125

ابراہیمؑ پر کانٹ کے اعتراض کا جواب- فیصل ریاض شاہد

اعتراض:-

اٹھارویں صدی کے سب سے بڑے مغربی فلسفی عمانوئل کانٹ1724-1804ء نے سیدنا ابراہیم ؑ پر یہ اعتراض کیا کہ  بیٹے کے گلے پر چھری چلا کر ابراہیمؑ نے اپنی وہ ذمہ داری تو پوری کر دی جو خدا کی طرف سے ابراہیمؑ پر عائد ہوتی تھی لیکن ابراہیمؑ اپنی وہ ذمہ داری پوری نہ کر پائے جو بحثیت باپ بیٹے کی جانب سے ابراہیمؑ پر عائد ہوتی تھی۔ بالفاظ دیگر ابراہیم ؑ نے بحثیت نبی خدا کا حکم مان کر خدا کا حق تو ادا کر دیا لیکن بیٹے کے گلے پر چھری چلا کر بحثیت باپ اپنے بیٹے اسماعیلؑ کا حق ادا نہ کر پائے کیونکہ کوئی بھی باپ بیٹے کی گردن پر چھری نہیں چلاتا، تو چونکہ ابراہیمؑ نے بیٹے کی گردن پر چھری چلائی ہے، لہذا انہوں نے اولاد کے حق زندگی کی حق تلفی کی ہے۔ ابراہیم ؑ نے بیٹے سے “حقِ زندگی” چھینے کی کوشش کی ہے!(معاذ اللہ)

جواب:-

یہ کانٹ کا سیدنا ابراہیمؑ پر اعتراض ہے، جس کا جواب دینے کی اس تحریر میں کوشش کی گئی ہے۔ چونکہ اعتراض فلسفیانہ ہے اور پھر ہے بھی ایک بڑے فلسفی کی جانب سے لہذا اس کے جواب کیلئے فلسفے کی حدود میں داخل ہونا ہمارے لئے نا گزیر ہے۔

کسی بھی اعتراض کا جواب دینے سے پہلے ضروری ہوتا ہے کہ پہلے آپ معترض (اعتراض کرنے والا) کے مابعد الطبیعی ایمان Metaphysical Assumptionsکا جائزہ لیں اور ساتھ ہی یہ دیکھیں کہ وہ کن فلسفیانہ یا نظریاتی بنیادوں پر کھڑا ہو کر اعتراض کر رہا ہے۔ چنانچہ کانٹ کے اعتراض کے پس منظر کو سمجھنے کیلئے لازم ہے کہ پہلے ہم “حق زندگی” کے تاریخی تناظر پر روشنی ڈال لیں۔

جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ اعتراض فلسفیانہ ہے اس لئے ہمیں فلسفے میں جانا ہی پڑے گا، تو بنیادی طور پر فلسفے کی پانچ شاخوں میں سے ایک اہم شاخ “اخلاقیاتEthics”ہے۔ یہی وہ شاخ ہے جس میں اخلاقیات، معیاراتStandards، اقدارSocial Values، روایات Traditionsاور خیر و شر Good and Evilجیسے مضامین کا فلسفیانہ سطح پر مطالعہ کیا جاتا ہے۔ اخلاقیات میں حقوق کی بحث بھی چھیڑی جاتی ہے اور دیکھا جاتا ہے کہ کوئی حق آخرکب حق بنتا ہے؟ حق Rightکا ماخذ کیا ہوتا ہے ؟ وغیرہ وغیرہ

کانٹ سے پہلے بھی متعدد فلسفیوں مثلا تھامس ہوبز وغیرہ نے حقوق کے حوالے سے فلسفہ جھاڑا تھا لیکن وہ فلسفی جس نے اس ضمن میں سب سے زیادہ نام کمایا اس کا نام جان لاک John Locke ہے جو مغرب کا سب سے بڑا سیاسی فلسفی گزرا ہے۔ کانٹ کے نظریات پر بھی لاک کی گہری چھاپ ہے۔ درحقیقت کانٹ کا سارا فلسفہ ڈیکارٹ اور لاک کے فلسفوں میں تطبیق پیدا کرنے ہی سے عبارت ہے۔ تو خیر جان لاک نے حقوق Human Rightsپر سیر حاصل گفتگو کی ہے۔

لیکن لاک کو سمجھنے سے پہلے ضروری ہے کہ ان حالات پر سرسری سی نظر دوڑا لی جائے جن میں جان لاک پروان چڑھا۔ لاک یورپ کے عہد تنویر(روشن خیالی Enlightenment) کا فلسفی تھا، نہ صرف فلسفی بلکہ وہ تنویری مفکرین کی روح رواں تھا۔ اس کا شمار مغربی روشن خیالی (جو درحقیقت تاریک ذہنی ہے) کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ لاک کے زمانے میں حقوق انسانی کے حوالے سے (سیاسی سطح پر) متعدد فلسفے موجود تھے جن میں سے ایک اہم فلسفہ یہ تھا کہ حقوق کا ماخذ خدا کی بجائے خود انسان ہے۔ لاک نے بھی اسی فلسفے کو مزید پروان چڑھایا اور اس کی نوک پلک سنواری۔

لاک حقوق کو دو اقسام میں تقسیم کرتا ہے۔

  1. سیاسی حقوقPolitical Rights
  2. فطری حقوق Natural Rights

لاک سے پہلے مسیحی اور باقی تمام مذہبی دنیا میں فطری حقوق نامی کسی شے کا کوئی وجود نہ تھا۔ تمام انسان(چاہے کسی بھی مذہب کے ہوں) یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ خدا ہر شے کی اصل ہے، ہر اصول کا ماخذ صرف اور صرف خدا ہے، انسان کی حیات و کائنات کی مکمل توجیہ خدا اور اس کے بھیجی ہوئی ہدایت (وحی) کے ذریعے ہی کی جاتی تھی۔  لاک نے آ کر یہ کہا کہ نہیں ہر اصول کا مآخذ خدا کی ذات نہیں ہے بلکہ کچھ حقوق ایسے بھی ہوتے ہیں جو ہر انسان اپنی پیدائش کے وقت ساتھ لے کر پیدا ہوتا ہے۔

یہ نکتہ توجہ طلب ہے۔

میں ایک انسان ہوں اور مجھے پورا حق ہے کہ میں زندہ رہ سکوں، یعنی میرا “حق زندگی” محفوظ ہے، کسی بھی دوسرے انسان کو اجازت نہیں کہ وہ مجھے قتل کر کے مجھ سے میرا حق زندگی چھین لے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مجھے زندہ رہنے کا یہ حق کس نے عطا کیا؟ گویا میرے حق زندگی کا ماخذ کیا ہے؟

جیسا کہ میں نے پہلے اشارہ کیا کہ ماضی میں ہر انسان حقوق کا ماخذ خدا تعالیٰ کی ذات کو قرار دیتا تھا۔ تو اس مذہبی تناظر میں اگر میں بات کروں تو مذکورہ سوال کا جواب یہ ہو گا کہ مجھے حق زندگی خدا نے عطا کیا ہے! جب خدا نے مجھے حق زندگی عطا کیا ہے تو گویا زندگی کوئی ایسی شے نہیں جس پر میرا پیدائشی حق ہو، بلکہ زندگی میرے پاس ایک امانت ہے جو خدانے میرے پاس رکھی ہے وہ جب چاہے مجھ سے اپنی امانت واپس لے سکتا ہے۔ یہ بات زرا سمجھنے والی ہے۔

دیکھیں، دو باتیں ہیں، ایک بات یہ ہے کہ زندگی خدا کی امانت ہے، اور دوسری بات یہ ہے کہ نہیں زندگی خدا کی امانت نہیں بلکہ ایک ایسی شے، ایک ایسی قدر، ایک ایسا حق ہے جو میں اپنی پیدائش کے وقت ساتھ لئے ہوئے پیدا ہوا ہوں۔ ان دونوں جملوں میں فرق ہے۔ پہلی صورت میں زندگی کی توجیہ خدا سے ہوتی ہے جبکہ دوسری صورت میں خدا کو نفی کر کے انسان کو ہی زندگی کا ماخذ قرار دے دیا گیا ہے۔ اب آئیے لاک کی طرف، وہ کہتا ہے کہ

حقوق دو طرح کے ہوتے ہیں۔ اولا وہ حقوق جو ریاست کسی شہری کو عطا کرتی ہے، مثلا یہ حق کہ اگر آپ کسی ریاست کے شہری ہیں تو پھر یہ آپ کا حق ہے کہ آپ جب چاہیں قانون کے مطابق جس روڈ پر چاہیں گاڑی چلا سکتے ہیں۔ اس جیسے حقوق کو ریاستی حقوق کہا جاتا ہے۔

دوم وہ حقوق جو ہر انسان بوقت ولادت ساتھ لے کر پیدا ہوتا ہے(جو خدا نے عطا نہیں کئے بلکہ ان کا ماخذ، خود انسان ہے) ان حقوق کو فطری حقوق یا Basic Human Rights یا Natural Rightsکہا جاتا ہے۔  نیچرل یا فطری حقوق میں جو بات سب سے اہم ہے وہ یہ ہے کہ لاک کے مطابق ان حقوق کا ماخذ خدا کی بجائے خود انسان ہے۔  فطری حقوق کا تعارف تنویری فلسفیوں نے کروایا ورنہ اصلا یہ سراسر الحاد ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ فطری حقوق نامی کوئی شے وجود نہیں رکھتی،حق ہمیشہ خدائی عطا ہوتا ہے!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس فلسفیانہ تناظر کے بعد اب کانٹ کی طرف چلئے۔ کانٹ کو یہ سب معلوم تھا اور وہ اس ضمن میں جان لاک کے نظریات کا قائل تھا۔ لاک کی طرح وہ بھی یہی ایمان رکھتا تھا کہ حقوق انسانی کا ماخذ خدا کی بجائے انسان ہے۔ ناصرف کانٹ بلکہ تمام تنویری مفکرین خدا کو ہر شعبہ ہائے زندگی سے بے دخل کرنے پر تلے ہوئے تھے، اب بھی تلے ہوئے ہیں!

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ماخذ خدا کی بجائے انسان کو قرار دے دینے سے آخر فرق کیا پڑتا ہے؟

یہی اصل سوال ہے اور اسی میں ساری بحث سمٹی ہے۔ اس کو اگر آپ سمجھ لیں تو پھر کانٹ کے اعتراض کا جواب محض ایک سطر کی مار ہے۔۔۔!!!

تو چلئے اب یہ دیکھتے ہیں کہ ماخذ سے کیا فرق پڑتا ہے۔ دیکھئے، جب ہم خدا کو کسی بھی شے کاماخذ قرار دیتے ہیں تو بین السطور ہمارا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہمارے نظریات کی بنیاد خدا ہے، بالفاظ دیگر گویا ہم خدا کے وجود کے قائل ہوتے ہیں اور تمام مظاہر حیات و کائنات کی توجیہ و تشریح اسی سے کررہے ہوتے ہیں۔ خدا ہمارے دائرے کا مرکز ہوتا ہے، ہماری زندگی، ہمارے نظریات اور غرض ہماری ہر شے کا معیار اور بنیاد خدا قرار پاتا ہے۔ اس لحاظ سے گویا ہم مذہبی پیراڈائم میں کھڑے ہوتے ہیں یا سادہ الفاظ میں جب ہم خدا کو ماخذ قرار دیتے ہیں تو تب ہم ایک مذہبی انسان ہوتےہیں۔

اس کے برعکس جب خدا کی بجائے انسان کو ماخذ قرار دے دیا جائے تو تب گویا ہم انسان کو خدا کے مقام پر لا بیٹھاتے ہیں۔ پھر ہم پر لازم ہوتا ہے کہ ہم ہراس مظہر کی توجیہ، جس کی تشریح ہم پہلے خدا سے کرتے تھے، اب انسان سے کریں۔ تو گویا اب ہمارا کلمہ لا الہ الا اللہ نہیں رہتا بلکہ لا الہ الا الانسان بن جاتا ہے۔ یہی ہیومنزم ہے، یہی انسانیت پرستی ہے کہ ہم خدا کے مقام پر انسان کو لے آئیں اور انسان کی پرستش شروع کر دیں۔ انسان کی پرستش کے معنی یہی ہیں کہ ہم حیات و کائنات کی توجیہ انسان سے کرنے لگ جائیں۔

ماخذ کے بدل جانے سے مرتب ہونے والے اثرات کی ایک مثال بھی عرض کر دینا چاہتا ہوں تاکہ بات مزید واضح ہو جائے۔ اسے میں دو کیسز سے واضح کروں گا۔

پہلے کیس میں ہم خدا کو حقوق کا ماخذ قرار دے کر بات کرتے ہیں۔

 میں یہ مان لیتا ہوں کہ حقوق کا ماخذ خدا ہے!

اس سے اب مجھ پر یہ لازم ہو گیا کہ میں یہ تسلیم کر لوں کہ میرے تمام حقوق کا اصل مالک خدا ہے، جبکہ میں محض ان حقوق کا امین ہوں۔ حقوق کا اصل مالک جب چاہے مجھ سے اپنی امانت واپس لے سکتا ہے۔ مثلا میری دولت پر میرا حق ہے(حق ملکیت)۔ جب میں نے یہ مان لیا کہ میرے حقوق کا ماخذ خدا ہے تو گویا مجھ پر لازم ہو گیا کہ میں یہ بھی مان لوں کہ میرا سارا مال خدا کی امانت ہے۔ یعنی یہ مال میرا نہیں اللہ کا ہے۔ وہ جب چاہے جتنا چاہے مجھ سے فی سبیل اللہ واپس لے سکتا ہے۔ مجھ پر فرض ہو گیا کہ جب بھی وہ مجھ سے تقاضا کرے، میں اسے اس کی امانت لوٹاوں۔ (زکوۃ کا فلسفہ درحقیقت یہی ہے)

یہ پہلا کیس تھا۔ دوسرا کیس یہ ہے:

بالفرض میں یہ مان لیتا ہوں کہ حقوق کا ماخذ انسان ہے۔

اس سے اب مجھ پر لازم ہو گیا کہ میں خود کو خدا پر برتری دوں، اپنے تمام حقوق، مال و اسباب وغیرہ پر پہلا حق اپنا جتاوں اور دوسرے کسی فرد کو ثانوی حیثیت دوں،چاہے وہ خدا ہی کیوں نہ ہو۔ مگر وہ کیسے؟ وہ ایسے کہ جب میں نے خود کو خدا کے مقام پر لاکھڑا کیا تو اب معاذ اللہ خدا میں خود ہوں، اب بحثیت خدا میں خود فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتا ہوں کہ مجھے اپنا مال کسے دینا ہے اور کسے نہیں۔ وہ تمام اختیارات جو پہلے مجھے بحثیت امین حاصل تھے اب مجھے بحثیت مالک حاصل ہو جائیں گے کیونکہ اب خدا میں خود بن چکا ہوں۔

اب آپ کو ماخذ کی اہمیت کا خوب اندازہ ہو چکا ہو گا۔ توجناب! لاک کی طرح کانٹ بھی یہی عقیدہ رکھتا تھا کہ خدا کو انسانی زندگی سے بے دخل کر دیا جانا چاہئے اور مظاہر حیات کی توجیہ صرف اور صرف انسان کی ذات ہی سے کی جانی چاہئے۔ کانٹ کا عقیدہ تھا کہ حق زندگی، حق ملکیت، حق مذہب وغیرہ فلاں فلاں جتنے بھی انسانی حقوق ہیں ان سب کا ماخذ انسان ہے۔ اب جب اس نے انسان کو خدا بنا ڈالا تو اصل خدا کی اہمیت تو ثانوی ہو کر ہی رہنی تھی۔ پس یہی وہ بنیادی وجہ تھی جس کے سبب اس نے ایک جید نبی پر اعتراض داغ دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اعتراض کا جواب بہت سادہ سا ہے : وہ یہ ہے کہ

“حق زندگی” سیدنا اسماعیل ؑ کا کوئی ایسا حق تھا ہی نہیں جسے وہ بوقت ولادت ساتھ لے کر پیدا ہوئے تھے۔ یعنی ان کا یہ حق پیدائشی یا فطری حق Natural Right نہیں تھا بلکہ سیدنا اسماعیل ؑ کا یہ حق انہیں خدا نے تفویض کر رکھا تھا۔ زندگی کوئی ایسی شے نہیں تھی جس کے مالک حضرت اسماعیلؑ خود تھے، بلکہ وہ جان کے امین تھے، ان کی جان کا اصل مالک اللہ تعالیٰ تھا۔ اصل مالک اب اپنی امانت واپس طلب کر رہا تھا۔۔۔! اسماعیل ؑ کے حقِ زندگی کی حق تلفی تو تب ہوتی جب وہ خود اپنی جان کے مالک ہوتے!

دوم ابراہیم ؑ پر جو ذمہ داری بحثیت باپ کے عائد ہوتی تھی وہ بھی کوئی پیدائشی یا فطری ذمہ داری نہیں تھی بلکہ ایک ایسی ذمہ داری تھی جس کا ذمہ دار انہیں سیدنا اسماعیل ؑ نے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ نے بنایا تھا۔

چھری چلا کر ابراہیمؑ نے خدا کی بات مان لی، خدا کا حق (کہ اس کا حکم مانا جائے) ادا ہو گیا۔ لیکن کانٹ اگلی بات نہ سمجھ سکا۔ وہ سمجھنے لگا کہ حق زندگی اسماعیل ؑ کا فطری حق تھا۔اگر کانٹ کی طرح زندگی کو انسان کا ایک فطری حق مان لیا جائے تو پھر کانٹ کا اعتراض بالکل درست قرار پاتا ہے ۔ کانٹ کا اعتراض غلط اس وجہ سے ہے کیونکہ زندگی کوئی فطری حق ہے ہی نہیں۔ زندگی کا حق تو خدا نے عطا کیا ہے، انسان اپنی جان کا مالک تو ہے ہی نہیں، انسان تو جان کا امین (امانت دار) ہے پس کانٹ کا اعتراض غلط ہے۔ اگر کانٹ محض اپنے مابعدالطبیعی ایمان Metaphysical Assumption کو درست کر لیتا تو ایسا اعتراض ہر گز نہ کرتا۔ اس کے ذہن میں “فطری حقوق” والا خلل تھا، جس نے اسے گمراہ کیا۔

تو کل ملا کر بات صرف اتنی ہے کہ

مغربی فلاسفہ کے ہاں کچھ حقوق فطری ہوتے ہیں اور کچھ سیاسی

جبکہ اہل مذہب اور خصوصا اسلامی فلسفے میں حقوق صرف اور صرف خدا کے تفویض کردہ ہوتے ہیں۔

 تو بات آ جا کر خدا پر رکتی ہے،

ہم مسلمان خدا کے وجود پر ایمان رکھتے ہیں لہذا حیات کی توجیہ اسی سے کرتے ہیں

جبکہ مغربی ملحدین خدا کی بجائے انسان کی الوہیت پر ایمان رکھتے ہیں لہذا حیات کی توجیہ انسان سے کر کے الحاد کے ساتھ ساتھ شرک اکبر کے مرتکب بھی ہوتے ہیں۔

فیصل ریاض شاہد

اپنی رائے کا اظہار کریں

ابراہیمؑ پر کانٹ کے اعتراض کا جواب- فیصل ریاض شاہد” ایک تبصرہ

  1. بہت اچھی اور مستدل تحریر ہے۔ خدا انشاءاللہ آپ کی توفیقات میں اضافہ فرمائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں