت تیز رفتار فوٹان الیکٹران سے ٹکرا کر واپس آئے تو ہم اس الیکٹران کی پوزیشن ٹھیک طریقے سے معلوم کر سکیں گے، ہاں یہ بات ٹھیک ہے لیکن جب ذیادہ تیز رفتار فوٹان الیکٹران سے ٹکرائے کر واپس آئے گا تو اس کی پوزیشن تو ٹھیک معلوم ہو جائے گی لیکن اس کے مومینٹم کا تعین اتنا ہی غیر یقینی ہو جائے گا. اس کی مثال اس طرح سمجھیں جس طرح بچے پٹھو گول گرم کھیلتے ہیں، پتھر کی ٹھیکری ایک جگہ رکھ کر اگر تو گیند زور سے ٹھیکری پر ماری جائے اور تصور کریں کہ گیند دوبارہ مارنے والے کے ہاتھ میں آجائے تو ذیادہ زور سے گیند مارنے پر پتھر بھی ذیادہ دور تک بکھیریں گے اور ان کے مومینٹم کا تعین اتنا ہی ذیادہ غیر یقینی ہو گا اور آگر ہم گیند آہستہ سے پتھروں کی ٹھیکری پر ماریں تو پتھر ذیادہ دور تو نہیں بکھریں گے لیکن گیند آہستہ پھینکنے کے باعث ہمارے ہاتھ میں کافی وقت کے بعد آ پائے گی، یعنی دو صورتوں میں سے ایک ضرور پیش آئے گی، یا تو پتھروں کی پوزیشن ذیادہ درست طریقے سے بتانا ممکن ہوگا اور یا پھر ان کا مومینٹم، دونوں چیزیں بیک وقت یقینی طریقے سے بتانا ممکن ہی نہیں.ان میں سے ایک چیز کی پیمائش ہم جتنی ذیادہ درستگی کے ساتھ کرنے کی کوشش کریں گے دوسری شے کی پیمائش  اتنی ہی ذیادہ غیر ردستگی کے ساتھ ہوگی.
اگر کائنات کے وہ ذرات جن سے مل کر کائنات بنی ہے اپنی فطرت میں غیر یقینی رویہ رکھتے ہیں تو ہم کائناتی سطح پر کس طرح بالکل ٹھیک پیشینگوئیوں کر سکتے ہیں.
کوانٹم فزکس کے بعد Principle Of Certainty کو ہمیشہ کے لیے خیر آباد کہنا پڑا اور ایک مشہور قول کائنات کے Behaviour کے حوالے سے رائج ہوا کہ.
The Most certain thing in this universe is Uncertainity
گویا عین اس شعر کا مصداق قرار پایا کہ
         ثبات اک تغّیر کو ہے زمانے میں
قریبا ڈیڑھ سو سال بعد یہ طے ہوا کہ کائنات، لاپلاس(Laplace) کی میکانکی تعبیر کی طرح ایک مشین کے مانند کام نہیں کرتی  بلکہ (…… كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ) کے مصداق ہر لحظہ ایک نیا جہان تخلیق کرتی ہے، جس میں ہم کامل یقین کے ساتھ کسی بھی چیز کے بارے میں Predict نہیں کر سکتے، کیونکہ کائنات اپنی بنیاد ہی میں غیر یقینی طرز عمل کی حامل ہے.
اقبال کے الفاظ میں
         یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید
          کہ آ رہی ہے دما دم صدائے کن فیکون
انسان کا Principle Of Certainity سے Principle Of Uncetainity کا،  دعوی خدائی(…. أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَىٰ)
سے عبودیت(…. إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ… ) کا اور جاننے سے نہ جاننے کا سفر ہنوز جاری ہے.

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں