145

ارسطو اور اس کا فلسفہ

لفظ فلسفہ سنتے ہی سب سے پہلا نام جو ذہن میں آتا ہے وہ “ارسطو” ہے۔ آپ کسی بھی سائنسی یا عقلی علم کی کوئی ابتدائی کتاب اٹھا کر پہلے باب سے مطالعہ شروع کریں تو آپ کو کہیں نہ کہیں یہ لکھا ضرور مل جائے گا کہ اس علم کا آغاز ارسطو سے ہوتا ہے۔ یہ حقیقت بھی ہے، ارسطو کا دماغ دنیا کے زرخیز ترین دماغوں میں سے ایک تھا۔
ارسطو نے قریبا بیس سال افلاطون کی اکیڈمی میں علم حاصل کیا۔ اس اکیڈمی میں ارسطو کی حیثیت صرف ایک طالب علم کی سی نہیں تھی بلکہ وہ لیکچر بھی دیا کرتا تھا۔ طالب علمی کے زمانے میں ارسطو صرف ایک ہی کام کیا کرتا تھا اور وہ تھا اپنے استاد افلاطون کے مکالمات کی جمع و تدوین کرنا اور مختلف لوگوں کی مختلف آراء کو قلمبند کرنا۔
ارسطو نے زندگی بھر تحقیق و تالیف جاری رکھی اور تقریبا ہر موضوع پر ایک یادگار کتاب چھوڑی ہے ۔ اس نے جن موضوعات پر کتابیں لکھیں ان میں سیاسیات، اخلاقیات، فزکس، کیمسٹری، بیالوجی، زولوجی، باٹنی، سئکالوجی، تھیالوجی، سوشل سائنسز، نیچرل فلاسفی، کوسمولوجی، طبیعات، مابعد طبیعات، وجودیات، علمیات، منطق، موسیقی، حساب، شاعری، تاریخ فلسفہ اور آرٹ وغیرہ قریبا سب ہی علوم شامل ہیں۔ بعض محققین نے ارسطو کی کتب کی تعداد ایک ہزار کے قریب بتائی ہے۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ارسطو نے اتنے سارے موضوعات پر آخر کیسے اتناکچھ لکھ لیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ارسطو نے سب سے پہلے اپنا ایک منطقی نظام قائم کیا جسے ارسطوی منطق کہتے ہیں، اس کے بعد اس نے اپنی اس منطق کو ہر ہر علم پر منطبق کیا اور اس طرح مختلف علوم میں نئی نئی دریافتیں پیش کیں۔
ارسطو نے اپنے استاد افلاطون کے فلسفے سے بہت زیادہ اختلاف کیا اور اپنا ایک الگ مستقل فلسفہ پیش کیا بلکہ یوں کہا جاتا ہے کہ ارسطو نے افلاطون کے فلسفے کو سر کے بل کھڑا کر دیا۔ وہ اس طرح کے افلاطون کے مطابق مادی دنیا عالم امثال کی نقل تھی یعنی ہم جو کچھ مادی عالم میں دیکھتے ہیں وہ سب ایک التباس ہے لیکن ارسطو کہتا ہے کہ نہیں، ہم جو کچھ مادی عالم میں دیکھتے ہیں، یہ سب اشیاء اصل ہیں اور عالم امثال کے تعقلات ان کی نقل ہیں۔ ارسطو کہتا ہے کہ افلاطون کا یہ نظریہ غلط ہے کہ مادی عالم تصوراتی عالم سے وجود پاتا ہے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ تصوراتی عالم کا مستقل اور متوازی کوئی وجود نہیں ہے۔ ہم اس مادی عالم میں جو کچھ دیکھتے ہیں، ان کو دیکھنے کے نتیجے میں ہی ہمارے تصورات اور اشیاء کے تعقلات ہمارے ذہن میں پیدا ہوتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ تعقلات پہلے سے موجود ہوں اور اشیاء بعد میں وجود پائیں بلکہ مادی اشیاء پہلے سے موجود ہیں اور تعقلات کا نمبر دوسرا ہے۔ ارسطو نے افلاطون کے فلسفے پر جو تنقید کی اسے اصطلاح میں ہم The Third Man Argument کہتے ہیں۔
ویٹیکن سٹی میں پڑی افلاطون اور ارسطو کی تصویر کو اگر آپ دیکھیں تو اس میں ارسطو اپنے ہاتھ سے نیچے کی طرف اشارہ کرتا ہوا دیکھا گیا ہے جبکہ افلاطون اوپر کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ افلاطون فلسفے کو زمین سے اٹھا کر آسمان پر لے گیا تھا اور ارسطو اسے دوبارہ سے زمین پر لے آیا۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ افلاطون کے نزدیک اصل دنیا اوپر کی دنیا یعنی تصوراتی دنیا ہے جبکہ ارسطو کے نزدیک اصل دنیا نیچے کی دنیا یعنی مادی دنیا ہے۔
کوئی شے کیسے وجود میں آتی ہے؟ اس کے جواب میں ارسطو کہتا ہے کہ اشیاء چار علتوں (وجوہات) کے سبب وجود پزیر ہوتی ہیں۔ وہ چار علتیں اور ان کی وضاحت کچھ اس طرح ہے؛
1۔ علت مادیMaterial Cause
2۔ علت فاعلیEfficient Cause
3۔علت صوریFormal Cause
4۔علت غائیFinal Cause
علت مادی سے مراد وہ خام مواد یا مجرد مادہ ہے جو کسی شے کی تعمیر و تشکیل میں کھپتا یا کام آتا ہے یعنی وہ مواد جس سے کوئی شے بنتی ہے۔ مثلا اگر لکڑی کا میز دیکھا جائے تو میز کے اندر استعمال شدہ “لکڑی” اس کی علت مادی ہے۔علت فاعلی سے مراد وہ قوت، حرکت اور تغیر ہے جو مجرد مادے یا خام مواد پر عمل کرتا ہے، جس کے نتیجے میں شے وجود میں آجاتی ہے۔ مثلا میز کی تیاری کے دوران بڑھئی جو قوت صرف کر کے میز بناتا ہے، وہ قوت اس میز کی علت فاعلی ہے۔علت صوری سے مراد شے کی شکل و صورت، ترتیب اور ماہیت ہے۔ مذکورہ مثال کو دیکھا جائے تو میز چار ٹانگوں اور ایک تختے پر مشتمل ہوتا ہے ۔ یہی میز کی شکل ہے۔ اسی طرح گیند گول ہوتا ہے ، گویا میز کی یہ مخصوص شکل اور گیند کی گولائی ان کی صوری علتیں ہیں۔ علت غائی سے مراد شے کی آخری شکل اور مقصد ہے جس کے حصول کیلئے کوئی شے بنتی ہے۔ علت غائی وہ نصب العین ہے جو حرکت و تغیر اور قوت (علت فاعلی) کی رہنمائی کرتا ہے۔ سنگ مرمر سے جب کوئی مجسمہ بنتا ہے تو سنگ مرمر کے بے صورت ٹکڑے کو علت مادی، سنگ تراش کو علت فاعلی اور اس کے ذہن میں موجود مجسمے کے نقشے یا خاکے کو اگر ہم علت صوری تسلیم کر لیں تو پورے پروسیس کے بعد مکمل مجسمہ جو وجود میں آجاتا ہے وہ اسکی حتمی شکل یا علت غائی یا آخری مقصدہے۔
ارسطو کہتا ہے کہ علت غائی کی اہمیت کو سب سے پہلے انکسا غورس نے دریافت کیا تھا۔ اس کے نزدیک ناوس کا مقصد کائنات کی غایت کی تشریح کرنا تھا لیکن بعد ازاں انکسا غورس کا فلسفہ میکانکیت کا شکار ہو گیا۔ اسی طرح افلاطون نے بھی علت غائی کی اہمیت کو تسلیم کیا۔ خیر مطلق کا تصور اس کے فلسفہ میں غائی علت کا درجہ رکھتا ہے لیکن افلاطون نے اس پر مزید تحقیق نہیں کی تھی۔ ارسطو ان چار علتوں پر مزید تحقیق کرتا ہے اور ان چاروں علتوں کو ایک “صورتForm” کے تصور میں ضم کر دیتا ہے۔ علت صوری وہ خاکہ ہے جو تکمیل سے پہلے موجود ہوتا ہے اور بلواسطہ یا بلاواسطہ مادہ کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ اس طرح یہ حرکت کا سبب بن جاتا ہے۔ اگرچہ خود اس کے اندر حرکت نہیں ہوتی۔ تاہم اس کی طرف مادہ خودبخود کھنچتا چلا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے علت صوری ہی علت فاعلی کا کام کرتی ہے۔ مزید برآں علت غائی بھی علت صوری کا اظہار ہوتا ہے یعنی علت صوری جب اپنی تکمیل کے مراحل طے کر چکتی ہے تو علت غائی بن جاتی ہے۔ ارسطو کے خیال میں علت مادی کو، البتہ اس طور پرکسی دوسری علت میں مدغم نہیں کیا جا سکتا۔ اس طرح وہ صورتForm اور مادہMatter کے در متضاد اصولوں کو تسلیم کرتا ہے اور ساری کائنات کی تشریح اسی اصول پر کرتا ہے۔( )
ارسطو کہتا ہے کہ ہر علت اپنے معلول سے زیادہ طاقت ور ہوتی ہے کیونکہ اگر علت معلول سے زیادہ طاقت ور نہ ہو تو پھر وہ معلول میں تغیر یا حرکت پیدا نہیں کر سکتی اور جب تک تغیر (علت فاعلی) کی تکمیل نہ ہو جائے کوئی معلول (شے) وجود میں نہیں آ سکتی پس علت کا معلول سے زیادہ طاقت ور ہونا لازم آتا ہے۔ گویا ارسطو علت و معلول کا ایک قانون دیتا ہے۔ اسی قانون سے ارسطو خدا کا وجود بھی ثابت کرتا ہے ۔ اس نے خدا کے وجودپرعقلی دلائل قائم کئے ہیں جن پر اڑھائی ہزار سال سے بحث مباحثہ جاری ہے!یہاں ہم ان میں سے دو دلائل کو مختصرا بیان کرتے ہیں او رانشاء اللہ سینٹ اکوائنس کے بیان میں ان پر مزید روشنی ڈالیں گے۔
ارسطو کہتا ہے کہ خدا “علت اولیٰThe Final Cause” ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ کائنات میں کوئی بھی واقعہ بغیر کسی علت یعنی بغیر کسی سببCause کے وقوع پذیر نہیں ہوتا۔ اگر ہم کسی واقعہ کے اسباب پر غور کریں تو ہم دیکھتے ہیں کہ ہر واقعے کے پیچھےدرحقیقت اسباب کی ایک پوری قطار ہوتی ہے جن میں ہر سبب یا علت ایک اثر یا معلول مرتب کرتی جاتی ہے اور بلآخر واقعہ رونما ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر پانچ گیندوں کو قطار میں جوڑ کر رکھیں اور چھٹی گیند کو ایک سمت سے پہلی گیند کے ساتھ ٹکرائیں تو آپ دیکھیں گے کہ جس گیند کو آپ نے آگے دھکیلا، وہ پہلی گیند سے ٹکرائے گی، پہلی گیند کی حالتِ سکون میں تغیر واقع ہو گا اور وہ اپنے سے دوسری گیند سے ٹکرائے گی۔ یہ دوسری گیند اسی طرح تیسری گیند سے اور تیسری گیند چوتھی سے، اور چوتھی گیند پانچویں گیند سے ٹکرائے گی۔ پانچویں گیند کے سامنے چونکہ مزید کوئی گیند نہیں ہو گی اس لئے وہ سامنے کی سمت میں دوڑنے لگے گی اور تھوڑا دور جا کر رک جائے گی۔ یعنی سنوکر کی یہ مثال واضح طور پر علت اور معلول کے قانون (قانون تعلیل) کو بیان کر دے گی۔ اس مثال میں آپ نے جس چھٹی گیند کو سامنے قطار میں پڑی ہوئی پہلی گیند سے ٹکرایا، یہ “علتCause” یا سبب ہے، پہلی گیند کی حالت میں تغیر یا اثر Effect پیدا ہونے کا۔ دوسری گیند میں پیدا ہونے والا یہ تغیر “معلول” کہلاتا ہے۔ علمی زبان میں ہم اسے قانون تعلیل کہتے ہیں یعنی علت سے معلول کا پیدا ہونا۔ یہ اصول ہماری پوری کائنات میں کارفرما ہے۔ ہر واقعے، ہر حادثے، اور ہر معلول کے پیچھے ایک علت ہے، اس سے پیچھے ایک اور علت ہے اور اس سے پیچھے ایک اور علت۔ اور علتوں کا یہ سلسلہ پیچھے کی طرف چلتا ہی جاتا ہے۔ ارسطو نے اس قانون سے وجود باری تعالیٰ پر یوں استدلال کیا کہ چونکہ ہر معلول کیلئے ایک علت کا ہونا ضروری ہے اور علت کا اپنے معلول سے زیادہ طاقتور ہونا بھی ضروری ہے پس اس کائنات کی بھی کوئی نہ کوئی علت ضرور ہونی چاہئے، جو اس کائنات کا سبب یا Causeہے۔ وہ کہتا ہے کہ یہی پہلی یا حتمی علت، جس نے تمام معلولات کو پیدا کیا یعنی جس نے ہمارے جہان کے سارے نظام کو تخلیق کیا، وہ فائنل کازThe Final Cause ہی خدا ہے۔ علم الکلام میں ہم اسے “علت العلل” یعنی تمام علتوں کی علت کہتے ہیں۔ اسلامی ڈسکورس میں ہم اسی علت العلل کو اللہ تعالیٰ کے ایک صفاتی نام کے طور پر “مسبب الاسباب” کہتے ہیں۔
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہر علت کے پیچھے کوئی نہ کوئی علت ہوتی ہے تو پھر اس پہلی علت کی علت کیا ہے؟ اسے ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ اگر خدا نے ہر شے کو پیدا کیا تو پھر خدا کو کس نے پیدا کیا؟ ارسطو اس کا جواب یہ دیتا ہےکہ علت ہمیشہ اپنے معلول سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے جبھی تو وہ اپنے معلول کی حالت میں تغیر واقع کر سکنے کی اہل ہوتی ہے۔ فائنل کاز یا خدا کو علت العلل کہنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ اس کی کوئی علت نہیں یعنی اس کو کسی نے بھی پیدا نہیں کیا کیونکہ اس سے زیادہ طاقت ور کوئی ہے ہی نہیں۔ وہی تمام مخلوقات کا خالق ہے اور اگر اسے بھی کسی نے تخلیق کیا ہوتا تو پھر وہ خالق حقیقی نہ ہوتا۔ اور پھرچونکہ وہی خالق حقیقی ہے اس لئے منطقی طور پر لازم آتا ہے کہ اسے کسی نے تخلیق نہ کیا ہو۔ (اس دلیل پر فلاسفہ کے اعتراضات کا جائزہ ہم کسی دوسرے موقع پر لیں گے)
وجود باری تعالیٰ کو ثابت کرنے کیلئے ارسطو دوسری دلیل قانون حرکت سے دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ہر شے میں ہر لمحے تغیر واقع ہو رہا ہے۔ یعنی ہر لمحے کسی نہ کسی محرک سے کوئی شے حرکت پا رہی ہے، پھر چونکہ پوری کائنات ہی میں حرکت ہر لحظہ جاری و ساری ہے اس لئے ضروری ہے کہ ہم کسی ایسے وجود یا ہستی کو مانیں جو ان تمام حرکتوں کو محرک رکھنے والا ہو اور خود غیر متحرک ہو۔ وہ کہتا ہے کہ یہی محرک اول یا غیر متحرک محرکThe Unmoved Moverخدا ہے۔
یہاں یہ بات مد نظر رہے کہ ارسطو کے نزدیک دنیا میں بنیادی طور پر تین اصول کارفرما ہیں۔ مادہ، صورت اورحرکت اور خدا خالص صورت ہے جو مادے سے بالکل پاک ہے یعنی ارسطو اگرچہ خدا کو ازلی و ابدی مانتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ مادے کو بھی قدیم مانتا ہے۔ افلاطون نے خدا کو خیر مطلق کا نام دیا تھا جبکہ ارسطو اسے صورت مطلق کی اصطلاح میں بیان کرتا ہے۔
ارسطو کے فلسفے میں خدا کے دو کردار ہیں۔ ایک طرف وہ غیر متحرک محرکِ اول ہے جو کائنات میں ہونے والے ہر تغیر کے پیچھے کارفرما قوت ہے اور دوسری طرف وہ علت اولیٰ یا علت العلل ہے جو کائنات کے ہر معلول کی وجہ اور سبب ہے۔ ارسطو کے الہیاتی نظریات اس کی کتاب “طبیعات” کے چھٹے اور ساتویں، اور کتاب “مابعدطبیعات” کے ساتویں باب میں پائے جاتے ہیں۔ اس کے الہیاتی نظریات کو دو سوالات کے تحت سمجھا جا سکتا ہے۔
1۔ منطقی طور پر خدا کے وجود کو تسلیم کیا جانا ضروری ہے یا نہیں؟
2۔ ہم خدا کے بارے میں کتنا جان سکتے ہیں؟
اس پہلے سوال کے ضمن میں ارسطو چند مقدمات رکھتا ہے اور پھر ان سےنتیجہ اخذ کرتا ہے، اس کے مقدمات یہ ہیں؛
کائنات میں ہر طرف ایک حرکت اور تغیر پایا جاتا ہے
ہر متحرک شے کو حرکت کوئی نہ کوئی محرک ہی دیتا ہے
لہذا منطقی طور پر لازم آتا ہے کہ کوئی ایک محرک اول موجود ہے پس وہی خدا ہے
دوسرے سوال، کہ ہم خدا کے بارے میں کتنا جان سکتے ہیں، کے حوالے سے وہ کہتا ہے کہ
چونکہ خدا محرک غیر متحرک ہے
لہذا وہ بذات خود غیر متغیر ہے، اس کی ذات میں تغیر کا دخل نہیں
اینتھنی کینی نے ارسطو کے استدلال کو یوں بیان کیا ہے
“If it is true that when A is in motion there must be some B that moves A, then if B is itself in motion there must be some C moving B and so on. This series cannot go on for ever and so we must come to some X which moves without being in motion (7. 242 a 54– b 54, 256 a 4–29).”( )
اگر یہ درست ہے کہ الف حرکت میں ہے تو لازم ہے کہ کوئی ب موجود ہےجس نے الف کو حرکت دی ہے۔ پھر اگر ب بھی حرکت میں ہے تو لازم ہے کہ اسے حرکت میں لانے والا کوئی ج موجود ہو اور اسی طرح یہ سلسلہ الی غیر النہایۃ چلا جاتا ہے۔ چونکہ تسلسل ناممکن ہے لہذا لازم ہے کہ کوئی د موجود ہو جو سب کو حرکت دینے والا ہو مگر خود غیر متحرک ہو۔
وہ دوسرے اجسام کی طرح کوئی جسم نہیں
لازم ہے کہ خدا صورت محض یا خالص صورت ہو
خدا واجب الوجود ہے
وہ محرک اول ضرور ہے لیکن وہ اپنے معلولات کسی مادی عمل سے براہ راست پیدا نہیں کرتا کیونکہ وہ ایسا کر ہی نہیں سکتا کیونکہ وہ زمان و مکاں سے ماورا ہے گویا اس کا کائنات کے ساتھ براہ راست کوئی تعلیلی تعلق نہیں ہے
مادی عمل کی بجائے وہ تفکری عمل سے حرکت پیدا کرتا ہے
وہ یہ تفکر خود اپنی ذات میں کرتا ہے(Noesis Noeseos)
خدا مطلقا مفکرِ متفکر ہے۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ خدا اپنی ذات میں کیوں تفکر کرتا ہے؟ ارسطو اس کا جواب یہ دیتا ہے کہ خدا ایک کمال مطلق ہے اور ایک اتم کمال وجود صرف اتم کمال وجود ہی میں تفکر کر سکتا ہے۔ کیونکہ اگر وہ اپنے سے کمتر وجود میں تفکر کرے تو اس کا تفکر اوج کمال پر نہیں رہے گا بلکہ اس کے تفکر کی سطح اس کی شان سے نیچے ہو جائے گی جو ایک زوال ہے اور چونکہ کمال مطلق وجود پر زوال ممتنع(ناممکن) ہے لہذا خدا خود اپنی ذات سے نیچے کسی ذات کے بارے میں تفکر کر ہی نہیں سکتا، یہ اس کے شایان شان ہی نہیں۔ اسی لئے سینٹ اکوائنس نے کہا کہ خدا کو اشیاء کا علم بلواسطہ اور اجمالا ہوتا ہے، تفصیلا نہیں، اور حق تو یہ ہے کہ خدا کی نسبت اجمال اور تفصیل کے الفاظ ہی بیکار ہیں کیونکہ یہ الفاظ انسان کی نسبت سے ہیں، خدا ان قیود سے آزاد ہے۔
ارسطوعظیم یونانی فاتح سکندر اعظم کا استاد تھا جس سے سکندر نے قریبا دواڑھائی سال اکتساب فیض کیا اور مختلف علوم میں نگاہ پیدا کی۔ سکندر کی فتوحات کے احوال تو تاریخ کی کتب میں تمام تفاصیل کے ساتھ موجود ہیں جنہیں ہم بیان نہیں کریں گے البتہ 323ق م میں سکندر کی وفات کے بعد ایک نئے عہد کا آغاز ہوتا ہے جس نے یونانی فلسفے میں نئی روایات اور جہات کو جنم دیا لیکن ان روایات کی بناء اسی سقراطی عہد میں پڑ چکی تھی اور فلسفے میں نئے نئے مکاتب فکر کے بانی انہی سقراط، افلاطون اور ارسطو کے معاصرین اور تلامذہ ہی تھے۔ ان مکاتب فکر کو سقراط، افلاطون اور ارسطو کی حیات میں پزیرائی نہیں ملی اور نہ مل سکتی تھی کیونکہ یہ تینوں فلاسفہ یونانی فکر کے سرخیل تھے جبکہ بقیہ فلاسفہ کی اہمیت و اثرات نسبتا کم تھے۔

تاریخ الحاد مغرب
فیصل ریاض شاہد

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں