209

اسلام کی بیٹی لبرل ازم کی شکار، کیوں؟ – انس اسلام

معاف کیجیے گا اسے اگنور نہیں کیا جاسکتا، اس حقیقت کو ٹھکرایا نہیں جاسکتا اور نہ ہی اسے معمولی سمجھا جاسکتا ہے ۔ آپ کی بیٹیاں اس وجہ سے بھی لبرل ہوئی ہیں کہ لڑکیوں کے ساتھ ہمارے معاشرے کے مذہبی گھرانوں کا بھی رویہ کفار سے بدتر نظر آتا ہے۔ نتیجتاً آج کی لڑکی شادی سے خوف کھاتی ہے کہ سسرال اس کی زندگی کو عذاب بنا دیں گے۔ یہ مسائل آپ کی دھوم دار اور مدلّل تقریروں اور تحریروں سے حل نہیں ہونے والے،

اگر لبرلزم کے خلاف کوئی مزاحمت پیدا کرنی ہے اور اگر اولادوں کو لبرلزم سے بچانا ہے تو اپنے رویّے درست کریں۔ میں ذاتی طور پر ایسے مذہبی گھرانوں سے واقف ہوں جہاں لڑکیوں کی ہر روز تھوڑی تھوڑی جان نکالی جاتی ہے، آخرِ کار اُن کی سسکتی زندگی ختم ہوجاتی ہے۔

بلاشبہ لبرلزم ایسا خطرناک بھیڑیا آج تک کائنات میں پیدا نہیں ہوا، جس نے سب قومیں چیر پھاڑ کر رکھ دیں، اسلام کی ہزاروں بیٹیاں ایک دم سے کھا گیا۔ لیکن بہرحال یہ ایک حقیقت ہے کہ اولادیں فرائضِ خاندانی کی ادائیگی سے بھاگنا چاہ رہی ہیں، جس کی ایک بہت بڑی وجہ سسرال کا ہٹلرانہ اور فرعونی رویہ ہے۔

جو بچے اپنی ماؤں اور بہنوں کے ساتھ ظلم ہوتا اپنی آنکھوں سے روزانہ دیکھتے ہیں آپ کے وہ بچے انتہا پسندی کا شکار ہورہے ہیں اور وہ جاکر لبرلزم کی گود میں سکون تلاش کرتے ہیں۔ اس فتنے کا آپ اپنے دلائل سے سامنا نہیں کرسکتے۔ دلائل رویّوں کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے، رویہ دلیل پر کئی گنا بھاری ہوتا ہے۔ مذہبی طبقہ اپنے ظلم بند کرے، اپنے رویّے اسلام کے مطابق خوبصورت بنائے، سنگدلیاں اور جاہلانہ سلوک سے باز آجائے، گھروں میں اپنی اولادوں، اپنی بیویوں اور اپنی بہوؤں کو خوشیاں دے، بہو کو بیٹی سمجھے، تبھی آپ لبرلزم کو شکست دے سکتے ہیں۔ ورنہ آپ کی شکست یقینی ہے، خواہ آپ دلائل کے انبار اٹھائے پھریں، خواہ لبرلز پر آپ کتنی ہی آیات و احادیث فٹ کرتے رہیں۔ اپنے ملعون رویّوں کے ذریعے نام نہاد اسلام پسند مذہبی اگلی نسل کو خود اپنے ہاتھوں ہی سے لبرلزم کے گھر پھینک رہے ہیں۔

اسلام کو ایسے مذہبیوں کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں، جو رحم دل نہ ہوں، جو ہمدرد نہ ہوں، جو خوش الحان و با اخلاق نہ ہوں۔ اللہ کے ہاں آپ کی عبادات کوئی معانی نہیں رکھتیں اگر آپ کے اخلاق نبوی نہ ہوں۔ حضرت خدیجہ (رضی اللہ عنہا) کا فہم چیک کریں، فرماتی ہیں اے اللہ کے رسول آپ نرم دل ہیں، آپ ہمدرد ہیں، آپ دوسروں کے کام آتے ہیں، آپ دوسروں کو خوشیاں دیتے ہیں، آپ دوسروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں لہٰذا اللہ آپ کو ضائع نہیں کرے گا، آپ کا دین غالب آکر رہے گا اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نبوت کے اعلان سے قبل اپنا اخلاق پیش کرتے ہیں اور قرآن مجید میں خود اللہ فرماتے ہیں کہ اے نبیؐ اگر آپ کے اخلاق خوبصورت نہ ہوتے تو یہ (صحابہؓ) آپ کے آس پاس نہ پھٹکتے۔

آج کے الحادی و دجّالی پرفتن دور میں آپ کو کیا یہ بات سمجھ نہیں آ رہی کہ آپ کی اولادیں موبائل ٹی وی سے کہیں زیادہ آپ کے رویّوں کی وجہ سے لبرل طرزِ زندگی اختیار کر رہی ہیں؟

کوئی شک نہیں کہ آج اسلامسٹوں اور مذہبیوں ہی کی سب سے پہلے اصلاح کی ضرورت ہے، جنہوں نے اللہ کی مخلوق کو انبیاء کے بعد لیڈ کرنا تھا، جنہوں نے قوموں کی رہبری کرنی تھی، جنہوں نے امت کی قیادت سنبھالنی تھی اُن کا حال یہ ہے کہ اُن سے اپنے گھر ہی نہیں چل رہے۔

خاندانی نظام ، جو کہ بنیاد ہے اسلامی ریاست اور اسلامی معاشرے کی، بنیادی اکائی، بنیادی یونٹ اور ادارہ ہے اسلامی اسٹیٹ و اسلامی سماج کا… لبرلزم اور نام نہاد مذہبی و مسلمان دونوں ملکر اس مقدس ادارے کو تباہ کر رہے ہیں!

یاد رکھیے ! جب تک خاندانی نظام کی اسلامی بنیادوں پر اصلاح نہیں ہوتی تب تک کوئی اعلیٰ سے اعلیٰ سیاسی نظام اور کوئی بہتر سے بہتر قوانین ریاستوں اور معاشروں کو فلاح و کامرانیوں سے ہمکنار نہیں کرسکتے۔

تو اسلام پسند حضرات! بھائیو! صالح ماؤں اور اولادو!، صالح معاشروں کا انحصار آپ کے رویّوں پر ہے، آپ کی تقریروں اور تحریروں پر نہیں!

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں