30

ایمان و الحاد، وجودی پوزیشن اور عقلی موقف- محمد دین جوہر

وجودی موقف اور عقلی موقف کے حوالے سے جناب عمار خان ناصر صاحب اور جناب زاہد مغل صاحب کے ہاں بات جاری رہی لیکن میں بوجہ مصروفیت اس میں شرکت نہ کر سکا۔ عمار خان صاحب نے مقدم از عقل وجودی موقف کو ”فلسفے کی پیش پا افتادہ“ بات قرار دیا ہے جو میری ناچیز رائے میں درست تبصرہ نہیں۔ جدیدیت نے اس ”پیش پا افتادہ“ مسئلے پر پوزیشن لینے کے بعد ہی جدید دنیا کی تخلیق کی ہے اور گزشتہ چند صدیوں میں ہماری دینی روایت کی جو کایاکلپ ہوئی ہے اور علم کا جنازہ جو اٹھا ہے اس کا بنیادی سبب بھی اس علمی مسئلے سے لاعلمی کے سبب فرقان کا خاتمہ ہے۔ علم کی نیو امتیازات کی اینٹوں سے اٹھائی جاتی ہے، اور امتیازات کا سفر فرقان میں اپنے کمال کو پہنچتا ہے جو حق و باطل کا امتیاز ہے۔ وجودی اور عقلی مواقف کی بحث فرقان کو علم کے تمام درجات میں مؤثر دیکھنا ہے۔

گزارش ہے کہ سائنسی علوم کے آغازِ عروج میں عقلی مابعد الطبیعیات کے امکان کا سوال براہِ راست اسی مسئلے سے جڑا ہوا تھا۔ کانٹ کا بنیادی مقصد نیوٹن کے دریافت کردہ علم طبیعیات کی ارض گیری میں دنیائے انسان کے امکان کو باقی رکھنا تھا۔ عقلی مابعد الطبیعیات کا سوال وجودی موقف کے لیے درکار علم کو عقلی بنیاد فراہم کرنا تھا، جس کی حیثیت ایک خام آرزو کی تھی۔ میری دانست میں کانٹ کا منصوبہ جزوی اور وقتی طور پر ہی کامیاب ہو سکا، کیونکہ مارکس اور نٹشے کی فلسفیانہ تعلیمات اس پر اسٹیم رولر چلا دیا۔ بطور مسلمان ہمارا مسئلہ مابعد الطبیعیات نہیں ہے۔ ہمارا مقصود مذہبی عقیدہ ہے۔ عقلی مابعد الطبیعیات کا سوال عقل کی متحقق وجودیات سے ارادی انکار اور سوال کے جواب کو پہلے سے متعین کر دینے سے پیدا ہوتا ہے۔ یورپ کے داخلی نزاعِ مذہب اور استشراق میں یہی مسئلہ وحی اور امکانِ وحی کے طور پر ظاہر ہوا۔ یہ دراصل عقلی مابعد الطبیعیات کے سوال کی تبدیل شدہ شکل ہے۔ بطور علمی قضیہ اس کا مقصد وحی اور امکانِ وحی کو نبوت اور رسالت سے منفک کر کے اسے ”علمیانے“ اور عقل سے استناد دینے کا تھا، تاکہ عقل سے محدد و مقید وحی وجودی موقف کی جگہ لے سکے۔ بعد ازاں، استشراق کے سماجی اور تاریخی علوم میں جدید عقل کی وجودیات اور حرکیات کو پھر سے بنیاد بنا کر ’وحی کا مسئلہ‘ حل کرنے کی کوشش کی گئی۔ پاؤں کو سر پر مقدم کرنے کی یہ جدید استشراقی کوشش جلد ہی ڈھیر ہو گئی اور کوئی نتیجہ برآمد نہ ہو سکا۔

اس میں مسئلہ یہ تھا کہ وحی اور امکان وحی کو علمی قضیہ ہی نہیں بنایا جا سکتا کیونکہ اپنی ماہیت اور نوعیت میں یہ مسئلہ ہرمانیوٹکس، سائنسی طریقۂ کار یا جدلیاتی تفہیم کا موضوع ہی نہیں ہے۔ نہایت سادہ لفظوں میں، کفار مستشرقین اپنے گھمنڈ میں جس سوال سے تعرض کر رہے تھے وہ ذرا فرق کے ساتھ ”نبوت کما ھی“ کا سوال تھا۔ یہ سوال عقلاً محال ہے اور کوئی علمی قضیہ بھی نہیں ہے۔ امکانِ وحی اور ماہیت وحی کے ”عقلی قضیے“ کی آڑ میں وہ اصلاً ”نبوت کما ھی“ کا مسئلہ حل کرنا چاہتے تھے، لیکن ٹامک ٹویوں میں یہ استشراقی بیل بھی منڈھے نہ چڑھ سکی۔ مذہبی روایت میں اور ایماناً یہ کوئی سوال ہی نہیں ہے۔ لیکن جعلسازی سے یہ مردہ گھوڑا اٹھایا جا سکتا ہے اگر امکان وحی کے سوال کو ”نبوت کما ھی“ کا التباسی علمی عنوان دے دیا جائے۔ اس طرح یہ جعلی علمی قضیہ مذہب کا چولا پہنا کر ایمانیات میں درآمد کیا جا سکتا ہے۔ اب استناد کا مسئلہ شروع ہوتا ہے جو عقل سے تو مطلق ممکن نہیں ہے، اس لیے مذہب کی تروڑ مروڑ سے فراہم ہو گا۔ سادہ لفظوں میں یہ کوئی عقلی قضیہ ہے اور نہ کوئی ایمانی مطالبہ۔ بہر حال یہ عقلِ عیار کے سو بھیسوں میں ایک ضرور ہے۔ ایسا کارنامہ جس میں عقل اور ایمان دونوں بیک وقت جاتے رہیں دنیا میں اب صرف مسلمانوں ہی کو سوجھ سکتا ہے۔ انتہائی کم تر سطح پر بطور عقلی سوال یہ قطعی لغو ہے، اور ایماناً یہ ایک شیطانی وسوسہ ہے۔ ہمارا مطلوب اور منتہائے مقصود ”نبی کما ھو“ ہے۔ رسالتِ محمدی صلی اللہ علیہ و سلم وجود کی طرح بدیہی ہے اور ہمارے لیے اساس شعور و وجود ہے۔ جدید عہد میں حضور علیہ الصلوۃ و السلام کی ذات والا صفات سے بے وفائی اور غداری بعض مسلمانوں کے لیے ہر میدان میں ایک منافع بخش سرگرمی بن گئی ہے۔ میں اہل علم کی خدمت میں بارہا گزارش کر چکا ہوں کہ دین کی کوئی نئی تعبیر حضور علیہ الصلوۃ و السلام کی حیثیت مبارکہ کو ازسر نو متعین کیے بغیر ممکن ہی نہیں۔ نعوذ باللہ من ذالک۔

متعلقہ علوم کی کتب میں ان دو مواقف کو عموماً ontological stance/position اور epistemological stance/position کی تراکیب میں بیان کیا جاتا ہے۔ میں خود کو ایسے پیچیدہ مسائل پر گفتگو کے قابل خیال نہیں کرتا لیکن اہلِ علم کی بے نیازی یا امور عابثہ میں مشغولیت کے باعث خود کو بہ اکراہ اس مسئلے کی روبرو پاتا ہوں۔ میں پہلے بھی اپنی کئی گزارشات میں اس مسئلے کی طرف توجہ دلا چکا ہوں۔

گزارش ہے کہ وجودی پوزیشن یا وجودی موقف انفعالی ہے جس میں کوئی حرکت نہیں، اور نہ یہ کسی بنیادی حرکت سے کوئی حق یا سچ دریافت کرتا ہے۔ اسی باعث ”سچ کی دریافت“ وغیرہ کی جعلسازی کا بھی اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وجودی موقف اقتضا اور طلب کے احوال سے مرکب ایک ملکہ ہے۔ اسے وجودی حالت کہنے کا ایک ہی مطلب ہے کہ یہ محض ’ہونے‘ میں حق کے روبرو ہے۔ اگر حق کو دریافت کرنا پڑ جائے تو وہ حق نہیں ہے کوئی اور شے۔ جدید عہد میں ”تلاش حق“ کے جو رزم نامے لکھے گئے ہیں وہ محض فاؤسٹسی اور سعیری افسانے ہیں۔ انسانی احوال ہستی ایسے ہیں کہ حق محسوس اور راست ”مدرک“ ہے، معقول نہیں ہے (شیخ اکبرؒ)۔

حق وجوداً اور وہباً معلوم ہے، اور ارادے سے تسلیم اور مستحضر ہے۔ عقلی اور استدلالی موقف فاعلی ہے اور حرکت سے اپنے مطلوب تک پہنچنے کی استعداد رکھتا ہے۔ یہ امر جدید عقل کی اپنی بنائی ہوئی اوضاعِ تلاش حق اور ظروف علم سے واضح ہے۔ مثلاً لوتھری، جدید اور فلسفیانہ ہرمانیوٹکس کا مقصد متن میں حق کا حضور، الوہی معنی یا آثار غیب تلاش کرنا قطعاً نہیں ہے، ان کو مٹانا ہے۔ ہرمانیوٹکس کی منہاج اصلاً عقل جدید کا انکار ہی ہے جو اس کی فعلیت میں ڈھل گیا ہے۔ مثلاً سائنسی طریقۂ کار کسی حق و ہدایت وغیرہ کی تلاش کا قطعاً کوئی ذریعہ نہیں ہے بلکہ نیچر پر حق کی چھاپ اور اس کے احوال مخلوقیت کو کھرچتے رہنے کی کارکردگی ہے تاکہ حق کا کوئی پرتو بھی اس میں باقی نہ رہے۔ سائنسی طریقۂ کار عقلِ انکار کی حزم و احتیاط کا ایسا سانچہ ہے کہ یہ جس راستے پر نکلے وہاں حق کا ہر نشان پہلے سے ہی محو کر دیا گیا ہو۔ ہرمانیوٹکس اور سائنسی طریقۂ کار کا مقصود یہ ہے کہ شعور و وجود میں حق کے آثار و نشانات کو ایسے مٹا دیا جائے کہ ان کا کبھی ہونا بھی انسانی اجتماعی حافظے سے محو ہو جائے۔ یہاں اس امر کو یاد رکھنا ضروری ہے کہ جدید عقل سے مقدم اس کا انفعالی وجودی موقف ہے، اور اس کے آگے حصول علم کا فاعلی طریقۂ کار ہے۔ یہ تینوں ایک کل بناتے ہیں۔ یہ پورا پیکج ہے۔ ہم جدید عقل کے علمی طریقۂ کار سے متاثر اور اس کے حاصلات کے دیوانے ہیں۔ اس میں کچھ حرج نہیں لیکن سودا دھیان سے کرنے کی ضرورت ہے۔ نئے علم کے شجرہ نسب میں پرومیھئس اور فاؤسٹس کے دو بڑے نام بھی آتے ہیں۔ ان کا کچھ تعارف بھی معلوم کر لینا چاہیے۔

وجودی اور عقلی موقف کی بحث میں جو اصل بات ہے اس کا سادہ ترین بیان یہ ہے کہ ”عقل کا گھر اور منزل ایک ہوتی ہے“۔ عقل کے اپنے بنائے ہوئے علمی طریقۂ کار کی حیثیت ان دونوں کے درمیان ایک خودساختہ راستے کی ہے۔ عقلی علوم آخری تجزیے میں نہ صرف وجودی موقف ہی کو مفصل کرتے ہیں، بلکہ وجودی موقف کی پہلے سے قائم کردہ تحدیدات سے باہر نہیں جاتے اور نہ جا سکتے ہیں۔ عقل اپنی پوری وجودیات اور حرکیات میں وجودی موقف کی کارندہ ہے۔ جدید عقل اور علوم، جدید انسان کے وجودی موقف کو سائنسی طریقۂ کار سے گزار کر جس غیر حتمی نتیجے پر پہنچتے ہیں، وہ اصلاً اس کا وجودی موقف ہی ہوتا ہے۔ مثلاً سائنسی علوم کی بنیاد میں کام کرنے والے تمام اوریجنری (originary) مفروضات وجودی موقف پہلے ہیں اور ”سائنسی نتائج“ بعد میں ہیں۔ ان کو سائنسی نتیجہ قرار دینا محض سادہ لوحی ہے۔ دوسرے لفظوں میں ”گھر“ اور ”منزل“ میں معمولی فرق یہ ہے کہ ”گھر“ صرف وجودی موقف کا بیان ہے، اور ”منزل“ وجودی موقف+ سائنسی طریقۂ کار+علمی تفصیل+سائنسی نتائج وغیرہ ہے، جس سے وجودی موقف کے عقلی اور مضبوط ہونے کا التباس پیدا ہو جاتا ہے۔ مثلاً بگ بینگ کا مفروضہ منشائے کائنات کے طور پر وجودی موقف کا جز ہے۔ سائنس اپنی تحقیقات کے آخر میں یہی اعلان کرتی ہے کہ ”لہذا یہ ثابت ہوا کہ یہ کائنات بگ بینگ کے ذریعے وجود میں آئی ہے“۔ اوریجنری مفروضات دو بنیادی علمی ضرورتیں پوری کرتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ اپنے تابع علم کے مقوم وجود ہیں، اور دوسرے یہ کہ وہ اپنے تابع علم کے لیے منظِم (organizing principle) بھی ہیں۔ یہی صورت حال حیاتیات اور نظریۂ ارتقا کی ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ ہماری خوش فہمیاں بالکل مختلف اور جیبی نوعیت کی ہیں۔

گزارش ہے کہ وجودی پوزیشن receptivity ہی کا دوسرا نام ہے۔ انسان کی وجودی پوزیشن چند خلقی اقتضآت اور مطالبات سے مرکب ہے۔ ہستیِ انساں ان خلقی اقتضآت اور مطالبات کو اپنے اندر سے یا اپنے بالذات وسائل سے پورا کرنے کی قطعی کوئی استعداد نہیں رکھتی۔ ان اقتضآت میں مرکزی ترین حق کی طلب ہے۔ وجودی موقف اختیار کرنا انسانی وجود کی ناگزیر ضرورت ہے، اور اس ضرورت کی پورائی ہوئے بغیر کارِ علمی اور کارِ زندگی کا آغاز بھی نہیں ہو سکتا۔ وہ ذرائع اور وسائل جن سے وجودی موقف کی ضرورت پوری کی جا سکتی ہے، ان میں سے صرف ایک مذہب ہے۔ یہ حیثیت عقلی قضایا، سائنس، توہم پرستی، رسوم و رواج، اجرام، تراشیدہ صنم، ذاتی پسند ناپسند یا اہوا یا لایعنیت یا کسی چیز کو بھی حاصل ہو سکتی ہے۔

مذہب سے مکمل انکار و بغاوت کے بعد جدید مغربی انسان نے اس طلب کو پورا کرنے کے اس کے لیے دو ذرائع استعمال کیے: ایک، speculative ، یعنی خیالی/تخمینی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عالمِ معلوم اور کارِ مفہوم کے لیے وضع کردہ عقلی اور نظری منہج کو کسی عالم نامعلوم پر وارد کرنا۔ وجودی موقف بنانے کے لیے یہ ذریعہ بالعموم جدید مغربی علوم کی تشکیل میں برتا گیا کیونکہ وجودی موقف عقلی فعلیت کی شرط اول ہے۔ اس طرح مغربی شعور نے ”سچ کے خود ساختہ“ معیارات مقرر کر کے اور انہیں اپنا وجودی موقف قرار دے کر اپنا کام شروع کیا۔ نٹشے نے بڑی زبردست بات کی ہے کہ مغربی تہذیب اور علوم میں نابودیت (nihilism) اس وقت ظاہر ہوئی جب سائنس کے اپنے طے کردہ سچ کے معیارات خود اس کے گھر آ نکلے اور اسے خالی پایا۔ انسانی شعور کی وجودی ضروریات کو پورا کرنے اور وجودی موقف کی تشکیل کے مغرب نے بالعموم speculation ہی کا سہارا لیا۔ لیکن انسان کو درپیش عمل کا مسئلہ بھی کچھ کم پیچیدہ نہیں اور ہر وجودی موقف انسانی عمل کو بھی شامل ہوتا ہے۔ اس مقصد کے لیے جدید مغرب نے emancipatory یعنی حریتی وسائل کو اختیار کیا اور خودمختاری، حریت اور آزادی جیسے تصورات کو وجودی موقف کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ اس طرح نابودیت (nihilism) جس کا اکھوا مغربی شعور میں خنجر کی طرح پھوٹا تھا انسانی عمل میں بھی داخل ہو گئی۔ اب مغربی تہذیب مکمل nihilism کی تہذیب ہے۔ بطور مسلمان ہمارے ہاں وجودی ذمہ داری، فرقانی شعور اور انسانی حمیت کے خاتمے کی وجہ سے ہم اسی nihilism کو دلہن بنا کے گھر لانا چاہتے ہیں۔ ہم میں انسانی ادراک کی اتنی استعداد بھی باقی نہیں رہی کہ ہم دیکھ سکیں کہ یہی تو وہ بھیرو ہے جو ہمارے گھر آنگن میں گزشتہ دو صدیوں سے ناچ رہا ہے۔

عقلِ انسانی غیرمعمولی پیدا کار صلاحیت (productive capacity) رکھتی ہے، لیکن اس کی نہاد یہ ہے کہ یہ ٹڈی دل کی طرح خوش خوراک بھی ہے اور سانپ کی طرح اپنے بچوں کو نگلنا اس کا من پسند مشغلہ ہے۔ انسان کے خود ساختہ وجودی موقف کا مسئلہ یہ ہے کہ عقل اس پر مسلسل adjustments مسلط کرتی رہتی ہے اور اپنے پیدا کردہ علم کو بھی ریڈیکل تبدیلی سے گزارتی ہے۔ مذہبی موقف کے برعکس، وجودی موقف ایک داخلی عدم استحکام رکھتا ہے، لیکن کسی ریڈیکل تبدیلی کے بغیر adjsustments سے گزرتا ہے۔ زیر بحث مسئلے کی حدود میں رہتے ہوئے یہ بات جاننا زیادہ اہم ہے کہ انسان کا خود ساختہ وجودی موقف، عقل اور علم ایک ہم گام اکائی کے طور پر کام کرتے ہیں۔ یہیں سے اس امر کا امکان بھی پیدا ہو جاتا ہے کہ عقل کا پیدا کردہ علم ہی وجودی موقف یا عقیدہ بن جائے جیسا کہ سائنٹزم (Scientism) سے واضح ہے۔

وجودی موقف نہ صرف عقلی طریقۂ کار کو متعین کر دیتا ہے بلکہ اس طریقۂ کار کی بنیاد پر پیدا ہونے والے علم کے خدو خال بھی ممکنہ حد تک متعین اور واضح کر دیتا ہے۔ سائنسی طریقۂ کار سچ کی تلاش کا کوئی معروضی طریقہ نہیں ہے، بلکہ سچ کو وجودی موقف کی پہلے سے طے کردہ تحدیدات کے مطابق تلاش اور بیان کرنے کی طریقہ ہے۔ جیسا کہ میں نے ایک گزشتہ شذرے میں نٹشے کے حوالے سے عرض کیا تھا کہ جدید علم اور سائنسی نابودیت (scientific nihilism) کی بنیاد یہی ہے۔

اس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ وجودی موقف اور مذہبی عقیدہ عقل اور علم سے ایک جیسے لیکن مختلف مطالبات رکھتے ہیں۔ یہ ممکن نہیں کہ خود ساختہ وجودی موقف کی بنیاد پر فعال عقل اور اس کے پیدا کردہ علم کو مذہبی عقیدے کے ساتھ نتھی کیا جا سکے۔ اور عین یہی وہ سرگرمی ہے جو ہمارے ہاں Islamization of knowledge جیسے لغو منصوبے کی صورت میں آئی تھی۔ اگر خود ساختہ وجودی موقف کے تحت پیدا ہونے والے علم کو مذہبی عقیدے کے ساتھ جوت دیا جائے تو عقیدہ بتدریج کمزور ہو کر ختم ہو جاتا ہے۔

زوال اور شکست کے ثقافتی اثرات، استعماری جبر، استشراقی مہمات اور جدیدیت کے پیدا کردہ سائنسی اور سماجی علوم کے غلبے میں ہم اپنے مذہبی عقیدے کی معنویت کسی بھی سطح پر باقی نہیں رکھ سکے اور اس کی حیثیت اب محض ایک ٹول کی ہے جسے عمومی انتشار کی صورت حال میں ہم ایک دوسرے کو کافر و مشرک قرار دینے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یا ہم نے اپنے عقیدے کو سماجی اور تاریخی صورت حال کا ”تجزیاتی علم“ بنا دیا ہے تاکہ اس کا خاتمہ بالخیر جلد از جلد ہو جائے۔ مغربی انسان اپنے وجودی موقف میں adjsustments عقل اور علم کے ساتھ ہم قدم رہنے کے لیے کرتا ہے جبکہ ہمارے ہاں یہ تبدیلی معکوس ہے۔ جدید علم کے دباؤ میں عقیدے کی عقلی تعبیرات اس کے انتشار اور خاتمے ہی کا باعث ہیں۔ ہم بھی اب اپنے عقیدے کو ہرمانیوٹکس کی پان دے کر سائنسی طریقۂ کار کی فساں پر لگانے کے آرزو مند ہیں۔

مذہبی عقیدہ وجود و شعور کا قبلہ نما ہے، اور دینی اقدار کے ساتھ مل کر انسان کی becoming کا سانچہ ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ عقیدے اور علم کی باہمی نسبتیں کیا ہیں؟ اس میں عقیدے کی اولین ذمہ داری علم پر judgement کی ہے، اور یہ عقیدے کے تناظر میں علمی کام کا آغاز ہے۔ اگر عقیدہ علم پر کوئی ججمنٹ نہیں دے سکتا تو وہ عقل اور علم سے بامعنی نسبتیں پیدا نہیں کر سکتا اور نہ عقل انسانی کی نئی تشریط سے علم کی پیداوار میں معاون ہو سکتا ہے۔ ہم نے یہ امر بالکل فراموش کر دیا ہے کہ اقبال کے ہاں کم از کم یہ ابتدائی قدم اٹھایا جا چکا تھا:

تازہ پھر دانش حاضر نے کیا وہ سحر قدیم

گزر اس عہد میں ممکن نہیں بے چوبِ کلیم

محمد دین جوہر

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں