154

الحاد کا مختصر تعارف – ظہور احمد

الحاد دین سے مکمل بیزاری کا نام ہے۔ اس کی بنیاد خدا کے انکار پر یا کم از کم اس مسئلے میں شک پر قائم ہے۔ جو شخص خدا کو نہ مانے یا اس کے وجود میں شک کرے اسے ملحد کہتے ہیں۔ کچھ اہل مذہب بھی ایسے ہیں جو مذہب کی طرف منسوب ہوکر بھی ملحد ہیں جیسے بدھ مت۔

اگرچہ ازمنہ قدیم میں ملحدین کی تعداد کافی کم رہے ہی لیکن ہمارے زمانہ میں الحاد بہت تیزی سے پھیل رہا ہے۔ چنانچہ بہت سارے مذاہب الحاد یا الحادی نظام میں عملاً ضم ہوتے چلے جارہے ہیں۔

حیات ملحدین نے زندگی گزارنے کے لیے ایک نظام حیات کو چنا ہے جس کے اپنے عقائد اور اعمال ہیں۔ ملحدین کے عقائد ملحدین کے بنیادی عقائد انکار پر مبنی ہیں مثلاً خدا کا انکار، فرشتوں کا انکار، رسولوں کا انکار، آخرت کا انکار شریعت کا انکار۔ اسی وجہ الحاد کو مذہب نہیں کہا جاتا کیونکہ مذہب کی باضابطہ تعریف میں کسی چیز کے اثبات کی ضرورت ہوتی ہے اور یہاں مکمل نفی پائی جاتی ہے۔ ( اگرچہ عوامی الفاظ میں سے بھی ایک مذہب ہی مان لیا گیا ہے کیونکہ الحاد بھی اپنا نظام زندگی پیش کررہا ہے اور اس پر اصرار بھی کر رہا ہے۔ )۔

ملحدین کی بڑی دو قسمیں ہیں۔

1۔ Atheist یعنی منکرین خدا۔ یہ مکمل طور پر خدا کے منکر اور اس پر اصرار کرنے والے ہیں۔

2۔ Agnostic جنہیں متشکّک کہتے ہیں۔ یہ خدا کے وجود کو نہیں مانتے لیکن ان باتوں کے بارے میں کوئی حتمی رائے بھی قائم کرنا نہیں چاہتے .

ان میں سے دوسرا گروہ غیر جانبدار رہنا چاہتا ہے جبکہ پہلا گروہ اپنا نظریات کے اثبات کے درپہ رہتا ہے اور اسے ان نظریات پر یقین
بھی ہے۔ ملحدین کے اعمال عمومی زندگی گزارنے کا مقصد چونکہ ملحد خدا، رسول، آخرت اور مذہب جیسی کسی چیز کا قائل نہیں۔ اس وجہ سے اس کی کل زندگی کا تعلق اس دنیا اور اس زندگی پر محنت کرنے سے ہوتا ہے۔ چنانچہ ایک ملحد کی پوری کوشش کا حاصل یہ ہے کہ کس طرح اس زندگی کو زیادہ سے زیادہ پُر لذت بنایا جائے جس میں ملحد کی ہر خواہش پوری ہو۔ ظاہر ہے اس کے لیے بھرپور محنت کرنے کی ضرورت ہے تو ملحدین نے اپنی زندگی کو شروع سے آخرت تک اس طرح مرتب کردیا ہے کہ جس کے ذریعے زیادہ سے زیادہ اس دنیا پر محنت کی جاسکے۔ چنانچہ بچوں کے لیے سکول کی تعلیم کا خاص نظام جس میں انہیں اس دنیا کے علوم سے واقفیت ہو اور وہ بڑے ہوکر دنیا کے لیے کارہائے نمایاں انجام دے سکیں۔ تعلیم سے فراغت کے بعد کسی بھی دنیاوی پیشے سے تعلق جس میں مرتے دم تک اس دنیا کے لیے کچھ کرجانے کا جذبہ اور بڑھاپے کے کچھ دن کی راحت۔ ملحدین کی عمومی زندگی پر ایک نظر صبح کام کے لیے اٹھنا، کام چاہیے تعلیمی ہو یا کوئی جاب ہو، کام پر جانا، کام سے واپسی پر گھر آنا، کھانا پینا، شام کے فارغ وقت ٹی وی دیکھ لینا، گانے سن لینا، اگلے دن کا کام کرلینا، یا کبھی سیر کے لیے تھوڑی دیر باہر نکل جانا۔ چھٹی والے دن دیر تک سویا رہنا، سیر و سیاحت کرنا، عیاشی کرنا اور عیاشی کے سامان جمع کرنا۔ غرض ملحد کے صبح و شام میں روحانیت نام کی کوئی چیز نہیں پائی جاتی کیونکہ وہ روحانیت کا قائل ہی نہیں ہے۔ ایک ملحد کو صرف دنیا سے غرض ہے۔

ملحدین کی عمومی زندگی گزارنے کے اصول آزادی یعنی کوئی انسان جو کہنا چاہے یا جو کرنا چاہیے اس اس کام کی اجازت ہو، کوئی روک ٹوک نہ ہو چاہے وہ کام کسی مذہب والے کو کتنی ہی تکلیف کیوں نہ دے۔ چنانچہ عورتوں کو لباس اور ذات میں آزادی، جنسی تعلقات میں آزادی۔ اسی طرح لوگوں کو ہم جنس پرستی میں آزادی۔ وغیرہ ملحدین فکر اور عمل دونوں میں آزادی کے قائل ہیں۔ مادہ پرستی ملحدین کے لیے یہ مادی زندگی ہی سب کچھ ہے نیز وہ روح یا روحانیت نام کی کسی چیز کو نہیں مانتے اسی وجہ سے اس دنیا سے لطف اندوز ہونے کا کوئی موقع ضائع کرنے کے وہ قائل نہیں ہیں۔

ملحدین کی سیاسی زندگی ملحدین کے نزدیک جمہوریت سب سے زیادہ پسندیدہ سیاسی نظریہ ہے۔ جمہوریت کا مطلب ہے عوامی حکومت جو عوام کے فائدے کے لیے ہو۔ جس میں حاکم عوام ہوں، پسند نا پسند کا معیار عوام ہوں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ الحاد جمہوریت ہی کی وجہ سے پروان چڑھ رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ملحدین جمہوریت کی حفاظت میں کوئی کسرنہیں اٹھا رکھتے۔ ملحدین کی معاشی زندگی ملحدین کے ہاں دو قسم کے معاشی نظریات پائے جاتے ہیں :

1۔ سرمایہ دارانہ نظام، جس میں تجارت کرنے والے کو مکمل اجازت ہو وہ جس چیز کی چاہے اورجس طرح چاہے تجارت کرے۔ بس حکومت وقت کو ٹیکس ادا کرتا رہے اور لائسنس کے بعد اس کام کی اجازت ہے۔ لہٰذا سود، سٹہ، جوا، جنسی کاروبار ان سب میں ان کے نزدیک کوئی خرابی نہیں کیونکہ اس سے نفع حاصل ہوتا ہے۔ مغربی ممالک میں اور اکثر دنیا میں تقریباً یہی نظام رائج ہے۔

2۔ کمیونزم جس میں سارا اختیار حکومت کے پاس ہوتا ہے جو حکومت چاہے اسے ہی نافذ کیا جائے۔ افراد کو کچھ اختیار نہیں ہوتا

آج کل پہلا نظام ہی زیادہ رائج ہے۔ بلکہ دنیا بھر میں اسی کو ترقی کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔ ملحدین کی کچھ خصوصیات

1۔ دین کی بات سے تنگ ہونا اور خصوصیت کے ساتھ دین کا مذاق اڑانا یا اسے بے عقلی قرار دینا۔

2۔ دنیا کی باتوں پر گرمجوشی دکھانا۔

3۔ ماڈرن ازم کو پروموٹ کرنا۔

4۔ سائنسی حقائق کو قطع نظر کرتے ہوئے سائنسی نظریات سے استفادہ کرنا۔

5۔ انسانیت بحیثیت انسانیت کا درس دینا۔

6۔ مغرب اور مغربی سوچ کو ترجیح دینا۔

خلاصہ یہ کہ الحاد کی بنیاد خدا کے وجود کے انکار اور مذہب بیزاری پر ہے اور اس کی عمارت بنانے میں جمہوریت، سرمایہ دارانہ نظام اور فکری اور عملی آزادی اینٹ پتھر کا کام دیتی ہیں اور اس کی سجاوٹ سائنس کے نظریات سے کی جاتی ہے جن کا سائنسی حقائق سے یا تعلق ہی نہیں ہوتا یا ان سے غلط نتائج نکالے جاتے ہیں۔ اس سے ہمیں معلوم ہوا کہ موجودہ دور کا نظام کسی مذہب کا دیا ہوا نہیں بلکہ مذہب سے آزاد اور بیزاری کا عطیہ ہے۔

اس پورے نظام کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ اس نظام کو دل و جان سے اپنانے والا کبھی بھی مکمل مذہبی نہیں رہ سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ عصر حاضر میں لوگ دین سے دور ہوتے جارہے ہیں اور ان کی دوری کی وجہ ان کے چاروں طرف بکھرا ہوا ملحدانہ نظام زندگی ہے اور جب تک یہ نظام رہے گا یا ترقی کرتا رہے گا تب تک اسلام کے غلبہ کا تصور پانی پر تصویر بنانے کے مترادف ہوگا۔

اگر آج ہم بحیثیت مسلمان یہ چاہتے ہیں کہ الحاد دنیا سے ختم ہو تو ضروری ہے کہ اس کے ارکان اور نظام حیات کو بھی مسترد کردیا ہے۔ جب تک ہم نظام حیات میں ملحدین کے طریقے کو ترجیح دیتے رہیں گے تب تک الحاد ختم ہونے کے بجائے پھلتا پھولتا رہے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

الحاد کا مختصر تعارف – ظہور احمد” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں