138

ابلاغ کے قرآنی اسلوب-(9)- شہزاد محمود

جب سے انسان نے الفاظ کو ابلاغ کا ذریعہ بنایا ہے وہ اس کوشش میں رہا ہے کہ وہ زبان کو محض اظہار و بیان کے لیے استعمال نہ کرے بلکہ اس بیان میں الفاظ کا چناؤ، بیان کی سلاست و روانی ایسی ہو سننے والوں کو اس میں چاشنی محسوس ہو اور کلام کے اندر وہ تاثیر پیدا کی جائے کہ نہ صرف مخاطب اس اسلوب سے انسیت محسوس کرے بلکہ وہ کلام بھی اعلی ادبی شہ پاروں میں اپنی جگہ بنا سکے.
زمانہ قدیم ہی سے انسان اپنی طاقت لسانی کے جوہر دکھاتا آیا ہے کیونکہ وہ اس حقیقت سے آشنا تھا کہ الفاظ کا مناسب چناؤ اور جملوں میں ان الفاظ کی ترتیب اور ان کی ادائیگی سننے والوں پر ایک خاص اثر چھوڑتی ہیں، قدیم یونان میں یہ فن اپنے عروج پر رہا ہے، اہل یونان فن خطابت Rhetoric  پر بہت زور دیتے اور اس بات کا خوب ادراک رکھتے تھے کہ اس فن میں مہارت سے مخاطب کو قائل کیا جا سکتا ہے. اسی فن کی تعلیم کی خاطر وہ اپنے بچوں کو اساتذہ Sophist کے پاس بھجوایا کرتے.
حضرت موسی علیہ السلام نے اسی لیے اللہ تعالٰی کے حضور درخواست پیش کی کہ حضرت ہارون علیہ السلام کو میرا مددگار بنائیے کہ وہ مجھ سے ذیادہ فصیح ہیں، اور ذیادہ مدلل و مفصل الفاظ میں مدعا بیان کر سکتے ہیں، یہ بات بجائے خود اتنا وزن رکھتی تھی کہ انہوں نے اسی بنا پر حضرت ہارون علیہ السلام کو نبی بنانے کی درخواست کی جسے اللہ تعالٰی نے منظور کر لیا.
اعلی ادبی زبانوں میں پائے جانے والے اسالیب میں سے ایک اسلوب “لَف و نَشَر” کا اسلوب ہے.
اس کی دو اقسام ہیں۔ 1- لف و نشر مرتب 2- لف و نشر غیر مرتب
1- لف و نشر مرتب:
لَف کے معنی “لپٹنا” اور نشر کے معنی” پھیلانا/ کھولنا “ہیں۔ اصطلاح میں چند چیزوں کے بیان کو لف کہتے ہیں اور نشر ایسی چند چیزوں کے بیان کو کہتے ہیں جو ان سے مناسبت رکھتی ہوں یا ان سے متعلق ہوں، اگر یہ مناسبت اور تعلق ترتیب کے ساتھ ہو تو اسے لف و نشر مرتب کہتے ہیں اور اگر اس میں ترتیب ملحوظ نہ رکھی جائے تو اسے لف و نشر غیر مرتب کہتے ہیں۔
i۔ لف ونشر مرتب:
لف و نشر کا اسلوب اردو نثر و نظم دونوں میں بکژت استعمال ہوتا ہے۔
مرزا غالب کا شعر ہے
؎ ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے
ایماں کی مناسبت کعبہ سے اور کفر کی مناسبت کلیسا سے بالترتیب ہے۔
منیر نیازی کا شعر ہے
؎ یہی آنا جانا ہے زندگی،کہیں دوستی کہیں اجنبی یہی رشتہ کارِحیات ہے،کبھی قرب کا کبھی دُور کا
پہلے مصرعہ میں ” آنا جانا” کی رعایت سے ” رشتہ کارِحیات” ، ” دوستی” کی مناسبت سے ” قرب” اور ” اجنبی” کی مناسبت سے ” دُور” استعمال ہوا ہے۔تمام رعائتیں بالترتیب استعمال ہوئیں ہیں۔
غالب کا شعر ہے
؎ نہ ہمت،نہ قسمت،نہ دل ہے،نہ آنکھیں نہ ڈھونڈا،نہ پایا،نہ سمجھا، نہ دیکھا
ہمت کے مقابل ڈھونڈا، قسمت کے مقابل پایا، دل کے مقابل سمجھا اور آنکھوں کے مقابل دیکھا، لف و نشر مرتب کی مثال ہے۔
قران پاک میں اس اسلوب کی کئی مثالیں ہیں جن میں سے چند ذیل میں پیش خدمت ہیں۔
1- سورۃ البقرۃ میں ارشاد ہے (الَّذِیْنَ یُنفِقُونَ أَمْوَالَہُم بِاللَّیْْلِ وَالنَّہَارِ سِرّاً وَعَلاَنِیَۃً فَلَہُمْ أَجْرُہُمْ عِندَ رَبِّہِمْ وَلاَ خَوْفٌ عَلَیْْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُون)(البقرۃ:۴۷۲)، ” جو لوگ اپنے مال رات اور دن میں پوشیدہ اور علانیہ خرچ کرتے ہیں، ان کے لیے ان کے رب کے پاس اجر ہے اور نہ ان کے لیے خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔”
نشر مرتب کا اسلوب ہے (بِاللَّیْْل) کے مقابل (سِرّا) لائے اور (َالنَّہَار) کے مقابل (َعَلاَنِیَۃ) بالترتیب لائے، یعنی رات کو پوشیدگی کے ساتھ منسلک کیا اور دن کی مناسبت سے علانیہ کو لائے ۔
2- سورۃ ال عمرٰن میں ارشا دہے (وَیُعَلِّمُہُ الْکِتَبَ وَالْحِکْمَۃَ وَالتَّوْرَاۃَ وَالإِنجِیْل)(ال عمرٰن:۸۴)، ” اور اللہ تعالیٰ اس کو کتاب(یعنی تورات) اور حکمت(یعنی انجیل)، تورات اور انجیل سکھائے گا۔”
یہ نشرمرتب کا اسلوب ہے،لفظُ(الْکِتَاب)کو( َالتَّوْرَاۃَ) کے ساتھ اور(الْحِکْمَۃَ) کو( َالإِنجِیْل)کی رعائت سے لائے۔
3- سورۃ الانعام میں ارشاد ہے (قُلْ إِنَّ صَلاَتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ) (الانعام:۲۶۱)، ” کہہ دو میری نماز اور میری قربانی، میری زندگی اور میری موت اللہ رب العالمین کے لیے ہے ”
نماز ور قربانی، زندگی اور موت دونوں میں غور کیجیے نہایت حسین تقابل ہے اور لف و نشرکا اسلوب ہے۔ نماز کے مقابل میں زندگی اور قربانی کے مقابل میں موت ہے۔ یہ نہایت حسین تقابل ہے کہ بندہ مومن جیتا ہے تو روز و شب کی ہر کروٹ نماز میں ہوتا ہے اور مرتا ہے تو اسی آرزو میں کہ جس قربانی کے لیے وہ ہمیشہ تیار رہا وہ اس کے پروردگار کے ہاں قبول ہو جائے۔
4- سورۃ ھود میں ارشاد ہے (مَثَلُ الْفَرِیْقَیْْنِ کَالأَعْمَی وَالأَصَمِّ وَالْبَصِیْرِ وَالسَّمِیْعِ ہَلْ یَسْتَوِیَنِ مَثَلاً أَفَلاَ تَذَکَّرُون)(ھود:۴۲)، ” دونوں فریقوں کی تمثیل ایسی ہے کہ” ایک اندھا اور بہرا ہو اور ایک دیکھنے والا اور سننے والا”۔ کیا دونوں کا حال ایک جیسا ہوجائے گا؟ کیا تم لوگ دھیان نہیں کرتے”
قرآن کا اعجاز ہے کہ ایک ہی آیت میں زبان و بیان کے کئی محاسن ہوتے ہیں، یہاں تمثیل کے اسلوب میں، لف و نشر مرتب بیان کیا، (کَالأَعْمَی وَالأَصَمِّ)کے فوراً بعد بالترتیب (وَالْبَصِیْرِ وَالسَّمِیْعِ) لف و نشر مرتب کے اسلوب پر لائے، اور آخر میں استفہام بطور زجر وتوبیخ ہے۔
5- سورۃ القصص میں ارشاد ہے (وَمِن رَّحْمَتِہِ جَعَلَ لَکُمُ اللَّیْْلَ وَالنَّہَارَ لِتَسْکُنُوا فِیْہِ وَلِتَبْتَغُوا مِن فَضْلِہِ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُون)(القصص:۳۷)، ” اور اس نے اپنی رحمت ہی سے تمہارے لئے رات اور دن کو بنایا ہے کہ تم اس (رات)میں سکون حاصل کرو اور تاکہ تم اس کے(دن میں) فضل کے طالب بنو اور تاکہ تم شکر گزار ہو”
(اللَّیْْل)کیساتھ رات سے متعلق صفت (لِتَسْکُنُوا)اور (ا لنَّہَار) کے ساتھ دن کی صفت کا ذکر لف و نشر مرتب کے اسلوب کو استعمال کرتے ہوئے فرمایا۔
6- سورۃ الروم میں ارشاد ہے (وَمِنْ آیَاتِہِ مَنَامُکُم بِاللَّیْْلِ وَالنَّہَارِ وَابْتِغَاؤُکُم مِّن فَضْلِہِ إِنَّ فِیْ ذَلِکَ لَآیَاتٍ لِّقَوْمٍ یَسْمَعُونَ)(الروم:۳۲)، ” اور اس کی نشانیوں میں سے رات اور دن میں تمہارا سونا اور اس کے فضل کا طالب بننا ہے۔ بیشک اس کے اندر گونا گوں نشانیاں ہیں ان کے لئے جو سننے سمجھنے والے ہیں ”
بالترتیب رات کی خصوصیت کو (بِاللَّیْْل) کے ساتھ اور(َالنَّہَار) کی خصوصیت کو دن کے ساتھ ذکر کیا، لیکن رات کے ذکر سے پیشتر رات کی صفت بیان کی اور دن کا ذکر پہلے کیا اوراس سے متعلق کام بعد میں بیان کیے۔
7- سورۃ الضحی میں ارشاد ہے (أَلَمْ یَجِدْکَ یَتِیْماً فَآوَی۔ وَوَجَدَکَ ضَالّاً فَہَدَی۔وَوَجَدَکَ عَاءِلاً فَأَغْنَی۔ فَأَمَّا الْیَتِیْمَ فَلَا تَقْہَرْ۔ وَأَمَّا السَّاءِلَ فَلَا تَنْہَرْ۔وَأَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّث)(الضحی:۱۱۔۶)، ” کیا اس نے تجھے یتیم پایا تو ٹھکانا نہ دیا!جویائے راہ پایا تو راہ نہ دکھائی!اور محتاج پایا تو غنی نہیں کیا!تو جو یتیم ہے اس کو مت دبائیو-اور جو سائل ہو اس کو نہ جھڑکیو،اور اپنے پروردگار کی نعمت کا بیان کیجیو”
لف و نشر مرتب کے اصول پر (أَلَمْ یَجِدْکَ یَتِیْماً فَآوَی۔۔۔۔۔۔۔ فَأَمَّا الْیَتِیْمَ فَلَا تَقْہَرْ)، (وَوَجَدَکَ ضَالّاً فَہَدَی۔۔۔۔۔۔وَأَمَّا السَّاءِلَ فَلَا تَنْہَر)، (وَوَجَدَکَ عَاءِلاً فَأَغْنَی۔۔۔۔۔۔۔۔ وَأَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّث) بالترتیب پچھلی آیت کو اگلی آیت کے مضمون سے لف و نشر مرتب کے اصول پر جوڑا، ایسا کرنے سے کلام کی خوصورتی میں نہایت اضافہ ہو گیا ہے۔
ان اسالیب کے استعمال سے کلام کی چاشنی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔کسی بھی اعلی ادبی کلام کا خاصہ ہے کہ زبان و بیان کے ان اسالیب کے ساتھ اسے مزین کیا جائے –
(جاری ہے)

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں