140

بڑھتا ہوا الحاد انتشار کی وجہ – شاہد یوسف خان

مردان یونیورسٹی میں جو دلخراش واقعہ پیش آیا جس میں درجنوں طلباء نے ایک لڑکے عبداللہ کو قادیانیت کی تبلیغ کے الزام میں تشدد کا نشانہ بنایا لیکن انتظامیہ کی مداخلت کی وجہ سے چھوڑ دیا۔ پھر ایک اور نوجوان، جس کا نام مشال خان ہے، سخت تشدد کے ساتھ قتل کر دیا گیا۔ یہ قتل کیوں ہوا؟ یہ تو قانونی اداروں کی تحقیقات کے بعد ہی معلوم ہو سکے گا لیکن مشال پر یہی الزام لگایا جا رہا ہے کہ اس نے توہین رسالت کی تھی۔ کم از کم ان کی فیس بک پروفائل پر تو گستاخی کا کوئی ثبوت موجود نہیں البتہ قوم پرستی و سوشلزم کی حمایت ضرور ملتی ہے جو اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے کہ نوبت قتل تک جا پہنچے۔

گزشتہ چند ماہ سے سوشل میڈیا پر ایسے گستاخان اور ملحدین منظر عام پر آ رہے ہیں جن کے خلاف حکومت نے کارروائی کا اعلان بھی کیا اور چند کو گرفتار بھی کیا لیکن یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ گستاخ کون ہیں اور ان چکروں میں کیوں پھنستے جا رہے ہیں؟ میرا کامل یقین ہے کہ کوئی شخص کسی کے باپ کو گالی دے تو بھی مار کھائے گا لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ یہاں تو انبیائے کرام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخیاں ہو رہی ہیں اور یہ لوگ دندناتے پھر رہے ہیں۔

آج کل منظم انداز سے الحاد کو پھیلایا جا رہا ہے جس کا ہدف تعلیمی ادارے ہیں۔ اس مقصد کے لیے باقاعدہ فکر گاہیں (تھنک ٹینکس) کام کر رہے ہیں جن کو خفیہ ہاتھوں کی طرف سے امداد بھی موصول ہو رہی ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں ناانصافی عام ہو اور قوانین کا اطلاق کمزور ہو، جہاں نوجوانوں کی بڑی تعداد بے روزگار ہو اور اپنی خواہشات کی عدم تکمیل کی وجہ سے مذہب اور رائج نظریات سے بغاوت پر اتر آئے، وہاں یہ آگ بھڑکانے والوں کو کھیلنے کے لیے میدان مل جاتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہےکہ زیادہ تر پڑھا لکھا طبقہ ہی الحاد میں لتھڑا ہوا دکھائی دیتا ہے، وہ بھی عام پڑھا لکھا نہیں بلکہ یونیورسٹی کے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد یہاں تک کہ مدرسوں کے فارغ التحصیل بھی اس چنگل میں پھنستے جا رہے ہیں۔ میں چند ایسے افراد کو ذاتی طور پر جانتا ہوں جو اپنی ناکامیوں یا نظام کی خامیوں کا الزام حکومت کے بجائے مذہب پر دھرتے ہیں اور یوں اس اندھی راہ پر نکل جاتے ہیں۔ اس وقت تعلیمی و صحافتی اداروں میں خاص قسم کے گروہ موجود ہیں جو موجودہ نظام کو ناقص قرار دے کر اس کا ملبہ مذہب پر ڈالتے ہیں اور ان کا سب سے آسان راستہ بائیں بازو کی سیاست ہے۔ اس کے ذریعے وہ نوجوانوں کو قوم پرستی پر اکساتے ہیں اور اگر وہاں سے کامیابی نہ ملے تو سوشلزم اور کمیونزم کے فلسفوں کی آڑ میں الحاد تک پہنچاتے ہیں۔ جتنی بھی قوم پرست جماعتیں یا بائیں بازوں کی سیاسی تنظیمیں ہیں، بظاہر تو پرچار سوشلزم کا کرتی ہیں لیکن اس کی آڑ میں الحاد ہی پھیلایا جاتا ہے۔

اس صورت حال میں سب سے زیادہ قصور ہماری حکومتی نظام ہے۔ انصاف وقت پر نہیں ملتا اور غریب اور امیر کے لیے یکساں نہیں ہے۔ وزیروں کی اربوں کھربوں کی کرپشن پر کیس بھی بن جائیں تو فیصلے نہیں ہوتے جبکہ غریبوں کو جیب تراشی پر بھی سزا دی جاتی ہے۔ نظام تعلیم میں بھی طبقاتی تقسیم پائی جاتی ہے۔ تعلیم یافتہ بے روزگار ہوتے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے ذہنی بے سکونی بڑھ رہی ہے جو مذہبی انتہا پسندی اور الحاد دونوں کے پھیلنے کا سبب ہے۔ ہمارا نوجوان طبقہ فسادی و الحادی قوتوں کے لیے چارہ بنا ہوا ہے۔

اب تازہ ترین واقعے پر مذہب بیزار طبقہ ایک مرتبہ پھر بیدار ہو چکا ہے اور توہین رسالت کے قانون پر انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں۔ اس پاکستان میں جہاں ڈکیت اور چور پکڑ لیے جائیں تو سر بازار زندہ جلا دیے جاتے ہیں، وہاں کوئی انگلی نہیں اٹھاتا لیکن اس طرح کے واقعات پر قانون منسوخ کرنے کی بات کی جاتی ہے حالانکہ دونوں قسم کے واقعات کی کڑیاں نظام کی خرابی سے جا ملتی ہیں۔

خدارا! حکومت اب تو ہوش کے ناخن لے، صورت حال بہت خطرناک ہو چکی ہے اور ملک میں امن عامہ کے درپے ہو سکتی ہے۔ اس لیے الحاد کا راستہ روکنے کے لیے حکومت اپنی صلاحیتیں بروئے کار لائے اور بہترین حل یہی ہے کہ توہین رسالت کے قانون کو باقاعدہ نافذ کیاجائے اور اس کے مرتکب افراد کو قرار واقعی سزائیں دی جائیں۔ دوسری جانب نوجوان نسل کو الحاد اور ایسے ہی تاریک فلسفوں کی گمراہی سے نکالنے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں جس کے لیے بہترین راستہ باعزت روزگار اور انصاف کی فراہمی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

بڑھتا ہوا الحاد انتشار کی وجہ – شاہد یوسف خان” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں