92

الحاد کا پھیلاؤ اور پاکستان – فارینہ الماس

الحاد (apostasy) انحراف کے معنوں میں استعمال ہونے والی اصطلاح ہے، جس کا مآخذ عربی زبان کا لفظ لحد ہے۔ لحد، قبر کی اس دراڑ کو کہا جاتا ہے جو کہ درمیان سے الگ ہو جاتی ہے، یعنی ہٹ جاتی ہے۔ انھی معنوں میں ملحد ایک ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جو دین کی اصل سے ہٹ جائے۔ وہ خدا اور اس کے وجود کا منکر اور کائنات کی لافانیت کا قائل ہو جاتا ہے۔ الحاد کی تاریخ شاید اتنی ہی پرانی ہے جتنی مذاہب کی، لیکن اس کی آبیاری میں فلسفے اور سائنس کا نمایاں ہاتھ ہے۔ یہ جدت افکار کی اس روش کی انتہا کا نام ہے جس نے محض سوال کرنا سکھایا۔ سائنس کا تمام تر تعلق معروضی ہستی سے ہے جو خارجی دنیا میں صرف دریافت کرنا جانتی ہے، اور مذہب کا تعلق خارجی کے ساتھ ساتھ بھرپور طور پر داخلی دنیا سے بھی ہے، جسے واردات قلبی کا نام دیا جاتا ہے۔ سائنس محض مشاہدہ سے وابستہ ہے جبکہ مذہب مشاہدے اور آگہی دونوں سے وابستہ ہے۔ فلسفہ کی کمزوری یہ ہے کہ یہ کبھی مطمئن نہیں ہوتا۔ سوال در سوال اس کی سرشت میں ہے۔ جس حد تک جواب مل جائے وہاں مطمئن اور جہاں جواب میسر نہ ہو پائے، وہاں منکر۔ فلسفے اور سائنس دونوں ہی کو دلائل اور ثبوت درکار رہتے ہیں۔ الغرض منطق اور فہم کی وہ حد جہاں پہنچ کر انسان کی سوچ کے پر جلنے لگیں، بس وہیں سے انسان کے اس امتحان کا آغاز ہوتا ہے جو اسے ماننے والوں یا نہ ماننے والوں میں تقسیم کرتا ہے۔ اسی نقطہ انتہا پر متزلزل ہوجائے تو ایک فرشتہ صفت انسان بھی علم کی فلسفیانہ، سائنسی اور نظریاتی بنیادوں پر مذہب یا خدا کے وجود کا منکر ہونے لگتا ہے۔ یعنی سوچ، دانش اور ذہانت کی انسان کے لیے قدرت کی کھینچ دی گئی لکیر کے آگے جو جھانکے گا، وہ انتشار کا شکار ہوگا۔ ایسا انتشار انسان کو خودکشی پر بھی مجبور کر سکتا ہے اور خود پرستی پر بھی۔ خود پرستی یہ کہ اپنی تمام تر ذہانتوں اور دانش مندیوں پر غرور کی اس حد کو چھو لینا کہ اس کے بعد خود کو ہی اس قابلیت کا اصل مآخذ اور وارث سمجھ کر، اپنے علاوہ کسی اور ذات کو اس کا باعث ماننے سے منکر ہو جانا۔ اطاعت اور تابعداری کے اسرار و رموز سے تائب ہو کر کائنات کی کسی ان دیکھی طاقت یا روح کو محض ایک خام خیالی یا کہانی سے مشروط کرنا۔ یہی نشانیاں ہیں نہ ماننے والوں کی۔ ایسے کئی ذہنی اور روحانی طور پر منتشر لوگ آپ کو غبی افراد کے اداروں میں بھی دکھائی دیتے ہیں جو دماغی توازن کھو کر خود کے پیغمبر یا رسول ہونے کے بھی دعویدار ہو جاتے ہیں۔

یورپ اور ایشیا میں ملحدوں کے تاریخی شواہد پانچویں اور چھٹی صدی عیسوی میں پائے جاتے ہیں۔ ایسے فلسفی جو سوچ کے پرانے دھارے کے منکر ہو چکے تھے، یا جو اس دور کے مذہبی ٹھیکیداروں اور بادشاہوں کی ملی بھگت سے قائم کردہ استبدادیت کے خلاف آواز اٹھانا چاہتے تھے، انہیں ملحد کا نام دیا گیا۔ جیسے سقراط کو بھی ایسے خیالات پر منکر قرار دیا گیا۔ درحقیقت یہ اس احساس محرومی کا اظہار تھا جو چرچ اور حکومت کے باہمی اتحاد سے پیدا کیا گیا تھا۔

پانچویں صدی میں سو فسطائیوں کے دور میں یونانی کلچر کے بہت سی روایتی مفروضوں کے خلاف سوالات اٹھائے گئے۔ ایک طویل تاریخ ہے جو مذہبی روایات کی پابندیوں سے منافرت کے طور پر سامنے آئی۔ ایسا خود اسلام کے ابتدائی دور میں بھی سامنے آیا۔ نویں صدی میں ابن الراوندی، ایسا سکالر تھا جس نے مذہب کی حیثیت پر سوالات اٹھائے۔ اس کے علاوہ ابوبکرالرازی جو ایک طبیب اور المعاری جو ایک شاعر تھا، اور ابو عیسیٰ الوراق جیسے لوگوں نے مذہب کو اپنی منافرت کا نشانہ بنایا۔ یورپ کے قرون وسطیٰ کے دور میں الحاد کے اثرات پائے جاتے ہیں۔ جب مذہب پر کھلے عام تنقید ہونے لگی۔

الحاد کا لفظ سب سے پہلے 1566ء میں لکھی گئی انگریزی کتابوں میں ظاہر ہوا۔ یہ مذہبی اجارہ داری کے خلاف ایک ردعمل تھا، جو اس وقت کے دانشوروں نے ظاہر کیا. سولھویں اور سترھویں صدی تک الحاد کا لفظ کسی شخص کے منکرانہ خیالات کے لیے اسے بےعزت کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ سائنس اور ریاضی کی ایجادات نے الحاد کا راستہ استوار کیا۔ نیوٹن، کوپر نیکس اور ڈسکارٹس جیسے لوگوں نے نیچرل لا کو اہمیت کا حامل قرار دیا، اور یہ تصور بڑھنے لگا کہ اس کائنات کو کوئی خدا نہیں بلکہ نیچرل قوانین چلا رہے ہیں۔ بعد ازاں فرانسیسی انقلاب نے الحاد کو بھرپور طریقے سے پنپنے کی راہیں فراہم کیں۔ روسو اور والٹیئر نے اسے اپنے خیالات سے سند عطا کی۔ اس طرح آزاد خیالی، روشن خیالی اور لبرل ازم کی اصطلاحات کو انیسویں صدی میں ایک کامیاب موڑ ملا۔ لوگوں کو یہ تاثر دیا گیا کہ مذہب انسانی اور سماجی ترقی کی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔اور مذہبی اجارہ داری ہی سماج کو مختلف طبقوں میں تقسیم کرتی ہے جو انسانی استحصال کا باعث ہے۔

بیسویں صدی میں الحاد نے انتہائی جابرانہ طریقہ اختیار کیا۔ الحاد اس صدی میں یورپ میں پہلے سے بھی زیادہ متحرک ہو چکی تھی۔ اسی تحریک کے ذریعے سیکولر ہیومنزم، مارکسزم، انارکی ازم اور بعد ازاں فیمنزم جیسی تحریکوں نے جنم لیا۔ ان تحریکوں نے مذہب کو ان معاشروں میں یہ کہہ کر یرغمال بنانے کی منصوبہ بندی کی کہ مذہب بنیادی انسانی حقوق کے حصول کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ اور عیسائیت نے دنیا میں بدامنی اور جنگ کا ماحول پیدا کیا ہے۔ الحاد کو ان تحریکوں سے اس قدر عروج ملا کہ اب ریاستوں کی نوعیت سیکولر ہونے لگی۔ 1930ء میں سوویت روس میں لینن نے مذہب کی مخالفت میں لاتعداد پادریوں کو موت کے گھاٹ اتار گیا اور چرچوں کو بند کر دیا گیا۔ سٹالن اور مسولینی نے بھی چرچ مخالفت کا بھرپور اظہار کیا۔

اکیسویں صدی کے یورپ میں سیکولر ازم خوب پروان چڑھی کہ اس کی حمایت میں بہت سا لٹریچر لکھا گیا۔ سیکولر کانفرسوں کا انعقاد ہونے لگا۔ خواتین نے بھی ایسی کانفرنسوں کا انعقاد کیا، اور 2012ء میں الحادی خواتین کا ایک ادارہ قائم بھی قائم ہوا۔ یہ ایسی صدی ثابت ہوئی جس نے مغرب کی لادینیت کے اثرات سے دوسرے ممالک کو بھی متاثر کیا۔ اس طرح ایشیا اور افریقہ سے لے کر مسلم ممالک تک اس کے اثرات سے نہ بچ سکے۔

اس وقت دنیا میں الحاد دو طرح کے مفہوم میں لیا جاتا ہے۔ ایک مفہوم وہ جس میں خدا کے وجود اور اس کائنات کی یونیورسل سپرٹ سے انکار نہیں کیا جاتا لیکن اس بات کو اہمیت دی جاتی ہے کہ مذہب کو انسان کی ذاتیات تک محدود رکھا جائے۔ یورپ میں زیادہ تر ریاستی سیکولرازم کا مفہوم یہی ہے۔ لیکن دوسرا مفہوم بہت واضح ہے جس میں سرے سے ہی خدا کے وجود اور اس کائنات کی یونیورسل سپرٹ کو ماننے سے انکار کر دیا جاتا ہے۔ اس نظریے کے مطابق اس کائنات کا ظہور صرف اور صرف سائنس کی دین ہے اور یہ کہ اس زندگی کے بعد کوئی اور زندگی ممکن ہی نہیں۔گویا یہ گروہ منکرین اعظم پر مبنی گروہ ہے۔ یہ سائنس اور فلسفے کو ہی اپنا خدا مانتا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق اس وقت خدا کے وجود سے انکار پر مبنی ”الحاد“ عیسائیت اور اسلام کے بعد دنیا کا تیسرا بڑا عقیدہ ہے۔ دنیا میں کل %63 آبادی مذہبی ہے، %16 الحاد سے وابستہ ہیں، اور باقی تناسب ان لوگوں کا ہے جو ملحد تو ہیں، لیکن خدا کے وجود کو مانتے ہیں، یا وہ لوگ جو ملحد نہیں لیکن مذہب کو روزمرہ زندگی میں کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ یورپ ملحدین کی جنت ہے، فرانس میں %41، سویڈن میں %39، جرمنی میں %36، یوکے میں %30 ملحدین آباد ہیں، اور اسی طرح دنیا کے مختلف ممالک میں ان کا مختلف تناسب موجود ہے۔

ایک فرد ملحد کیوں اور کن حالات میں بنتا ہے؟ اس پر کچھ دانشوروں اور خود الحاد کا شکار ہو کر بعد ازاں الحاد کو چھوڑ دینے والوں کی تحقیق اور تفکر کے بعد کچھ اہم عوامل سامنے آئے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان کے اندر ایک ہی وقت میں خیر اور شر دونوں ہی طرح کے عناصر کارفرما ہوتے ہیں۔ خیر کی نسبت شر میں پائی جانے والی مقناطیسی طاقت انسان کو بآسانی زیر کر لینے کی صلاحیت کی حامل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کے مذہبی اخلاقیات سے دور ہونے کے امکانات کبھی بھی معدوم نہیں ہوتے، جیسے جیسے سائنس نے انسان کی سوچ کو منطق یا دلیل کا قائل کیا، کچھ لوگوں کا مذہبی عقائد سے رشتہ کمزور ہونے لگا۔ دوسری طرف سائنس کے عروج نے مادیت کو پھیلانے میں اپنا کردار ادا کیا. اس مادیت پرستی میں ایک طرف تو اخلاقیات کمزور ہوئیں اور دوسری طرف گناہ کے احساس سے بچنے اور اپنے گناہ کو آزادانہ ماحول میں پروان چڑھنے دینے کی خاطر اس طرح کے اذہان نے فطرتی طاقتوں کی حکم عدولی ہی میں عافیت جانی۔ یہ افراد مادر پدر آزادی کے روح رواں بنے۔ ایک طرف ماننے والا اگر اندرونی طور پر گناہ کے احساس سے خوفزدہ ہے، تو دوسری طرف نہ ماننے والے بھی اس احساس گناہ کا شکار ہیں، اور اسی احساس کو اپنے تئیں زیر کرنے کے لیے وہ سزا یا جزا کے نظام سے ہی انحراف برت کر مطمئن ہو جانا چاہتے ہیں۔ وہ الحاد پھیلا کر انسانی معاشرے کو اپنے خیالات میں ڈھالنے کے بھی متمنی ہیں۔

ملحدوں کے کوائف دیکھتے ہوئے ہمیں یہ بھی ماننا پڑے گا کہ یہ انتہا درجے کے ذہین اور فطین لوگ ہوتے ہیں۔ ان کی ذہانت و فطانت پر خود ان کا ہی غرور غالب آنے لگتا ہے، جو انھیں خود پرستی کی طرف لے جاتا ہے۔ وہ خود پرستی جو انہیں خود اپنا ہی خدا بنا دیتی ہے۔ یہ اپنی ذات کے سحر میں اس قدرگرفتار ہو جاتے ہیں کہ انہیں اپنی ذات کی محبت اور اپنے خیالات کی پرستش کسی اور ذات کی تابعداری یا اطاعت کے قابل ہی نہیں چھوڑتی۔ ملحدوں پر کی گئی تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ان میں سے زیادہ تر وہ لوگ ہیں جن کے اپنے والدین سے تعلقات بہت سی پیچیدگیوں کا شکار تھے۔ پال وٹز ایک ایسا ہی سابق ملحد تھا جو الحاد میں داخل ہو کر بعد ازاں اس سے تائب ہو گیا. اس نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ”اکثر نمایاں ملحدوں پر تحقیق کرنے سے معلوم ہوا ہے کہ کئی ملحدین شفقت پدری سے محروم تھے، اور وہ جن کے والد موجود تھے، ان کے باہمی تعلقات کچھ خاص خوشگوار نہ تھے۔“ ملحدوں میں بہت سے ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو بچپن میں سنگین قسم کے گھریلو تشدد کا شکار رہے۔

الحاد کے مطالعہ سے معلوم پڑتا ہے کہ زیادہ تر نوجوان اس کا شکار ہوتے ہیں۔گویا الحاد کے پھیلاؤ کی ایک وجہ فرد کی ذہنی ناپختگی بھی ہے، جیسے کم سن لڑکوں کو انتہا پسندی کی طرف لے جانا آسان ہوتا ہے، اسی طرح ملحدوں کے لیے بھی کم عمر لڑکوں کو ورغلا نا آسان ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ میں ملحدوں کی زیادہ تعداد 14 سے 17 سال کے لڑکوں پر مشتمل ہے۔

الحاد کو عروج دینے والوں میں ہم جنس پرست لوگوں کا بھی ہاتھ ہے جو فطرت کی مخالفت اور اپنے رویوں کو جواز دلانے کے لیے مذہب کے منکر ہو جاتے ہیں۔ ایک یورپی نفسیات دان نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ وہ ملحد صرف اس وجہ سے ہوا تھا کہ جب وہ stanford university میں داخل ہوا، تو وہاں اس کے پسندیدہ پروفیسرز الحاد کے پیروکار تھے، اور وہ محض انہیں راضی رکھنے کے لیے ملحد ہوگیا۔ الحاد کے پھیلاؤ کی ایک وجہ مغرب کے خاندانی نظام کا درہم برہم ہو جانا بھی ہے، جب انسان خاندانی نظم و ضبط اور روایات سے بری الزمہ ہو جائے تو آزاد پسندی اس کے اندر ایسی رچ بس جاتی ہے کہ مذہب بھی ایک بار محسوس ہونے لگتا ہے۔

ملحدوں کا مؤقف یہ تھا کہ مذہب جنگ اور بدامنی کا باعث بنتا ہے، لیکن دوسری عالمی جنگ میں زیادہ تر بربریت کا مظاہرہ کرنے والے لیڈران سیکولر تھے۔ مذہب کو دیوار سے لگا دینے والی کمیونزم آج اپنے ملکوں میں مذہب کو ایک بار پھر پنپنے کے مواقع دے رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان ملکوں میں مذہب کی بیخ کنی کے بعد عوام میں جس قسم کی لاقانونیت اور وحشت سامنے آئی، اس نے الحاد کا پردہ فاش کر دیا۔ اور خود الحادی حکمرانوں نے جس طرح مذہبی لوگوں پر ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑے، وہ واقعات بھی ان کے اندر کی انسانیت کا منہ چڑاتے نظر آئے۔ سائنس اور فلسفے کو خدا ماننے والوں کے لئے خود فرانسس بیکن کی یہ بات ان کا جواب ثابت ہوتی ہے کہ ”سائنس کا مختصر علم انسان کو ملحد بناتا ہے لیکن سائنس کا گہرا اور لامحدود علم یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ خدا موجود ہے.“

پاکستان میں گزشتہ کچھ سالوں سے ملحدوں کی ایک تعداد سامنے آئی ہے. سوشل میڈیا کے مختلف پیجز اور سائٹس بھی بنائی گئی ہیں۔ وکی پیڈیا پر سرچ کر کے دیکھیں تو کئی پاکستانی ملحدوں کے نام ملیں گے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان کے گروپ کے زیادہ تر ممبران لاہور، کراچی اور اسلام آباد سے تعلق رکھتے ہیں، اور ان میں زیادہ تر افراد انجینئرز، ڈاکٹرز، کمپیوٹر آپریٹرز، وکلاء، اور آرٹسٹ وغیرہ ہیں۔ اوسط عمر 20 سے 35 سال ہے۔ فیس بک پر ہی حالیہ طور پر جن پیجز کا چرچا ہو رہا ہے، اور انھیں چلانے والے جن لوگوں کے نام سامنے آ رہے ہیں، ان کا تذکرہ کچھ اس قدر ہو چکا ہے کہ دوبارہ تذکرے کی ضرورت ہی نہیں رہی۔ لیکن ان الحادی گروپوں پر کھلے عام مذہب اسلام اور پیغمبر اسلام کی تضحیک کا جو وطیرہ اپنایا گیا، وہ انتہائی ناقابل برداشت فعل ہے جس پر کوئی پابندی نہ لگانا ہماری حکومت کی غفلت اور بےحسی کا واضح ثبوت ہے۔ لیکن آج جہاں لوگوں میں اس سنگین مسئلے کا احساس جاگا ہے، وہاں محض چند لوگوں کو کافر یا بےدین قرار دے دینا کافی نہیں، بلکہ اب پوری تیاری کے ساتھ اس فساد کا مقابلہ دانشورانہ، محققانہ سوچ اور مدلل انداز بیان و انداز تحریر سے کرنا ہوگا۔ بات محض چند افراد کی نہیں بلکہ پورے معاشرے کے انتہائی تیزی سے بدلتے انداز فکر و سماجی روایات کی ہے۔ مذہبی علمائے دین بہت کم ہی اس تیاری کے ساتھ نظر آتے ہیں، یا تو وہ اس فتنے کا جواب دینا ہی گوارا نہیں کرتے۔ یا شاید ان کی سوشل نیٹ ورک تک رسائی ہی نہیں، لہذا وہ اس سارے فساد سے ہی بےخبر ہیں۔

الحاد کی تاریخ بتاتی ہے کہ اس کے پھیلاؤ کا باعث مذہب نہیں بلکہ مذہبی پیروکار اور ان کی استبدادیت بنی۔ چرچ کے نظام کو بادشاہت کی ظالمانہ اور استحصالی ساکھ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔ لوگوں کو مذہب کے ذریعے ڈرا دھمکا کر اس استحصال کو ذہنی اور جسمانی طور پر قبول کرنے کی ترغیب دی جاتی رہی۔ آج اگر پاکستان میں اس کے اثرات پائے جاتے ہیں تو اس کے اصل ذمہ دار بھی ہمارے وہ مولانا حضرات ہیں جن کی اسلام سے متعلق معلومات اور تعلیم ناقص اور سطحی ہے۔ وہ آج کی پر تجسس نوجوان نسل کو ان کے اذہان میں اٹھتے سوالات کا کوئی تسلی بخش جوابات نہیں دے پاتے، جس سے سائنس اور فلسفے کا علم حاصل کرتے نوجوانوں کے بھٹکنے کا احتمال قدرے بڑھ جاتا ہے۔ یہ صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے جب ان کے والدین بھی انھیں مطمئن کرنے سے قاصر رہتے ہیں بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ مذہب کے متعلق کوئی سوال اٹھانا ہی ناقابل معافی جرم اور گناہ بنا دیا جاتا ہے۔ زیادہ تر مذہبی رہنماؤں کی جہالت تو ایک سوالیہ نشان ہے ہی لیکن سب سے زیادہ خطرناک حقیقت ان کے ذاتی کردار سے ابھرتی ہے۔ وہ کردار جو وہ مدرسوں کے معصوم بچوں پر انتہائی سنگدلانہ اور غیر انسانی جنسی و جسمانی تشدد سے ظاہر کرتے ہیں۔ ان میں اتنی قابلیت ہی نہیں کہ وہ قرآن حفظ کرنے والے بچوں کو قرآن کا سبق اور درس بھی دے سکیں۔ پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بےگناہ انسانوں کا خون بہاتے لوگ بھی مذہب سے بیزاری پیدا کرنے کا باعث بنے۔ مختلف فرقوں سے وابستہ علماء کی اپنے مخصوص عزائم کے لیے پھیلائی جانے والی منافرت بھی اس بیزاری کو جنم دینے کا باعث بنیں۔ اس سلسلے میں ہماری عدم دلچسپی خود ہماری ہی نسلوں کو گمراہ کر رہی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ حکومت پر دباﺅ ڈالا جائے کہ وہ مساجد اور مدرسوں میں علمائے کرام کا انتخاب ایک مخصوص مذہبی اور دنیاوی علوم کی مستند تعلیم کے حصول کے بعد ہی ممکن بنائیں اور انہیں بہترین معاشرتی و معاشی مقام دیا جائے تاکہ وہ خود کو قابل عزت و احترام ثابت کرنے میں کامیاب ہو سکیں۔ انہیں علم کے حصول کے لیے دوسرے ممالک میں بھی جانے کے لیے حکومتی سطح پر وظائف دیے جائیں تاکہ ان کا علم عصر حاضر کے تقاضوں سے بہتر طور پر نپٹنے کے قابل بن سکے۔

پاکستان میں الحاد کی حوصلہ افزائی کرنے میں ایک اور اہم کردار ہمارے تعلیمی ادارے ادا کر رہے ہیں۔ ملک کے اہم اور مہنگے تعلیمی اداروں نے مذہب بیزاری کی باقاعدہ طور پر ایک مہم چلا رکھی ہے۔ ان میں اساتذہ کو سختی سے پابند کیا جاتا ہے کہ وہ دوران لیکچر طلبہ سے کسی قسم کی کوئی مذہبی بات نہیں کریں گے۔ اکثر اسکولوں میں بچوں کو صبح کا آغاز اللہ کے پاک نام سے کرنے کی بھی اجازت نہیں۔ ان اسکولوں میں اردو میں بات کرنا ایک جرم سمجھا جاتا ہے اور ٹیچر کو منع کیا جاتا ہے کہ اگر کوئی بچہ اردو میں بات کرے تو اس کا جواب ہرگز نہ دیا جائے۔ جہاں اپنی قومی شناخت کو مسخ کیا جا رہا ہے، وہاں مذہب کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے، وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ لیڈی ٹیچرز کو شال یا دوپٹے کے بجائے محض ایک سٹالر یا سکارف کی اجازت ہوتی ہے۔ اور ٹیچر کو یہ بھی تاکید کی جاتی ہے کہ وہ بچوں سے زیادہ سے زیادہ مغرب کے نظام اور روایات سے متعلق بات کریں ۔موت، قبر، آخرت کی کوئی بات انہیں نہ بتائی جائے۔ بچوں میں احساس برتری جگایا جائے، اگر وہ غلط بھی کریں یا کہیں تو بھی انہیں سپورٹ کیا جائے۔ یہ وہ نظام تعلیم ہے جو حقیقی معنوں میں طلبہ کو خود پرستی اور خود ستائشی کی لت میں مبتلا کر دیتا ہے۔ جو طلبہ کو سوال کی نوعیت اور اہمیت سمجھے بغیر سوال در سوال کرنے کا عادی بناتا ہے۔ جو طلبہ کے اندر مغربی آزادی کو سمجھنے اور اپنانے کی ترغیب دیتا ہے. یہی وہ ہمت افزائی ہے جس کا مظاہرہ گزشتہ دنوں ایک کالج کی طالبات نے کر کے سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ ایسے آزاد منش نوجوان اگر بعد میں ملحد ہو جائیں تو یہ کوئی حیرت کی بات نہیں۔

سوشل میڈیا بھی بہت حد تک اس فساد کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوا ہے۔ اس میڈیم نے ایسے لوگوں کو متحد ہونے اور اپنے منصوبے پھیلانے میں بھرپور مدد فراہم کی۔ اپنے دماغ کا تجسس نیٹ پر دوسروں سے شیئر کرتے کرتے کب یہ دوسروں سے متاثر ہو کر اپنے خیالات میں بدلاؤ لے آتے ہیں، خود انہیں بھی پتہ نہیں چلتا، کیونکہ وہ پہلے سے ہی دانشورانہ انتشار میں مبتلا ہوتے ہیں، اس لیے بنا کسی حیل و حجت کے دوسروں کے نقطہ نظر سے مرعوب ہو جانا بہت ممکن ہوتا ہے۔ وہ لوگ بھی الحاد پھیلا رہے ہیں جو مغرب کی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہوتے ہیں۔ وہ ان یونیورسٹیوں کے ملحد پروفیسروں سے اس قدر متاثر ہو جاتے ہیں کہ ان کے ایجنڈے پر کام شروع کر دیتے ہیں۔

پاکستان میں بڑھتا احساس محرومی یا غربت انسان کو اس فساد میں نہیں ڈال سکے جس قدر مادیت پرستی اور ہوس نے انھیں دہریت کی طرف مائل کر رکھا ہے۔ بہت تیزی سے بدلتی معاشرتی قدروں نے انسانیت کو الجھا کر رکھ دیا ہے۔ سیکولراز م کی وہ تحریک جو مادر پدر آزادی کی قائل ہے، وہ زیادہ تر ان لوگوں کے ہاتھ میں ہے جو شراب کے نشے میں دھت رہتے ہیں، اور زنا کاری میں انھیں کوئی برائی دکھائی نہیں دیتی۔ جو جوئے اور حرام شے کو کھا لینے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے۔ یہ لوگ rational نہیں۔ اگر rational ہوتے تو مذہب سے الجھنے کے بجائے معاشرے کی برائیوں کو قابو کرنے اور بہترین انسانی مفاد کے لیے مہم چلاتے، وہ شعور اور قانون کی بالا دستی کی بات کرتے، ذات پات کے نظام کے خلاف آواز اٹھاتے۔ غربت اور جہالت کے خاتمے کے لیے سرگرم ہوتے۔ انہیں یہ یقین کرلینا چاہیے کہ ہمارے مذہب اسلام نے نہ تو کبھی امارت اور سماجی عدم استحکام کی حمایت کی نہ قانون کی تنفیذ میں کسی کے مقام و مرتبے کو فوقیت دی۔ اسلام نے معاشرتی ناہمواریوں کے خلاف بہت سے نظام متعارف کروائے، اگر یقین نہ آئے تو جا کر مغرب سے پوچھیں کہ وہ آپ کے نظام مملکت اور حکومت و معاشرت کو قابل تعریف کیوں گردانتے ہیں۔ اگر مذہب اسلام میں خرابی موجود ہے تو دنیا میں ہر سال کثیر تعداد میں لوگ اسلام کیوں قبول کر رہے ہیں؟ امریکہ میں ہر سال بیس ہزار سے زائد، برطانیہ میں پانچ ہزار سے زائد اور سپین جہاں سے ماضی میں اسلام کو ملک بدر کر دیا گیا تھا، ہر سال چار ہزار لوگ اسلام کیوں قبول کر رہے ہیں، یہ تو چند ایک ممالک کا تذکرہ ہے، باقی اعداد و شمار تو اس سے بھی کہیں زیادہ ہیں۔ اگر اسلام میں خرابی نظر آتی ہے تو مغرب کے ان نامور دانشوروں کے تجزیات پر مبنی آرٹیکل پڑھ کر دیکھ لیں جن کا ماننا ہے کہ اسلام کی وسیع پیمانے پر قبولیت کی وجہ یہ ہے کہ لوگ اسے بہت سادہ اور پریکٹیکل مذہب مانتے ہیں، اور اس میں دوسرے مذاہب کی طرح انسان کی ذات پات کی سطح پر کوئی تقسیم نہیں پائی جاتی۔ کمزوری مذہب اسلام میں نہیں بلکہ ہم مسلمانوں کے ذاتی اعمال میں ہے۔

پاکستان میں منکرین مذہب کو یہ سمجھنا چاہیے کہ یہاں اکثریتی عوام معتدل سوچ کے حامل لوگ ہیں۔ یہاں جس انتہا پسندی کی بات کی جاتی ہے وہ گنتی کے چند لوگوں میں پائی جاتی ہے جن کی اپنے مذہ سے متعلق معلومات انتہائی ناقص ہیں۔ ان ملحدین کو یہ بھی جاننے اور ماننے کی ضرورت ہے کہ دنیا میں اسلام پر اتنی ریسرچ خود مسلمان ممالک میں نہیں ہو رہی جتنی یورپ میں کی جا رہی ہے۔ انہیں یہ بھی باور کرانے کی ضرورت ہے کہ روحانیت کا دنیا سے تعلق توڑنا ناممکن ہے. یہ وہ حقیقت ہے جو انسان کے بہت سے اندرونی مسائل سے نپٹنے کی طاقت عطا کرتی ہے۔ ان مسائل کا حل جنہیں سائنس حل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتی۔

(یہ تحریر سوشل نیٹ ورک پر کچھ ملحدین کے چلائے جانے والے پیجز پر گونجنے والی بحث کے تناظر میں لکھی گئی ہے۔ اسلام کا بہت گہرا مطالعہ نہ ہونے کی وجہ سے بتائی گئی تاریخ یا دلائل میں اگر کوئی جھول یا کمی نظر آئے تو قارئین اس پر تنقید کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ اس موضوع پر میرا ایک تفصیلی آرٹیکل ”وہی اصل مکان و لامکاں ہے“ کے عنوان کے تحت دلیل پر پہلے بھی پیش کیا جا چکا ہے۔ ف ا)

اپنی رائے کا اظہار کریں

2 تبصرے “الحاد کا پھیلاؤ اور پاکستان – فارینہ الماس

اپنا تبصرہ بھیجیں