199

ابلاغ کے قرآنی اسلوب(4)-شہزاد محمود

ایک سادہ سوالیہ جملہ اہل زبان اپنی گفتگو میں کس قدر تنوع کے ساتھ استعمال کرتے ہیں، روز مرہ بول چال میں ہمیں اس کا اندازہ نہیں ہو پاتا. استفہام کا اسلوب بطور” طنز، اقرار، اور عتاب ” بیان ہو چکے. سوال بطور “حیرت و استعجاب” کس کس پیرائے میں استعمال ہوتا ہے، اردو شاعری میں اس اسلوب کی خوبصورت مثالیں ہیں. غالب کا شعر ہے
؎ جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود
پھر یہ ہنگامہ اے خدا,کیا ہے؟
دوسرے مصرعے میں سوال ” پھر یہ ہنگامہ اے خدا,کیا ہے” بطور تحیّر و تعجب استعمال ہواہے، یہ استفہام ، محض سوال برائے سوال نہیں ہے بلکہ اس سوال کے اندر جو استعجاب و حیرت کا مفہوم ہے اگر اسے appreciate نہ کیا جائے تو شعر جس مقصد کے لیے تخلیق کیا گیا ہے وہی حاصل نہیں ہو پاتا اور فقرہ اپنے ابلاغ سے قاصر رہتا ہے. اسی طرح
؎ اے خدا جسم میں تو نے یہ بنایا کیا ہے ؟
دل تو یہ ہے ہی نہیں پھریہ دھڑکتا کیا ہے؟
اوپر دونوں مصرعوں میں “کیا ہے” کی تکرار سوال برائے سوال کے لیے نہیں بلکہ تحیّر اس سوال کا وہ جزو ہے کہ اگر اس سوال میں سے اس حیرت و تعجب کو اس لفظ کے اندر سے نکال دیا جائے تو شعر اپنا مفہوم ہی کھو بیٹھے گا.
قرآن پاک نے سوالیہ جملوں کو نہایت خوبصورتی اور تنوع سے بطور “تحیّر” استعمال کیا ہے اس کی چند مثالیں درج ذیل ہیں.
سوالیہ جملہ بانداز حیرت اور تعجب:
Interrogation In Terms Of Amazement:

1- سورۃ البقرۃ میں ارشاد ہے(وَإِذْ قَالَ إِبْرَاہِیْمُ ُ رَبِّ أَرِنِیْ” کَیْْفَ تُحْیِیْ الْمَوْتَی” قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِن قَالَ بَلَی وَلَکِن لِّیَطْءنَّ قَلْبِیْ قَالَ فَخُذْ أَرْبَعَۃً مِّنَ الطَّیْْرِ فَصُرْہُنَّ إِلَیْْکَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلَی کُلِّ جَبَلٍ مِّنْہُنَّ جُزْء اً ثُمَّ ادْعُہُنَّ یَأْتِیْنَکَ سَعْیْاً وَاعْلَمْ أَنَّ اللّہَ عَزِیْزٌ حَکِیْم)(البقرۃ:۲۶۰)، ” اور یاد کرو جب کہ ابراہیم نے کہا کہ “اے میرے رب، مجھے دکھا دے تو مردوں کو کس طرح زندہ کرے گا؟” فرمایا کیا تم اس بات پر ایمان نہیں رکھتے؟ بولا ایمان تو رکھتا ہوں لیکن چاہتا ہوں کہ میرا دل پوری طرح مطمئن ہوجائے۔ فرمایا تو چار پرندے لو اور ان کو اپنے سے ہلا لو، پھر ان کو ٹکڑے کر کے ہر پہاڑی پر ان کا ایک ایک حصہ رکھ دو، پھر ان کو بلاؤ وہ تمہارے پاس دوڑتے ہوئے آئیں گے اور جان رکھو کہ اللہ غالب اور حکیم ہے۔”
استفہام یہاں حیرت و استعجاب کی قبیل سے ہے۔یہاں سوال کی نوعیت میں اظہار تعجب ہے یہ وہ استفسار ہے جو ہرجویائے حقیقت کے ذہن میں پیدا ہوتا ہے۔

2- سورۃ ال عمرٰن میں ارشاد ہے (فَتَقَبَّلَہَا رَبُّہَا بِقَبُولٍ حَسَنٍ وَأَنبَتَہَا نَبَاتاً حَسَناً وَکَفَّلَہَا زَکَرِیَّا کُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْْہَا زَکَرِیَّا الْمِحْرَابَ وَجَدَ عِندَہَا رِزْقاً قَالَ یَا مَرْیَمُُ “أَنَّی لَکِ ہَذَا” قَالَتْ ہُوَ مِنْ عِندِ اللّہِ إنَّ اللّہَ یَرْزُقُ مَن یَشَاءُ بِغَیْْرِ حِسَاب(ال عمرٰن:۳۷)، ” تو اس کے رب نے اس کو اپنی پسندیدگی کی قبولیت سے نوازا، اس کو عمدہ طریقے پر پروان چڑھایا اور زکریا کو اس کا سرپرست بنایا۔ جب جب زکریا محراب میں اس کے پاس جاتا وہاں رزق پاتا، اس نے پوچھا اے مریم “یہ چیز تمہارے پاس کہاں سے آئی؟” اس نے کہا یہ اللہ کے پاس سے ہے۔ بیشک اللہ جس پر چاہے بےحساب فضل فرماتا ہے”
حضرت زکریا علیہ السلام کا یہ استفسار تعجب اور تحسین کی نوعیت سے ہے۔

3- سورۃ ال عمرٰن میں ارشاد ہے (قَالَ رَبِِّّ” أَنَّیَ یَکُونُ لِیْ غُلاَمٌ ” وَقَدْ بَلَغَنِیَ الْکِبَرُ وَامْرَأَتِیْ عَاقِرٌ قَالَ کَذَلِکَ اللّہُ یَفْعَلُ مَا یَشَاء )(ال عمرٰن:۴۰)، ” اس نے کہا اے میرے رب میرے ہاں لڑکا کیسے ہوگا؟” ، میں تو بوڑھا ہوچکا اور میری بیوی بھی بانجھ ہے؟ فرمایا، اسی طرح اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔
حضرت زکریا علیہ السلام کا یہ سوال (رَبِِّّ” أَنَّیَ یَکُونُ لِیْ غُلاَمٌ ) بھی تحیّر و تعجب کی غرض کی سے ہے۔

4- سورۃ ابرہیم میں ارشاد ہے (قَالَتْ رُسُلُہُمْْ ” أَفِیْ اللّہِ شَکٌّ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْض”یَدْعُوکُمْ لِیَغْفِرَ لَکُم مِّن ذُنُوبِکُمْ وَیُؤَخِّرَکُمْ إِلَی أَجَلٍ مُّسَمًّی قَالُواْ إِنْ أَنتُمْ إِلاَّ بَشَرٌ مِّثْلُنَا تُرِیْدُونَ أَن تَصُدُّونَا عَمَّا کَانَ یَعْبُدُ آبَآؤُنَا فَأْتُونَا بِسُلْطَانٍ مُّبِیْن)(ابرہیم:۱۰)، ” ان کے رسولوں نے کہا کیا تمہیں آسمانوں اور زمین کے وجود میں لانے والے اللہ کے بارے میں شک ہے؟ وہ تمہیں بلاتا ہے تاکہ تمہارے گناہوں کو بخشے اور تمہیں ایک وقت معین تک مہلت دے۔ وہ بولے کہ تم تو ہمارے ہی جیسے آدمی ہو۔ تم چاہتے ہو کہ ہم کو ان چیزوں کی عبادت سے روک دو جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے آئے تو ہمارے پاس کوئی کھلا ہوا معجزہ لاؤ”
رسولوں کی طرف سے یہ سوال استعجاب کی نوعیت کا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کیا تمہیں آسمانوں اور زمین کے وجود میں لانے والے خدا کے باب میں شک ہے، خدا کو تو تم مانتے ہی ہو اور اسی کو آسمانوں اور زمین کا خالق بھی مانتے ہو، اسی کی دعوت ہم تمہیں دے رہے ہیں تو اس کے بارے میں تو کسی شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اتنے واضح اور بدیہی نشانیوں کے باوجود تم خدا کو ماننے سے انکاری ہو؟

5- سورۃ ھود میں ارشاد ہے (قَالَتْ یَا وَیْْلَتَی ” أَأَلِدُ وَأَنَاْ عَجُوزٌ وَہَذَا بَعْلِیْ شَیْْخاً” إِنَّ ہَذَا لَشَیْْءٌ عَجِیْب ۔ قَالُواْ أَتَعْجَبِیْنَ مِنْ أَمْرِ اللّہِ رَحْمَتُ اللّہِ وَبَرَکَاتُہُ عَلَیْْکُمْ أَہْلَ الْبَیْْتِ إِنَّہُ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ)(ھود:۷۳۔۷۲)، ” وہ بولی کہ ہائے شامت! “کیا اب میں بچہ جنوں گی؟ “، جب میں خود بھی ایک بڑھیا ہوں اور یہ میرے شوہر بھی بوڑھے ہیں! یہ تو ایک نہایت ہی عجیب بات ہوگی!وہ بولے، کیا خدا کی بات پر تعجب؟! اللہ کی رحمت اور برکتیں نازل ہوں آپ پر اے اہل بیت نبی، بیشک وہ سزاوار حمد و بزرگ ہے”
حضرت سارہ نے بڑھاپے میں بیٹے کی بشارت پا کرتعجب کا اظہار کیا جبکہ فرشتوں کے انکے تعجب پر اظہار تعجب کیا۔بہت ہی بلیغ انداز بیان ہے۔دونوں آیات میں اسلوب استفہام بطور تعجب آیا ہے۔
اوپر تمام مثالوں میں قران پاک نے سوال، بطور “تحیر”/Amazement کے مفہوم میں استعمال کیا ہے اور کلام میں اگر اس تحیّر کے مفہوم کو نظر انداز کر دیا جائے تو ابلاغ کامل طریقے سے نہیں ہو پاتا۔(جاری ہے)

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں