251

تصور ملامت کا فلسفہ اور وجودیت- ادریس آزاد

تصوف کے بعض مکاتبِ فکر میں’’ ملامت‘‘ نامی ایک عُنصر کاتصورپایاجاتاہے۔جبکہ بعض دیگر مکاتبِ فکر کے نزدیک یہ کوئی اچھا عُنصر نہیں ہے۔ملامت کیا ہے؟ اِس تصورکی موجودگی کے اسباب کیا ہیں؟ اور بعض سالِکین ملامت کا راستہ کیوں اختیارکرتے ہیں؟
بات یہ ہے کہ تصوف کا میدان جو ’’میدانِ خیال‘‘ سے بھی بڑا میدان ہے بنیادی طور پر دوقسم کے انسانی کرداروں کاسٹیج ہے۔اگرکوئی سالک، اکیلا ہی راہِ سلوک کی دشوار گزار گھاٹیوں میں چلتا چلا جارہاہے تو وہ انفرادی کاوش کو پسند کرتاہےلیکن اس کے برعکس تصوف میں سلاسل کا ایک نظام بھی موجود ہے۔ جیسا کہ سُنی مسلمانوں میں، سلسلہ چشتیہ، قادریہ، نقشبندیہ اورسہروردیہ، چار مشہور سلاسل ہیں۔اِسی طرح اہلِ تشیع میں تصوف بالکل مختلف انداز میں ہے۔ کم پڑھے لکھے اہلِ تشیع میں قلندری سلسلہ کے نام سے ایک خودکار نظام ہے۔ قلندری سلسلہ کوئی باقاعدہ اور منظم سلسلہ نہیں ہے۔ یہ بنیادی طور پر کسی مجذوب یا ملنگ کے بے نیازانہ طرزِ زندگی کی وجہ سے خودبخود وجود میں آجانے والا غیرمتسلسل سلسلہ ہے۔فی زمانہ سُنی مسلمانوں میں سیفی سلسلہ کے اہلِ تصوف بھی پائے جاتے ہیں۔ ہندوؤں میں ویدانت کے تحت ’’عجمی تصوف‘‘ کے بے شمار سلاسل ہیں۔ اسی طرح عیسائیوں میں بھی تصوف خاصی گہری جڑیں رکھتاہے۔
غرض تصوف کا کوئی بھی سلسلہ یا رُوپ ہو، ہر رُوپ میں تصورِ ملامت کسی نہ کسی حدتک اور کسی نہ کسی رنگ میں متعارف ہے۔ اگر کسی سلسلہ میں ملامت کو باقاعدہ سلوک کا ایک راستہ سمجھا جاتاہے تو کسی دیگر سلسلے میں اس کی مخالفت کی جاتی ہے لیکن ہردوسلاسل میں اس تصور سے واقفیت رکھنے والے اہل ِ تصوف موجود ہیں۔
ملامت کیا ہے؟ ’’اپنے آپ کو جان بُوجھ کر گناہ گار ظاہر کرنا تاکہ آپ کو دیکھنے والے آپ کو زیادہ نیک انسان نہ سمجھ لیں اور آپ کی پوجا نہ شروع کردیں‘‘۔ یا بعض اہلِ ملامت کے نزدیک، ’’اپنے آپ کو جان بُوجھ کر گناہ گار ظاہر کرنا تاکہ آپ کو دیکھنے والے آپ کو زیادہ نیک انسان نہ سمجھ لیں اور آپ کے اردگرد جمع ہوکر آپ کے متصوفانہ اعمال میں حارج نہ ہونے لگیں‘‘۔ہردونوں تعریفوں کے مطابق ملامت کرنےوالا سالک فی الاصل اپنے آپ کو بچانا چاہتاہے۔اگر آپ کو پوجا کا ڈر ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کا نفس موٹاہوسکتاہے جو کہ سالک کے لیے نقصان دہ ہے اور اگر آپ تنہارہ کر کسی مجاہدے سے گزرنا چاہتے ہیں تب بھی کسی کا آکر آپ کو تنگ کرنا آپ کے خیال میں وقت کا ضیاع اور آپ کا نقصان ہے۔چنانچہ ان دونوں نقصانوں سے بچنے کے لیے ملامت اخیتار کرلی جاتی ہے۔
ایسے شیوخ ِ تصوف جن کے ارادت مند اُن سے محبت کرتے ہیں، بعض اوقات ملامت کی مدد سے اپنے ارادت مندوں کو شک اور گمان کی چھلنی سے گزار کرحلقۂ ارادت سے خارج کرتے اور حلقۂ ارادت کو بار بار مختصر کرتے رہتے ہیں۔ایک حکایت ہے کہ لیلیٰ نے جب دیکھا کہ مجنوں بھوکا رہتاہے تو اس نے اس کے لیے چُوری بنا کر بھیجنا شروع کردی۔ شہر کے نکمّے عالصیوں کو جب پتہ چلا تو انہوں نے بھی مجنوں والا حال بنالیا اور مجنوں کے راستے میں بیٹھ گئے۔ لیلیٰ کی ملازمائیں جب مجنوں کے لیے چُوری لاتیں تو راستے میں بیٹھے جھوٹے موٹ کے مجنوں وہ چُوری بٹور لیتے۔ جب لیلیٰ نے دیکھا کہ مجنوں ایک سے دو ہوگئے ہیں تو اس نے دونوں کے لیے چُوری بنا کر بھیجنا شروع کردی۔ اسی طرح جب لیلیٰ نے دیکھا کہ اب دوسے چار ہوگئے ہیں تو اس نے چار وں کے لیے چُوری بنا کر بھیجنا شروع کردی۔ ایک وقت آیا جب یہ تعداد بہت بڑھ گئی اور ملازماؤں نے کہا کہ اب کچھ کیا جانا چاہیے تو یوں ہوا کہ لیلیٰ نے ایک چھری دے کر اپنی ملازماؤں سے کہا کہ ہر ہر مجنوں کے پاس جائیں اور اسے کہیں کہ لیلیٰ کہہ رہی ہے اپنی پنڈلی کا گوشت کاٹ کر بھیجوادو! جو اصلی مجنوں ہوگا وہ رہ جائے گا اور جو نقلی ہونگے وہ سب بھاگ جائینگے۔ اور پھر وہی ہوا جو چُوری والے مجنوں تھے وہ سب بھاگ گئے۔کچھ اس طرح کے مقاصد کے حصول کی خاطرایسے شیوخ وقتاً فوقتاً ملامت کا سہارا لیتے اور اپنے حلقۂ مریدین کو دوبارہ سے مختصر کرتے رہتے ہیں۔
خاصے بڑے بڑے اور بعض مشہور اولیأ کے بھی ملامت کے قصے مشہور ہیں۔فلاں شیخ، اپنی بغل میں نوعمر لڑکے کو لے کر بیٹھا تھا اور اس کے سامنے شراب رکھی تھی۔ فلہذا اُس کا یہ عمل دیکھ کر اِتنے اِتنے مرید دلبرداشتہ ہوکر بھاگ گئے، حالانکہ وہ لڑکا اُن شیخ صاحب کا بیٹا تھا اور شراب کی بوتل دراصل سِرکے کی بوتل تھی۔سو یہ ہوتی ہے ملامت۔غالباً امام ِ ربّانی شیخ احمد سرہندی ؒ کا واقعہ ہے کہ آپ نے سرعام رمضان کا روزہ توڑدیا تاکہ لوگ جو ہزاروں کی تعداد میں آپ کے ہاتھ چومنے کے لیے بے تاب تھے، آپ کی اِس حرکت سے نالاں ہوکر چلے جائیں اور جو خالص لوگ ہیں فقط وہی رہ جائیں۔
یوں اگر طائرانہ نظرسے دیکھا جائے تو ملامت ایک جھوٹ ہے۔ ایک ایسا جھوٹ جو نیک آدمی بولتاہے اور اپنے آپ کو گناہ گار ظاہر کرتاہے تاکہ اس کے آس پاس صرف سچے دل سے عشق کرنے والے باقی رہ جائیں اور دنیا دار لوگ اُسے چھوڑ کر چلے جائیں۔لیکن اگر قدرے گہری بصیرت سے غور کیا جائے تو معلوم ہوتاہے کہ یہ جھوٹ نہیں ہے۔
واقعہ کچھ یوں ہے کہ جب کوئی شخص تقویٰ اختیار کرتاہے تو اُسے لامحالہ دنیا کی بہت سی چیزوں سے بے نیازی کو بھی اختیار کرنا پڑتاہے۔ دنیا کی چیزوں سے بے نیازی کی یہ مشق اس کی شخصیت کو ایک خاص رنگ میں نکھا ردیتی ہے۔ یہ بے نیازی ایک ایسی دولت ہے کہ اگر کسی کے پاس آجائے تو وہ شخص باقی انسانوں کو خواہ مخواہ ہی اچھا لگنے لگتاہے۔ اگرچہ یہ اچھا لگنا بھی خواہ مخواہ نہیں ہوتا اور اس کے پیچھے بھی ایک باقاعدہ سائنس موجود ہے۔مثال کے طور پر ہم کسی شخص کو بے صبری سے کھانا کھاتے ہوئے دیکھیں تو ہمیں وہ اچھا نہیں لگتا۔اِسی طرح اگر ہم کسی شخص کو جنسی معاملے پر بے لگام اور بے تاب دیکھیں تب بھی ہمیں وہ شخص اچھا نہیں لگتا۔ایسا کیوں ہے؟ ایسا اس لیے ہے کہ ہم فطری طور پر تو فقط اپنے آپ کو جانتے ہیں۔ ہم فقط اپنے آپ سے واقف ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ ہم بھی اندر سے ایسے ہی حیوان ہیں۔ ہمیں بھی کھانا اور جنسی رغبت ایسے ہی بے تاب کرتی ہے لیکن ہم یہ بات بھی جبلی طور پر ہی جانتے ہیں کہ شہوت یا اشتہأ کے لیے یوں صبرکادامن چھوڑدینا دراصل کمزوری ہے۔
میں اکثر کہا کرتاہوں کہ مغرب کا تمام تر جدید اخلاقی فلسفہ جو رُوسو سے شروع ہوکرجان سٹورٹ مل تک کسی تیزگام گاڑی کی طرح چلتا چلا آتاہے اور اپنے رستے میں کامیابی کے تمام ریکارڈز توڑتا دکھائی دیتاہے دراصل ایک ایسی قسم کی آزادی کا تصور پیش کرتاہے جو آزادی کی کسی تعریف کے مطابق بھی آزادی کہلانے کی حقدار نہیں ہے۔میں ذاتی طور پر سمجھتاہوں کہ مغرب میں آزادی کے ایسے تمام تصورات بنیادی طور پر وجودی فلسفہ کے بطن سے نمودار ہوئے ہیں۔
سارترکا مشہور قول ہے کہ ’’ہمیں آزاد ہوجانے کے لیے پابند کردیا گیا ہے‘‘ ۔سارتر کے فلسفہ کے مطابق فطرت نے ہمارے سامنے کوئی مقصد نہیں رکھا۔ ایک کُرسی کے سامنے تو فطرت نے مقصد رکھاہے۔ ایک چاقو، ایک پنکھے، ایک دروازے، ایک کمرے، ایک بکری، ایک شیر کے سامنے تو فطرت نے مقاصد رکھے ہیں لیکن ہم انسانوں کے سامنے فطرت نے کوئی مقصد نہیں رکھا۔یہی وجہ ہے کہ ہم مقصد کے چناؤ کے لیے آزاد ہیں اور ہمیں ایسی آزادی پر فطرت نے زبردستی مجبور کردیاہے۔ ہمیں مجبور کردیا گیا ہے کہ ہم اب آزادی کا مظاہرہ کریں۔
میرا ذاتی خیال ہے کہ مغرب کا یہی فلسفہ مغرب کے جدید اخلاقی فلسفہ کا موجب ہے۔ وجودی فلسفے کا یہ خیال چونکہ ایک غلط خیال ہے اس لیے اس نے جس قسم کی آزادی کی طرف انسانی اخلاقیات کا رخ موڑاہے وہ آزادی بنیادی طور پر آزادی ہے ہی نہیں۔ وہ اس لیے آزادی نہیں ہے کہ کیونکہ جب آپ یہ کہتے ہیں کہ ’’آپ کو آزاد ہوجانے کے لیے پابند کردیا گیا ہے‘‘ اور یہ کہ ’’آپ کے لیے فطرت نے کوئی مقصد تجویز نہیں کررکھا‘‘ تو پھر آپ کے سامنے آزادی کی شکل میں اپنی جبلی خواہشات کی تکمیل کے سوا آزادی کا کوئی معنی نہیں رہ جاتاہے۔ جبلی خواہشات کی تکمیل سے مراد اگر کچھ کھانے کو جی چاہا تو میرا حق ہے کہ میں کھا سکوں ، اگر کچھ پہننے کو جی چاہے تو میرا حق ہے کہ میں پہن سکوں، میں آزادی سے بولوں، میں آزادی سے گھوموں، میں آزادی سے جنسی خواہشات کی تکمیل کروں، جس کے ساتھ جیسے بھی جنسی تعلقات میرا جی چاہے میں اختیار کرلوں۔جب جی چاہے رشتوں ناتوں کو چھوڑدوں۔ جب جی چاہے مذہب اور کلچر کی اقدار کو چھوڑ کر کچھ بھی آزادی کے ساتھ کچھ بھی کرسکوں۔ مذہب ، کلچر اور قانون کا دباؤ میری آزادی کا دشمن ہے۔ مجھے ننگا گھومنے، نشہ کرنے، زور سے بولنے، گانے ، ناچنے ، کھانے پینے کی آزادی ہونی چاہیے۔ غرض آزادی کا یہ سارا تاج محل اس لیے آزادی کے زمرے میں نہیں لایا جاسکتا کیونکہ یہ سب کا سب جبلی خواہشات کی آزادانہ تکمیل کا پراجیکٹ ہے۔جبلی خواہشات کی آزادنہ تکمیل یعنی ویسی آزادی جیسی فطرت نے جانوروں کو دے رکھی ہے۔جانور اپنی جنسی خواہش کو جب چاہے پورا کرسکتاہے تو میں کیوں نہیں کرسکتا۔ میں بھی تو جسمانی اعتبار سے انہی جانوروں جیسا ہوں۔ منطق میں اس مغالطے کو ’’ایکسیڈنٹ‘‘ کے نام سے جانا جاتاہے یعنی جب آپ کسی جنرل اصول کا اطلاق کسی مخصوص ماحول پرکردیں۔یہ سب وجودی فلسفہ کے کرشمے ہیں۔ جس نے جوہر پر وجود کو متقدم قرار دیا تو اسی بنا پر کہ بغیر جوہر کے وجود یعنی حیوانی وجود نہ کہ انسانی وجود، بھی متقدم ہے۔ یہ گویا مہاتما بدھ کی تعلیمات کا مغربی ریوائیول تھا۔وجود متقدم ہوتے ہی انسانی جسم ،انسانی جوہر سے متقدم ہوجاتاہے۔ جوہر پیچھے رہ جاتاہے، وجود آگے آجاتاہے۔جوہر، جو انسانوں کو جانوروں سے الگ کرنے کی واحد اتھارٹی ہے۔ جوہر جو شناخت ہے۔ جوہرجو انفرادیت ہے۔ چنانچہ، فلسفۂ وجودیت میں انسان اور چاقو کو ایک نظر سے دیکھاجاتاہے۔ اوریہ فلسفہ انسان کو فقط ایک آبجیکٹ بناکررکھ چھوڑتاہے۔یہ کیسا فلسفہ تھا جواپنے ہی دعوے کا متضاد ہے۔ جس کا دعویٰ تھا کہ انسان اُس کا مرکزی نکتہ ہے، اس نے نتیجہ نکالا تو یہ کہ انسان بطور وجود ، اپنے جوہر کے بغیر ہی اصل اہمیت کا حامل ہے۔ کسی کا جوہردوسرے سے الگ ہونا ضروری نہیں۔ سب انسان برابر ہیں۔ اگر جوہر کو متقدم کردیا تو انسان برابر نہ رہیں گے۔ ہر کوئی بقدر ِ جوہر طبقات بنتا چلا جائے گا۔ انسان طبقات میں بٹتے ہیں تو اس لیے کہ جوہر کو وجود پر متقدم قرار دیاجاتاہے۔ اس لیے انسان کو بطور وجود ہی اہمیت دی جائے نہ کہ بطور جوہر۔اور بطور وجود اس کی اہمیت اسی طرح ممکن ہے کہ اسے مقاصد سے عاری آبجیکٹ سمجھاجائے۔ اب مقصد اسے خود چنناہے۔ اور اگر وہ چنتاہے کہ اپنی خوشی کے لیے اپنی جسمانی خواہشات کو ہی سب کچھ سمجھ کر زندگی گزاردے تو یہ اس کا بنیادی حق ہے۔اسے یہ حق ملنا ضروری ہے۔
اور پتہ تب چلتاہے جب ایسا فلسفہ آخرالامر انسان کو اچھے خاصے الگ شناخت کے مالک انسان سے ، بے شناختے حیوانوں کی طرح ہجوم کا حصہ بنادیتا ہے۔ پتہ تب چلتاہے جب دھیرے دھیرے ایسا فلسفہ پورے معاشرے کو ، مہذب انسانوں کے معاشرے سے ہِپیوں کا مادر پدر آزاد جزیرہ بنادیتاہے۔
’’ٹویلو اینگری مین‘‘ (Twelve angry men) فلم میں ایک گواہ عدالت میں آکر کہتاہے، ’’میں نے اس لیے جھوٹی گواہی دی کہ میری زندگی کے پچھترسال میں پہلی مرتبہ کسی نے مجھے اہمیت دی اور کہا کہ آؤ، عدالت میں گواہی دو۔ آپ نہیں جانتے، کہ پہچان نہ ہونا کتنا تکلیف دہ ہے‘‘۔ وہ انگریزی میں کہتا ہے، ’’اِٹز ویری ہارڈ ٹُو بی نوباڈی‘‘۔یہ والا تاثر دینا چاہتاہوں میں اپنی بات میں۔ میرا مدعا یہ ہے کہ شناخت کا منفرد ہونا ایک نعمت ہے۔ اور شناخت کا منفرد ہونا شخصیت کے جوہرسے ممکن ہے۔بے جوہری فقط وجود ہی وجود ہے۔اورفقط وجود ہی وجود ہونا دراصل فقط ایک آبجیکٹ ہوناہے۔ آبجیکٹ بھی ایسا جس کا دوسرے آبجیکٹس کی طرح کوئی طے شدہ مقصد موجود نہیں۔ کرسی ایک آبجیکٹ ہے لیکن اس کو ایک مقصد ملا ہواہے۔ کرسی کا مقصد یہ ہےکہ اس پر کوئی نہ کوئی بیٹھتاہے۔ اسی طرح چاقوکا جوہر بھی پہلے سے موجود ہے لیکن اگرکسی کا جوہر پہلے سے موجود نہیں ہے تو وہ انسان ہے۔ انسان مقصد کے بغیر پیدا کیا گیاہے۔چنانچہ انسان کو اپنی آزادی کاتعین خود کرناہے اور چونکہ وجود جوہر پر متقدم ہے اس لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے لیے آسانی اور سہولت کی زیادہ سے زیادہ طلب کرے اور زیادہ سے زیادہ خوش رہنے کی کوشش کرے۔
اتنی تفصیل سے اس تصورِ آزادی کا ذکر کرنے کے بعد اب میں تھوڑی دیرانسان کا اپنی جبلتوں سے نفرت کا طرزِعمل پیش کرتے ہوئے یہ بتانا چاہتاہوں کہ آخر کوئی بہادر انسان، کوئی بے نیاز انسان، کوئی سرپھراانسان، کوئی مضبوط اعصاب انسان کا مالک انسان سب کواچھا کیوں لگتاہے؟ یہ انسانی معاشروں کی خصلت رہی ہے کہ لوگ یعنی عامۃ الناس ہمہ وقت کسی اوتار کے منتظر رہتے ہیں۔کسی معاشرے میں یہ طلب کم اور کسی میں زیادہ پائی جاتی ہے۔ زمانۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے آزادنہ فضا میں پلنے والے عربوں کے مزاج میں کسی اوتار کا انتظار کم پایا جاتا تھا جبکہ ہندوستان، ایران یا دیگر ایسے معاشرے جہاں پہلے سے فعّال ذہانت کی بجائے غیرفعّال ذہانت کارفرما تھی، اوتاروں کے انتظار میں ساری انسانیت آنکھیں بچھائے رکھتی تھی۔ آخر ایسا کیوں ہے کہ عامۃ الناس کسی اوتار کا انتظار کرتے ہیں؟ ایسا اِس لیے ہے کہ وہ اپنی جبلی کمزوریوں سے شرمندہ ہیں۔ ہم کسی سلیقے سے کھانا کھاتے ہوئے شخص کو اس لیے پسند کرینگے کہ ہم خود اپنی اِس کمزوری سے آگاہ ہیں۔ ہم کسی ایسے شخص کو جواپنی جنسی خواہشات پر قابو پانا جانتاہے اس لیے پسند کرینگے کیونکہ ہم اپنی اِس کمزوری سے واقف ہیں۔ ہم کسی بہادر کو اس لیے پسند کرینگے کیونکہ ہم اپنی بزدلی سے واقف ہیں۔ ہم کسی بے نیاز شخص کو اس لیے پسند کرینگے کیونکہ ہم اپنی نیازمندی سے واقف ہیں۔ہم اپنی جن جن کمزوریوں سے شرمندہ ہیں، اگر کسی دوسرے شخص میں وہ کمزوریاں نہ دیکھیں گے تو وہ ہمیں اپنا ہیرو محسوس ہوگا۔
لیکن پھر ایک خیال ہمیں، ہمارے اپنے خودکار نتیجے تک لے جائیگا۔ وہ یہ کہ ایسا شخص انسان کیسے ہوسکتاہے؟ ایسا شخص جو اپنی کمزوریوں پر قابو پاناجانتاہو؟ ایسا شخص جسے جنسی خواہشات بے قابو نہ کریں۔ ایسا شخص جسے پیٹ پر پتھر باندھ کر جینا آتاہوکیسے کوئی زمینی مخلوق ہوسکتاہے؟ ضروروہ کوئی آسمانی مخلوق ہے۔ ضروروہ آسمانوں سے آیاہوا ہے۔ ضرور وہ کوئی اوتارہے۔اب اگر لوگ کسی ایسےشخص کو ہیرو مانتے ہوئے اس کے پیچھے لگ جائیں تو وہ اس سے کبھی توقع نہیں کرتے کہ وہ انسانی کمزوریوں کا کسی بھی صورت میں مظاہرہ کرےگا۔
کہتے ہیں، حسن بن صباح ایک مرتبہ کسی بحری جہاز میں سفر کررہاتھا اور سمندر میں طوفان آگیا۔ ہرطرف چیخ وپکار مچ گئی۔ لوگ ادھر سے اُدھر بھاگ رہے تھے۔ ہرکوئی اپنی جان بچانے کے چکر میں تھا۔ لیکن حسن بن صباح ایک طرف نہایت آرام اور سکون کےساتھ بیٹھاہوا تھا۔ لوگوں نے جب دیکھا کہ اِس ابتری اور حشر کے عالم میں بھی یہ شخص نہایت اطمینان سے بیٹھاہے تو وہ اس کے گرد جمع ہوگئے اور یہ سمجھنے لگ گئے کہ ضرور یہ شخص کسی نہ کسی طرح جہاز کو بچالیگا۔ کسی نے حسن بن صباح سے پوچھ لیا کہ وہ ڈر کیوں نہیں رہا؟ تو اس نے جواب دیا کہ ’’میں اس لیے نہیں ڈررہا کیونکہ جہاز نہیں ڈُوبے گا‘‘۔یہ سن کر جہاز کے ملاحوں سمیت سب لوگ اس کے پاس آکر بیٹھ گئے کیونکہ اس کے اعتماد سے سب کو حوصلہ آگیا اور سب نے یقین کرلیا کہ جہاز نہیں ڈوبے گا۔ کہتے ہیں بہت بعد میں حسن بن صباح نے اپنا یہ واقعہ خود قلمبند کیاتو وجہ بتائی کہ آخر اس نے ایسا کیوں کہہ دیا تھا کہ جہاز نہیں ڈوبے گا؟ اس نے بتایا کہ اس نے فوری طور پر سوچ لیا تھا کہ اگر جہاز ڈوب گیا تو کون ہوگا جو اس سے سوال کرتا کہ ’’ابے جھوٹے! تم نے تو جھوٹ بولا‘‘۔ ایک ہی صورت تھی کہ جہاز بچ جاتا اور لوگ اس کی قیافہ شناسی کے قائل ہوجاتے۔
لوگوں کو دوسرے کی بااعتماد شخصیت میں ہیرونظر آتاہے تو اس لیے کہ وہ اسے اپنے آپ سے مضبوط سمجھتے ہیں۔ ہرکوئی اپنی کمزوریوں سے واقف ہے۔اگر انسان کا مطلوب اپنی جبلی خواہشات کی تکمیل والی آزادی ہوتی تو وہ یوں خودکار طریقے سےا پنی کمزوریوں سے نفرت کا مظاہرہ کیوں کرتا؟ وہ ایسے ہیروز کا کیوں متلاشی رہتا جو اِن کمزوریوں سے پاک ہوتے ہیں؟اگر وجود متقدم ہوتا اور اس کے نتیجے میں انسانی آزادی وجود کی آزادی ہی ہوتی تو پھر انسان اپنی جبلی کمزوریوں سے خود ہی اتنا نالاں کیوں ہوتا کہ ایک ذرا سا بے نیاز شخص دیکھتے ہی اس کی طرف مدد کے لیے لپکتا؟
ملامت یہ ہے کہ جب لوگ آپ کو ہیروسمجھنے لگیں تو آپ گاہے بگاہے انہیں یاد دلاتے رہیں کہ آپ ضرور ہیروہونگے لیکن آپ انسان بھی ہیں۔ کیونکہ جب لوگ آپ کو اوتار سمجھنے لگتے ہیں تو ایک بہت بڑا معاشرتی نقصان ہوتاہے۔ وہ یہ کہ زیادہ تر لوگ آپ کی طرح مضبوط ہونا اپنے لیے محال تصور کرتے ہیں۔ وہ دل ہی دل میں کہہ اُٹھتے ہیں کہ ہم اُس ہیرو جیسے کیسے ہوسکتے ہیں؟ وہ تو اوتار ہے؟ وہ تو آسمانوں سے عجیب قسم کی طاقتیں لے کر اُتراہے؟ ہم انسان ہیں۔ ہم کمزور ہیں۔ ہم اس جیسے بے نیاز اور بہادر نہیں ہوسکتے۔ یہ سوچ قاتل سوچ ہے۔ یہ سوچ معاشرے کے افراد کو اپنے ہی ہیروز کی سنت پر عمل کرنے سے روکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تصوف میں بڑے لوگ کبھی کبھار یہ ثابت کرکے کہ وہ اوتار نہیں فقط اُن کے جیسے انسان ہیں، ان لوگوں کو ایسے خطرناک نتائج سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ فی الحقیقت اپنے ارادت مندوں سے یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ،
’’اگر میں انسان ہوکر اتنا مضبوط ہوسکتاہوں تو تم بھی انسان ہوکر اتنے مضبوط ہوسکتے ہو۔ تم میری سنت یعنی میرے طریقے پر عمل کروگے تو تم بھی میری طرح مضبوط ہوجاؤگے۔ میری سنت اور میرا طریقہ یہ ہے کہ تم اپنے واحد اختیار کو استعمال کرو! تمہارا واحدا ختیار خود پر قابوپانے کی صلاحیت ہے‘‘
یہیں پر وجودی فلسفے کا ناقابل ِ تردید جواب دریافت ہوجاتاہے۔ہمیں ’’وجود میں پھینک دیا گیاہے‘‘، ’’ہمیں آزاد رہنے پر مجبور کردیا گیاہے اور آزادی اب ہم نے خود چننی ہے اور آزادی یہ ہے کہ ہم اپنی جبلی خواہشات پرزندگی گزاردیں‘‘۔وجودی فلسفے کے ایسے تمام سوالوں کا ایک ہی جواب کافی ہوجاتاہے کہ’’ہمیں واحد اختیار ہی یہی دیا گیا ہے کہ ہم خود پر قابو پاکر دکھائیں کیونکہ انسانی وجود کے بس میں ہی نہیں کہ وہ خود پر قابو پاسکے اس لیے کہ وجود فقط ایک آبجیکٹ ہے۔ یہ صرف انسانی جوہر کے بس میں ہے کہ وہ خود پر قابو پاسکے۔ انسان کا جوہراس کی شخصیت کا نکھار ہے۔ اس کی انفرادیت ہے۔ اسے دوسروں سے ممتاز کرتاہے اوریہ صرف اور صرف اپنا اظہار اپنے آپ پر قابو پانے کی صلاحیت اور اہلیت کی صورت کرسکتاہے۔یوں گویا میں سارتر کے قول کو الٹا دیتاہوں،
’’ہمیں آزاد ہوجانے کے لیے مجبور کردیاگیاہے‘‘ سارتر
’’ہمیں مجبور ہوجانے کے لیے آزاد کردیاگیاہے‘‘)راقم الحروف(
ہمیں مجبور ہوجانے کے لیے آزاد کردیا گیا ہے سے مراد ہے کہ ہمیں واحدشناخت یہی عطا کی گئی ہے کہ ہم اپنے اختیار کا مظاہرہ کریں اور چونکہ ہمارے اختیار کی اور کوئی صورت ایسی نہیں جسے حقیقی اختیار کہا جاسکے فلہذا ایک ہی صورت ہے اور وہ ہے خود پر قابو پانے کا اختیار۔ ہم جانتے ہیں کہ ارتقأ یافتہ سے ارتقأ یافتہ حیوان بھی اُس وقت خود پر قابو نہیں پاسکتا جب اُسے جنسی عمل کا تقاضا پیدا ہوجائے۔ ایک حیوان نَر ، جنسی عمل کے لیے تیار مادہ کی بُو پاتے ہی بے قابو ہوجاتاہے اور وہ خود پر کسی صورت بھی کنٹرول نہیں رکھ پاتا۔ یہ اس کی بے بسی ہے۔ لیکن ایک انسان اپنے خیال کی رَو سے ہی خود پر قابو پالیتاہے اور یہی انسان کا واحد اختیار ہے کہ وہ اپنے قابو پانے کی صلاحیت کا مظاہرہ کرے۔غرض کُتا اُسی وقت آزاد ہے جب اُسے پنجرے سے نکال کر چھوڑدیا جائے اور کہاجائے کہ جاؤ اپنی آزادی سے زندگی گزارو! لیکن انسان اُسی وقت آزاد ہے جب اسے پنجرے سے نکال کر چھوڑدیا جائے اور کہاجائے جاؤ! معاشرے میں کھلم کھلا گھومو! اور ہرجگہ اپنے آپ پر قابُو پانے کی صلاحیت کا مظاہرہ کرکے دکھاؤ!
القصہ ہمارے بعض صوفیأ یا اولیأ جب ملامت کا راستہ اختیار کرتے ہیں تو اپنے ارادت مندوں اور ماننے والوں کو یہ جتانے کے لیے کہ وہ بھی اُن کی طرح انسان ہیں نہ کہ آسمانوں سے نازل ہوئے اوتار۔ اگر وہ انسان ہوکر اپنے قابُو پانے کی صلاحیت کا مظاہرہ کرسکتے ہیں تو سب انسان بھی اس صلاحیت کا مظاہرہ کرسکتے ہیں۔ہاں البتہ یاد رکھنے کی بات یہ ہے ملامت کا سہار فقط ایسے اولیأ ، صوفیأ اور سالکین کو لینا پڑتاہے جو پہلے بھی معاشرتی طور پر خاص انسان ہوتے ہیں اور اس کے بعد ترقی کرکے تزکیۂ نفس کے اُس بلند مقام پر پہنچتے ہیں، جہاں انہیں لوگ ہیرو، مضبوط انسان یا اوتار سمجھنے لگتے ہیں ۔ اس کے برعکس انبیأ کو ملامت کا سہار نہیں لینا پڑتا کیونکہ وہ پہلے عام انسانوں کی طرح معاشرے میں رہ چکے ہوتے ہیں اور لوگ پہلے سے جانتے ہیں کہ یہ تو عام انسان ہے کوئی اوتار نہیں۔ انبیأ کو ملامت کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ ضرورت پڑتی تو زیادہ سے زیادہ زبانی طور پر یہ یاد دلانے کی کہ،
’’میں بھی تمہاری طرح ایک انسان ہوں‘‘

ادریس آزاد

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں