146

بدون شرع حسن و قبح کی تعیین میں مسائل کا بیان- ڈاکٹر زاہد مغل

امام اپنے رسالے ”علم الکلام” میں فرماتے ہیں:

”افعال تین قسم کے ھوتے ہیں:

1) جو فاعل کی خواھش کی مطابق ھوتے ہیں، یہ اسکے حق میں حسن کہلاتے ھیں

2) وہ جو اسکی خواھش کے مخالف ھوں، وہ قبیح

3) اور جو نہ موافق ھوں اور نہ مخالف، وہ عبث کہلاتے ھیں

چنانچہ ایسا اکثر ھوتا ھے کہ ایک ہی فعل ایک شخص کو اچھا معلوم ھوتا ھے اور دوسرے کو برا۔ اب یہ فعل پہلے کی نسبت حسن جبکہ دوسرے کی نسبت قبیح کہلائے گا۔ (اس اعتبار سے دیکھو) تو حسن و قبح اضافی امور ہیں جن میں طبائع میں اختلاف کی وجہ سے بہت کچھ اختلاف ھے۔ اور اسی لئے کوئی شخص حسن و قبیح کا درست معیار قائم نہیں کرسکتا۔ طبائع کا اختلاف تو درکنار، ایک ہی شخص ایک فعل کو اپنے حق میں مستحسن خیال کرتا ھے تو دوسرے وقت میں اسی کی قبیح سمجھنے لگتا ھے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ ایک ہی وقت میں ایک اعتبار سے ایک فعل کو اچھا اور دوسرے اعتبار سے برا سمجھتا ھے، یعنی وہی ایک فعل مستحسن بھی ھوتا ھے اور قبیح بھی۔ ایک شخص زنا کو حسن سمجھتا ھے اور کوئی دوسرا اگر اسکا یہ راز افشا کردے تو اسے چغلی سمجھتا ھے۔ مگر ایک دوسرا شخص اسکو قبیح تصور کرتا ھے۔ اگر کوئی شخص کسی حکمران (یا مثلا آجکل ملالہ) کو قتل کردے تو اسکے دشمن اس فعل کو حسن کہیں گے مگر اسکے احباب اسے قبیح قرار دیں گے…..پس پتہ چلا کہ حسن و قبح (بالذات) اضافی امور ہیں…..بعض بے وقوف لوگ جب خدا کے افعال کو اپنی خواھشوں کے مطابق نہیں پاتے تو انکو قبیح کہنے لگ جاتے ہیں (آجکل بعینہ اسی رویے کا اظہار ‘اسلام دین فطرت ھے’ کی آڑ میں احکامات شرع کی تاویلات کے ذریعے کیا جاتا ھے)…..اسکا سبب یہ ھے کہ وہ سمجھتا ھے کہ جو چیز اسکی طبع کے خلاف ھے وہ ساری دنیا کی طبائع کے خلاف ھے اور اس مفروضے کی بنا پر اسے علی الاطلاق قبیح کہہ دیتا ھے”۔

امام صاحب کی موضوع سے متعلق افکار کی کیٹیگرائزیشن اور انکی نپی تلی وضاحت قابل دید ھوتی ھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں