88

تعلیم یا سرمایہ دار کی خدمت؟ فیصل ریاض شاہد

اوریا مقبول جان صاحب اکثر کہا کرتے ہیں کہ دنیا کی پانچ ہزار سالہ انسانی تاریخ میں کُل 23 طرح کے تعلیمی نظام قائم ہوئے جن میں سب سے گھٹیا اور بیہودہ نظام تعلیم دور حاضر میں رائج ہے۔ دور حاضر کا ڈگری اور مارکیٹ پر مبنی تعلیمی نظام آج تک متعارف کروائے گئے تمام نظاموں میں سب سے برا ہے کیونکہ اس میں علم کے نام پر مارکیٹ میں کھپ سکنے کی “اہلیت” بیچی جاتی ہے۔
ان تصاویر پر غور کیجئیے، جن میں بظاہر تو کوئی غلط بات نہیں۔ 
ایک بچی تعلیم کا حق مانگ رہی ہے
اور دوسری بچیاں سکول جا رہی ہیں
بات نہایت توجہ طلب ہے، سنجیدگی سے اس پر غور فرمائیے۔ تصویر میں جس بچی سے تعلیم کا حق منگوایا گیا ہے وہ بیچاری تو جانتی ہی نہیں کہ امریکی ہیومن رائیٹس میں دئے گئے “حق تعلیمRight to Education ” سے مراد کیا ہے! تصویر میں محض ایک جذباتی مغالطہ دیا گیا ہے اور میسج دیا گیا ہے کہ ہر فرد اپنے بچے بچیوں کو سکولوں میں داخل کرواے۔
یہ بات تو درست ہے کہ تعلیم سب کا بنیادی حق ہے۔ لیکن آپ یہ کیوں نہیں سوچتے کہ “تعلیم” بنیادی حق ہے! یہ جو تعلیم ہر انسان کا بنیادی حق ہے یہ “تعلیم” ہے ناکہ “سرمایہ دارانہ نظام اور مارکیٹ پر مبنی تعلیم”
تعلیم اور سرمایہ دارانہ تعلیم میں فرق کیجئیے۔ تعلیم بنیادی حق ہے، جو کہ کسی سکول کالج اور یونیورسٹی کی محتاج نہیں ہوتی۔ تعلیم وہ شے ہے، جو اسلام کے مطابق، انسان کو گھر اور معاشرے سے ملتی ہے۔ اسلام مارکیٹ بیسڈ نالج اور نظام نالج کو علم و تعلیم نہیں سمجھتا بلکہ سختی سے اس کی تردید کرتا ہے۔ یہ جو مارکیٹ بیسڈ نالج ہے یہ لفظ علم اور تعلیم کا مصداق ہر گز نہیں ہے اور نہ یہ کوئی بنیادی حق ہے۔ اسے سرمایہ دار نے حق بنا کر آپ کے ذہنوں میں انڈیلا ہے تاکہ آپ بھی اپنے بچوں کو اس تعلیمی نظام میں ضم کر دیں تاکہ سرمایہ دار کے خدمت گزاروں میں اضافہ ہو اور اس کی مارکیٹ کیلئے تازہ ایندھن دستیاب ہو سکے۔
قصہ مختصر یہ ہے کہ تعلیم ضرور بنیادی حق ہے، لیکن مارکیٹ بیسڈ جدید تعلیم کوئی بنیادی حق نہیں! آپ سے گزارش ہے کہ آپ سرمایہ دارانہ نظام میں خود کو کھپانا چاہتے ہیں تو ضرور کھپائیے لیکن تعلیم کے پانچ ہزار سالہ اصل تصورتعلیم کو جدید سرمایہ دارانہ تصور تعلیم کے ساتھ خلط ملط مت کیجئیے۔
دوسری تصویر میں بچیاں علم حاصل کرنے نہیں جا رہیں۔۔۔کیونکہ وہ تو انہیں گھر بیٹھے بھی حاصل ہو سکتا تھا۔ وہ جا رہی ہیں خود کو سرمایہ دار کی خدمت کے اہل بنانے!

فیصل ریاض شاہد

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں