127

ابلاغ کے قرآنی اسلوب(8)- شہزاد محمود

انسانی ابلاغ کی یہ مجبوری ہے کہ باوجود الفاظ کے ذخیرے کے محض حروف تہجی اس قابل نہیں ہوتے کہ اپنا مدّعا کامل طریقے سےمخاطب تک پہنچا سکیں، بلکہ اگر حقیقت کی ترجمانی کی جائے تو اکثر اوقات ایک خاموش چہرہ اپنے تاثرات سے کہیں بہتر انداز میں اپنا پیغام مخاطب تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے. ایک لرزتا ہوا آنسو، چہرے کا کرب، مایوسی کے سائے،جیت کی خوشی، ڈر اور خوف کی کیفیت بیان کرنے کے لیے انسان نے الفاظ کی شکال میں ابلاغ کا جو اسلوب اختیار کیا ہے وہ اکثر چہرے سے چھلکتی ہوئی کیفیات کو بیان کرنے کی صلاحیت سے قاصر ہوتے ہیں. زبان کی شکل میں ابلاغ، انسان کا وہ عجز ہے جس کا Homo Sapiens آج تک کوئی شافی حل تلاش نہیں کر سکا. اپنی اسی کمی کی تلافی کے لیے الفاظ کے ساتھ ساتھ لہجہ، سیاق، مجاز، چہرے کےتیور اور جملے میں الفاظ کی ترتیب کا لحاظ رکھا جاتا ہے تاکہ ابلاغ کے اس عجز کو جو الفاظ کی صورت میں Communicate ہوتا ہے، پرکسی حد تک قابو پایا جا سکے.
اسلوب استفہام اردو میں بہت ہی مختلف پیرائے میں استعمال ہوا ہے، استفسار کا اسلوب بطور “طنز، اقرار، عتاب، حیرت و استعجاب اور انکار و نفی، عظمت،ترغیب، حسرت” بیان ہو چکے ہیں، سوال بطور امر کس طرح بیان ہوتا ہے، اردو نثر اور نظم میں اس کی مثالیں موجود ہیں.
نثر میں اس کی مثال یوں ہے کہ اگر ایک باپ اپنے بیٹے کو سگریٹ کے نقصانات پر لیکچر دیتے ہوئے آخر میں کہے، “کیا اب بھی تم سگریٹ پیو گے”؟، تو یہ سوالیہ جملہ اب سادہ  سوالیہ جملہ نہیں رہا بلکہ اس کے اندر بہت سے معانی مضمر ہو گئے ہیں، نصیحت، اپیل اور حُکم، یعنی (آیندہ ایسا نہ کرنا) اسی سوال کی تہہ میں مضمر ہیں، یہ سارے مفاہیم اسی استفہام سے پیدا ہوتے ہیں، اگر ان سارے معانی کو اس جملہ کے اندر سے کھینچ باہر نکال لیں اور جملے کو صرف سوال کرنے کے مفہوم میں لیں تو اصل مدعا ہی ہَوا ہو جائے گا. بلقیس ظفیر الحسین کا شعر ہے
؎ اس ناشنیدنی سے تو بہتر ہے چپ رہو
ہے کیا ضرور شکوۂ بے فائدہ کرو؟…..
دوسرا مصرعہ اپنے اندر “شکوہ، نصیحت اور امر” کے مفاہیم سموئے ہوئے ہے، سوال کرنا متکلم کے پیش نظر ہی نہیں، بلکہ بانداز سوال، ان مضمرمفاہیم کا موثرابلاغ مطلوب ہے تاکہ کلام فصیح اورمؤثر رہے نیز ایجاز بھی برقرار رہے.
استفہام برائے”امر” قرآن پاک کے اسالیب میں کس طرح مضمر ہے، ذیل میں اس کی چند مثالیں موجود ہیں.

سوالیہ جملہ بانداز “اَمر و نصیحت” :
Interrogation In Terms Of Order/Advise/

1-  سورۃ المائدۃمیں ارشاد ہے (إِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْْطَانُ أَن یُوقِعَ بَیْْنَکُمُ الْعَدَاوَۃَ وَالْبَغْضَاء فِیْ الْخَمْرِ وَالْمَیْْسِرِ وَیَصُدَّکُمْ عَن ذِکْرِ اللّہِ وَعَنِ الصَّلاَۃِ “فَہَلْ أَنتُم مُّنتَہُون”)(المائدۃ:۹۱)، ” شیطان تو بس یہ چاہتا ہے کہ تمہیں شراب اور جوئے میں لگا کر تمہارے درمیان دشمنی اور کینہ ڈالے اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے “تو بتاو کیا اب تم ان سے باز آتے ہو” ؟
سیاق دلیل ہے کہ استفہام یہاں”امر ” کے مفہوم میں ہے، ۔ اس اسلوب میں امر کے ساتھ زجر، موعظت اور تاکید و تنبیہ  کا مضمون بھی پیدا ہوجاتا ہے۔ غور کیجیے تو اسلوب کلام اس حقیقت کو ظاہر کر رہا ہے کہ شراب اور جوئے کے مفاسد کی تفصیل اتنے مختلف مواقع پر اور اتنے مختلف پہلوؤں سے تمہارے سامنے آچکی ہے کہ اب اس معاملے میں کسی کے لیے بھی کسی اشتباہ کی گنجائش باقی نہیں رہی ہے تو بتاؤ اب بھی اس سے باز آتے ہو یا نہیں؟ ظاہر ہے کہ امر کے سادہ اسلوب میں یہ سارا مضمون نہیں سما سکتا تھا۔
2-  سورۃ ھود میں ارشاد فرمایا (فَإِن لَّمْ یَسْتَجِیْبُواْ لَکُمْ فَاعْلَمُواْ أَنَّمَا أُنزِلِ بِعِلْمِ اللّہِ وَأَن لاَّ إِلَہَ إِلاَّ ہُوَ “فَہَلْ أَنتُم مُّسْلِمُونَ”)(ھود:۱۴)،” پس اگر وہ تمہاری مدد کو نہ پہنچیں تم سمجھ لو کہ یہ اللہ ہی کے علم سے اترا ہے اور یہ کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ” تو کیا اب تم مانتے ہو” ؟
“فھل انتم مسلمون”  کا اسلوب بطور سوال نہیں بلکہ اس میں امر کا مفہوم مضمر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہیں اپنی بات ثابت کرنے کے لیے پورا موقع حاصل ہے، تم اس کے لیے اپنے معبودوں کو بھی مدد کے لیے بلا سکتے ہو لیکن اس سب کے بعد بھی اگر تم کچھ نہ کرسکے تو بتاؤ ،اب اسلام لانے والے بنتے ہو؟(یعنی اب تو اسلام لاؤ)۔

3- سورۃ الانبیاء میں ارشاد ہے (وَہَذَا ذِکْرٌ مُّبَارَکٌ أَنزَلْنَاہُ “أَفَأَنتُمْ لَہُ مُنکِرُون”)(الانبیاء:۵۰)، ” اور یہ بھی ایک بابرکت یاد دہانی ہے جو ہم نے نازل فرمائی ہے “تو کیا تم اس کے منکر ہی بنے رہو گے” ؟
یہاںبھی استفسار برائے امر استعمال ہوا ہے ، کہ اتنی واضح نشانیوں کے بعد اب بھی تعمیل کا ارادہ ہے یا نہیں ۔۔۔۔۔مراد ہے کہ اب روشِ انکار چھوڑ کر عمل کرو۔

4-  سورۃ الانبیاء میں ارشاد ہے (وَعَلَّمْنَاہُ صَنْعَۃَ لَبُوسٍ لَّکُمْ لِتُحْصِنَکُم مِّن بَأْسِکُمْ “فَہَلْ أَنتُمْ شَکِرُون”) (الانبیاء:۸۰)، ” اور ہم نے اس کو تمہارے لیے ایک خاص جنگی لباس کی صنعت سکھائی تاکہ وہ تم کو جنگ میں محفوظ رکھے تو” کیا تم بھی اسی طرح شکر کرنے والے بنتے ہو!”؟
یعنی تم بھی حضرت داود علیہ السلام کی طرح شکر ادا کرو،(التفات کے باعث واضح ہے کہ گویا چہرہ کا رخ پھیر کر مخاطب سے کہا جا رہا ہے کہ وہ تو شکر ادا کرنے والے تھے، تو تم اب کس خیال میں ہو)، استفہام یہاں امر اور نصیحت کے مفہوم میں ہے۔

5-  سورۃ المومنون میں ارشاد فرمایا (فَأَرْسَلْنَا فِیْہِمْ رَسُولاً مِنْہُمْ أَنِ اعْبُدُوا اللَّہَ مَا لَکُم مِّنْ إِلَہٍ غَیْْرُہُ “أَفَلَا تَتَّقُون”)(المومنون:۳۲)، ” اور ان میں بھی ایک رسول انہی میں سے اس دعوت کے ساتھ بھیجا کہ اللہ کی بندگی کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ” تو کیا تم اس سے ڈرتے نہیں!؟”
یہاں استفسار “نصیحت وامر” کے مفہوم میں ہے گویا کہا جا رہا ہے کہ  کیا چیز تمہیں اللہ سے ڈرنے میں مانع ہے،تم بھی اللہ ہی سے ڈرو۔

6- سورۃ الفرقان میں ارشاد ہے (وَما أَرْسَلْنَا قَبْلَکَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ إِلَّا إِنَّہُمْ لَیَأْکُلُونَ الطَّعَامَ وَیَمْشُونَ فِیْ الْأَسْوَاقِ وَجَعَلْنَا بَعْضَکُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَۃً” أَتَصْبِرُونَ” وَکَانَ رَبُّکَ بَصِیْراً)(الفرقان:۲۰)، ” اور ہم نے تم سے پہلے رسولوں میں سے جن کو بھی بھیجا وہ کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے بھی تھے اور ہم نے تم کو ایک دوسرے کے لئے آزمائش بنایا ہے “تو بولو، صبر کرتے ہو؟” اور تمہارا رب سب دیکھ رہا ہے”
استفسار برائے امر ہے یعنی اب بھی تم پیغمبر ﷺ پر ایمان لاؤ گے یا نہیں۔

7-  سورۃ القمر میں ارشاد ہے (وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّکْرِ “فَہَلْ مِن مُّدَّکِرٍ”)(القمر:۱۷)، ” اور ہم نے قرآن کو تذکیر کے لیے نہایت موزوں بنایا ہے۔ “تو ہے کوئی یاد دہانی حاصل کرنے والا!”
فَہَلْ مِن مُّدَّکِر کا اسلوب امر  اور نصیحت کے مفہوم میں ہے۔یعنی تم اس سے تذکیر حاصل کرو۔
ان سب مثالوں میں سادہ سوالیہ جملہ محض بطور استفہام استعمال ہی نہیں ہوا بلکہ اس قدر تنوع کے ساتھ مختلف اعلی ادبی پیرائے میں استعمال ہوا ہے کہ روزمرہ بول چال میں ہمیں اس کا احساس نہیں ہو پاتا ، قراۤن اس استفہام کو اپنی تمام Dimensions میں استعمال کرتا ہے، ان اسالیب کو اس کی تمام ممکنہ شکلوں میں appreciate  نہ کرنے کی صورت میں ابلاغ کی مکمل ترسیل اپنی تاثیر کے ساتھ ممکن نہیں رہتی۔ (جاری ہے)

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں