232

امام بخاری کا وصال

250ھ کا زمانہ ہے، نیشا پور (ایران کا شہر) کے باسیوں کی شدید خواہش پر حضرت امام بخاریؒ وہاں تشریف لے گئے۔ انتہائی دیدہ زیب اور پرکشش انداز میں آپ کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ وہاں کی اقلیم علم کے شہنشاہ محمد بن یحییٰ ذہلی نے بنفس نفیس استقبالیہ انتظام و انص فرمایا،”میں نے اس سے پہلے اتنا عظیم الشان استقبال نہ کسی عالم کا دیکھا نہ حاکم کا۔”
حضرت امام بخاری ؒ نے وہاں درس حدیث کا آغاز فرمایاتو آپ کے حلقہ درس میں تشنگان علم کا ایک انبوہِ کثیر حاضر ہوتا۔ مگر زیادہ دیرتک یہ سلسلہ قائم نہ رہ سکا۔ بعض اختلاف پسند حضرات نے آپؒ سے خلق قرآن کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا، “القرآن کلام اللہ غیر مخلوق (قرآن اللہ کی مخلوق نہیں، کلام ہے)۔” جب انہوں نے اس جواب کی وضاحت پر اصرار کیا تو آپؒ نے فرمایا، ” ہمارے افعال مخلوق ہیں اور الفاظ بھی ہمارے افعال ہیں)۔ جونہی آپؒ نے یہ فرمایا تو وہاں ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔ چونکہ محمد بن یحییٰ ذہلی الفاظِ قرآن کے بارے میں غیر مخلوق ہونے کا اعتقاد رکھتے تھے، اس لئے وہ آپؒ سے علیحدہ ہو گئےاور امام مسلم بن الحجاج قشیریؒ(امام مسلم-صاحبِ صحیح مسلم) کے سوا لوگوں نے آپ ؒ کے درس میں حاضر ہونا ترک کر دیا(کیونکہ اہل نیشا پور علامہ ذہلی کے رعب میں مبتلا تھے) چنانچہ امام بخاریؒ نے واپس اپنے شہر بخارا آنے کا ارادہ فرما لیا۔
امام بخاریؒ جب اپنے شہر کی طرف روانہ ہوئے تواہل بخارا خوشی اور مسرت سے جھومنے لگے اور والہانہ انداز میں امام صاحب کا استقبال کیا۔ امام بخاریؒ نے بخارا میں درس حدیث شروع کر دیا اور وارفتگان علم حدیث اکتساب فیض کیلئے جوق در جوق آپ کی خدمت میں حاضر ہونے لگے۔ لیکن یہاں بھی ہو بہ ہو وہی معاملہ ہو گیا جو شرپسند عناصر کی طرف سے نیشا پور میں درپیش آیا۔ یہ ہوس پرست حسد کی آگ میں جلنے لگے لہذا انہوں نے امیر شہر خالد بن احمد کو مشورہ دیا کہ وہ امام بخاریؒ کو حکم دے کہ امام صاحب اس کے بچوں کو تعلیم دینے کیلئے اس کے دولت کدہ پر حاضر ہوا کریں۔چانچہ امیر شہر نے فرمائش کر دی لیکن امام بخاری نے بڑی تمکنت کے ساتھ جواب دیا، ” اسے کہہ دو میں سلاطین کے دروازے پر علم کو لے جا کر رسوا کرنا نہیں چاہتا، اگر اسے کسی شے کی ضرورت ہے تو اسے چاہئے کہ وہ میری مسجد یا گھر میں میرے حلقہ درس میں حاضر ہو۔”
یہ سننا تھا کہ امیر شہرسخت ناراض ہو گیا اور اس نے چند موقع پرست مفتیوں سے امام بخاری کے خلاف فتویٰ لے لیا اور امام صاحب کو شہر بدر کر دیا گیا۔اس طرح امام بخاریؒ نےسمرقند جانے کا ارادہ کر لیا۔
جب امام صاحبؒ سمر قند کی طرف روانہ ہوئے تو آپ کو خبر ملی کہ اہل سمر قند آپ سے متعلق دو متضاد آراء میں تقسیم ہو گئے ہیں۔ چانچہ آپؒ نے وہیں خرتنگ کے مقام پر جو سمر قند سے چھ میل کے فاصلے پر تھا، آگے جانے کا ارادہ منسوخ فرما دیا اور خرتنگ میں اپنے اقرباء کے پاس اقامت اختیار کر لی۔ یہیں قیام کے دوران میں ایک رات نماز تہجد سے فارغ ہونے کے بعد امام صاحب نے رب کریم کے حضور التجا کی، ” اے اللہ تیری زمین وسیع ہونے کے باوجود میرے لئے تنگ ہو چکی ہے ، مجھے اپنے جوار اقدس میں واپس بلا لے۔”
اس کے بعد آپ کی طبیعت ناسازرہنے لگی اور بالآخر 256ھ شوال کی چاند رات تھی، لوگ صبح عید الفطر منانے کی خوشیوں میں مصروف تھے کہ بارگاہ رب العالمین کا مقرب عبد مومن، رحمۃ للعالمین آقاﷺ کا عاشق صادق، احادیث صحیحہ کا مدون اول، امام المحدثین حضرت امام بخاریؒ اپنی حیات مستعار کی باسٹھ بہاریں اس جہانِ رنگ و بو میں گزارنے کے بعد اور لاکھوں انسانوں کے دلوں کو نور علم سے منور کرنے کے بعد مخصوص دعاوں کا ورد کرتے ہوئے اپنی جان کا نزرانہ پروردگار عالم کے حضور پیش کرنے کیلئے بستر مرگ پر دراز ہوئے، جسم پر دمکتے موتیوں کی مثل پسینے کے آثار نمودار ہوئے اور اسی اثناء میں داعی اجل کو لبیک کہہ دیا۔ ادھر عاشق رسولﷺ نے آنکھیں بند کیں، ادھر حسن و زیبائی کا مرقع اور غمزدہ دلوں کا سہارا آقاﷺ اپنے صحابہ اکرام رضی اللہ تعالیٰ عنھم کی معیت میں استقبال کیلئے تشریف لائے۔ کتنا بلند اور باوقار ہے وہ امام وقت جسے اپنی آغوش محبت میں لینے کیلئے آقا کریم ﷺ بنفس نفیس قدم رنجہ فرما ہوئے۔
نماز جنازہ ادا ہو چکنے کے بعد جب آپ کو قبر میں رکھا گیا تو اس مٹی سے کستوری کی خوشبو آنے لگی اور ایک مدت تک لوگ اس مٹی کو بطور تبرک اپنے گھروں میں لے جاتے رہے۔ امام ملا علی قاری فرماتے ہیں جب امام بخاریؒ کے وصال کے دو سال بعد سمرقند میں شدید قحط پڑا تو لوگوں نے حاکم وقت سے التجا کی کہ وہ امام بخاریؒ کی قبر انور پر حاضر ہو کر ان کے وسیلہ سے بارش کی دعا فرمائیں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور ایسی موسلا دھار بارش ہوئی کہ حاکم وقت اور اہل سمرقند جو امام بخاریؒ کی قبر انور پر آئے تھے، اگلے سات روز تک واپس سمرقند نہ جا سکے۔
اللہ رب العزت کے حضور التجا ہے کہ ہم گناہ گاروں کو امام بخاریؒ کے نقش قدم پر چلنے کی سعادت عطا فرمائے اور امام صاحب کے نورانی فیوض میں سے ہمیں بھی کچھ حصہ عطا فرما کر ہمارے دنیا و آخرت کو منور فرمائے۔ آمین

فیصل ریاض شاہد

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں