154

استعمار- حصہ دوئم- اسد الرحمن فاروقی

قدرت کا اصول ہے کہ اس نے انسانی ذہن کی ہر اختراع کو آفرینش کا کم از کم ایک موقع ضرور دیا یے۔ روز ازل سے آج تک انسانی ذہن نے جو کچھ انفرادی یا اجتماعی طور پر بحیثیت نظام سوچا ہے ، اسے قرطاس تحریر پر ابھرنے کا پروانہ ضرور عطا کیا گیا۔ ایسا کوئی بھی اصول یا قانون خواہ دکھنے میں کیسا ہی فرسودہ یا اچھا ہی کیوں نہ ہو جب بھی لوگوں کے سامنے آیا ہے ، اس کے مضمرات اور فوائد سے لوگ آگاہ ہوتے رہے ہیں۔ دنیا کا ہر انسان ایک نیا تجربہ ہے جو شروع سے آج تک عالم کن فکان میں مختلف طریقے سے اپنے رنگ بکھیرتا چلا آرہا ہے ۔ یہ عمل ہر درجے میں ہر سطح پر جاری و ساری ہے۔ انفرادی سطح سے بلند ہو کر اگر اجتماعی سطح پر دیکھا جائے تو انجام کار چند ایسے اجتماعی نظام ہائے کار سامنے آتے ہیں جنہیں لوگوں پر حکومت کرنے کے لیے منتخب کیا گیا۔ شروع سے آج تک انسان جو بھی اجتماعی نظام سوچ سکا ہے اسے آزما کر دیکھ بھی چکا ہے۔ اور یہ مانے بنا کوئی چارہ نہیں کہ تاریخ نے ایسے تمام نظام ہائے سیاست و معاشرت کو اپنے وجود سے پاک کر چھوڑا جنہوں نے انسانی کی صحیح رہنمائی نہ کی۔ انبیاء کے علاوہ کوئی فکر ایسی نہیں جو اس قابل ہو کہ وہ ایک انسان کو —- ایک پورے انسان کو —- اندر سے بدل سکنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ اس حوالے سے اگر انسان کی ذہنی سطح کو دیکھا جائے تو وہ شروع ہی سے اپنی فطرت پر جمی ہے بلکہ دور جدید میں مزید اس کی قید میں بندھتی چلی گئی ہے۔ ایک طرف حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا آفاقی اور ابدی نظام پوری قوت سے جلوہ افروز ہو رہا ہے جبکہ انسان کی مسخ شدہ فطرت جس شدت سے ازمنہ قدیم میں انبیاء کی فکر مٹاتی دکھائی دے رہی تھی آج اس سے زیادہ شدت سے چراغ مصطفوی کی ظلمت کے لیے سرگرداں ہے۔ شیطان نے اپنے تجربات سے بہت فائدہ اٹھایا اور ہر جگہ انسان کو تباہی کے دہانے لا کھڑا کیا۔ گزشتہ بیس ہزار سال کے تجربے کے بعد وہ اس قابل ہوا کہ اس نے انسانیت کی گمراہی کا پورا پیکج متعارف کرایا جس میں نہ صرف سیاسی قبضہ و اقتدار کو مستحکم کیا گیا بلکہ معاشرتی اور معاشی جنگوں کے ذریعے تہذیبوں کو لڑوایا بھی گیا۔ شیطان نے بینکنگ سسٹم سود کے ساتھ ساتھ عورت کو سر بازار ننگا کیا۔ اس نے عقل کو مذہب کے مقابل لا کھڑا کیا اور بے دینی کو دینداروں کے متھے دے مارا۔ اس نے مادر پدر آزادی کا جھوٹ گھڑا ۔ اس نے جنسی ہوس کا مہیب طوفان پوری دنیا میں چلانے کے لیے لبیڈو نظریہ گھڑا ۔ اس نے مساوات شکم کو بورژواوں کے سر جوڑ دیا۔ ان سب خباثتوں کے خمیر سے جس دیو استبداد نے جنم لیا اس کا نام استعمار ہے۔ استعمار کے نام پر دنیا کی تمام اقوام اور تمام مذاہب کے لوگوں نے شیطان کا ساتھ دیا۔ جنہوں نے اس دجال کی ۔خالفت کی وہ اس دنیا میں مفلس اور تنگ دست رہے۔ جنہوں نے اس کے خلاف جنگ لڑی اور پراپیگنڈا کی بھینٹ چڑھ گئے۔ پچھلے پچاس سالوں میں اس نے دس کروڑ انسانوں کی جان لی۔ بیس کروڑ انسانوں کو یرغمال بنایا تا کہ آقائے استعمار کی ازلی بھوک مٹ سکے۔ دنیا کے تمام چھوٹے موٹے نظام ہائے کار اس میں ضم ہو چکے ہیں۔ تہذیبیں ٹوٹ کر اس میں گرتی چلی جا رہی ہیں۔ اس تیزی سے بڑھتی ہوئی پولارائزیشن میں جو قوت استعمار کے سامنے ایک چیلنج بن کر ابھر رہی ہے اسے اسلام کہتے ہیں۔ استعمار جدید کا گھڑا گیا نظریہ بھی اصول فطرت کی رو سے تباہی کے دہانے پر ہے۔ اتنی تباہی کرنے کے باوجود یہ اس قابل نہ ہوا کہ انسانیت کو کوئی فایدہ دے۔ استعمار کے بنیادی عقیدوں یعنی زر، زن ، زمین اور سرمائے کی یک طرفہ گردش سے ایسے مسائل پیدا ہو رہے ہیں جن کا حل اسلام کے علاوہ کسی کے پاس نہیں۔ کارخانہ قدرت میں اب جس قوت کے پنپنے کا وقت قریب آتا جا رہا ہے وہ اسلام ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا نظام زندگی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں