248

استقرائی منطق کی خصوصیات- فیصل ریاض شاہد

خصوصیات استقراء

1۔ منطق استقراء کیلئے ضروری ہے کہ وہ ایک لفظ نہیں بلکہ مکمل قضیہ مرتب کرے۔

2۔ استقرائی قضیے کیلئے ضروری ہے کہ وہ ملفوظی Verbalنہ ہو بلکہ معقولی Realہو، یعنی اس سے علم میں اضافہ ہو

(ملفوظی جملہ وہ ہوتا ہے جس میں Subjectاور Predicateباہم Identical(ایک ہی) ہوتے ہیں مثلا دائرہ گول ہے۔ یہ ایک جملہ ہے جس میں دائرے کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ گول ہے۔ اس سے ہمارے علم میں کوئی اضافہ نہیں ہوا کیونکہ دائرہ کا مطلب ہی گول ہوتا ہے۔ یہ ایک ملفوظی جملے کی مثال ہے

(معقولی جملہ وہ ہوتا ہے جس میں Subjectاور Predicate باہم Identicalنہ ہوں ، اس سے علم میں اضافہ ہوتا ہے، مثلا مثلث دائرہ نہیں ہوتی۔)

3۔ استقرائی قضیے کیلئے ضروری ہے کہ وہ کلی یا عمومیGeneral/Universalنوعیت کا ہو۔ (مثلا تمام انسان فانی ہیں، یہ ایک عمومی قضیہ ہے، جبکہ کچھ انسان فانی ہیں، یہ ایک غیر عمومی قضیہ ہے جو منطق استقرائی کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔

4۔ استقراء کی بنیاد مشاہدہِ حقائق پر ہونی چاہئے۔ کیونکہ استقراء قضیے کی مادی صحت Material Validityسے تعلق رکھتی ہے۔

5۔ استقراءمیں قانون تعلیل کے لزوم کو تسلیم کیا گیا ہونا چاہئے۔

6۔ منطق استقرائی کا طریقہ کار MethodتحلیلAnalysis ہے جبکہ منطق استخراجی کا طریقہ کار ترکیبSynthesis ہے۔

(علتیں اور معلولات اکثر غیر متعلقہ عناصر کے ساتھ خلط ملط ہوتے ہیں چنانچہ منطق استقرائی ضروری اور متعلقہ عناصر کو غیر ضروری اور غیر متعلقہ عناصر سے الگ کرتی ہے، اسے ہی تحلیل کہتے ہیں۔)

7۔ منطق استقرائی کی بنیاد مندرجہ ذیل اصول و قوانین پر ہے،

          ۔ قانون تعلیل Law of Causation

          ۔ قانون یکسانی فطرت Law of Uniformity of Nature

منطق استخراجی کی بنیاد یہ اصول ہیں

            ۔ اصول عینیتLaw of identity

            ۔ اصول مانع اجتماع نقیضینLaw of non-contradiction

            ۔ اصول خارج الاوسطLaw of Excluded Middle

8۔ منطق استقرائی کے نتائج کامل یقینیNecessarily Trueنہیں بلکہ امکانی درست Probably Trueہوتے ہیں جبکہ منطق استخراجی کے نتائج کامل یقینی ہوتے ہیں۔

9۔ تلاش حقیقت میں یہ دونوں منطقیں ایک دوسرے کی ممد و معاون ہیں ناکہ مخالف۔

استقرائی منطق کے فوائد

1۔ یہ استخراج کیلئے مقدمات فراہم کرتی ہے۔

2۔ عمومی قوانین کو معلوم کر کے نئی تحقیقات کے راستے کھولتی ہے۔

3۔ یہ مظاہر کی توجیہExplanationفراہم کرتی ہے۔

استقراء کی اقسام

1۔ صالحProperly So-Called

            سائنسی استقراءScientific Induction

            گنتی یا اعداد و شمارSimple Enumeration

            تمثیل Analogy

2۔ غیر صالحImproperly So-Called

            استقراء تام Perfect Induction

            مشابہت استدلال Parity of Reasoning

            مجموعہ حقائق Colligation of Facts

صالح۔۔۔

سائنسی استقراء: یہ استقراء کی اعلیٰ ترین قسم ہے جس میں استقراء کی تمام خصوصیات پائی جاتی ہیں۔

گنتی یا اعداد و شمار: اس میں استقرائی منطق کی قانون تعلیل کی خصوصیت نہیں پائی جاتی۔ اس منطق کا انحصار مشاہدوں کی تعداد پر ہوتا ہے، مثلا تمام طوطے سبز ہوتے ہیں،تمام بطخیں سفید ہوتی ہیں وغیرہ، ان مثالوں میں جتنے زیادہ مشاہدے ہوں گے نتیجے کو اتنی ہی تقویت ملے گی لیکن کوئی تعلیلی رشتہ نہیں پایا جائے گا۔

تمثیلی استدلال: اس میں مشترکہ علت کی بنیاد پر بقیہ خصوصیات پر بھی قیاس کر لیا جاتا ہے ۔مثلا عورتوں مردوں سے جسمانی لحاظ سے ملتی جلتی ہیں پس انہیں بھی سیاست میں حصہ لینا چاہئے۔ تمثیلی استدلال “کچھ” سے “تمام” کی طرف نہیں جاتا بلکہ کچھ سے کچھ تک ہی محدود رہتا ہےاس لئے اس سے عمومی کلیہ اخذ نہیں ہوتا۔ دوم یہ کہ اس میں بھی علتی رشتوں کا عمل دخل نہیں ہوتا۔

(گنتی اور تمثیل دونوں استقرائے ناقص Imperfect Inductionبھی کہلاتے ہیں)

غیر صالح۔۔۔

استقراء تام: یہ بھی گنتی کی طرح ہی ہوتا ہے لیکن اس میں گنتی استدلال کے برعکس تمام مثالوں کی گنتی کر چکنے کے بعد استدلال کیا جاتا ہے مثلا سال میں بارہ مہینے، کلاس میں چالیس بچے وغیرہ۔  اس کا نتیجہ بالکل یقینی ہوتا ہے لیکن یہ کوئی نئی معلومات نہیں دیتا۔ اس لئے مل اور بین استقراء تام کو صحیح استدلال کا درجہ نہیں دیتے۔

5۔  مشابہت استدلال: مشابہت استدلال میں ہمارا نتیجہ عمومی قضیہ تو ہوتا ہے لیکن یہ عمومی قضیہ جزئی مثالوں کے مشاہدے پر مبنی ہونے کی بجائے مشابہت استدلال پر مبنی ہوتا ہے۔ اس میں ہم یہ فرض کر لیتے ہیں کہ جس استدلال کا اطلاق ایک مثال پر ہوسکتا ہے اسی استدلال کا اطلاق اسی قسم کی دیگر مثالوں پر بھی جو عمومی قضیے کے ماتحت آتی ہیں ہو سکتا ہے۔ 5۔ مجموعہ حقائق: اس میں بہت سے علیحدہ علیحدہ حقائق کو واحد کلیہ قضیے کے تحت جمع کر دیا جاتا ہے۔ اس میں ہم اپنے مشاہدات سے آگے نہیں بڑھتے، یہ بھی استقراء تام کی طرح ہمارے مشاہدات کا محض ایک خلاصہ ہوتا ہے اور اس میں مشاہدہ شدہ سے غیرہ مشاہدہ شدہ کا استنتاج نہیں کیا جا سکتا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں