154

افلاطون کی اکیڈمی

387ق،م میں افلاطون نے علمی مباحث کیلئے درختوں کے جھنڈ میں ایک ادارہ قائم کیا تھا جسے”اکیڈمی” Academyکا نام دیا گیا۔ ارسطو نے اس اکیڈمی میں بیس سال(دوسری روایت کے مطابق آٹھ سال) افلاطون سے اکتساب فیض کیا اور افلاطون کی وفات کے بعد اس نے اپنا الگ سکول بنا لیا جس کا نام لائسیم Lyceumتھا۔ افلاطون کی اس اکیڈمی کے دروازے ہر شخص کیلئے کھلے نہیں تھے بلکہ اکیڈمی کے صدر دروازے پر یہ عبارت کندہ تھی،
“ageometretos me eisito”
“Let no man ignorant of geometry enter here.” ( )
“جسے جیومیٹری نہیں آتی وہ شخص یہاں داخل نہ ہو۔”
لہذا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اکیڈمی کوئی سکول یا مکتب نہیں تھی بلکہ یہ ایک خاص ادارہ تھا جس میں افلاطون اپنے شاگردوں اور دوستوں کے ساتھ مختلف موضوعات پر بحث کیا کرتا تھا۔ افلاطون ایک مسئلہ اپنے شاگردوں کے سامنے پیش کرتا اور پھر اس پر اپنے تلامذہ سے رائے لیتا، اس طرح ہر علمی مسئلے پر سیر حاصل گفتگو کی جاتی تھی۔
387ق م تا 266ق م، تقریبا سوا سو سال تک اس اکیڈمی پر افلاطونی فلسفے کے اثرات نمایاں رہے لیکن بعد ازاں اکیڈمی کے سربراہان کے افکار میں تبدیلیاں آنا شروع ہو گئیں اور اکیڈمی افلاطون کی تعلیمات سے منحرف ہو گئی۔ 266ق م سے اکیڈمی کا ایک نیا فکری دور شروع ہو جاتا ہے، اس لئے اب اکیڈمی کو “جدید اکیڈمی”New Academy کہا جانے لگا۔
379-266ق م تک اکیڈمی کے سربراہان یہ تھے؛
 Plato, 379-347 BC
 Speusippus, 347-339 BC
 Xenocrates, 339-314 BC
 Polemo, 314-269 BC
 Crates, 269-266 BC
کریٹس کے بعد آرسیلئیس اکیڈمی کا سربراہ ہوا جو تشکیکی فکر سے متاثر تھا۔ اگرچہ افلاطون کی وفات کے بعد اسکی اکیڈمی میں تعلم و تعلیم کا سلسلہ مختلف سربراہوں کی قیادت میں جاری رہا لیکن اس کا نظام و نصاب تعلیم وہی تھا جو افلاطون نے رائج کیا تھا۔ لیکن آرسیلئیس کی سرکردگی میں یہاں تشکیکی نظریات کی تعلیم شروع ہو گئی، اس لئے افلاطون کی اکیڈمی کا نام جدید اکیڈمی پڑ گیا۔( ) تشکیکی نظریات کیا تھے؟ ان کا جائزہ ہم اگلی فصل میں لیں گے۔
سیکسٹس ایمپریکس نے اکیڈمی کے پانچ ادوار گنوائے ہیں جبکہ سسرو کے مطابق اکیڈمی کےقدیم اور جدید صرف دو ادوار ہیں۔ سیکسٹس ایمپریکس کے مطابق یہ پانچ ادوار مندرجہ ذیل سربراہان سے منسوب ہیں؛
1۔ پہلا دور، افلاطون
2۔ دوسرا دور، آرسیلئیس
3۔ تیسرا دور، کارنیاڈیز
4۔ چوتھا دور فِلو اور چارمیڈز
5۔ پانچواں دور،اینٹی اوکس
القصہ تمام محققین اس بات پر متفق ہیں کہ آرسیلئیس نے اکیڈمی کو ایک نئی فکر کی راہ پر ڈال دیا تھا۔ آرسیلئیس کے بعد جدید اکیڈمی کےسربراہان کی ترتیب یوں ہے۔
 Arcesilaus, 266-241 BC
 Lacydes, 241-215 BC
 Evander, 205-165 BC
 Hegesinus, 160 BC
مذکررہ چار اساتذہ کے دور کو مڈل اکیڈمی اور دوسری اکیڈمی بھی کہا جاتا ہے۔155ق م میں کارنیاڈیز اکیڈمی کا سربراہ بنا جو اکیڈمی کے اہم ترین سربراہوں میں سے ایک ہے۔ کارنیاڈیز کے بعدیہ فہرست یوں ہے؛
 Carnades, 155 BC
 Clitomachus, 129-110 BC
 Philo of Larissa, 110-84 BC
 Antiochus, 90 BC
86ق م میں Lucius Cornelius Sulla نے ایتھنز فتح کر لیا اور اکیڈمی کو تہس نہس کر کے ختم کرکے ہمیشہ کیلئے ختم کر ڈالا۔ دو سال بعد اینٹی اوکس نے دوبارہ تعلیم کا سلسلہ شروع تو کیا لیکن وہ اکیڈمی کا تسلسل نہیں بلکہ اسکا پرائیویٹ سکول تھا جسے پٹالمیPtolemyکہا جاتا ہے۔ سسرو اسی پٹالمی میں اینٹی اوکس سے پڑھتا رہا تھا۔
بعد ازاں افلاطون کی اکیڈمی کو غلط طور پر افلاطونیوں کے ساتھ بھی منسوب کیا گیا لیکن محققین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ نوافلاطونیوں کا افلاطونی فکر سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ یہ اکیڈمی پلوٹارک نے بنائی تھی جسے پروکلس کے عہدمیں کافی شہرت ملی لیکن 529ء میں رومی بادشاہ جسٹنین اول Justinian-Iنے اس اکیڈمی کو بند کر دیا۔

تاریخ الحاد مغرب
فیصل ریاض شاہد

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں