29

تحریر یا متن سازی؟ محمد دین جوہر

(عزیزم محمد لقمان عارف کی نذر)

انشا پردازی یا composition تعلیم و تدریس کا اہم جز اور ان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ صحتِ زبان، تہذیبِ لسان اور قادر الکلامی چونکہ بڑے شخصی اوصاف میں شامل رہی ہے، اس لیے نصاب اور تعلیم و تدریس میں بھی فصاحت اور بلاغت کو مرکزی جگہ دی گئی۔ فصاحت، زبان کے جمال و کمال اور محاسنِ اظہار کو بہتر بنانا ہے، جبکہ بلاغت مافی الضمیر، موضوع اور صورت حال کے مقتضیات کا کماحقہ احاطہ کرنا ہے۔ انشا پردازی یا تحریر کے ان پہلوؤں پر رہنمائی کے لیے مکتبی وسائل عام دستیاب ہیں، اور حسنِ تحریر کے لیے ان کو دیکھ لینا مفید ہے۔ ایسی کتابیں عموماً تحریر کے فنی اور ٹیکنیکل پہلوؤں کو بہتر بنانے میں ہی معاون ہوتی ہیں، اور جگرسوزی کا ہنر ہی سکھا پائیں تو غنیمت ہے۔ لیکن تحریر اور اس کے منصۂ شہود کو ہم مرتبہ اور ہم چشم بنانے کے لیے دل فگاری اور دماغ سوزی کے ساتھ ساتھ کمندِ ادراک لازم ہے، اور پھر بھی معلوم نہیں بات بنے کہ نہ بنے۔ تحریر کا منصہ، شعور اور تاریخ ہے۔

جدید عہد میں انسان کے ٹنڈ منڈ ہو کر معاشی مواشی بن جانے سے تحریر سے وابستہ ضروریات بھی بدل گئی ہیں۔ اب اظہار اور تحریر سے اول و آخر مطالبہ ابلاغ کا ہے۔ ابلاغ معلومیت پر استوار ہوتا ہے، اور تفہیم اس سے خارج ہوتی ہے۔ طلب اور رسد کی ابلاغی ضروریات کے پیش نظر تحریر اب متن سازی میں بدل گئی ہے۔ جدید عہد میں ابلاغ کا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس میں سسٹم کی شرائط اولیت رکھتی ہیں اور انسان کی حیثیت ضمنی ہے۔ اس میں مزید پیچیدگی یہ ہےکہ زبان انسان کی ضرورت ہے، سسٹم کی نہیں، کیونکہ سسٹم کے لیے signs کافی ہوتی ہیں۔ تحریر، تفہیم کے لیے ہوتی ہے لیکن signs پروسث کرنے کے لیے ہوتی ہیں۔ پروسثنگ کا کوئی بھی عمل ڈیڈلائن کے بغیر نہیں ہوتا۔ اس باعث سسٹم میں استعمال ہونے والی زبان یا signs کا uniform اور standardize ہونا بھی ضروری ہے تاکہ سسٹم کی کارکردگی متاثر نہ ہو۔ اگر کسی بھی لسانی سرگرمی میں ڈیڈ لائن داخل کر دی جائے تو انسانی شعور کی مشینی تشکیل قابل حصول ہو جاتی ہے۔ انسانی شعور سے وقت کے مطالبات اور تفہیم کے مطالبات بالکل الگ الگ ہیں اور ایک کے ہوتے ہوئے دوسروں کا پورا ہونا بعید از امکان ہے۔

سادہ لفظوں میں سسٹم کا زبان سے مطالبہ یہ ہے کہ وہ ٹریفک signs کی طرح ہو تاکہ ابلاغ مکمل ہو، معلومیت پوری ہو، تفہیم مطلوب نہ ہو، اور سسٹم کی کارکردگی مستعد ہو۔ تفہیم ایک انسانی مسئلہ ہے اور اس کے لیے وقت کی مشینی قید ممکن نہیں، جبکہ پراسثنگ کے لیے وقت کی قید شرطِ اول ہے۔ ٹریفک signs کے ابلاغ میں مشینی عمل اور انسانی ”معلومیت“ میں پوری یک آنیت (synchronization) قائم کی جاتی ہے تاکہ سسٹم ٹھیک ٹھیک کام کرے۔ اس طرح کی یک آنیت عملِ تفہیم کو خارج کر کے ہی ممکن ہوتی ہے۔ سسٹم کی تشریط پر بننے والے جدید انسان کا بھی زبان سے اب یہی مطالبہ ہے۔ ہمارے ہاں تحریر، زبان اور تفہیم کے جو نئے مسائل پیدا ہو رہے ہیں، ان کو اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ تحریر میں انسانی اور ذہنی ضرورت کی چیزیں جتنی زیادہ ہوں گی، فوری ”معلومیت“ میں اتنی ہی رکاوٹ ہو گی اور ملکۂ تفہیم پر مطالبات بڑھتے چلے جائیں گے۔ یہ چیز قاری میں برہمی اور غصہ پیدا کرتی ہے، جو ٹریفک کے خلل پر آنے والے غصے سے مشابہ ہوتا ہے۔ جدید انسان جب مشین کی شرط پر تحریر یا لسانی اظہار کو پروسث نہیں کر پاتا تو ”مشکل“ ہونے کی بنا پر انہیں مسترد کر دیتا ہے۔ حالانکہ تحریر صرف یہ مطالبہ کر رہی ہوتی ہے کہ قاری ”معلومیت“ سے ”تفہیم“ کی طرف پیشرفت کرے۔ آج کا انسان تحریر کو مشین ہی کی طرح پروسث کرتا ہے، اور تفہیم کے مطالبے کو بجا طور پر غیرضروری خیال کرتا ہے۔ تفہیم سے معنی کا مسئلہ کھڑا ہو جاتا ہے، اور زبان کی طرح معنی بھی سسٹم کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ جدید انسان تحریر کو معلومیت کے لیے پڑھتا ہے، اور معنی کی کھکھیڑ میں نہیں پڑنا چاہتا۔

سادگی سے مراد تحریر کو جدید انسان کی استعدادِ معلومیت اور سسٹم کی ابلاغی ضرورت تک محدود اور ان کے تابع رکھنا ہے۔ ایسی تحریر چارہ مشین میں مسلسل لگائی جانے والی گھاس کی طرح ہوتی ہے۔ اور ایسی تحریری گھاس بنانا بہت آسان ہے اور معمولی کامن سینس اور کسی کمپیوٹر سوفٹ ویر کی مدد سے مطلوبہ متن سازی حاصل ہو جاتی ہے۔ لیکن اس میں دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اگر ابلاغی ضرورت کی بجائے، سسٹم کے وجود اور اس کی مجموعی حرکت کو موضوع بنایا جائے، تو سادگی دھری کی دھری رہ جاتی ہے۔ سادگی سسٹم کی فعلیات اور وجودیات کو سمجھنے میں بالکل بیکار چیز ہے۔ سسٹم جس تاریخی، سماجی اور معاشی صورت حال میں قائم ہوتا ہے اور جس صورت حال کو پیدا کرتا ہے، اس میں سادگی کا ڈنکا بجانا بالکل ردی بات ہے۔ یہ مطالبہ علمی بددیانتی کو راہ دے کر علم کا بالکلیہ خاتمہ کر دیتا ہے۔ ہمارے ہاں چونکہ سسٹم کی تشکیل، اس کی فعلیات اور وجودیات کا سوال ہی کبھی زیربحث نہیں آیا اس لیے ہمارا ذہن ایک میکانکی سادگی میں ٹھٹھر کر منجمد ہو گیا ہے۔ ایسا ذہن ابلاغی ٹنا ٹن کو سادہ معلومیت کی بنیاد پر علم قرار دیتا ہے۔

ابلاغ اور تحریر

آج کی دنیا میں واقعہ سسٹم سے جنم لیتا ہے، فطری نہیں ہوتا۔ اور سسٹم خود چیزوں کے مرتب مجموعے اور ان کی میکانکی حرکت کا نام ہے۔ انسان بھی سسٹم میں چیز اور فیکٹر کے طور پر شامل ہے۔ سسٹم کے داخلی اور خارجی واقعات کا کنٹرول ابلاغ کے بغیر ممکن نہیں ہوتا۔ ابلاغ کا بنیادی مقصد واقعے کو معلومیت کی شرائط پر مشتہر کرنا ہے۔ یہ خبر ہے۔ تجزیہ واقعے کی فوری صورت حال، اس کے حدود اربعہ، اور متعلقہ اِنس و اشیا کو شامل کر لیتا ہے۔ آجکل تجزیے اور خبر میں فرق تقریباً ختم ہو گیا ہے۔ صرف یہ کہا جا سکتا ہے کہ خبر ادھوری ہوتی ہے اور تجزیہ پوری خبر ہوتا ہے۔ ابلاغ کی میکانکی ضروریات کا خیال رکھتے ہوئے تحریر لکھنے کی بنیادی ترین شرط سادگی ہے۔ یہ دیکھنا مشکل نہیں کہ یہ سادگی سسٹم کی میکانکی ضرورت سے پیدا ہوتی ہے، انسان کی کسی اخلاقی یا تفہیمی ضرورت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ تحریر سے ہر ہر انسانی ضرورت surgically ہٹا دی جائے تو ابلاغ کے لیے درکار سادگی حاصل ہو جاتی ہے۔ ابلاغی ضرورت تحریر کا ٹیمپلیٹ (template) ساتھ لاتی ہے جسے کسی صورت بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہی ابلاغ کا جبر ہے۔ اس ٹیمپلیٹ (template) کے ہوتے ہوئے کسی انسانی تحریر کا امکان ہی ختم ہو جاتا ہے اور صرف متن سازی کے وسائل ہی باقی رہ جاتے ہیں۔ اگر میری بات ناگوار گزری ہو تو معذرت خواہ ہوں۔ لیکن اس تناظر میں ڈاکٹری مقالوں اور میڈیائی تحریروں کو دیکھ لینا کافی ہو گا تاکہ یہ معلوم جائے کہ ابلاغی بھاڑ جھونکنے کا اصل مطلب کیا ہے اور قلم مزدوری کسے کہتے ہیں؟

سادگی، رائے اور صداقت

یہ بات اب معروف میں داخل ہے کہ سسٹم کی وجودیات عموماً نامعلوم، اور اس کی فعلیات خفیہ اور پراسرار ہوتی ہے۔ سسٹم کی فعلیت کا بہت تھوڑا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ سادگی کا مطلب یہ ہے کہ خود عالمگیر سسٹم کی تفہیم کے امکانات کو مکمل طور پر مسدود کر دیا جائے۔ سادہ بیانی فوری ابلاغ اور فوری معلومیت کی ضرورت سے پیدا ہوتی ہے۔ ابلاغ معنی سے خالی ایک میکانکی عمل ہے۔ عدم معنی کی وجہ سے ابلاغی متن پر صداقت اور عدم صداقت کے معیارات کا اطلاق ہی نہیں ہوتا۔ جس طرح معنی انسان کی ضرورت ہے، اسی طرح صداقت بھی انسان ہی کی ضرورت ہے، اور دونوں کا سسٹم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میڈیا چونکہ وسیع تر معاشی اور سیاسی سسٹم ہی کا انگ اور اس کی فعلیت ہے، اس لیے متن سسٹم اور میڈیا کے طے کردہ تعینات سے باہر نہیں جا سکتا۔ رائے کا بھی یہی مسئلہ ہے کہ انسانی عمل اور رویوں میں اہمیت رکھتی ہے۔ ابلاغی فضا میں ظاہر کی جانے والی رائے کا انسان سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، کیونکہ وہ بھی رائے عامہ کی ہمواری کے لیے اصلاً سسٹم ہی کی ضرورت ہے۔ رائے کے لیے انسان کا autonomous ہونا ضروری ہے۔ سسٹم اور اس میں داخل انسان بیک وقت اور اپنی اپنی شرائط پر autonomous نہیں ہو سکتے۔ یہ اعزاز صرف سسٹم کا ہے۔

تحریر اور پیچیدگی

آج کی دنیا میں پیچیدگی ایک غیرمعمولی capability ہے جو صرف سسٹم کا خاصہ ہے، اور ایک غیرمعمولی privilege ہے جو سسٹم کے پروہت کو حاصل ہے جسے عام زبان میں ٹیکنوکریٹ کہا جاتا ہے۔ پیچیدگی کا معاشرتی اور معاشی اصول یہ ہے کہ انسانی عمل کو پیچیدہ تر بنا دیا جائے اور ذہن سادہ تر رکھا جائے۔ اسی باعث وہ سسٹم کے مظاہر کو ”کرشمے“ کے طور پر دیکھنے کے قابل ہوتا ہے۔ عام سماجی اداروں کے ذریعے جدید انسان کی فارمنگ سادہ خوری کے اصول پر کی جاتی ہے، تاکہ اس میں حافظے اور تفہیم کا مکمل طور پر خاتمہ ہو جائے۔ اگر عام انسانوں کی سیاسی اور میڈیائی فارمنگ میں پیچیدگی داخل ہو جائے تو رائے عامہ کو ”ہموار“ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ سادہ ذہنی کی تربیت اتنی مؤثر ہے کہ عام آدمی سسٹم سے الگ اور باہر پیچیدگی کو قابل مذمت خیال کرتا ہے، اور اپنی ہتک محسوس کرتا ہے۔ سسٹم اور عمل کی پیچیدگی چونکہ طاقت سے قائم ہوتی ہے، اس لیے عام انسان اس کو بہ جبر و اکراہ قبول کر لیتا ہے۔ انسانی ذہن میں حافظے اور تفہیم کا باقی رہنا سسٹم کے لیے مفید نہیں ہوتا۔ اس لیے عمل اور ذہن کے حوالے سے پیچیدگی کے الگ دائرے ہیں، اور ان پر لاگو ہونے والے اصول بھی الگ بنائے گئے ہیں۔ عملی پیچیدگی کو ضرورت کے طور پر اور ذہنی پیچیدگی کو عیب کے طور دیکھا جاتا ہے۔

تحریر اور ورڈ پراسثنگ (word processing)

آج کی دنیا میں تحریر کے حوالے سے اہم ترین معاملہ ورڈ پراسثنگ کا ہے۔ جیسا کہ ہم نے عرض کیا پروسثنگ ڈیڈلائن کے بغیر واقع نہیں ہو سکتی۔ اور ہر طرح کی پروسثنگ کا مقصد پروڈکشن ہوتا ہے۔ پروڈکشن کی شرائط پر صرف متن سازی کی جا سکتی ہے، تحریر ممکن نہیں۔ نصف بیسیویں صدی تک، مشینوں کے ذریعے صرف اشیا کی پراسثنگ ہوا کرتی تھی، لیکن کمپیوٹر کی ایجاد اور غلبے سے اب خود لفظ کی پروسثنگ بھی ممکن ہو گئی ہے۔ اب لفظ بھی اجناس (commodities) میں سے ہے۔ جس طرح مثلاً مچھلی کی پروسثنگ حیات سمیت ممکن نہیں، اسی طرح لفظ کی پراسثنگ معنی سمیت ممکن نہیں۔ ورڈ پراسثنگ معنی پر آخری اور کامیاب assault ہے۔ ورڈ پراسثنگ کی دنیا معنی سے نامانوس دنیا کا نام ہے۔ ہمیں اس امر پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ورڈ پراسثنگ نے لفظ و معنی کی جو نئی تقویم پیدا کی ہے اس میں ہم متن وحی اور اس کی معنویت کو کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں؟

تحریر اور ادراک

افسوس ہے کہ تحریر کے چند پہلوؤں کی طرف اشارہ کرتے کرتے بات طویل ہو گئی اور اصل بات رہ گئی۔ تحریر میں اول ترین اور اہم ترین مسئلہ ادراک کا ہے۔ مثلاً وہ کیا ادراک ہے جو تحریر کو ضروری بناتا ہے؟ انسانی ادراک کیسے تشکیل پاتا ہے؟ اس کے تہذیبی، نفسی اور فنی ذرائع کیا ہیں؟ اور اس ادراک کے اظہار کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ اور اس اظہار کی زمانی اور لسانی ضروریات کا تعین کیسے کیا جا سکتا ہے؟ عصر حاضر میں جدید ابلاغ، ادراک اور اظہار کے مسائل کے خوف سے ہماری تحریر ابھی کوئے نکبت میں روپوش ہے۔ اور جب کبھی وقت ہوا تو اس کی تلاش کو ساتھ نکلیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں