257

ابلاغ کے قرآنی اسلوب(6)-شہزاد محمود

گذشتہ مثالوں سے بات واضح ہے کہ محض الفاظ، انسانی ما فی الضمیر کے بیان سے عاجز ہیں، اعلی ادبی زبان میں اس کمی کو مجاز کے اسالیب سے پورا کیا جاتا ہے تاکہ ابلاغ کو ممکن حد تک کامل طریقے سے ادا کیا جا سکے.
استفسار کا اسلوب بطور، “طنز، اقرار، عتاب، حیرت و استعجاب اور انکار و نفی” بیان ہو چکے. سوال بطور “عظمت،ترغیب اور توجہ حاصل کرنے یا توجہ دلانے” کے پیرائے میں کس طرح استعمال ہوتا ہے، اردو شاعری میں اس اسلوب کی خوبصورت مثالیں موجود ہیں.
اقبال اپنی نظم “الأرض للہ” میں فرماتے ہیں
؎ پالتا ہے بیج کو مٹی کی تاریکی میں کون؟
کون دریاؤں کی موجوں سے اٹھاتا ہے سحاب؟
کون لایا کھینچ کر پچھم سے بادِ سازگار؟
خاک یہ کس کی ہے، کس کا ہے نورِ آفتاب؟
کس نے بھر دی موتیوں سے خوشہ گندم کی جیب؟
موسموں کو کس نے سکھلائی ہے خوئےِ انقلاب؟
ہر مصرعے میں سوال کا مقصود ذات خداوندی کی عظمت کا ادراک کروانا ہے، یہاں سوال برائے سوال کرنا مقصود ہی نہیں.
غالب کا مشہور شعر ہے
؎ پوچھتے ہیں وہ، کہ غالب کون ہے؟
کوئی بتلاو کہ ہم بتلائیں کیا؟۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسرے مصرعہ میں ” کوئی بتلاو کہ ہم بتلائیں کیا” انتہائی لطیف انداز میں غالب کی اپنی عظمت کا بیان ہے۔ یہاں سوال برائے سوال نہیں کیا جا رہا۔
اسی طرح مرزا سلامت علی دبیر کے چنداشعار جو سوال برائے عظمت کے مفہوم میں ہیں.
؎ کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے؟
رستم کا جگر زیر کفن کانپ رہا ہے
ہر قصرِ سلاطینِ زَمن کانپ رہا ہے
رَن ایک طرف، چرخ کُہن کانپ رہا ہے
پہلے مصرعے میں سوال “کس شیر کی آمد ہے” برائے سوال نہیں بلکہ امام حسین کے شرف کے بیان کرنے، اور مخاطب کو متوجہ کرنے کی غرض سے استعمال ہوا ہے. یہاں سوال مطلوب نہیں بلکہ مخاطب پر امام حسین کےجلال و شکوہ کو واضح کیا جا رہا ہے.
قرآن پاک میں استفہام، مجازاً کئی مفاہیم میں استعمال ہوا ہے. استفہام برائے “عظمت، ترغیب اور برائے التفات” قرآن پاک کے اسالیب میں کس طرح مضمر ہے، ذیل میں اس کی چند مثالیں موجود ہیں.

سوالیہ جملہ بانداز عظمت ،ترغیب اور برائے التفات:
Interrogation In Terms Of Grandeur:

1 – سورۃ البقرۃ میں ارشاد ہے (“مَّن ذَا الَّذِیْ یُقْرِض اللّہَ قَرْضاً حَسَناً” فَیُضَاعِفَہُ لَہُ أَضْعَافاً کَثِیْرَۃً وَاللّہُ یَقْبِضُ وَیَبْسُطُ وَإِلَیْْہِ تُرْجَعُون)(البقرۃ :۲۴۵)، ” اور کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے” ؟ کہ اللہ اس کو اس کے لیے کئی گنا بڑھائے۔ اللہ ہی ہے جو تنگ دستی بھی دیتا ہے اور کشادگی بھی دیتا ہے اور اسی کی طرف تم کو لوٹنا بھی ہے۔”
مالی قربانی کی دعوت کے لیے جو اسلوب اختیار فرمایا ہے وہ غایت درجہ مؤثر ہے۔ سوال کا یہ انداز ہی کہ‘‘ کون ہے جو خدا کو قرض دینے کے لیے آگے بڑھتا ہے ’’غایت درجہ شوق انگیز ہے،جو حقیقت میں دراصل سوال ہے ہی نہیں بلکہ صدا لگائی جا رہی ہے کہ ہے کوئی اس فضیلت کو حاصل کرنے والا؟

2 – سورۃ المائدۃ میں ارشاد ہے (قُلْ “ھَلْ أُنَبِّئکُم بِشَرٍّ مِّن ذَلِکَ” مَثُوبَۃً عِندَ اللّہِ مَن لَّعَنَہُ اللّہُ وَغَضِبَ عَلَیْْہِ وَجَعَلَ مِنْہُمُ الْقِرَدَۃَ وَالْخَنَازِیْرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوتَ أُوْلَءِکَ شَرٌّ مَّکَاناً وَأَضَلُّ عَن سَوَاء السَّبِیْل)(المائدۃ۶۰)،”
کہو” کیا میں تمہیں باعتبارِ انجام اللہ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ برے لوگوں کا پتہ دوں؟” یہ وہ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی، جن پر اس کا غضب ہوا اور جن کے اندر سے اس نے بندر اور سور بنائے اور جنہوں نے طاغوت کی پرستش کی۔ یہ ٹھکانے کے لحاظ سے بد تر اور اصل شاہراہ سے بعید تر ہیں”
سوالیہ انداز مخاطب کے توجہ حاصل کرنے کے لیے اختیار کیا گیا ہے۔

3- سورۃ طہ میں ارشاد ہے (“وَمَا تِلْکَ بِیَمِیْنِکَ” یَا مُوسَی یَا مُوسَی)(طہ:۱۷)، ” اور یہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے”، اے موسیٰ!”
یہ سوال تحقیق کے لئے نہیں بلکہ اظہار التفات و نوازش ہی کے لئے ہوسکتا ہے۔ جس طرح باپ بچے سے پوچھتا ہے کہ بیٹے یہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے حالانکہ وہ اس چیز سے بیٹے سے زیادہ واقف ہوتا ہے۔ اسی طرح رب کریم نے حضرت موسیٰ سے سوال کیا کہ موسیٰ! یہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے؟

4 – سورۃ الصف میں ارشاد ہے ( یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آَمَنُوا “ھَلْ أَدُلُّکُمْ عَلَی تِجَارَۃٍ تُنجِیْکُم مِّنْ عَذَابٍ أَلِیْم”)(الصف:۱۰)، ” (اے ایمان والو! کیا میں تمہیں ایک ایسی تجارت بتاؤں” جو تمہیں ایک درد ناک عذاب سے نجات بخشے!؟”
اسلوب استفہام یہاں مخاطب کی توجہ حاصل کرنے اور ترغیب دینے کے لیے استعمال ہوا ہے، بات کا ۤاغاز بجائے انفاق سے شروع کرنے کے، ایسا اسلوب اختیار کیا کہ مخاطب فوراً متوجہ ہو جائے۔
5- سورۃ النزعٰت میں ارشاد ہے (“ھَلْ أتَاکَ حَدِیْثُ مُوسَی” ۔ إِذْ نَادَہُ رَبُّہُ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًی) (النزعٰت:۱۶۔۱۵)، ” کیا موسیٰ کی سرگزشت تمہیں پہنچی ہے؟”جب کہ اس کے رب نے وادی مقدس۔۔۔ طویٰ۔۔۔ میں اس کو پکارا”
استفہام یہاں مخاطب کو متوجہ کرنے , یعنی برائے التفات بیان ہوا ہے۔
استفسار کے انداز میں ایسا تنوع،اعلی ادبی کلام کی خوبصورت ادائیگی میں معاون اور کلام کی اثر پذیری میں اضافہ کرنے کا باعث ہوتا ہے۔ (جاری ہے)

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں