236

اسلام کا سیاسی نظام، ایک قانونی تجزیہ (1) – ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

مسلمانوں پر حکمرانی کا حق کسے حاصل ہے؟
کوئی شخص حق حکمرانی نہ رکھتا ہو اور وہ حکومت پر قابض ہوجائے، یا حکمران بننے کے بعد کوئی شخص لازمی صفاتِ اہلیت میں کوئی صفت عارضی یا مستقل طور پر کھوبیٹھا، تو اس کے تسلط کی کیا حیثیت ہے؟
اور مسلمانوں کو اسے ہٹانے کا حق حاصل ہے یا نہیں؟
کیا اس مقصد کے لیے مسلح جدوجہد کی جاسکتی ہے؟ اگر ہاں تو کن شرائط کےتحت؟ اور اگر نہیں تو پھر اصلاح کا راستہ کیا ہے؟

یہ اور اس طرح کے دیگر متعلقہ قانونی سوالات پر مسلمانوں کے ہاں ہر دور میں آرا کا تنوع رہا ہے۔ اس کے باوجود کیا یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ مستشرقین نے اس معاملے میں یک رخا پن اختیار کیا ہے؟ کیا اس سے بھی زیادہ حیرت کی بات یہ نہیں ہے کہ مابعد استعمار دور کے کئی نامی گرامی مسلمان اہلِ علم نے مستشرقین کے اس یک رخے پن کو خود بھی قبول کرلیا ہے؟ ہاں، کچھ ایسے بھی اہلِ علم ہیں جنھوں نے اسے قبول نہیں کیا لیکن ان میں کئی ایسے ہیں جو ردعمل کی نفسیات کا شکار ہو کر دوسری انتہا پر چلے گئے۔

ہم پہلے مستشرقین کے عمومی نظریے کے بنیادی نکات واضح کریں گے۔ اس کے بعد دکھائیں گے کہ اس نظریے میں بعض دیگر مصنفین نے جزوی ترمیم کیسے کی؟ پھر ہم دکھائیں گے کہ اس ضمن میں مسلمان اہلِ علم کا عمومی رویہ کیا رہا ہے؟

ہملٹن گِب (م 1971ء) کا نظریہ
گِب کا کام بعد کے مستشرقین اور مسلمان اہلِ علم کے لیے بنیادی ماخذ ہے۔ یہ نظریہ چند نکات کی صورت میں یوں پیش کیا جاسکتا ہے:
1۔ ابتدا میں مسلمانوں نے حکمران (امام) کے لیے بہت کڑی شرائط رکھیں اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ مسلمانوں کا ایک ہی امام ہونا چاہیے، جسے فاسق ہوجانے کی صورت میں مسلمان معزول کرسکتے ہیں۔
2۔ بعد میں جب خوارج نے مسلسل کئی بغاوتیں کیں تو ان کے اثرات کو دیکھ کر فقہاء اس پر مجبور ہوگئے کہ حکمران کی معزولی کے حق کی نفی کریں۔
3۔ پانچویں صدی ہجری تک، جب ایک طرف آلِ بُوَیہ اور دوسری طرف فاطمیین نے غلبہ پالیا تھا، ابوالحسن الماوردی (م 450ھ) نے عباسی خلافت کے تحفظ کے لیے یہ نظریہ اختیار کیا کہ متغلب سلاطین کا اقتدار اس شرط پر جائز ہوگا کہ وہ بغداد کے خلیفہ کی اطاعت کا اصولی اقرار کریں اور وہاں سے سند حاصل کریں۔ یوں ماوردی نے عام مسلمانوں کے لیے ان متغلبین کی اطاعت کو ایک قانونی اور اخلاقی فریضہ بنا دیا۔
4۔ ابوحامد الغزالی (م 505 ھ) کے وقت تک بغداد پر بھی سلجوق سلاطین کا غلبہ ہوچکا تھا، چنانچہ غزالی کو سلاجقہ کے دنیوی اور خلیفہ کے مذہبی اقتدار کے درمیان تطبیق کا مسئلہ درپیش ہوا۔
5۔ ابن جماعہ (م 733ھ) کے وقت تک عباسی خلافت کا خاتمہ ہوچکا تھا اور خود ابن جماعہ نے مملوک حکمرانوں کے تحت قاضی کے طور پر کام کیا۔ چنانچہ ابن جماعہ نے حکمرانی کے حق کو غلبہ اور شوکت کے ساتھ مشروط کیا اور قرار دیا کہ جس شخص کے پاس شوکت ہو، اس کی حکمرانی جائز ہے۔ بہ الفاظِ دیگر انھوں نے اقتدار پر قبضے کو ہی قانونی جواز کے طور پر تسلیم کیا۔
گِب کا کہنا ہے کہ بعد کے فقہاء نے بالعموم ابن جماعہ کے مؤقف کو ہی اختیار کیا ہے۔

گِب کے نظریے کی تفصیل کے لیے اس کا مضمون بعنوان “Constitutional Organization” دیکھیے جو مجید خدوری اور ہربرٹ لیبز کی مدون کردہ کتابOrigin and Development of Islamic Law (1955) میں شامل ہے۔

بعض مغربی سکالرز اور مسلمان اہلِ علم نے گِب کے نظریے کو بنیادی طور پر قبول کرنے کے بعد اس میں بعض جزوی ترامیم بھی کی ہیں۔ مثال کے طور پر حنہ میخائل نے اپنی کتاب Politics and Revelation: Mawardi and After میں، جس کا عربی ترجمہ بھی الماوردی و مابعدہ کے عنوان سے دستیاب ہے، گِب کے نظریے سے اتفاق کرتے ہوئے قرار دیا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ فقہاء خاموش اطاعت (quietism) کی تبلیغ کرنے اور غاصب و ظالم حکمرانوں کے خلاف اٹھنے کی ممانعت کا درس دینے لگے۔ تاہم وہ بتاتے ہیں کہ ابوحیان الاندلسی (م 754ھ) نے ظالم حکمران کے خلاف اٹھنے کی بات کی۔ میخائل اسے ایک استثنا کے طور پر پیش کرتے ہیں اور اسے ”صدا بہ صحرا“ (a voice in the wilderness) قرار دیتے ہیں ۔

اسی طرح ڈاکٹر فضل الرحمان نے اپنے مضمون The Law of Rebellion in Islam میں قرار دیا کہ اگرچہ ابتدا میں کچھ ”تحریکی رجحانات“ (activist tendencies) پائی جاتی تھیں لیکن مرجئہ کے سکون آور عقیدے نے ان رجحانات کو ختم کر دیا اور فقہاء نے بالعموم ظالم حکمران کے خلاف اٹھنے کی ممانعت کی۔ وہ نتیجہ یہ نکالتے ہیں کہ اسلامی قانون میں ”بغاوت کا قانون“ سرے سے موجود ہی نہیں !

ایک اور مشہور اور اہم مغربی مصنف برنارڈ لوئیس اپنی کتاب The Political Language of Islam میں قرار دیتے ہیں کہ ابتدائی دور کے مسلمانوں میں دونوں رجحانات – ظالم حکمران کی اطاعت اور اس کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا، رہے ؛ تاہم بعد میں مسلمان اس کے قائل ہوگئے کہ حکمران کی اطاعت لازم ہے، خواہ وہ ظالم ہو یا عادل، اور آخرکار اطاعت ہی کا اصول رائج ہوگیا۔

اس نظریے میں کئی مسائل ہیں۔
سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس نظریے کے قائلین نے صرف ان فقہاء کو منتخب کیا ہے جو ان کے زعم کے مطابق یہ نظریہ رکھتے تھے اور دوسرے فقہاء کو، جو یہ نظریہ نہیں رکھتے تھے، یا تو سرے سے نظرانداز کیا ہے یا ان کے مؤقف کو استثنا قرار دیا ہے۔

یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ گِب نے جن فقہاء کو چنا، وہ سارے کے سارے شافعی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔ امام ابوحنیفہ کا اموی اور عباسی خلفاء کے ساتھ کیا معاملہ رہا؟ تاریخ کا ہر طالب علم جانتا ہے۔ تاہم ان کے مؤقف کو اس ساری بحث میں نظرانداز کیا گیا ہے۔

دوسرا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ ساری بحث اگرچہ قانونی اور آئینی مسئلے پر ہو رہی ہے، لیکن اس میں قانون اور آئین کے اصولوں کی توضیح کےلیے اصل مآخذ کی حیثیت رکھنے والی کتب، فقہ اور فقہ اکبر، کو یکسر نظرانداز کیا گیا ہے۔

تیسرا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جن فقہاء کی آرا کو اس نظریے کے لیے چنا گیا ہے، ان کی آرا لیتے وقت اس بنیادی قانونی فرق کو نظرانداز کیا گیا ہے جو قانونی اور آئینی مباحث میں بےحد اہمیت کا حامل ہے؛ اور وہ ہے امر واقعہ (de facto) اور امر قانونی (de jure) میں فرق۔ مثال کے طور پر امام غزالی اگر متغلب کے، یا اس شخص کے جو امامت کی شرائط پوری نہیں کرتا، حکم کے نفاذ کی بات کرتے ہیں، تو کیا وہ اسے as a matter of fact مانتے ہیں یا as a matter of law؟

نوٹ: یہاں تک کی تحقیق بنیادی طور پر راقم کی اہلیہ ڈاکٹر سعدیہ تبسم صاحبہ کے پی ایچ ڈی مقالے Legal Status and Consequences of Rebellion in Islamic and Modern International Law: A Comparative Study سے ماخوذ ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں