240

ابلاغ کے قرآنی اسلوب-۵-شہزاد محمود

استفہامیہ جملہ کا اسلوب بطور، “طنز، اقرار، عتاب اور حیرت و استعجاب” بیان ہو چکے. سوال بطور “انکار/نفی” کے پیرائے میں کس طرح استعمال ہوتا ہے، اردو شاعری میں اس اسلوب کی خوبصورت مثالیں ہیں. غالب کا شعر جو سوال بانداز نفی اور انکار کے مفہوم میں ہے.
؎ رگوں میں دوڑنے پھرنے کے ہم نہیں قائل
جو آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے؟
ہوا ہے شاہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا
وگرنہ شہر میں غالب کی اۤبرو کیا ہے؟
دوسرے اور چوتھے مصرعہ میں “لہو کیا ہے” اور “آبرو کیا ہے” سے سوال پوچھنا مقصد نہیں بلکہ نفی کرنا مقصود ہے یعنی شاہ کا مصاحب ہونے کے ناتے اکڑتا پھرتا ہے ورنہ غالب کی کوئی آبرو نہیں ہے.
اسی طرح اقبال کا شعر ہے
؎ کسے نہیں ہے تمنائے سروری لیکن……….
خودی کی موت ہو جس میں وہ سروری کیا ہے؟
“وہ سروری کیا ہے” سے سوال کرنا مقصود نہیں بلکہ اس سروری کی نفی کرنا مقصود ہے جو خودی کے کمپرومائز/Compromise سے حاصل کی جائے.
قرآن پاک میں استفہام برائے “نفی اور انکار” کس طرح استعمال ہوا ہےذیل میں اس کی چند مثالیں موجود ہیں.

سوالیہ جملہ بانداز نفی و انکار:
Interrogation In Terms Of Denial:

1- سورۃ ال عمرٰن میں ارشاد ہے (وَالَّذِیْنَ إِذَا فَعَلُواْ فَاحِشَۃً أَوْ ظَلَمُواْ أَنْفُسَہُمْ ذَکَرُواْ اللّہَ فَاسْتَغْفَرُواْ لِذُنُوبِہِمْ ْ “وَمَن یَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ اللّہ” وَلَمْ یُصِرُّواْ عَلَی مَا فَعَلُواْ وَہُمْ یَعْلَمُون)(ال عمرٰن:۱۳۵)، ” یہ لوگ جب کسی کھلی برائی کا ارتکاب یا اپنی جان پر کوئی ظلم کر بیٹھتے ہیں تو اللہ کو یاد کر کے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں اوراور “اللہ کے سوا کون ہے جو گناہوں کو بخشے ؟” اور یہ جانتے بوجھتے اپنے کیے پر اصرار نہیں کرتے۔”
استفہام یہاں انکار کے معنی میں ہے،یعنی اللہ کے سوا کوئی نہیں ہے جو گناہوں کی مغفرت کر سکے۔۔یہ استفہامیہ انداز، مجاز کے اسالیب ہیں جن سے کلام میں زور پیدا ہوتا ہے، سوال کر کے بات کو مخاطب کے فہم پر چھوڑ دینا کہیں ذیادہ پُر اثر ہے بجائے کہ خود جواب دیا جائے۔

2- سورۃ الانعام میں ارشاد ہے (قُلْ ْ” أَغَیْْرَ اللّہِ أَبْغِیْ رَبّاً وَہُوَ رَبُّ کُلِّ شَیْْءٍ “وَلاَ تَکْسِبُ کُلُّ نَفْسٍ إِلاَّ عَلَیْْہَا وَلاَ تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ أُخْرَی ثُمَّ إِلَی رَبِّکُم مَّرْجِعُکُمْ فَیُنَبِّءُکُم بِمَا کُنتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُون)(الانعام:۱۶۴)، “پوچھو، “کیا میں اللہ کے سوا کسی اور کو رب بناؤں؟” جب کہ وہی ہر چیز کا رب ہے اور ہر جان جو کمائی کرتی ہے وہ اسی کے کھاتے میں پڑتی ہے اور کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔ پھر تمہارے رب ہی کی طرف تمہارا لوٹنا ہوگا پس وہ تمہیں بتائے گا وہ چیز جس میں تم اختلاف کرتے رہے ہو”
یعنی یہ کیونکہ ممکن ہے کہ اللہ کو چھوڑ کر میں اپنا الٰہ کسی اور کو بناوں(ایسا کسی صورت نہیں ہو سکتا)، یہ استفہام انکارکا اسلوب ہے۔یہ استفہام عزم مصمم کی دلیل ہے جسکا ابلاغ سادہ انکار کی صورت میں اس شدت کے ساتھ مخاطب تک پہنچایا ہی نہیں جا سکتا تھا۔

3- سورۃ الرعد میں ارشاد ہے (“أَفَمَن یَعْلَمُ أَنَّمَا أُنزِلَ إِلَیْْکَ مِن رَبِّکَ الْحَقُّ کَمَنْ ہُوَ أَعْمَی ” إِنَّمَا یَتَذَکَّرُ أُوْلُواْ الأَلْبَاب)(الرعد:۱۹)، ” تو کیا جو جانتا ہے کہ جو کچھ تمہارے رب کی جانب سے اتار گیا ہے وہ حق ہے وہ اس کے مانند ہوجائے گا جو اندھا ہے ؟”یاددہانی تو اہل عقل ہی حاصل کرتے ہیں”
استفہام یہاں بطور انکار استعمال ہوا ہے(یعنی ایسا نہیں ہو سکتا)۔یہاں سوال کر کے مخاطب کے فہم کو جھنجھوڑا ہے کہ اتنی سادہ بات تہماری سمجھ سے بالاتر ہو چکی ہے۔ اس بات کابیان کہ بینا ، نابینا کے برابر نہیں ہو سکتا، وہ زور پیدا ہی نہیں کر سکتا جو اس استفہام کے اسلوب میں ہے۔

4- سورۃ فصلٰت میں ارشاد ہے (فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَکْبَرُوا فِیْ الْأَرْضِ بِغَیْْرِ الْحَقِّ ِّ وَقَالُوا “مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّۃً” أَوَلَمْ یَرَوْا أَنَّ اللَّہَ الَّذِیْ خَلَقَہُمْ ہُوَ أَشَدُّ مِنْہُمْ قُوَّۃً وَکَانُوا بِآیَاتِنَا یَجْحَدُون)(فصلٰت:۱۵)، ” عاد کا معاملہ یوں ہے کہ انہوں نے زمین میں بغیر کسی حق کے گھمنڈ کیا “اور بولے کہ ہم سے بڑھ کر طاقت میں کون ہے۔؟” کیا انہوں نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ جس خدا نے ان کو پیدا کیا ہے وہ ان سے زیادہ زور آور ہے اور وہ ہماری نشانیوں کا برابرانکار کرتے رہے”
مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّۃً کا اسلوبِ بیان واضح کر رہا ہے کہ یہاں استفسار انکار کے معنی میں ہے۔یعنی اُن کا گھمنڈ تھا کہ ہم سے طاقت میں بڑھ کر کوئی نہیں ہے۔(یہ سوال ہے کہ ہمارے علم کے مطابق تو ہم ہی سب سے بڑھ کر ہیں، ہاں اگر تم جانتے ہو تو بتا دو، مخاطب کو عاجز کرنے کے لیے بطور “انکار” کیا گیا سوال ہے)

5- سورۃ الرحمٰن میں ارشاد ہے (ہَلْ جَزَاء الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ) (الرحمٰن:۶۰)، ” کیا احسان کا بدلہ احسان کے علاوہ کچھ اور ہو سکتا ہے؟”
یعنی ایسا ہونا ممکن نہیں کہ آفاق و انفس کی گواہی اس کے خلاف ہے، ھل ،نافیہ کے مفہوم میں ہے، یعنی ایسا کیونکر ہو سکتا ہے۔

6- سورۃ الملک میں ارشاد ہے (الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقاً مَّا تَرَی فِیْ خَلْقِ الرَّحْمَنِ مِن تَفَاوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ “ہَلْ تَرَی مِن فُطُور”)(الملک:۳)، ” جس نے بنائے سات آسمان تہ بہ تہ۔ تم خدائے رجحان کی صنعت میں کوئی خلل نہیں پاؤ گے۔ نگاہ دوڑاؤ، “کیا تمہیں کوئی نقص نظر آتا ہے؟”
استفہام یہاں انکار کے معنی میں ہے، یعنی تخلیق رحمٰن میں ادنیٰ سا نقص بھی نظر نہیں آتا۔
ایک سادہ سوالیہ جملہ، جملوں میں کتنے تنوع سے استعمال ہوتا ہے، یعنی کہیں تو “اقرار”کے مفہوم میں ہے اور کہیں “انکار” کے مفہوم میں۔ مجاز کے یہ تمام اسالیب نہ صرف مخاطب کو رُک کر سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ یہ ایسی بات نہیں جس پر سرسری نظر ڈال کر آگے بڑھا جائے، بلکہ کلام کو پُر اثر بھی بناتے ہیں۔ (جاری ہے)

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں