206

استعمار- اسد الرحمن فاروقی

بھی آپ نے سوچا ہے کہ ہے چھ مہینے یا سال بعد آپ اپنا موبائل فون کیوں تبدیل کرتے ہیں؟ جبکہ اکثر و بیشتر اس کی ضرورت نہیں ہوتی؟ دو سال بعد آپ کا دل پرانی بائک سے کیوں اکتا جاتا ہے ؟ جو گھڑی آپ کلائی پر باندھتے ہیں وہ سال بعد ہی کیوں روٹھ جاتی ہے ؟ جس لیپ ٹاپ پر آپ کام کرتے ہیں وہ سال بعد ہی کیوں تبدیل ہو جاتا ہے ؟ تین مرلہ سے پانچ اور پانچ سے دس اور پھر کنال کے مکان تک کی دوڑ کس ارسطو کی جاری کردہ ہے؟ عورت بال کھولتی ہے تو ستر بلین ڈالر کی انڈسٹری کیونکر وجود میں آجاتی ہے؟ نت نئے فیشن چھ چھ ماہ بعد پنڈ کے مراثی کے لیے بھی پرانے کیوں ہو جاتے ہیں؟ اور ایک چگیوں میں رہنے والا غریب آدمی تک اس دوڑ میں کیوں شریک ہے؟ اس کا جواب ہے استعمار. یا آپ کی رضا مندی سے آپ کے سرمائے کی یک طرفہ وصولی۔ استعمار کی بنیاد تین چیزوں پر ہے۔ زن ، زر ، زمین۔ اب زن اور زر مدغم ہو چکے ہیں۔ عالمی منڈی میں دونوں کی بولی لگتی ہے اور جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے۔ اس عالمی منڈی کی بنیاد سود اور بنکنگ سسٹم پر قائم ہے۔ دور جدید میں اس کا اصول یہ ہے کہ اشیاء کو ایسے تخلیق کیا جائے کہ ان کی زیادہ سے زیادہ تشہیر ہو اور پھر کم از کم وقت میں وہ اپنی عمر کو پہنچ جائیں۔ ان کی جگہ نئی اشیاء لے لیں اور نئے رنگ و روپ کے ساتھ منڈی پر چھا جائیں۔ اس نئی چندھیاہٹ سے اشیاء کی مصنوعی ضرورت پیدا کی جا سکے۔ سرمایہ کار گاہکوں کو اسی میلے میں لگا کر لوٹتے رہیں اور لوگ اپنی مرضی سے لٹتے رہیں۔ نتیجہ اپنی مرضی سے اپنے آپ کو لٹوانا۔ اس منڈی کو چلانے کے لیے ایک بے رحم اور بے لگام سرمایہ کار ٹولے کی ضرورت ہوتی ہے جو ہر طرح کا جبر روا رکھتے ہوئے مارکیٹ پر اپنی چھاپ ، اپنی دھاک جو قائم رکھ سکے۔ گورنمنٹ، سرکار ، ویسٹرن یونین ، عالمی حقوق کی تنظیمیں، اقوام متحدہ سب اس کو مانیٹر کرتے ہیں۔ اور آقائے استعمار حضرت آئی ایم ایف جس کو چاہے جتنی چھاج عنایت فرما دیں۔ اس کرم فرمائی کا مقصد فقط ایک ہی ہے۔ زیادہ سے زیادہ گاہک پیدا کرنا اور اپنی جڑوں کو مضبوط سے مضبوط تر کرنا۔ اسی لیے آپ دیکھتے ہیں کہ مارکیٹ کی قیمت اشیاء کی اصل قیمتوں پر چڑھ جاتی ہے۔ نام جتنا زیادہ بک سکتا ہے ، بکتا ہے۔ اس کے پیچھے صرف سرمایہ ہوتا ہے۔ اس کے عوض کوئی شے یا پراڈکٹ نہیں ہوتی۔ اس طرح سرمائے اور اشیا کے اصل میں ایک فرق پیدا ہو جاتا ہے۔ استعمار اس فرق کو تقابل کی بنیاد پر بڑھاوا دیتا ہے ۔ اشیاء جتنی تیزی سے بکتی ہیں سرمایہ اتنی تیزی سے سکڑتا ہوا چند ہاتھوں میں چلا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ شے کی اصل قیمت اور سرمایہ میں غیر توازن حد سے زیادہ ہو جاتا پے۔ اسے قابو پانے کے لیے استعمار اپنے ذہین و فطین اور چہیتے بیٹوں سے خدمات حاصل کرتا ہے اور جبر کی بنیاد پر اپنا دامن کشادہ کرتا چلا جاتا ہے۔ استعمار کے فرزندوں کا کوئی دین نہیں ہوتا سوائے دولت کے۔ کوئی قبلہ نہیں ہوتا سوائے عورت کے اور کوئی مقصد نہیں ہوتا سوائے ہوس کے۔ اس منڈی میں ہندو ، مسلمان ، عیسائی ، یہودی ، ملحد سب ایک ہی مقصد لے کر آتے ہیں۔ اور آتے ہوئے تمام اخلاقی، معاشرتی اور روحانی اقدار کو علیحدہ علیحدہ طلاق دے کر آتے ہیں۔ اپنا عقیدہ ، دین سب پیچھے چھوڑ کر آتے ہیں ۔ اس کے بدلے استعمار ان کو اپنا عقیدہ دیتا ہے۔ استعمار کا عقیدہ یہ ہے کہ اس کے مخالفین افلاس اور بھوک کی چکی میں پسیں۔ عورت گھر سے نکل کر بازار کی زینت بنے۔ دنیا پر سود کا غلبہ ہو اورمقتدر طبقہ آقائے استعمار کا باجگزار ہو اور اسے خراج ادا کرے۔ استعمار اپنے باغیوں کو جینے کا کوئی حق نہیں دیتا۔ دامن ارض جہاں یہ سایہ فگن نہ ہو، بھوک سے وحشت اگلنے لگے۔ یہ اپنی شان و شوکت سے خاندانوں میں دراڑیں ڈالے ۔ رشتوں کو برباد کرنے کا پورا پیکج اس میں موجود ہے۔ عورت عالمی منڈی کی سوغات ہے ایسا درخت جس پر سب سے زیادہ پھل لگتا ہے۔ استعمار بے رحم ہے۔ یہ اسلحہ کی دوڑ کو قائم رکھنے کے لیے ملکوں کو لڑواتا بھڑاتا ہے، مذہب سیاست کے نام پر شہروں کے شہر بم مار کر گرا دیتا ہے۔ اسے غریبوں سے کوئی ہمدردی نہیں ۔ جب تک استعمار کی یہ بھوک نہیں مٹے گی تب تک یہ مست ہاتھی کی طرح دنیا کو روندتا چلا جائے گا۔ اشیاء یونہی مہنگی ہوتی رہیں گی۔ جنگیں فساد خدا بے زاری اور فحاشی ، انسانوں کی تجارت جنسی ہوس کے طوفان میں سب راکھ ہوتا چلا جائے گا۔

اسد الرحمن فاروقی

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں