231

ابلاغ کے قرآنی اسلوب(7)- شہزاد محمود

ایک سادہ سوالیہ جملہ لہجے کے اتار چڑھاؤ، اندازِ سوال، جملہ میں اس سوال کی Placement، چہرے کے تاثرات اور آواز کا زیرو بم مل کر یہ طے کرتے ہیں کہ سوال کرنے سے متکلم کی مراد کیا ہے، جس طرح بچے استاد کے تیور دیکھ کر جان لیتے ہیں کہ آج موڈ کیسا ہے اسی طرح الفاظ کے بھی تیور ہوتے ہیں، کچھ الفاظ میٹھے اور کچھ تیکھے ہوتے ہیں، لیکن ان کے میٹھے اور تیکھے ہونے کا فیصلہ کرنے کے عوامل بہت سے ہیں. الفاظ کی یہ کمی مختلف طریقوں سے پوری کی جاتی ہے تاکہ ابلاغ کو ممکن حد تک کامل طریقے سے ادا کیا جا سکے.
استفسار کا اسلوب بطور، “طنز، اقرار، عتاب، حیرت و استعجاب اور انکار و نفی”، “عظمت،ترغیب” بیان ہو چکے. سوال بطور “حسرت”  کے پیرائے میں کس طرح استعمال ہوتا ہے، اردو شاعری میں بھی اس اسلوب کو کئی طریقوں سے ادا کیا گیا ہے.
فیض کی مشہور نظم کا شعر ہے کہ
؎ بنے ہیں اہل ہوس مدعی بھی، منصف بھی
کسےِ وکیل کریں، کس سے منصفی چاہیں؟
دوسرا مصرعہ لاچاری و بےبسی کی سراپا تصویر ہے جو سوال کے روپ میں ملبوس ہے.
غالب کے شعر میں حسرت و بےچارگی سوال کے انداز میں کس خوبصورتی سے پیش کی گئی ہے
؎ رہی نہ طاقت گفتار اور اگر ہو بھی
تو کس امید پہ کہیے کہ آرزو کیا ہے؟
دوسرے مصرعہ میں “کس امید پہ کہیے” انتہائی لطیف انداز میں شاعر کی حسرت کا احساس ہے، جو بانداز سوال بیان کیا گیا ہے.
قرآن پاک میں استفہام، مجازاً کئی مفاہیم میں استعمال ہوا ہے. استفہام برائے “حسرت و لاچارگی” قرآن پاک کے اسالیب میں کس طرح مضمر ہے، ذیل میں اس کی چند مثالیں موجود ہیں.

سوالیہ جملہ بانداز حسرت و لاچارگی:
Interrogation In Terms Of Regret/Helplessness:
1- سورۃ غافر میں ارشاد ہے (قَالُوا رَبَّنَا أَمَتَّنَا اثْنَتَیْْنِ وَأَحْیَیْْتَنَا اثْنَتَیْْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوبِنَا فَہَلْ إِلَی خُرُوجٍ مِّن سَبِیْل)(غافر:۱۱)، ” وہ کہیں گے، اے ہمارے رب! تو نے ہم کو دو بار موت دی اور دو بار زندگی دی تو ہم نے اپنے گناہوں کا اقرار کرلیا تو” کیا یہاں سے نکلنے کی بھی کوئی سبیل ہے!؟”
یعنی حسرت و یاسیت کے ساتھ وہ کہیں گے کہ کیا آج کوئی صورت ہماری جان خلاصی کی ہے، ان کا یہ قول بطور حسرت قرآن نے ذکر کیا ہے۔

2- سورۃ الحاقۃ میں ارشاد فرمایا (مَا أَغْنَی عَنِّیْ مَالِیْہْ)(الحاقۃ:۲۸)، ” میرا مال میرے کیا کام آیا!”
یعنی وہ نہایت حسرت سے کہیں گے کہ جو مال اس اہتمام سے جمع کیا اور اس کو گن گن کر رکھا، بھلا کس کام آیا۔ مایہاں نافیہ بھی ہوسکتا ہے لیکن اظہار حسرت کے پہلو سے اس کا استفہامیہ ہونا زیادہ موزوں ہے۔سلطان کے معنی اقتدار کے ہیں یعنی وہ نہایت حسرت سے کہیں گے کہ وہ اقتدار بھی چھین گیا جس پر ہمیں ناز تھا اور جس کے گھمنڈ نے آج کے دن سے ہمیں اندھا بنائے رکھا۔

3- سورۃ القیامۃ میں ارشاد ہے (یَقُولُ الْإِنسَانُ یَوْمَیذٍ أَیْْنَ الْمَفَرُّ)(القیامۃ:۱۰)، ” تو اس وقت انسان کہے گا کہ ہے کوئی جائے فرار!”
قیامت کی نشانیاں جب ظاہر ہو جائیں گی تو اس وقت اس وقت انسان بطور حسرت یہ کہے گا کہ آج ہے کوئی جائے فرار،لیکن اس وقت کا یہ حسرت کسی کام یہ آئے گایہ استفہام انسان کی گذشتہ زندگی کی ندامت کو خوب واضح کر رہا ہے اور بطور حسرت استعمال ہوا ہے۔

4- سورۃ الانفطار میں ارشاد ہے (یَا أَیُّہَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّکَ بِرَبِّکَ الْکَرِیْمِ)(الانفطار:۶)، ” اے انسان! تجھے تیرے رب کریم کے باب میں کس چیز نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے!”
’ما غرک بربک الکریم‘ میں استفہامیہ اسلوب اظہارحسرت کے لئے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تمہارے رب کی اس کریمی نے تم کو جزا و سزا سے بے خوف کیا کہ وہ تمہاری سرکشیوں پر فوراً گرفت نہیں کرتا اور برابر ڈھیل پر ڈھیل دیئے جا رہا ہے تو تم نے اس کریمی سے بہت سخت دھوکا کھایا۔ ہونا تو یہ تھا کہ تم اس کے لطف و کرم کی قدر کرتے، اس کے شکر گزار بندے بنتے اور اپنے آپ کو اس کی مزید عنایت کا حق دار بناتے لیکن ہوا یہ کہ تم اس کی صفت کریمی سے کچھ سبق حاصل نہ کیا۔

محض اسلوبِ استفسار میں ایسا تنوع،اعلی پائے کے ادبی کلام کے ابلاغ کے نہ صرف مقاصد پورے کرتا ہےبلکلہ کلام کی چاشنی اور اثر پزیری میں بھی معاون ہوتا ہے۔      (جاری ہے)

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں