117

اشاعرہ کی پوزیشن پر ایک عمومی اشکال- ڈاکٹر زاہد مغل

اشکال: جب یہ کہا جائے کہ خیر و شر ذاتی نہیں بلکہ حکمی ہیں نیز انسان کے لئے ان کا وجود تب ہی متحقق ہوتا ہے جب خدا کا حکم آئے، تو اس پر ایک اشکال یہ پیش کیا جاتا ہے کہ کیا یہ سمجھا جائے کہ وحی کے پردے کے پیچھے کھڑا انسان کوئی مشین نما ربوٹ ہے کہ جسے کلیتا یہ ادراک ہی نہیں کہ اچھا و برا کیا ہے، اور بس حکم آنے پر ہی اسے معلوم ہوتا ہے کہ اچھا و برا کیا ہے؟ یہ تو گویا انسان کے بارے میں ایک غلط تصور ہے، پس یہی ماننا درست ہے کہ جو اچھا ہے وہ عقلا بھی اچھا ہے، ہاں تکلیف تب ہوگی جب خدا کا حکم آئے۔ یہ اشکال بھی اشاعرہ کی پوزیشن کو رد نہیں کرتا۔ اشاعرہ کی بات کو سمجھنے کی کوشش کیجئے۔

ایک لمحے کو تصور کیجئے کہ سرے (حضرت آدم علیہ السلام کے دور) سے وحی معدوم ہے، یعنی انسانی نفس کے پاس “تاریخی طور پر” وحی کا ذریعہ میسر ہی نہیں۔ اب بتائیے کہ خواہشات کے مجموعے کا یہ انسان کیسے طے کرے گا کہ اچھا کیا ہے اور برا کیا؟ معتزلہ و ماتریدیہ کا ماننا ہے کہ عقل سے، لیکن جسے اس انسان کی “عقل” کہا جارہا ہے وہ کوئی نیوٹرل مقام پر کھڑی ہے کہ جسے معیار سمجھا جائے؟ نہیں، اس لئے کہ ہر انسان کسی نہ کسی تاریخی معاشرے کا فرد ہوتا ہے، وہ نہ تو درخت پر اگتا ہے اور نہ آسمان سے ٹپکتا ہے۔ لہذا اس کے پاس بھی اپنی مخصوص معاشرتی و تاریخی واقعیتوں سے اخذ شدہ کچھ نہ کچھ اخلاقی پیمانے ضرور ہوں گے (جیسا کہ مثلا جنگلوں کے باسیوں کے پاس بھی ہوتے ہیں)۔ تو وحی سے محروم یہ فرد کسی ایسے معیاری نیوٹرل مقام پر نہیں کھڑا جہاں سے وہ یہ طے کرسکے کہ کیا بالذات اچھا ہے اور کیا برا (ہاں یہ ممکن ہے کہ حادثاتی طور پر وہ کچھ درست حکم بھی لگا لے)۔ اب ایک قدم آگے بڑھائیے اور تصور کیجئے کہ ایک ایسا انسان ہے جس کے پس پشت نہ وحی ہے اور نہ ہی سرے سے کوئی انسانی تاریخ و تجربہ۔ یہ انسان کیا سوچے گا اور کیا نہیں، یہ میں اور آپ طے ہی نہیں کرسکتے کیوں کہ ایسے انسان کے خیالات کے بارے میں کوئی تاریخی ریکارڈ میسر نہیں ہے کہ وہ تو کبھی اور کہیں پایا ہی نہیں گیا، یہ تو ایک “فرضی تخلیق شدہ انسان” ہے۔ ایسا انسان اعمال کے بارے میں کیا سوچ سکتا ہے اور کیا نہیں؟ جواب ہے “پتہ نہیں”۔ اسی کو امام غزالی کے الفاظ میں “توقف” کہتے ہیں کہ وحی کے پردے کے پیچھے چیزیں کیسی ہیں، یہ کسی کو معلوم نہیں۔ پھر جونہی آپ اس فرضی انسان سے “حقیقی موجود انسان” کی طرف پلٹیں گے تو معلوم ہوگا کہ اس انسان کے پیچھے تو “وحی کی تاریخ” ہے، اعمال کے حسن و قبح کے بارے میں اس انسان کے خیالات تو وحی سمیت بہت سے عناصر سے متاثر شدہ ہیں۔ تو اب یہ کیسے طے کیا جائے کہ اس کے کونسے خیالات وحی کے پردے کے سامنے کھڑے ہونے کی بنا پر ہیں اور کونسے اس کے پیچھے جھانک کر اخذ شدہ ہیں؟ تو یہ سوال کہ وحی کے پردے کے پیچھے کھڑا ہوا انسان کیا ربوٹ ہے؟ اس کا جواب ہے، “معلوم نہیں”، اسے ربوٹ کہنا بھی اس پر اپنے مخصوص مشینی تجربوں کو مسلط کرنا ہے۔

اس کے جواب میں یہ کہنا کہ اعمال کا حسن و قبح شارع کے قول سے صرف “ظاہر” ہوتا ہے جبکہ اس سے قبل بھی وہ از خود اچھے یا برے ہی تھے، ایک متضاد بات کا دعوی کرنا ہے۔ جب ایک طرف خود مان لیا کہ بدون وحی وہ ظاہر(معلوم) نہیں ہوسکتے تو “وحی سے قبل” ان کی حقیقت ظاہر ہوچکنے (کہ وہ بالذات اچھے تھے یا برے) کے دعوے کا کیا مطلب؟ اور اگر اعمال کے بالذات اچھے و برے ہونے کی دلیل قرآن کی کوئی آیت ہے تو اشاعرہ کے مقابلے میں اس دلیل کا غیر موثر ہونا تو بالکل واضح ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں