117

برکلے کی وجودی دلیل- فیصل ریاض شاہد

جان لاک نے خواصِ اشیاء کو دو اقسام میں تقسیم کیا تھا، رسل کے بقول لاک کے نزدیک اشیاء کی خصوصیات دو طرح کی ہوتی ہیں۔
1) وہ خصوصیات جنہیں شے سے جدا نہیں کیا جا سکتا، لاک نے ان خواص کو بنیادی خواص کا نام دیا مثلا ٹھوس پن، جسامت، شکل و صورت اور تعداد وغیرہ
2) وہ خصوصیات جنہیں شے سے الگ کیا جا سکتا ہے یا دوسرے لفظوں میں وہ خواص جو شاہد کی ذات پر منحصر ہیں، انہیں لاک نے ثانوی خصوصیات کا نام دیا مثلا آواز، رنگ، خوشبووغیرہ

برکلے نے کہا کہ خواص کی یہ تقسیم غلط ہے کیونکہ کوئی بھی خصوصیت ایسی نہیں شے چشم تصور میں شے سے الگ نہ کیا جا سکے بلکہ اشیاء صرف تب تک موجود ہیں جب تک وہ کسی شاہد (مشاہدہ کرنے والا) کے سامنے ہیں۔ یا وسیع تر معنوں میں “وجود صرف تب تک موجود ہوتا ہے جب تک کوئی ذہن مدرک (ادراک کرنے والا ذہن) اس کا ادراک کر رہا ہو۔ یہ بات نہایت دلچسب ہے،

چسپاں شدہ تصویر میں برکلے کا تمام فلسفہ ایک جملے میں سطربند ہے، وہ کہتا ہے
“ٹو بی از ٹو بھی پرسیوڈ”
یعنی “ہونا مدرک ہونا ہے”، سادہ لفظوں میں “ہستی (وجود رکھنا) ادراک کئے جا سکنے پر منحصر ہے”
برکلے کہتا ہے کہ اشیاء کی بنیادی و ثانوی کوئی صفات نہیں ہوتیں بلکہ ان کی تمام صفات صرف “ہوتی” ہیں، ان کی تقسیم کرنا غلط ہے۔ کوئی شے صرف تب ہی موجود کہلا سکتی ہے جب تک وہ کسی شاہد کے حیطہ ادراک میں رہے، حیطہ ادراک میں نہ ہونا درحقیقت غیر موجود ہونا ہے۔ گویا برکلے کے نزدیک وجود ادراک پر منحصر ہے۔
وہ درخت کی مثال دے کر بات سمجھاتا ہے کہ بالفرض جنگل میں ایک درخت گرا جس سے آواز پیدا ہوئی۔ آواز چونکہ کانوں سے سنی جاتی ہے، لہذا جب سننے کیلئے کان یا سننے والا ہی جنگل میں موجود نہ ہو۔۔۔بلکہ صحیح معنوں میں پوری دنیا میں کوئی ایک بھی کان موجود نہ تو پھر یہ ہر گز نہیں جانا جا سکتا کہ درخت کے گرنے سے آواز پیدا ہوئی۔۔ کیونکہ آواز منحصر ہے کانوں پر۔ پس آواز کے وجود کے لئے ضروری ہے کہ کوئی کان بھی موجود ہو، کان نہیں تو آواز بھی نہیں۔
اسی طرح رنگ، خوشبو، ٹھوس پن، تعداد وغیرہ تمام اعراض صرف تب ہی موجود ہو سکتی ہیں جب انسان، جانور، پرندہ یا کوئی دوسرا ذہن مدرک موجود ہو۔

برکلے درحقیقت مادیت کا دشمن تھا۔ اس کے نزدیک اشیاء تو موجود ہیں کیونکہ ہم لوگ ان کا ادراک کرتے ہیں لیکن مجرد مادہ اپنی خام حالت میں موجود نہیں کیونکہ وہ ناقابل ادراک، بلکہ محض ایک تصور ہے۔ کائنات تو موجود ہے لیکن مادے کا کوئی وجود نہیں!
ہاتھ میں ایک گلاب کا پھول پکڑیں، اس کا لمس محسوس کریں، اسکی نرمی و خوبصورتی سے محظوظ ہوں، اس کی خوشبو سونگھیں۔۔ یہ سب کچھ کرچکنے کہ بعد اب چشم تصور میں باری باری اس کی سب خصوصیات کی نفی کرتے جائیں۔ یعنی سب سے پہلے اس کی خوشبو مائنس کر دیں۔۔۔اب پھول میں خوشبو نہیں!
اب اس کے تمام رنگوں کو نفی کر دیں۔۔۔ اب پھول، چشم تصور میں، موجود تو ہے لیکن نہ کوئی رنگ نہ کوئی خوشبو
اب اسکی شکل و صورت کی نفی کر دیں۔۔۔۔
اور پھر اس کی دیگر تمام صفات کو مائنس کر دیں۔۔۔
پیچھے کیا بچا؟؟؟
کچھ بھی نہیں!!!!!!
سرے سے پھول ہی غائب ہو گیا،،، چشم تصور سے بھی غائب ہو گیا!
پیچھے کچھ بھی نہیں بچا۔۔۔مادہ نامی کوئی شے کہاں ہے؟ کہیں نہیں۔۔۔۔ مادہ ہوتا تو باقی بچتا ناں! مادہ ہے ہی نہیں۔

ہم انسان انفرادی طور پر کائنات کی مختلف اشیاء کا مشاہدہ کر کے انہیں پیرایہ وجود میں لاتے ہیں پس اشیاء موجود ہیں۔ لیکن ہم انسان مل کر بھی پوری کائنات کا ادراک نہیں کر پائے لیکن اس کے باوجود کائنات موجود ہے! آخر یہ کیسے ہو گیا۔۔۔ابھی ابھی تو برکلے نے کہا تھا کہ وجود کسی ذہن مدرک پر منحصر ہے۔۔۔ تو پھر وہ ذہن کس کا ہے جو پوری کائنات کو ادراک میں رکھے ہوئے ہے۔۔کہ جس کی بدولت یہ کائنات موجود ہے!
برکلے کہتا ہے کہ وہ ذہن مدرک، جس نے کائنات کو ادراک میں لا کر اسے وجود بخشا، خدا ہے،،، وہ سب سے بڑا ذہن،،، وہ سب سے بڑا وجود،،،وہ سب سے بڑا موجود،،،،وہ سب سے بڑا محیط کنندہ خدا ہے۔۔۔ وہ تو ہر شے کو محیط ہے پر کوئی شے اسے محیط نہیں۔۔۔

فیصل ریاض شاہد

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں