121

تصور “آفاقی اخلاقیات”کا مسئلہ – ڈاکٹر زاہد مغل

عام طور پر اخلاقی اقدار کو ‘انسانی شے’ سمجھ کر انہیں ‘یونیورسل’ تصور سمجھ لیا جاتا ہے، مگر یہ صرف ایک فکری خلجان (کنفیوژن) ہے۔ اس تصور کے تحت خیر کے چند تصورات (مثلا سچ بولنے) کو ‘بنیادی انسانی اقدار’ فرض کرکے انہیں انسانیت کا مظہر قرار دیا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ ان بنیادی اخلاقی اقدار کو ان معنی میں مذہب سے ماوراء قرار دیا جاتا ہے کہ اپنے جواز کیلئے یہ مذہبی دلیل کے محتاج نہیں بلکہ اپنا جواز یہ اپنے اندر از خود رکھتے ہیں، نیز ان تصورات کو تمام مذاہب نے اسی وجہ سے بطور خیر متعارف کروایا ہے کہ یہ آفاقی انسانی اقدار ہیں۔

درج بالا کنفیوژن کی وجہ یہ ھوتی ہے کہ اخلاقی تصورات کو مقاصد سے علی الرغم مجرد طریقہ کار ‘(procedure)’ فرض کرلیا جاتا ہے۔ چنانچہ اس مجرد ‘پروسیجرل گڈ’ (procedural good) کے تصور کی بنیاد پر سچ بولنے، ایمانداری، خلوص نیت وغیرہم جیسی اقدار کو بذات خود خیر سمجھ لیا جاتا ہے، علی الرغم ان مقاصد کہ جن کے حصول کا یہ ذریعہ ہیں۔ اسی وجہ سے یہ جملے کہے جاتے ہیں کہ ”ہمیں یہ اقدار اپنانی چاہئیں، اسلئے نہیں کہ مذہب کہتا ہے بلکہ اس لئے کہ یہ ہیں ہی اچھی چیزیں”، یا ”یہ اقدار جس انسان میں بھی ہیں وہ ایک اچھا انسان ہے، چاہے مذہب کو مانتا ہے یا نہیں”، یا ”ان اخلاقیات کو مانو، چاہے خدا کے کہنے کے جواز پر یا انسانی خوبی سمجھ کر”۔ ان تمام جملوں میں یہ فرض کرلیا جاتا ھے گویا سچ بولنا و ایمانداری اختیار کرنا بالذات اچھی بات ہے، علی الرغم اس سے کہ یہ اختیار کرنا حصول رضائے الہی کیلئے ہے یا کسی دوسرے مقصد (مثلا سرمایہ داری کے فروغ) کیلئے۔

ماخذ و مقاصد سے علی الرغم خیر و شر کا یہ پروسیجرل تصور بظاہر مسحور کن معلوم ہوتا ہے مگر اپنے اندر یہ عمیق گمراہیوں کو سموئے ہوئے ہے اور تنویری فکر کے تحت تو یہ باقاعدہ ایک ‘نظریہ’ بن چکا ہے۔ چنانچہ آج مسلمانوں میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو یہ کہنے میں فخر محسوس کرتے ہیں کہ ‘ہمیں اچھے اخلاق اس لئے اختیار نہیں کرنے چاہئے کہ ایسا خدا نے کہا ہے بلکہ اسلئے کرنے چاہئے کہ یہ اچھی بات ہے یا یہ انسانیت کا تقاضا ہے، یا یہ ہمارے ضمیر کی آواز ہے وغیرہ’)۔

جاننا چاہِئے کہ مقاصد سے علی الرغم خیر کا فلسفہ باطل ہے کہ مقاصد سے علی الرغم تو برائی (مثلا جوے، بدکاری یا قتل و غارت گری کو فروغ دینا) بھی انتہائی ایمانداری، سچائی و خلوص نیت کے ساتھ ممکن العمل ہے۔ مثلا جوا کھیلنے کی مثال لیں۔ چنانچہ اسکے ‘پرامن’ قیام و بقا کیلئے چیکس اینڈ بیلینسز پر مبنی ایسا طریقہ کار وضع کیا جا سکتا ھے جس میں جوے بازوں کی ‘خلوص نیت’ پر مبنی شرکت اور ‘ایمانداری و سچائی’ کے ساتھ اسکے قوانین کی پاسداری انکے باہمی اختلاف کو ناممکن بنا دے۔ فرض کریں پوری ”دیانت داری” کے ساتھ سب لوگوں کو جوا کھیلنے کا ”مساوی موقع” فراھم کرنے کیلئے اسکے چند ”عالمی قوانین” طے کردئیے جائیں، پھر اسے کھیلنے والے شرکاء پوری ”ایمانداری و سچائی” کے ساتھ ان قوانین کی پاسداری کریں، پھر دوران کھیل ان قوانین کے اجرا کیلئے پولیس و نگران ایجنسیوں کا بندوبست بھی کردیا جائے تاکہ ”قانون کی خلاف ورزی کرنے والے عناصر” کی سرکوبی کیلئے ان پر کڑی نظر رکھی جاسکے نیز ”ادارے کی رٹ” بھی قائم رھے۔ اتنا ہی نہیں، اس کھیل کی گلوبلائزیشن کیلئے عالمی نگران ادارے بھی قائم کردئیے جائیں جو عالمی سطح پر اس کھیل کے سچائی و ایمانداری کے ساتھ انعقاد کو ممکن بنائیں تاکہ ”قانون کی بالادستی” کے نتیجے میں ”عدل و انصاف” کا بول بالا ھو۔

بھلا غور تو کیجئے، اس پورے نقشے میں کتنی ‘اخلاقی اقدار’ کا پاس رکھا گیا ھے نیز یہ افراد کی کتنی ہی عظیم الشان اخلاقی اقدار کی تربیت کا بندوبست فراھم کررھا ہے۔ خیالی نقشے کو چھوڑئیے، عملی دنیا کے بارے میں غور کیجئے کہ ہر روز یہاں کتنے ملین لوگ ہر روز پوری سچائی، ایمانداری و خلوص نیت کے ساتھ جوے اور قحبہ خانوں میں شرکت کرتے ہیں! سوال یہ ہے کہ کیا سچائی و ایمانداری کے ساتھ جوے کے اس کھیل میں شریک ہونا اور اسے بڑھاوا دینا ‘بذات خود’ قابل تحسین اقدار کہلائیں گی؟

اگر نہیں اور ہر گز نہیں، تو خوب جان لینا چاہئے کہ خیر کا تعلق پروسیجر سے نہیں بلکہ شرع سے ہے۔ سچ بولنا یا ایمانداری بذات خود نہیں بلکہ خدا کے حوالے (یعنی خدا کا انہیں اپنی رضا کے حصول کا ذریعہ کہنے) کی وجہ سے خیر ہیں۔ درحقیقت قدر سچ بولنا نہیں بلکہ حصول رضائے الہی ہے، سچ بولنا محض اس مقصد کے حصول کا ایک ذریعہ ہے۔ اس خدائی ریفرنس کے علاوہ کسی دوسری بنیاد (مثلا انسانیت کی بھلائی، اصول پسندی، ضمیر کی آواز) پر انہیں اختیار کرنا ہرگز قدر و اخلاق نہیں (بلکہ اس صورت میں یہ ھیومن ازم سے نکلنے والی ‘شرک فی الارادہ’ کی ایک شکل بن جاتی ہے جس کی تفصیل پھر کبھی صحیح)۔ جن مفکرین نے تنویری علمی ڈسکورس کے زیر اثر اخلاقیات نیز معروف و منکر کا مبدا، ماخذ و مقصد عقل، فطرت یا نفس انسانی وغیرہ کو قرار دیا وہ قدیم معتزلہ کی اسی غلط فہمی کا شکار ھوئے جسکی اصلاح امام اشعری و غزالی نے صدیوں قبل فرما دی تھی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں